Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

محفوظ پناہ گاہیں – اکرم شیخ

Print Friendly, PDF & Email

یہ ریاست کی بدقسمتی ہے یا قوم کی … 70 سال گذرنے کے باوجود لوگ عدم تشدد کا شکار ہیں تحفظ کی عدم دستیابی تو شاید اتنی زہر قاتل نہ ہو زندگی کسی نہ کسی طور گزارنے کا احساس حرکت میں رکھتا ہے کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی امید قدموں سے جڑی سفر پر آمادہ رکھتی ہے لیکن جب ناامیدی اور بے یقینی ہی نے ذہن اور جسم کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہو تو پھر کیسی حرکت اور کیسا سفر؟؟

شکست خوردگی کا غلبہ، سفر رایگاں کا احساس، بے مقصدیت، نہ کوئی منزل نہ کسی منزل کا کوئی عکس آنکھوں میں نہ ہو تو پھر… دو ہی راستے نظر آتے ہیں ایک واضح طور پر نفی کی طرف جاتا ہے تو دوسرے میں مثبت کی تلاش ہوتی ہے خودفریبی اور تسلی کے تنکوں کو سہارا بنایا جاتا ہے ان تنکوں کو ہی بسا اوقات پناہ گاہیں بنا لیا جاتا ہے… یہی تو ہماری آج کی چھے کروڑ سے زائد نوجوان نسل کا ذہنی منظرنامہ ہے۔

عرفِ عام میں اس کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ… ناامیدی اور بے یقینی نے جس نفی کو غالب کیا ہے نوجوان نسل کے سماجی رویوں پر منفی رجحانات کو فروغ دیا ہے اس میں ادب و احترام کی جگہ باغیانہ حدود کو عبور کرتی بے ادبی بھی ہے… لیکن ظاہر ہے کہ یہ نفی کی طرف بڑھتے ہوئے قدموں میں پہلا قدم بھی ہو سکتی ہے اس میں اصلاح کی گنجائش بھی ہوتی ہے بشرطے کہ وقت، حالات اور معاشی سماجی ماحول کا رویہ بھی مکمل تعاون کا ہو… اور اگر… ایسا نہ ہو تو پھر نفی باقاعد بغاوت کا روپ دھار لیتی ہے ذہن منفی رجحانات کی پناہ گاہ بن جاتا ہے تو جرم میں بھی صداقت نظر آتی ہے اور اس کو ردعمل کی پناہ گاہ بھی مل جاتی ہے۔ کسی سزا کا کوئی خوف باقی نہیں رہتا… بل کہ خود ہی سماج سے علیحدہ ہو کر اپنا راستہ تجویز کر لیا جاتا ہے… اپنے ارد گرد اور سماج کو زیر کرنے اور اپنی خواہشوں کا تابع کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ ایک نفی سے دوسری نفی کا موڑ مڑتے ہوئے جو کچھ تھوڑا بہت بچا کھچا امتیاز ہوتا ہے وہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔

سماج اسے جرم قرار دیتے ہوئے  مجرم قرار دینے لگا ہے۔ تو ریاست کے نام پر سماج کے محافظ اس کے لیے سزائیں مقرر کرنے لگتے ہیں۔ مبادا سماج اور اس کے لیے بنائے گئے معیار و اقدار بکھر جائیں لیکن، کوئی بھی مؤثر قوت اور طاقت ان محرکات پر توجہ نہیں دیتی جو منفی رجحانات کو پیدا کرتے اور پھر تقویت بھی دیتے ہیں ستم ظریفی کی انتہا ہے ان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سزاؤں کا دائرہ تو وسیع کیا جاتا ہے مگر ان عوامل و محرکات میں تبدیلی کے امکانات پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے نہ ہی اقدامات زیرِ بحث آتے ہیں، صرف سزائیں بڑھانے اور انتظامی اداروں میں وسعت اور ان کے اختیارات میں اضافہ کو ہی ’نتیجہ خیز‘ سمجھ لیا جاتا ہے۔ لیکن پھر بھی کہیں سے مثبت نتائج برآمد نہیں ہوتے تو اس پر شرمندگی کا اظہار نہیں اداروں میں اصلاح کی بات ہوتی ہے۔

دوسری طرف وہ منظر نامہ ہے جس میں تنکوں کا سہارا دیا جاتا ہے ایسی ذہنیت تیار کی جاتی ہے جو خوابوں کو ہی سب سے بہترین اور محفوظ پناہ گاہ سمجھتی ہے، نہ کوئی معاشی عدم تحفظ، نہ کوئی معاشرتی دباو… بل کہ ان خوابوں کی طرف بڑھتے ہوئے پورا معاشرتی تعاون بھی شامل ہے… معصوم ذہن ان خوابوں کے اسیر آسانی سے بن جاتے ہیں اس لیے انہی پر توجہ مرکوز ہوتی ہے اور یہ کام ان معاشروں میں زیادہ ہوتا ہے جہاں گربت اور جہالت کی وافر مقدار ہوتی ہے… یہی وہ کثرت ہوتی ہے جس میں عقیدے اور عقیدت کے پروان چڑھنے کے واضح اور روشن امکانات ہوتے ہیں لیکن تلخ سچائی تو یہ بھی ہے کہ جب یہ روشنی آنکھوں اور ذہن تک رسائی حاصل کر لیتی ہے یا پھر ذہن پر اس روشنی کی گرفت ہو جاتی ہے تو پھر باقی سب کچھ اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے۔ وہی خواب سچے ہوتے ہیں جو پتلیوں کے پیچھے چھپے ہوتے ہیں موجود حقائق اور سب تعبیریں غلط اور غیرمؤثر ہوتی ہیں… خوابوں کے پیچھے دوڑ کر وہ پناہ گاہیں تلاش ہوتی ہیں جن پر دوام کا لیبل بھی لگا ہوتا ہے اور ہمیشگی کی ’نیم پلیٹ‘ بھی۔

یہ تیسری دنیا کی سماجوں کا منظرنامہ ہے جہاں غربت اور جہالت، ’عوام‘ کا مقدر اور تمام وسائل پر حکمران طبقوں کی آہنی گرفت ہے۔ مزید بدقسمتی کہ ’عقیدہ فروشی‘ بھی اپنے ذاتی، مالی اور سیاسی مفادات کے لیے حکمرانوں کے ساتھ ’بارٹر‘ کیے ہوئے ہے چارے عوام اپنی غربت اور جہالت کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ان کے حصار میں ہیں۔ تو صاحبو، دیکھو اور سمجھنے کی کوشش کرو کہ لوہے کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے معصوم فرد کو آزادی ہی نہیں مثبت اور آزاد سوچ کیسے مل سکتا ہے اور وہ مثبت کردار کی طرف کیسے بڑھ سکتا ہے۔ ناامیدی اور بے یقینی سے نکل کر اسے محفوظ پناہ گاہیں کیسے حاصل ہو سکتی ہیں؟

Views All Time
Views All Time
285
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   صحافت کے راجہ گدھ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: