Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں

by اکتوبر 10, 2016 بلاگ
بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں
Print Friendly, PDF & Email

akhtar-sardar-chآسمانوں کی بھی اور زمین کی بھی ساری بادشاہی اللہ تعالی کی ہی ہے ۔ جسے چاہتا ہے بیٹیاں اور جسے چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے ۔کسی کوبیٹے اور بیٹیاں دونوں عنایت فرماتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے بے اولاد رکھتا ہے۔ وہ تو جاننے والا (اور) قدرت والا ہے( سورہ الشورہ آیت نمبر 49، 50) اس احادیث مبارکہ کسی بھی مسلم گھرانے کے لیے بے پناہ خوشی و مسرت کا باعث ہیں۔ جب ان کے ہاں بچیاں پیدا ہوتی ہیں تو والدین اس سے خوش ہوتے ہیں کہ یہ بچیاں ان کے لیے جنت کا دروازہ کھول رہی ہیں اور جہنم کی آڑ بن رہی ہیں۔
’’اور جب ان میں سے کسی کو بشارت دی جائے کہ تمہارے ہاں بیٹی ہو ئی تو غم اور پریشانی کے مارے اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور وہ زہر کے گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے ‘‘(سورۃ النحل مفہوم آیت 58)ہمارے ہاں آج بھی دور جہالت کی طرح یہ ایک عام رویہ اپنایا جاتا ہے کہ بیٹوں کو بیٹیوں پر فوقیت دی جاتی ہے ۔ عام طور پر بیٹا ہونے پر خوشی منائی جاتی اور بیٹی پر منہ بنایا جاتا ہے ۔بیٹی پیداہونے پر شرمندگی محسوس کرتے ہیں ،لڑکی کو مصیبت و ذلت سمجھاجاتا ہے ۔
اوپر درج آیت مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ یہ کفار کا طرز عمل ہے ، بیٹا نعمت ہے تو بیٹی رحمت ہے، مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ بیٹی(رحمت) کی پیدائش پر منہ بنائے ۔زمانہ قدیم ،زمانہ جہالت،میں اور اب موجودہ عہد میں بھی بیٹیوں کی بجائے بیٹوں کو فوقیت دی جاتی رہی ہے ۔ اس ترجیح کی کچھ معاشی، سماجی اور نفسیاتی بنیادیں ہیں۔معاشی اس طرح کہ سمجھا جاتا ہے کہ بیٹا کمائے گا ،والدین کو سکھ ملے گا ،سماجی یہ کہ جس کے زیادہ بیٹے ہوں ان کو تحفظ ملتے ہے ،یعنی بیٹا احساس تحفظ فراہم کرتا ہے ۔نفسیاتی وجہ بیٹیوں کی عفت ہے ،اگر بیٹی کی وجہ سے عزت پر حرف آجائے تو ماں باپ معاشرے میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتے ۔ بیٹی کا تحفظ (عفت کی حفاظت) اور اسکی دیگر ذمہ داریاں زیادہ ہیں، اسی وجہ سے لوگ مرد کو برتر اور عورت کو کمتر مخلوق سمجھتے ہیں ۔
سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا بیٹے کی عزت نہیں ہوتی اسے صحبت بد سے بچانے کی ذمہ داری نہیں ہوتی ۔”بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں” یہ کہاوت اب صرف کتابوں میں ہے، حقیقت میں ایسا نہیں رہا بیٹی کے عدم تحفظ کی انتہا یہ ہے کہ وہ اپنے گھراپنے رشتہ داروں اور بعض اوقات اپنے محرم رشتوں کے ساتھ بھی محفوظ نہیں ہوتی ۔اسی موقع کی مناسبت سے جبار واصف اظہار خیال کرتے ہیں۔
باپ سے ملتی ہے شوہر سے اجازت لے کر
بیٹی رخصت ہو تو حق دار بدل جاتا ہے
اسلام کے علاوہ جدید سائنسی،نفسیاتی ، سماجی علوم نے یہ ثابت کردیا ہے کہ عورت اور مرد بحیثیت انسان برابر ہیں،بہت سے معاملات میں مرد آگے ہیں اور اسی طرح بعض میں خواتین اس کی وجہ دونوں کی طبعی ساخت اور ذمہ داریاں ہیں تو ان کے حقوق و فرائض میں بھی فرق پایا جاتا ہے ۔اس سے کوئی اعلی یا کمتر نہیں ہو جاتا۔دنیا بھر میں 11 اکتوبر کو انٹر نیشنل ڈے فار دی گرلز چائلڈ کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ اقوام متحدہ نے 19دسمبر 2011 ء کو یہ دن منانے کی قرار داد پاس کی تھی۔ لڑکیوں کا عالمی دن منانے کا مقصد قومی سطح پر لڑکیوں کے کردار کو اہمیت دینا ،عدم مساوات کا خاتمہ، انسانی حقوق کا تحفظ ،قبل از پیدائش جنس کا تعین پر قانونی روک نافذ،کم سنی کی شادی پر سزا ،چودہ سال تک لازمی تعلیم،سرکاری ملازمتوں، پارلیمانی ،مقامی نشستوں پر ایک تہائی کوٹہ ، خواتین کی بھلائی کے کاموں کی حوصلہ افزائی کرنا وغیرہ شامل ہیں ۔ دنیا بھر میں 11 سے 15برس کی عمر کے لگ بھگ چار کروڑ سے زائد لڑکیاں بنیادی تعلیم سے محروم ہیں ۔پاکستان میں لڑکیوں کی ناخواندگی اس سے کہیں زیادہ ہے ۔عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں بچیوں کا تعلیم سے محروم رہنے کا سبب ان کی جلد شادی ہے ،یہ حقیقت پر پردہ ڈالنے والی بات ہے، لڑکیوں کی ناخواندگی کی وجہ غربت اور مہنگائی ہے ۔ غریب کے پاس پیسہ ہوتا تو وہ اپنی لڑکی کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر سکتا تھا۔ غریب کی لڑکی ماں کی دوا،باپ کا ہاتھ بٹانے ،اپنا جہیز بنانے ، بچوں کو پالنے کے لئے نوکری کرتی ہے یا تعلیم حاصل کرکے ان مقاصد کے لیے نوکری کرتی ہے ۔چھوٹی چھوٹی ضرورتیں،مجبوریاں، مسائل اور غربت بچیوں کو لوگوں کے گھروں میں کام کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ ہمارے بہت ہی محترم معروف فطری شاعر جناب جبار واصف کی ایک نظم آپ کے ذوق کی نظر وہ اپنی بیٹی سے مخاطب ہوتے ہیں ۔
سنو بیٹی!
مجھے تم سے ضروری بات کہنی ہے
تمہیں معلوم ہے بیٹی!
تمہارا باپ شاعر ہے
کہ جس نے عمر بھر الفاظ کے سکے کمائے ہیں
وہی سکّے جو اُس بازار میں چلتے نہیں جس میں
سبھی ایسی دکانیں ہیں
جہاں کاغذ کے ٹکڑوں کے عوَ ض کچھ خواب بکتے ہیں
جہاں پر بیٹیوں کے قیمتی ارمان بکتے ہیں
سنو بیٹی!
تمہارے خواب اور ارمان
اُن لفظوں کے سکو ں سے خریدے جا نہیں سکتے
جو میرا کل اثاثہ ہیں
سنو بیٹی!
تمہارا باپ شاعر ہی نہیں ، مجرم بھی ہے جس نے
وہ سب سکے کمائے ہیں
جو دنیا کے کسی بازار میں بھی چل نہیں سکتے
خوشی میں ڈھل نہیں سکتے!
سنو بیٹی!
مرا اے کاش! لفظوں سے کوئی رشتہ نہیں ہوتا
میں منڈی میں تجارت کر کے وہ کاغذ کماتا جو
ہر اک ارمان، ہر اِک خواب کی قیمت چکا سکتے
تمہارا گھر سجا سکتے
تمہیں دُلہَن بنا سکتے
سنو بیٹی!
مجھے تم سے ضروری بات کہنی ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس شخض کی بھی دو بیٹیاں بالغ ہو جائیں اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے (کھلائے پلائے اور دینی آداب سکھائے ) جب تک وہ بیٹیاں اسکے ساتھ رہیں یا وہ ان بیٹیوں کے ساتھ رہے (حسن سلوک میں کمی نہ آنے دے ) تو یہ بیٹیاں اسے ضرور جنت میں داخل کروائیں گی ۔ہم کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس دنیا میں ہم آزمائش کے لیے آئے ہیں ۔جناب جبار واصف بیٹی کی محبت میں کہتے ہیں۔
میں ریز گاری بھی گلّے میں ڈال دیتا ہوں
مجھے خبر ہے کہ بیٹی کی رخصتی کیا ہے
کسی کے ہاتھ میں کیسے میں اپنا ہاتھ دوں واصفؔ
مری بیٹی مری اُنگلی پکڑ کر ساتھ چلتی ہے
بیٹے یا بیٹی کا پیدا ہونا انسان کو شکر یا صبر کے امتحان میں ڈالتا ہے۔نیز لڑکا ہو یا لڑکی ، اللہ تعالیٰ یہ دیکھتے ہیں کہ والدین کس طرح ان کی درست تربیت کرکے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں ۔ اسلام کی تعلیمات کے مطابق بیٹیاں اپنے والدین کے لیے رحمت ہیں زحمت نہیں ہیں۔بیٹیاں دنیامیں اپنے والدین کی خدمت بیٹوں سے زیادہ کرتی ہیں اور آخرت میں بھی بخشش کا باعث بنتی ہیں ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں دین اسلام کی سمجھ اور عمل کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم آخرت کے خسارے سے بچ سکیں۔

Views All Time
Views All Time
1159
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا کڑوا سوال - شیر علی انجم
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: