سفیدچھڑی

Print Friendly, PDF & Email

akhtar-sardar-chآنکھیں بڑی نعمت ہیں۔آنکھیں ہیں تو دنیا جہاں کی سب نعمتیں ہیں ۔ یہ خوبصوتی، یہ رنگ و نور، رنگینیاں آنکھوں کی ہی وجہ سے ہیں ورنہ دنیا صرف تاریک سیاہ رات ہوتی ۔آنکھیں دل اور روح کا دروازہ ہیں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب کوئی بھی خوبصورت چیزنظر آنے پر پسندکی جاتی ہےاس کی خوشی و مسرت کی جھلک نہ صرف چہرے بلکہ آنکھوں سے بھی عیاں ہوتی ہے۔ آنکھیں احساس کا آئینہ ہوتی ہیں بلکہ شخصیت کا مکمل احاطہ کرتی ہیں ۔جب دو محبت کرنے والے ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے اظہار محبت کرتے ہیں تو ان ہی آنکھوں پر اعتبار کرتے ہیں کیونکہ آنکھیں جھوٹ نہیں بولتیں۔ آنکھیں ہی شخصیت کی عکاسی کرتی ہیں۔آنکھوں کے بغیر یہ دنیا کیسی ہو گی ؟
جیمس بکس نامی ایک فوٹو گرافر،جس کی بینائی 1921 ء میں، کار کے حادثے میں جاتی رہی ، پہلا شخض تھا جس نے اپنی چھڑی کو سفید رنگ کروا لیا تا کہ لوگ اس چھڑی کے رنگ سے سمجھ لیں اور اسے راستہ دیں ۔پھر 1930ء میں بوم حیم نامی شخص نے لائنز کلب میں یہ نظریہ پیش کیا کہ نابینا افراد کی چھڑی کو سفید رنگ کی پہچان دے دی جائے اور اس خبرکو عام کیا جائے تاکہ نابینا افراد اس سے استفادہ کرسکیں اور ساتھ ہی ساتھ دوسرے لوگوں کو بھی علم ہو جائے کہ سفید چھڑی رکھنے والا شخص ،بینائی سے محروم ہے۔
6 اکتوبر 1964 ء کو کانگریس نے HR753 نامی مشترکہ قرارداد پیش کی جسے امریکہ کے صدر نے منظور کیا کہ ہر سال 15 اکتوبر کو وائٹ کین سیفٹی ڈے منایا جائے گا۔
صدر جانسن پہلے شخص تھے جنہوں نے اس کو منظور کیا اور فروغ دیا۔ اسی وجہ سے 1964ء سے اب تک ہر سال 15 اکتوبر کو انٹرنیشنل وائٹ کین سیفٹی ڈے منایا جاتا ہے ۔ وائٹ کین کو نابینا افراد کے لئے آزادی اور عزت کا نشان بنا دیا گیا ۔
عوام الناس کوبصارت سے محروم افرادکے حقوق کی آگاہی دینے کے لیے یہ دن پوری دنیا میں ذمہ داری سے منایا جاتا ہے، اس دن مختلف ادارے ،فلاحی این جی اوز سیمینارز ،کانفرنسزمنعقد کرتی ہیں۔ اخبارات میں اسپیشل ایڈیشن شائع کیے جاتے ہیں ۔ٹی وی پر پروگرام کیے جاتے ہیں ۔
پاکستان میں یہ دن پہلی بار15اکتوبر 1972 ء کو منایا گیا۔سفید چھڑی نابینا افراد کو چلنے پھرنے میں تحفظ فراہم کرتی ہے۔ آنکھیں بڑی نعمت ہیں ،جس کی صحت مند آدمی کو قدر نہیں لیکن جب بینائی کمزور ہوتی تو پھر اس کی قدرو قیمت کا اندازہ بھی ہوجاتا ہے ۔انسانی حواس میں یوں تو ہر حس کی اپنی اہمیت ہے لیکن ان میں بصارت سب سے اہم ہے۔دیگر تمام حواس کی کارکردگی بھی بصارت کی بدولت ہی قائم ہے ۔ضعفِ بصارت کی ایک شکل Amblyopia یا بعید نظری ہے، یعنی دور کی نظر کمزور ہوتی ہے ،جب کہ دوسری Myopia یا قریب نظری ہے ۔ بینائی کی کمزوری کا مسئلہ عمر کے مختلف ادوار میں سامنے آسکتا ہے ۔اس کا حل عام طور پر عینک کی مدد سے کیا جاتا ہے۔بعض لوگ لینز بھی لگا لیتے ہیں ۔
بصارت کی حفاظت کے لیے چند باتوں پر توجہ دینا ضروری ہے۔سب سے پہلی بات غذا ہے۔ متوازن غذا کے استعمال سے نظر کو کمزور ہونے سے بچایا جا سکتا ہے ۔مچھلی ،گاجر،انڈہ، سونگ اور بادام کی گری استعمال کرنی چاہئے ۔سونف کے ساتھ ،مصری بھی ملا سکتے ہیں۔بادام وغیرہ آنکھوں کی صحت برقرار رکھنے کے لئے بے پناہ مقوی ہے ۔مرچیں اور کھٹائی کا زیادہ استعمال بینائی کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔
ان ہدایات پر عمل کرنے سے ہم اپنی بصارت کی حفاظت کر سکتے ہیں ۔
مطالعہ کے دوران روشنی کا مناسب اہتمام کریں۔سرپر دن میں دو چار بارکنگھی ضرورکریں۔ ہمیشہ نیم گرم یا ٹھنڈے پانی سے بال دھوئیں، نہائیں،سورج کی طرف براہ راست نہ دیکھیں۔ہرے بھرے درخت رات کو آسمان ،چاند لازمی دیکھیں،پشت کے بل لیٹ کر یا تکیہ لگا کر بالکل نہ پڑھیں ، صبح کے وقت عرق گلاب کے چھینٹے آنکھوں پرماریں ،کمپیوٹر وغیرہ پر کام کرنے،ٹی وی دیکھنے کے دوران وقفہ لازمی کریں، تھکن محسوس کریں توکچھ دیر کے لئے دونوں ہتھیلیوں سے آنکھوں کو اس قدر ڈھانپ لیں کہ گھپ اندھیرا ہوجائے ۔چند لمحوں کے لئے اس گھپ اندھیرے میں غور سے دیکھیں، اس سے آنکھوں کے پٹھوں اور اعصاب کو بھی راحت ملے گی ۔ ورزش کی عادت بنائیں،آنکھوں کی صفائی کا خیال رکھیں ۔سیکس کی دواؤں اور نزلہ زکام کی حالت میں ایلوپیتھک دوا کے استعمال سے خود کو بچائیں ۔ جماع کی کثرت ، نشہ، پیٹ بھر کھانا کھانے کے بعد سونا آنکھوں کے لئے مضر ہے ۔تنگ جوتے نہ پہننا چاہئیں ۔
پاکستان کے سابق صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی بیٹی زین پیدائشی طور پر معذور تھی ،لیکن اپنی معصوم اداؤں کے باعث وہ جنرل محمد ضیاء الحق کو تمام بچوں میں سے پیاری تھی ،جب وہ اقتدار میں آئے تو انہوں نے ملک کے معذور افراد کو اسپیشل افراد سے موسوم کر دیا اور سرکاری ملازمتوں بلکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلہ کے لئے بھی معذور افراد کا 2فیصد کوٹہ مقررکیا ۔
دوسری طرف ہمارے معاشرے میں نابینا افراد کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے اس کی ایک جھلک ہمیں اکثر دیکھنے کو ملتی ہے جب نابینا افراد کی ایک بہت بڑی تعداد اپنے مسائل اقتدار کے ایوانوں تک پہنچانے کے لئے اکٹھے ہوکر احتجاج کرتے ہیں ،جلوس نکالتے ہیں، اسی وقت پولیس روڈ کو خالی کرانے کی ضرورت پیش آ جاتی ہے ،راستے کو صاف کرنے کے لئے نابینا افرادپر لاٹھی چارج کیا جاتا ہے ۔اور پرتشدد مناظر پورے ملک میں دیکھے جاتے ہیں ۔ دنیا میں شائد اس قسم کے واقعات نئے ہو ں جب بصارت سے محروم افراد کے ساتھ ایسا وحشیانہ سلوک کیا گیا ہو۔اکثر ممالک میں سفید چھڑی کے ساتھ اگر کوئی نابینا مرد یا عورت کوئی روڈ پار کرتا نظر آ جائے تو اس روڈ پر دونوں طرف کی ٹریفک کو اس وقت تک روک دیا جاتا ہے ،جب تک وہ روڈ کو پار کر کے دوسری طرف کے فٹ پاتھ پر نہیں پہنچ جاتا۔ ہمیں بھی اپنے معاشرے میں نابینا اور دیگر معذور افراد کے آرام و احترام کی فضاء قائم کرنا ہوگی کیونکہ ایک صحتمند معاشرے کی یہی پہچان ہے کہ ایک فرد کی کمزوری اور محرومی کا ازالہ ،دیگر افراد معاشرہ کی توجہ اور محبت سے کیا جائے۔

Views All Time
Views All Time
557
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   آزادئ نسواں... ماڈرن ازم کے نام پر فحاشی - مدیحہ سید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: