مجھے کسی سے محبت نہیں ہوئی – اختر سردار چودھری

Print Friendly, PDF & Email

akhtar-sardar-chمنفرد لب و لہجے کے شاعر، فلسفی، نثر اور سوانح نگار، عالم اور دانشورجون ایلیا14 دسمبر 1931ء کو امروہہ، اتر پردیش کے ایک نامور اور معزز خاندان میں پیدا ہوئے ۔وہ معروف صحافی رئیس امروہوی اور فلسفی سید محمد تقی کے بھائی اور مشہور کالم نگار زاہدہ حنا کے سابق خاوند تھے۔ ان کے والد علامہ شفیق حسن ایلیا کو فن اور ادب سے گہرا لگاؤ تھا ۔جون ایلیا اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے ۔گھر کا ماحو ل علمی و ادبی تھا ۔اسی ماحو ل کی وجہ سے انہوں نے اپنا پہلا اردو شعر محض 8 سال کی عمر میں کہا۔

مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں
یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا؟

اپنی کتاب ’’ شاید ‘‘کے پیش لفظ میں رقم طراز ہیں کہ "میری عمر کا آٹھواں سال میری زندگی کا سب سے زیادہ اہم اور ماجرا پرور سال تھا۔ اس سال میری زندگی کے دو سب سے اہم حادثے پیش آئے ۔پہلا حادثہ یہ تھا کہ میں اپنی نرگسی انا کی پہلی شکست سے دوچار ہوا یعنی ایک قتالہ لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوا۔ دوسرا حادثہ یہ تھا کہ میں نے پہلا شعر کہا

چاہ میں اس کی طمانچے کھائے ہیں
دیکھ لو سرخی مرے رخسار کی

جون کو عربی، انگریزی، فارسی، سنسکرت اور عبرانی میں اعلی مہارت حاصل تھی۔اردو ادب میں شاعروں کی کوئی کمی نہیں بلکہ اردو کے مخالفین اس زبان پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ صرف شاعری کی زبان ہے، اس میں سائنس و دیگر جدید علوم کا ذخیرہ کم ہے ،ایسے حالات میں شاعروں کے اس ہجوم میں کسی شاعر کا اپنا الگ مقام بنا لینا حیران کن ہے ۔ وہ اپنے انوکھے انداز تحریر جس کے وہ خود ہی موجد ،خود ہی خاتم ہیں کی بدولت، اس درجہ مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ۔
شاعری میں درشتی اور کھردراہٹ صرف ان ہی کا خاصہ ہے۔

نہیں دنیا کو جب پروا ہماری تو
پھر دنیا کی پروا کیوں کریں ہم

اپنے لڑکپن میں بہت حساس تھے ۔ خواب وخیا ل میں رہتے تھے۔ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنے ہی خیالوں میں ایک دنیا بسارکھی تھی، جہاں ان کی کل توجہ کا مرکز ایک خیالی محبوب کردار صوفیہ تھی۔
جون کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بے حد عقیدت تھی اور اپنی سیادت پر بھی بہت ناز تھا۔
ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھیں ان باتوں پر بھی غصہ آجایا کرتا تھا جن پرکوئی غصہ نہیں کرتا ۔ان کے اس غصے کا سبب متحدہ ہندوستان پر انگریز کاقابض ہونا اورخود کو بے بس پانا بھی ہے ۔

اک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر
کاش اس زباں دراز کا منہ نوچ لے کوئی

وہ اپنی جوانی میں کمیونسٹ خیالات کی وجہ سے ہندوستان کی تقسیم کے خلاف تھے ۔جسے بعد میں قبول کر لیا ۔ جون نے1957ء میں پاکستان ہجرت کی اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔ جلد ہی وہ شہر کے علمی و ادبی حلقوں میں مقبول ہو گئے جس وجہ سے انہیں خاصی پذیرائی نصیب ہوئی۔
جون ایلیا ایک ادبی رسالے سے بطور مدیر وابستہ تھے جہاں ان کی ملاقات مصنفہ زاہدہ حنا سے ہوئی۔ جن سے بعد میں انہوں نے شادی کر لی۔ زاہدہ حنادو روزناموں، جنگ اور ایکسپریس، میں حالات حاضرہ اور معاشرتی موضوعات پر لکھتی رہی ہیں۔جون کی زاہدہ سے 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا پیدا ہوئے ۔ 1980ء کی دہائی کے وسط میں ان کی طلاق ہو گئی۔

ہاں ٹھیک ہے میں اپنی انا کا مریض ہوں
آخر مرے مزاج میں کیوں دخل دے کوئی

جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں
میں اپنے شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں

ان کی نجی زندگی یوں تو ناکام اور کرب انگیز تھی مگر وہ پیدا ہی شاعری کے لئے ہوئے تھے ۔لوگ ان سے دیوانہ وار محبت کرتے تھے ۔ جون ایلیا کا پہلا شعری مجموعہ ’’ شاید‘‘ اس وقت شائع ہوا جب ان کی عمر 60 برس تھی۔ اس کتاب کے پیش لفظ میں انہوں نے ان حالات اور ثقافت کا بڑی گہرائی سے جائزہ لیا ہے۔ اس کتاب جیسا پیش لفظ نہ پہلے لکھا گیا نہ بعد میں کسی اور نے لکھا۔ وہ روایت کے رنگ کے رنگ میں نہیں رنگے۔ ان کا انداز بے حد نرالا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ

شاید مجھے کسی سے محبت نہیں ہوئی
لیکن یقین سب کو دلاتا رہا ہوں میں

ان کی تخلیقات میں درج ذیل شعری مجموعے ’’شاید‘‘ 1991۔’’یعنی‘‘ 2003۔’’گمان‘‘ 2004۔’’لیکن‘‘ 2006۔’’گویا‘‘ 2008۔’’فرنود‘‘ 2012 شائع ہوئے ۔

جون ایلیاکے لکھے انشائیے ،سسپنس ڈائجسٹ میں برسوں سے شائع ہو رہے ہیں اورایک وسیع حلقے میں ذوق و شوق سے پڑھے جا رہے ہیں ۔ ان کا ایک خوبصورت شعر جو مجھے سب سے زیاد ہ پسند ہے ،آپ بھی سنیں۔

تم جب آؤگی تو کھویا ہوا پاؤگی مجھے
میری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں
میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں

جون ایلیا طویل علالت کے بعد 8 نومبر2002ء کو کراچی میں انتقال کر گئے تھے ۔ انہیں ہم سے بچھڑے ہوئے 14 سال ہوگئے ہیں ۔
جون کی قبر پر لگے کتبے پر جوشعر درج ہے وہ کچھ اس طرح سے ہے ۔

میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کرلیا اور ملال بھی نہیں

Views All Time
Views All Time
1567
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   بدلتے سماجی روابط اور ہمارا ادب - حصہ دوم | ڈاکٹر ابرار احمد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: