Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

جس دھج سے کوئی مقتل کوگیا وہ شان سلامت رہتی ہے – اختر عباس

by اکتوبر 28, 2016 بلاگ
جس دھج سے کوئی مقتل کوگیا وہ شان سلامت رہتی ہے – اختر عباس
Print Friendly, PDF & Email

akhtar abbasپی ۔اے۔ ایف کے چیف مصحف علی میر سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا تھا کہ سر آپ نے اپنے کیریئر میں ہر جہاز اڑایا ہے، ہر اہم جگہ کی کمان کی ہے اور ایک فوجی کے کیرئیر کابلند ترین مقام حاصل کر لیا ہے، کیا کوئی خواہش ہے جو باقی رہ گی ہو؟شہید نے جواب دیا کہ میری خواہش ہے کہ میں ایک دن صبح سویرے اٹھوں، شیو کروں، بہترین لباس پہنوں، پرفیوم لگاوں اور اس بہترین لباس اور بہترین خوشبو کے ساتھ شہید ہو جاوں۔ شاید ایسے ہی شہیدوں کے لیے کہا گیا تھا کہ

"علیؑ  تمہاری شجاعت پر جھومتےہوں گے
حسین ؑ  پاک نے بانہوں میں لے لیا ہوگا "

کیپٹین روح اللہ بھی ایک ایسا شہید تھا۔ جواں سال، خوش شکل، پر وقار۔ جائے شہادت پر جاتے ہوئے بہترین لباس پہنا ہوگا اور ممکن ہے اچھی خوشبو بھی لگائی ہو۔ وردی میں شہادت وہ افتخار ہے جو ہسپتال کے بستر پر کھانس کھانس کر مرنے والوں کو کہاں نصیب! روح اللہ نے وہ اعزاز پا لیا جو کمانڈو ٹریننگ حاصل کرنے والے ہر جوان کا خواب ہوتی ہے۔
مگر کیپٹین روح اللہ کو یاد کرنا ہے تو ایک اور روح اللہ کو بھی یاد کر لیجئے ۔ پاکستان کے شہر سکردو بلتستان میں سدپارہ سے آتے ہوئے علمدار چوک سے ہوتے ہوئے سکردو بازار کی طرف جائیں تو سوزوکیوں کے آخری سٹاپ کے پاس آپ کو کچھ بلند قامت تصویریں نظر آئیں گی۔ ان میں ایک خوش شکل لڑکے کی تصویر بھی ہے۔ اس کا نام بھی روح اللہ ہے۔ 2012 میں ایک مسافر بس پنڈی سے سکردو جا رہی تھی۔ چلاس کے پاس ایک ہجوم نے اس بس کو روکا ۔ شناخت کرکے مسافر اتارے اور چن چن کر مار دیا۔ شناخت کے لیے کوئی مشکل معیار نہیں تھا۔ کمر پر زنجیر کے ماتم کے نشان، نام کے آخر میں عباس یا مہدی، بلتستان کا ڈومیسائل، اور اگر بہت دشواری ہوئی تو تیسرا اور چوتھا کلمہ یاد نہ ہونا۔ روح اللہ بھی کسی نہ کسی نشانی پر پورا اترا اور اس وجیہہ جوان کو پتھر مار کر اس مجمعے نے سڑک کے کنارے پھینک دیا جس کو منبر کی شر انگیزیوں نے اندھا کر دیا تھا۔
کوئٹہ کے حملے کی ذمہ داری لشکر جھنگوی عالمی نے قبول کی ہے۔ سنا ہے یہ گروپ افغانستان میں پناہ گزین ہے۔اس کے بندے پاکستان میں کاروائیاں کرتے ہیں۔ ہر حملے کے بعد ہماری سرکار پرانے ڈراموں کے منحنی کردار کی طرح شور مچاتی ہے کہ “اِب کے مار زرا تو” ۔ لشکر جھنگوی عالی کو جاننا ہے تو لشکر جھنگوی پاکستان کو سمجھ لیجئے ۔ نوے کی دہائی میں اخبار پڑھنے والوں کو ایک مخصوص قسم کی خبریں تواتر سے ملتی تھیں۔ کچھ مخصوص ناموں والے ڈاکٹر، وکیل، سرکاری افسر ، علماء ۔ وہی عباس اور مہدی کا لاحقہ۔۔آرمی پبلک سکول حملے کے بعد ایک والد نے کہا تھا کہ ہم جس بچے کو بیس سال پال پوس کر جوان کرتے ہیں اس کو تم نے بیس سیکنڈ میں مار دیا۔ ایک ڈاکٹر، ایک انجینئر اور ایک وکیل ایک معاشرے کی عشروں کی محنت ہوتا ہے۔ کبھی پوچھئے گا شاعر محسن نقوی کو کس نے مارا؟کمشنر علی رضا سیال کو کس نے چھینا؟ کچھ سالوں میں،نہ جانے صدیوں کا کتنا سرمایہ چلا گیا۔ کس کا کلیجہ جلا اور کس نے حساب رکھا؟
لشکر جھنگوی کو سمجھنا ہے تو سپاہ صحابہ کو سمجھئے۔ یہ وہ نظریہ ہے جو ایک فقہ کو نہ صرف کافر قرار دینا چاہتا ہے بلکہ ان کی مذہبی ، معاشی اور سماجی آزادی کو بھی سلب کرنا چاہتا ہے۔ ذرا سوال کیجئے کہ سپاہ صحابہ کو کس اسلامی ملک سے کیا امداد ملتی رہی اور ہمارے کس عرب برادر ملک نے ہمارے گھر کو آگ لگانے والے اس شعلہ کو ہوا دی۔ لشکر جھنگوی کے بارے میں دو رائے ہیں۔ ایک رائے تو یہ ہے کہ یہ سپاہ صحابہ کا وہ گروپ ہے جو ان سے پر تشدد کاروائیاں کرنے کی اجازت نہ ملنے پر الگ ہوا ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ سپاہ صحابہ نے خود یہ گروپ الگ کیا تھا تاکہ اپنے سیاسی چہرے اور دہشت گرد چہرے میں فرق کر وا سکیں۔ لیکن زیادہ بڑا سوال یہ ہے کہ ریاست نے ان دونوں گرہوں کا وجود برداشت کیوں کیا؟
کبھی موقع ملے تو پڑھئے گا کہ کیسے صفاوت غیور جیسے بہادر پولیس آفیسر نے انہی سالوں میں تشخیص کی تھی کہ یہ لشکر اور سپاہ ہمارے اپنے شہری مار رہے ہیں اور کیسے اس کو خاموش کرایا گیا تھا۔ کیسے درجنوں فرض شناس لوگوں نے اس لشکر کی حیثیت پر سوال اٹھایا تھا اور کیسے ان کو سمجھا گیا تھا کہ اپنے بچے ہیں سنبھال لیں گے۔
ان دنوں ایسے لشکروں کا موجود رہنا ہمارے مفاد میں تھا۔ ان کے پیرو کار لاکھوں کی تعداد میں تھے اور اس میں سے ہزاروں تربیت یافتہ ۔ افغانستان پر جب طالبان نے قبضہ کیا تو مزار شریف میں لشکر جھنگوی والوں نے رقص بسمل کے نام سے قتل عام کی ویڈیو بنائی تھی۔ کشمیر میں درگاہ بل شریف میں لڑنے والوں کو ہمارے شہروں میں ہیروز کی طرح پھرایا گیا۔ حذب، لشکر، سپاہ،جیش، انجمن۔ غنڈوں کی یہ فوجیں ہم نے ان ملکوں سے لڑنے کے لیے بنائی تھیں جن سے ہم کھل کے نہیں لڑسکتے تھے۔
ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کے کاپی رائٹس سپاہ صحابہ والوں کے پاس ہیں۔ ہم نے تو اس سرقہ میں بھی توارد کیا ہے۔
یہ گڈ اور بیڈ والا نظریہ ہماری وہ خام خیال ہے جس کے تحت ہم نے بم پھاڑنے والے اور کلاشنکوف اٹھانے والے لوگوں کے درمیان دو گروہ تراش لئے تھے۔ ایک جو گروپ پاکستانی ریاست اور اس کے اداروں سے نہیں ٹکراتے اور دوسرے وہ جو ہمارے دشمنوں سے لڑتے ہیں۔ ایک اہم تفصیل ہم نے پھر بھی نظر انداز کر دی۔ دونوں گروپ شیعہ اور اقلیت دشمنی میں آگے تھے اور دونوں گروپوں کا اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا، رہاش، اسلحہ اور نظریہ ساز مواد ایک ہی تھا۔ ہم دہشت گردی کے انڈے میں زردی اور سفیدی الگ کرتے رہ گئے اور بیرونی ہاتھوں نے اس آمیزے کو اتنا پھینٹا کہ آملیٹ بن گیا۔ ڈاکٹر جیک اور ہائیڈ ایک ہی شخصیت کے دو پہلو بن کر رہ گئے ۔ پروین شاکر نے شاید ہمارے بارے میں کہا تھا

"ڈسنے لگے ہیں سانپ مگر کس سے بولئے
میں جانتی تھی پال رہی ہوں سنپولیے”

کوئٹہ میں یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے شیعہ خواتین، اس سے پہلے وکیل، اس سے پہلے ہزارہ۔ ہم بیرونی ہاتھ تو ڈھونڈ لیں گے مگر بقول امام دین اندر کی بے غیرتیوں کا کیا کریں گے؟ ہمسائے کی، دیوار سے تاکا جھانکی پر تو روئیں گے مگر اپنی منجی کے نیچے کب ڈانگ پھیریں گے۔ رمضان مینگل کی تصویریں دیکھ لیجئے پولیس کے اہلکاروں کے ساتھ اور پھر پوچھئے کہ لشکر جھنگوی کو کس کی پناہ حاصل ہے؟ قربانی کی کھالیں جمع کرنے والوں کی تلاش کیجئے ۔ چندے کے بکس کس نے رکھوائے ہیں پتہ کیجئے ۔ جمعہ کی نماز کے بعد کون پمفلٹ بانٹ رہا ہے، حساب رکھیے۔
لال مسجد کے خطیبوں کو سنبھالئے۔ لشکر جھنگوی کے تانے بانے پنجاب کے علاقے سے ملتے ہیں۔ ان کی بنیادیں پختونخواہ، سندھ اور بلوچستان کے مدرسے ہیں۔ ان کو بنیاد وہ سوچ ہے جو اقلیتوں کی تضحیک سے شروع ہوتی ہے اور ان کے قتل عام پر ختم ہوتی ہے۔ کبھی ان کے صحنوں میں بھی جھاڑو پھیرئیے ۔ اگر مالی امداد کے ذرائع ڈھونڈھنے ہیں تو ملک اسحاق کو ملنے والی سرکاری امداد اور مدرسہ حقانیہ اور مرکز طیبہ کو ملنے والی امداد کا بھی حساب کیجئے ۔ اگر لشکر جھنگوی عالمی کو ختم کرنا ہے تو پاکستانی لشکر اور سپاہ ختم کیجئے ۔
اپنے آستین کے سانپوں کو مارئیے، باہر والے بھی ختم ہو جائیں گے۔
کیپٹین روح اللہ کی قربانی شطرنج کی بساط پر ایک مہرے کی مات سے زیادہ کچھ نہیں ہے اگر ہم انہی قاتلوں کو دوبارہ سر اٹھانے دیں۔ اگر شہیدوں کو اعزاز دینا ہے تو ان کے زخموں کو سجا کر نہیں بلکہ ان کے قاتلوں کو لٹکا کر دینا ہوگا۔ کوئٹہ کے شہید روح اللہ کو بھی رونا ہوگا اور سکردو کے روح اللہ کا حساب بھی مانگنا ہوگا۔

Views All Time
Views All Time
516
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: