Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ڈونلڈ ٹرمپ کا افتتاح | اختر عباس

by May 31, 2017 بلاگ
ڈونلڈ ٹرمپ کا افتتاح | اختر عباس

اگر آپ ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب کے دورے کی خبریں پڑھتے رہے ہیں تو آپ نے ہالی ووڈ اسٹائل کی وہ تصویر ضرور دیکھی ہوگی جس میں امریکی صدر، سعودی بادشاہ اور مصری حکمران کے ہمراہ چار سو واٹ کے ایک انرجی سیور کو پکڑ کر کسی انسٹیٹیوٹ کا افتتاح کر رہے ہیں۔ سیانے کہتے ہیں کہ اس تصویر میں جہاں علاقائی سیاست کے سارے للو پنجو موجود ہیں وہاں ہمارے وزیراعظم اس لیے نظر نہیں آئے کیوں کہ کیمرہ پکڑ کر تصویریں کھینچنے والے کوئی اور نہیں میاں صاحب خود تھے۔ ورنہ کیسے ہو سکتا ہے کہ عالم اسلام کے قلعے کے امیر المومنین اور میرے آپ کے وڈے پایین کو اسلامی ممالک کی تصویر کے درمیان جگہ نہ ملے۔ ایسا سلوک تو ولیمے کے فنکشن میں دلہا دلہن کے ساتھ خاندان کی گروپ فوٹو کھینچتے ہوئے ، اس خالہ کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا جس کو شادی کا کارڈ نیم دلی سے بھیجا گیا تھا۔ تھوڑی بہت کھسر پھسر کے بعد گھر کا کوئی نہ کوئی فرد ہاتھ پکڑ کر خالہ خورشید کو کسی کونے کھدرے میں فٹ کر ہی دیتا ہے اور اگر خالہ خورشید نے دلہن کے جہیز میں چالیس انچ ٹی وی کا سیٹ دیا ہو تو ممکن ہے کہ ان کو دلہا دلہن کے عین درمیان ہی جگہ مل جائے ۔ سعودیوں کو ویسےبھی ہماری سیاست کے رموز و اسرار خوب پتا ہیں اسی لئے تنخواہ دار ہونے کے باوجود سپہ سالار عظیم راحیل شریف کو بنت ڈونلڈ کے مجازی خدا اور سعودی عرب کے مستقبل کے ناخداؤں کے جھرمٹ میں بٹھایا۔ ہو سکتا ہے نواز شریف خود کھانے میں شریک نہ ہوں کہ بلاد عرب میں اچھے سری پائے پکانے والے کہاں ۔

اگر آپ ٹویٹر کی اڑانیں گننے کے شوقین ہیں تو آپ کو وہ چہ مگوئیاں بھی سنائے دی ہوں گی جو اس دودھیا بلور کی نوعیت کے بارے میں تھیں۔ بعض لوگوں نے اسے ہیری پوٹر کے گوبلٹ آف فائر سے تشبیہ دی جس میں نام ڈالنے کی خواہش تو نہ جانے کس کس کو ہو مگر قرعہ کسی مقدر کے سکندر کا ہی نکلتا ہے ۔ کسی کو وہ لارڈ آف دا رنگز کے جادوگر سارومان کا جام جہاں نما لگا جہاں سے وہ اپنی سلطنت کے سارے چھپے گوشے کھنگال لیتا تھا۔ کسی زمانے میں ایران کے بادشاہ جمشید کا جام مشہور تھا کہ جس سے دنیا جہاں کی خبریں ملتی تھیں۔ اب یہ جام جمشید سے چھن کر نئے وارثوں تک پہنچا ہے۔ شنید ہے کہ جس ادارے کےافتتاح کی تصویر کا ہم ذکر کر ہے ہیں ، اس میں دہشت گردی کے نظریہ سازوں کی بیخ کنی ہوگی۔ اس مقصد کے لیے سوشل میڈیا پر فیس بک کے لائکس ، ٹویٹر کے شیئر اور یو ٹیوب کے کمنٹس کے ذریعے اس ہاتھی کو ڈھونڈھنے کی کوشش کی جائے گی جو شاید اس وقت کمرے کے کسی کونے پر کھڑا اپنے کان کھجا رہا تھا۔ دہشت گردی کا بیانیہ ایک ایسا تربوز ہے جسے کھا کر چھلکے اور بیج جگہ جگہ پھینکنے پر کوئی پابندی نہیں۔ اگر آپ کے پاس گمنام کرنے والے ادارے ، سرعت سے وکیل کی غیر موجودگی میں فیصلے سنانے والی عدالتیں، دہشت گردی اور اظہار رائے کے گیہوں اور گھن کو اکٹھا پیسنے والی چکیاں موجود ہیں تو آپ سلمان حیدر اور وقاص گواریہ جیسے لبرلز کو بھی لٹکا سکتےہیں، شیخ نمر جیسے اقلیتی فرقے کے علما کو بھی سولی چڑھا سکتے ہیں اور رائف بداوی جیسے بے ضرر نقادوں کی بھی زبان گدی سے کھینچ سکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو خواہ مخواہ زحمت دی۔ کم از کم اس مسئلے کے لیے ہمیں دساور سے ایکسپرٹ بلانے کی ضرورت نہیں۔

ٹرمپ صاحب الیکشن سے پہلے اسلام کے بارے میں کافی متضاد بیانات دیتے رہے ہیں بلکہ ان کے جیتنے کی ایک وجہ بھی امریکی سیاست میں اسلام مخالف جذبات تھے۔ اب جب ان کو پہلا دورہ کرنا پڑا تو انہوں نے بھی اپنے بزرگوں کی طرح یا شیخ ایتھے ویکھ والی ہی بات کی۔ میرا ایک دوست ہے جسے ریسلنگ کا جنون کی حد تک شوق ہے۔ اس کا خیال ہے کہ ریسلنگ ایک مستند کھیل ہے جس میں دونوں پہلوان ایمانداری سے ایک دوسرے کے کنے سیکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ اس سے لاکھ بحث کریں کہ کسی فلم کے اسکرپٹ کی طرح یہ ریسلنگ بھی ایک دلچسپ مگر طے شدہ کہانی رکھتا ہے، مگر اس کے نظریات نہیں بدلیں گے۔ ٹرمپ بھی ایک زمانے میں ریسلنگ کا حصہ رہے ہیں بلکہ ایک دفعہ تو انہوں نے مسٹر مک مین کی ٹنڈ بھی کر دی تھی۔ سو میں اور آپ جتنا مرضی الجھتے رہیں ، ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلے والا بیانیہ بھی طے شدہ تھا اور اب کے بھی وہ کسی پلان کا حصہ ہیں۔ خادم حرمین شریفین نے بھی منہ دکھائی میں جو اربوں کے معاہدہ کئے ہیں وہ مشرق وسطیٰ کے اس نئے نقشے کا حصہ ہیں جس میں اتنی لکیریں کھینچی اور مٹائی جا چکی ہیں کہ اب یہ نقشہ کم اور پرانا چنگ چی رکشہ زیادہ لگ رہا ہے۔

دنیا کا سب سے منافع بخش کاوبار جنگ کا کاروبار ہے۔ اسلحہ بنانا، آلات جنگ ترسیل کرنا، لڑنے والے سورما پالنا، مرنے والوں کی تعزیت پر جانا، نفرت کے بیچ بونا یا ان بیچوں کی بیخ کنی کے لیے اوزار بیچنا۔ یہ سب ایک گلوبل اکانومی ہے ، ایک کھیل ہے جس میں سب سے زیادہ نقصان بحرین، شام، یمن ، افغانستان اور پاکستان جیسے ممالک کے ان تماش بینوں کا ہوتا ہے جن کی جیبوں سے اس سارے تماشے کا خرچہ نکالا جاتا ہے اور جو یہ سمجھتے ہیں کہ لڑنے والے رنگ کے اندر موجود ہیں۔

mm
اختر عباس نہ لیفٹ کے ہو سکے نہ رائیٹ کے۔ دونوں کے درمیان صلح صفائی کی کوشش میں اکثر مار کھا جاتے ہیں۔ دہشت گردی، سیاست اور معاشرتی نظام کی بدلتی کہانیاں سناتے ہیں۔ انہیں آپ اس ٹویٹر ایڈرس پر فالو کر سکتے ہیں
@Faded_Greens
مرتبہ پڑھا گیا
415مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
2مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: