عامر لیاقت ہمارے میڈیا کا گلو بٹ – اختر عباس

Print Friendly, PDF & Email

عامر لیاقت حسین ہمارے میڈیا کا گلو بٹ ہے۔ شامی بھائی نے جیسے ہی یہ کہا تو میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔ شامی بھائی میرے دوست ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اردو زبان کے آئن سٹائن ہیں۔
مثلاََ ان کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے یہ جملہ “اس شعر میں شاعر نے دنیا کی بے ثباتی اور اپنے محبوب کی بے غیرتی کا ذکر کیا ہے” انہوں نے اردو کے پرچے میں استعمال کیا تھا ۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ مشہور زمانہ “یہ چیز، میرے عزیز” اور “یہی تو مسئلہ ہے کہ ڈبوں میں اسلحہ ہے” جیسے نایاب تکیہ کلام ان کی ایجادات ہیں۔ اکثر چائے کی پیالی پر ٹن ہو کر ٹی وی اینکروں کی طرح سیاسی تجزیے کرتے ہیں۔ ان کی باتیں معرفت کی نہریں ہیں جو کراچی کی بارش کی طرح کسی وقت بھی برس سکتی ہیں ۔ انہوں نے گلو بٹ کا ذکر کیا تو میں کاپی اور قلم لے کر ان کے پاس بیٹھ آگیا۔
عامر لیاقت اور گلو بٹ میں مماثلت کی سیاق و سباق کے حوالے سے تشریح کریں۔ میں نے کسی پرانی گائیڈ کے حل بنانے والے بابے کی طرح سوال کیا۔
گلو بٹ یاد ہے نا۔ 2014 میں جب حکومت اور منہاج القرآن والوں کے درمیان تنازعہ شروع ہوا تھا تو گلو بٹ سامنے آیا تھا۔ پولیس کا مخبر، تھانے دار کا یار، لمبی موچھیں، گندی شرٹ ۔ جیسے منٹو کے کسی افسانے سے نکلا کوئی کردار۔۔ میں نے فورا لقمہ دیا۔
کیسے سلطان راہی کی طرح ہاتھ اٹھا کر پولیس کے لشکر کے آگے آگے چلتا تھا اور کیسے اپنے ڈنڈے سے منہاج والوں کی گاڑیوں کے شیشے توڑتا تھا۔ شامی بھائی نے کسی مشاق شاگرد کی طرح ہرے مارکر سے موٹی موٹی سرخیاں لگائیں اور نیلے قلم سے تفصیلات لکھنا شروع کیں۔
یہ جو گلو بٹ جیسے لوگ ہوتے ہیں، انہیں تھوڑی مشہوری درکارہوتی ہے۔ یہ پرانے جغادری بدمعاشوں کی طرح پاکٹ مار سے ہتھ چھوڑ، ہتھ چھوڑ سےچھپن چھری اور چھپن چھری سے پستول مار کہ نہیں بنے ہوتے۔ ان کی زندگی کا مقصد ایک شارٹ کٹ ہوتا ہے ، چوہدری صاحب کی خوشنودی کے لیے کیا گیا وہ بڑا کام جس میں خرچہ کم ہو ، خطرہ مناسب ہو مگر واہ واہ رج کے ہو۔ گلو بٹ بھی ایسا ہی تھا۔ چھوٹی چھوٹی بدمعاشیوں سے جی نہ بھرا، مخبریوں اور دھونس دھمکیوں میں منافع کم نظر آیا تو پولیس کی مدد سے راتوں رات ہیرو بننے کا ارادہ کر لیا۔ جو کام انتظامیہ نہ کر سکی، گلو بدمعاش نے کر دیا۔ کسی کی گاڑی کا شیشہ پھوڑ دیا، کسی کی ریڑھی الٹ دی۔ تھانے دار کی شاید اپنی مرضی بھی نہ تھی کہ ایسے جوہر کو ضایع کردے۔ لیکن کسی بڑے صاحب نے کہا ہوگا اور گلو بٹ جہاں چھوٹے صاحب کے کام آیا وہاں بڑے صاحب سے بھی شاباشی لے گیا۔

ہر گلو بٹ کا ایک چھوٹا صاحب ہوتا ہے اور ایک بڑا صاحب۔ چھوٹا صاحب تنخواہ دیتا ہے لیکن بڑا صاحب اصل کام کرواتا ہے۔ وہ سارے کام جو وہ خود نہ کر سکتا۔ جیسےاس تھانیدار کو کسی بڑے صاحب نے کہا تھا۔
لیکن عامر لیاقت کا اس قضیے سے کیا تعلق۔
عامر لیاقت ہماری قوم کا آئینہ ہے۔ تھوڑی سی مذہبی روایتیں، تھوڑی سی قوالی، تھوڑے سے ہندوستانی گانے، تھوڑا سا موبائل فون ، تھوڑا بہت مہنگی لان، تھوڑا بہت رمضان اور تھوڑا بہت پاکستان۔ شامی بھائی نے مضمون کو حاشیے لگانے شروع کیے۔
گلو بٹ کسی ایک شخص کا نام نہیں۔ یہ ایک استعارہ ہے۔ ٹیڑھے ڈبے سے گھی نکلوانے والی ٹیڑھی انگلی کا۔ یہ جو جتنے بھی بڑے صاحب ہیں وہ سب کوئی نہ کوئی گلو بٹ استعمال کرتے ہیں۔ کسی اور بڑے صاحب کو ہرانے کے لیے۔
عامر لیاقت کی روٹی روزی بھی مشہوری سے وابستہ ہے۔ کون سا موضوع گرم ہے ، کس تھالی میں منہ مارنے سے کونسا پتھر پڑے گا اور کہاں سے پیٹ بھرنے کی امید ہے۔ عامر لیاقت کا بھی ایک چھوٹا صاحب ہے جو اسے تنخواہ دیتا ہے اور ایک بڑا صاحب ہے جو اسے کام دلواتا ہے۔
یاد ہے نا پہلے بھی ایک گلو بٹ تھا
کونسا والا۔ شامی بھائی آپ بھی پہلیاں بھجواتے باز نہیں آتے
یار وہ جو کرسی پر تصویر رکھ کر پروگرام کیا کرتا تھا۔ وہ جس کے چھوٹے صاحب کو لندن میں معافی کے اشتہار چلانے پڑ گئے۔
وہ تو نکل گیا شامی بھائی۔ وہ گلو بٹ تو ہوشیار نکلا۔
لیکن لاہور والا گلو بٹ پھنس گیا۔ میں نے شامی بھائی سے کہا۔
یعنی گلو بٹ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو پکڑے جائیں اور ایک وہ جو تھانہ بدل بدل کر کام آسکیں۔
اس والے کا کیا بنے گا شامی بھائی؟
یہ والا بھی شاید چپ ہو جائے۔ کچھ توڑ پھوڑ کرے گا۔ پھر کسی اور بڑے صاحب کا حکم آئے گا اور گلو بٹ اندر۔ اگر بہت بہادر ہوا تو چپ چپیتے اپنی سزا جھیل لے گا ورنہ معافی تلافی کے بعد اسی نوکری پر واپس۔ جانو جرمن کی طرح گلو بٹ بھی بھی اوپر اوپری بھرم پر کھاتے ہیں خون پسینے کا نہیں ۔ شامی بھائی نے پان کی گلوری منہ میں رکھتے ہوئے کہا۔

یہ تو اچھی بات نہ ہوئی
بس بیٹا بات یہی ہے۔ اگر آپ گلو بٹ ہیں تو یاتو یہ تسلی کر لیں کہ آپ کا بڑا صاحب تگڑا ہو۔ یا پھر چھوٹے صاحب پر برا وقت آنے سے پہلے تھانا بدل لیں۔

Views All Time
Views All Time
450
Views Today
Views Today
1
mm

اختر عباس

اختر عباس نہ لیفٹ کے ہو سکے نہ رائیٹ کے۔ دونوں کے درمیان صلح صفائی کی کوشش میں اکثر مار کھا جاتے ہیں۔ دہشت گردی، سیاست اور معاشرتی نظام کی بدلتی کہانیاں سناتے ہیں۔ انہیں آپ اس ٹویٹر ایڈرس پر فالو کر سکتے ہیں @Faded_Greens

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: