Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

محسن نقوی کا نوحہ – اختر عباس

by جنوری 15, 2017 بلاگ, کالم
محسن نقوی کا نوحہ – اختر عباس
Print Friendly, PDF & Email

اس دن ہڑتال تھی ، اور سوائے گورنمنٹ کالج کے، لاہور کے سارے کالج بند تھے۔ ہم سارا دن کالج کی انتظامیہ کو کوسنے دیتے رہے جس نے ایک غیر حتمی غیر سرکاری چھٹی ضائع کرا دی۔ دو بجے کے قریب کچہری چوک پر کھڑے ہو گئے تاکہ سینتالیس نمبر کی ویگن میں آدھ گھنٹے کے رکوع کے بعد گھر جاکر کراپنے میلے جاگر اور بدبودار جرابیں اتار سکیں۔ اس دن جو بھی ویگن بھاٹی گیٹ سے لوٹی، زن سے یوں گزر گئی جیسے کسی عفریت کا خوف ہو۔ سڑک پر جمیعت کے بہت سارے لڑکے شاید کسی گستاخانہ تصنیف کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ راوی پڑھنے والے گورنمنٹ کالج کے پڑھاکو قسم کے بی بے بچوں میں سے کسی میں بھی ایم اے او کالج والی جرات نہ تھی کہ کسی ویگن کو زبردستی روک کر گھر پہنچ سکیں۔ ہمسایہ اسلامیہ کالج سول لائین کے کچھ جوانوں نے ایک آدھ ویگن روکی بھی مگر ہمیں کوئی جگہ نہ ملی ۔ کچھ دیر بعد پولیس کی ایک وین چوک پر رکی تو حوصلہ ہوا کہ شاید اب کوئی ویگن روکنے کی ہمت کرے۔ پولیس کی گاڑی میں دو مظلوم قسم کے پولیس والے بیٹھے تھے جنہیں ایک لیڈر نما ایک احتجاجی لڑکے نے اشارہ کر کے نیچے اتار لیا۔ چھ سات لڑکوں نے مل کر گاڑی کو سائیڈ پر لٹایا جیسے اس کا الٹرا ساؤنڈ کرنے لگے ہوں ۔ پولیس والا اپنی سواری کی بے حرمتی دیکھ کر واپس جانے لگے تو انہوں نے آواز دے کر واپس بلا لیا۔ایک بے چارہ قریب آیا تو لیڈر نما اس لڑکے نے کمال بے نیازی سے اس کے سر سے پولیس والی ٹوپی اتار لی۔ ٹوپی والا تو خجالت میں اپنا سر کھجانے لگا، جب کہ دوسرا ناصر باغ کی طرف یوں گھورنے لگا جیسے وہاں کوئی جرم سرزد ہونے والا ہو۔ لیڈر نما لڑکےنے پولیس کی تارے والی ٹوپی ایک ڈنڈے میں پرو کر ایک مشعل سی بنا لی اور اسے لایٹر سے آگ لگا کر سڑک پر قیلولہ کرتی پولیس گاڑی کے پہلو میں ٹھونس دیا۔ اس دن ہمیں احساس ہوا کہ ہالی ووڈ والے کتنا جھوٹ بولتے ہیں۔ دیر تلک ہم کچہری چوک کے فٹ پاتھ پر پولیس والے کے ساتھ بیٹھ کر چپ چاپ اس کی گاڑی کو جلتا دیکھتے رہے۔ کوی پٹاخہ نہیں پھوٹا۔

مجھے یہ سب کچھ اس لیے یاد آ رہا ہے کیوں کہ آج محسن نقوی کی برسی ہے ۔ پولیس کے ویگن جلنے کے کوئی تین چار گھنٹے بعد کوئی پانچ بجے کے قریب ایک بھولی بسری ویگن سے گھر واپس آ رہا تھا تو مون مارکیٹ کے پاس سے گزرتے ایک جگہ کی طرف اشارہ کرکے کنڈیکٹر نے بتایا : یہ وہ جگہ ہے جہاں اس شیعہ ذاکر کو مارا تھا۔ یوں محسن نقوی کا قتل اور اس دن کچہری چوک پر جلائی گئی پولیس کی گاڑی میرے ذہن میں ایک مشترکہ کہانی کے دو کردار بن کر امر ہو گئے ۔ انسانی ذہن بھی ایک پہیلی ہے۔ جانے کیوں یہ دونوں واقعات مجھے نوے کی دہائی کی نمائندگی کرتے نظر آتے ہیں۔ ایک زرخیز انسانی ذہن کا اس کے نظریئے کی بنیاد پر قتل اور انتظامیہ کی رٹ کا آہستہ آہستہ اپنی آگ میں جل جانا.

محسن نقوی بڑے شاعر تھے۔ اردو کے آخری بڑے شاعروں میں سے ایک۔ اگر آپ امام حسین سے عقیدت رکھتے ہیں اور اردو شاعری سے دلچسپی ہے تو آپ کو ڈیرہ غازی خان کے اس ذاکر کے کلام میں میر انیس کی شباہت نظر آئے گی۔ انیس کا فن دربار کی روایت سے جڑا ایک مسجع و مقفی تاج ہے۔ بیش قیمت اور بے بہا۔ رمز، کنایہ، استعارہ اور تشبیہ کے موتیوں سے جڑا۔ محسن نقوی کی شاعری میں ایک للکار ہے۔ یزید کی شناخت اور اس کے تخت کے ڈوبنے کی روایت کا تعین کرنے والی چیخ۔ یہ شاعری نہیں رزم گاہ میں ٹہلتے شیر کی بے چینی ہے۔تاریخی اور تہذیبی شعور سے مسلح ایک نعرہ مستانہ۔ من آنم کہ من دانم کی گونج جو شجرہ نسب کھنگال دیتی ہے۔

محسن نقوی کی مذہبی شاعری کو ایک طرف رکھیے۔ آپ ان کی رومانوی شاعری دیکھیے۔
میں نے دیکھا تھا ان دنوں میں اسے
جب وہ کھلتے گلاب جیسا تھا
اسکی پلکوں سے نیند جھلتی تھی
اسکا لہجہ شراب جیسا تھا
اسکی زلفوں سے بھیگتی تھی گھٹا
اس کا رخ۔۔۔۔۔ ماہ تاب جیسا تھا
لوگ پڑھتے تھے خال و خد اسکے
وہ ادب کی کتاب جیسا تھا

جائیے اور اردو بازار کے کسی ناشر کی الماری کھنگالئے۔ اگر اپ کو اچھی شاعری کا کال نظر آرہا ہے تو مون مارکیٹ کے اس مقتول کی یاد منائیے۔ آپ کو اردو ادب میں قحط الرجال نظر آئے تو یہ آخری ہچکیاں ضرور سنیے۔ محسن نقوی کی شاعری مگر ان کی زندگی کا کہانی کا صرف ایک حصہ ہے۔ ۔ محسن نقوی کو سمجھنا ہے تو پورا سمجھیے۔ ان کی ذاکری کا وصف جانیے۔ ان کی شخصیت کے رنگ کھنگالیے۔ جنوبی پنجاب کی روایتی وفا شعار محبت۔ جیسے صحرا کے بیچ میں کوئی آپ کو ٹھنڈا مشروب پلا دے۔ جیسے سردیوں کی رات میں آپ چوک پر جلتی آگ پر ہاتھ تاپنا شروع کر دیں۔ان کی مظلومانہ موت بھی ان کی کہانی کا ایک اہم حصہ ہے۔ اگر محسن نقوی کو جاننا ہے تو اس پوری کہانی کو جاننا ہوگا۔ ان کی کتاب کے سارے ورق پڑھنا ہوں گے۔ وہ کتاب جس کا پیش ورق وہ نوحہ ہے جو نوے کی ہر کہانی کا پیش ورق ہے۔

ان دنوں شور مچا تھا کہ دہشت گرد تنظیموں نے لسٹیں بنائی ہوئی ہیں ۔کون کن مجالس میں جاتا ہے ، کتنے بجے دفتر سے واپس آتا ہے، کس کے نام کے آخر میں کون سالاحقہ آتا ہے۔ اس زمانے کے دہشت گرد سیانے تھے۔ مجمعے میں حملہ کر کے مذمت کے سیلاب کو دعوت نہیں دیتے تھے۔ خاموشی سے لسٹیں بنا کر سر قلم کرتے تھے۔ جیسے الف لیلہ کی کہانی کا وہ بھیڑیا جو جب تک ایک ایک کر کے قافلے والے مارتا گیا کسی کو اعتراض نہ ہوا۔ لیکن جس دن حریص بنا نظروں میں آگیا۔ کس کو یاد ہے کہ ٹی وی پر ایک بہت میٹھی زبان والے پروفیسر ڈاکٹر غلام مرتضی ملک آیا کرتے تھے۔ ہر وقت مسکراتے ہوے۔ کس کو ٹی وی پروڈیوسر سید عون محمد رضوی یاد ہیں جن کے نام سے راولپنڈی کے چاندنی چوک کے پاس ایک گلی ہے۔ کس نے اسسٹنٹ کمشنر رضا سیال کا نام سنا ہے۔ کس کو مومن پورہ کا قتل عام یاد ہے۔ کس نے رئیس امروہوی کے قاتل کی نشاندہی کی ہے۔ کتنے لوگ اپنے ارد گرد ان سینکڑوں وکیلوں، ڈاکٹروں، صحافیوں، سرکاری ملازموں اور سائنسدانوں سے واقف ہیں جو نوے کی دہائی میں پھیلتی آگ کی بھینٹ چڑھ گئے؟

جب کبھی کوئی مجھے یہ بتاتا ہے کہ پاکستان میں ۲۰۰۱۱ سے پہلے امن تھا، مجھے وہ بہت سارےلوگ یاد آتے ہیں جو راستے بدل بدل کر بھی دست قاتل کو شکست نہ دے سکے۔ مجھے دعا کے لیے اٹھے ہوئے وہ ہاتھ یاد آتے ہیں جن کی بے چینی کا لحاظ دعا کو قبولیت بخشنے والی ذات نے کیا ۔ میں عینی شاہد ہوں کیوں کہ میرے والد جنہوں نے کبھی بھی زندگی کا کوئی فیصلہ فرقے کی عینک سے نہیں کیا، راستہ بدل کر چلنے لگے تھے۔ جناح ہسپتال کے ڈاکٹر فدا علی جن کے دروازے پر ہر فقیر اور مسکین مفت علاج پانے آیا کرتا تھا، چھ مہینے کی چھٹی پر چلا گیا۔ میں نے روتے ہوئے بچے دیکھے ہیں، سہمی ہوئی بیوائیں اور خوفزدہ لوگ دیکھے ہیں جو اپنے نام کے آخر میں آئے عباس، زیدی اور نقوی کے بوجھ تلے دب جاتے تھے۔ نوے کی دہائی محسن نقوی، ڈاکٹر غلام مرتضی ملک، غلام رضا سیال اور بہت ساروں کی کہانی ہے جن کے چاہنے والوں کے پاس کچھ برسیوں، تھوڑی بہت کتابوں اور ڈھیر ساری یادوں کے کچھ نہیں بچا ہے۔

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ ہم پر بہت سارے مرثیے اور بہت سارے نوحے واجب ہیں اور کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی کو یہ قرض اتارنا ہوگا۔

Views All Time
Views All Time
635
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: