جراتِ تحقیق ملے تو – اختر عباس

Print Friendly, PDF & Email

ہمارے وزیر دفاع نے بالآخر اسرائیل کو دھمکی دے ہی دی۔ ویسے تو وزیردفاع کی دفاعی پالیسی میں اتنی ہی اہمیت ہے جتنی کہ چھوٹے سالے کی شادی کے فیصلے میں گھر داماد کی ۔ شرفا کے ہاں دستور یہ ہے کہ اگر بہت سارے سمجھانے بجھانے اور تھوڑی بہت مار پیٹ کے بعد بھی کم عقل  بیٹی کو  نالائق ہی پسند آئے تو گنواروں کی طرح اسے مارا نہیں جاتا بلکہ بیٹی کو عزت سے رخصت کرکے داماد کو گھر بلا لیا جاتا ہے۔  اس کی بات نہ تو گھر کا مالی مانتا ہے اور نہ باورچی کو  پتہ ہوتا ہے کہ چھوٹے میاں کو کونسی سبزی پسند ہے۔ ساس شریکوں کی محفل میں  ایسے داماد کو اعلیٰ تعلیم یافتہ کہہ کر عزت بڑھاتی ہے اور سسر  اپنے پاؤں پر کھڑا دکھانے کے لیے کسی دوست یار سے کہہ کر چھوٹی موٹی نوکری یا کسی شریکے کی دکان میں حصہ بھی دلا دیتا ہے ۔ بچارہ سسرال کی ہر شادی میں بھنگڑا پارٹی کے ساتھ سب سے آگے اور ولیمہ کی پلیٹوں کی تقسیم میں سب سے پیچھا ہوتا ہے۔ اگر زیادہ وفادار ہو تو گاؤں کے معمول کے شادی بیاہ اور ختنے کی تقریبات میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے بھی چلا جاتا ہے ۔ ایسے میں اگر غصے میں وہ کوئی بات کہہ بھی دے تو اسے سسرال کی ترجمانی ہی سمجھا جاتا ہے۔ سو وزیر دفاع نے اگر دھمکی دی ہے تو دفاع والوں کی مرضی سے ہی دی ہوگی ، میں اور آپ کون ہوتے ہیں شکایت والے۔  مسئلہ اس وقت مگر وزیر دفاع کا نہیں ہے، مسئلہ اس خبر کا ہے جس کے رد عمل میں انہوں نے یا بنی اسرائیل کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا ہے۔ یہ خبر جو نائی کی دکان پر خضاب لگواتے کسی بابے کا تبصرہ زیادہ لگتا ہے کچھ ویب سائٹس پر شایع تو ضرور ہوئی مگر ہما شما کسی کو اس کا درست وسیلہ نہ ملا ۔ پتہ چلا کہ وزیر صاحب کی دھمکی ایک جھوٹی خبر کا رد عمل تھی۔

بچپن میں اسلامیات کی کسی کتاب میں ایک آیت پڑھی تھی کہ کسی بھی خبر پر یقین کرنے یا اسے آگے پھیلانے سے پہلے اس کی تحقیق کر لیا کرو۔ مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں انکوائری کمیشنوں کو رپورٹوں کو جن بھاری تالے لگے الماریوں میں بند کردیا جاتا ہے، ان کے کسی اور خانے میں طبیعت پر بوجھ بننے والی آیات،  معاشرتی ذمہ داریوں کا احساس دلانے والی احادیث اور غیرت دلانے والے اقبال کے اشعار بھی بند ہیں  تاکہ مفاد عامہ کو کسی قسم کا خطرہ درپیش نہ ہو سکے۔

 جون ایلیا تو بہت پہلے کہہ چکے کہ ہم بارہ سو سال سے تاریخ کے دستر خوان پر حرام خوری کے سوا کچھ نہیں کررہے ہیں لیکن ہمیں اس حقیقت کا ادراک  عرصہ پہلے ہوا جب ہم نے ایک خبر پڑھی کہ ایک امریکی خاتون خلاباز چاند پر گئیں ۔ وہاں سے انہوں نے نیچے کی جانب دیکھا تو زمین پر انہیں دو مقامات چمکتے دمکتے نظر آئے ۔ نہ صرف فرط جذبات سے مسلمان ہو گئیں بلکہ زمین پر آکر تبلیغ دین بھی شروع کردی۔ ہمارا ماتھ  ٹھنکا کیوں کہ چاند پر جانے والے ہر مشن کی تشہیر کافی محنت سے کی جاتی ہے اور انسانی مشن تو ستر کی دہائی کے بعد کوئی پلان ہی نہیں کیاگیا۔ پھر کیسے ہو سکتا ہے کہ دنیا کی نظروں سے اوجھل یہ خاتون اتنا کچھ کر گئیں اور کسی کو پتہ بھی نہ چلا۔ تھوڑی تحقیق کی تو پتہ چلا کہ خاتون چاند پر تو نہیں مگر خلا میں ضرور گئی تھیں لیکن نہ تو انہوں نے اپنا مذہب بدلا اور نہ ہی کوئی معجزہ کی کہانی سنائی۔ ہم نے اس کے بعد ہر ایسی خبر ذرا توجہ سے پڑھنا شروع کی۔

طرح طرح کی کہانیاں سننے کو ملیں۔ آسٹریلیا کے ایک طوفان کی تصویر کو سونامی کی آخری تصویر کہہ کر بانٹا گیا ۔ آپ ہم سے قسم لے لیں پانی کا وہ نام نہاد سیلاب صاف ریت کا طوفان دکھتا تھا اور اس پر متزاد یہ کہ تصویر پر کھینچی جانے والی تاریخ بھی ثبت تھی جو کہ سونامی کی تاریخ سے مختلف تھی۔ تلاش پر آسٹریلیا کے اس مقام کا بھی پتہ چل گیا جہاں کی وہ تصویر تھی مگر صم بکم عمیا والی ہماری قوم اسے انڈونیشاہی سمجھتی رہی۔ ٹھکا ٹھک وہ شیر مارے کہ الحذر الامان ۔ ٹی وی پر ایک معزز قسم کی ایک اینکر صاحبہ نے  رپورٹ سنائی کہ کوئی ڈاکٹر صاحب ہیں جنہوں نے یہودیوں پر ریسرچ کرکے ان کی کامیابی کا راز  جانا ہے۔ تلاش پر نہ تو وہ یہودی صاحب ملے نہ تحقیق۔  جب غور کیا تو ہمیں فیس بک کی دیوار گریہ پر طرح طرح کی خواہشات نظر آنے لگیں۔ کہیں فیس بک والے ہر کلک پر کسی معذور کو لاکھوں ڈالر دے رہے ہیں، کہیں ایپل والے  ایمیل کو آگے کرنے پر آئی پیڈ دے رہے ہیں، کہیں کسی کو ہماری پرائیویسی سے دشمنی ہےتو کہیں کسی کو ہمارے نام پر لنک آگے بھیجنا ہیں لیکن جب بھی حضرت علامہ گوگل  سے رجوع کیا، کسی معتبر اخبار یا رسالے میں دھونڈھا تو سب جھوٹ نظر آئے۔  ہم آپ سے ان کدووں، بینگنوں، بدلیوں، درختوں اور چاند کے ٹکڑوں کی تو بات کر ہی نہیں رہے جن پر مقدس نام اور شبیہ نظر آتی ہیں کہ معجزہ پر اعتبار ہر شخص کا ذاتی فعل ہے۔  ہم جنوں سے بجلی نکالنے، کینسر کا ایک پھکی سے علاج کرنے والے اور دائمی جوانی بخشنے والے طلا ہآئے مروارید کی بات بھی نہیں کر رہے جن کو دیکھ کر پرویز ہود بھائی سر پکڑ لیتے ہیں۔ ہم تو بات ان خبروں کی کر رہے ہیں جن کی کوئی  بنیاد ہی نہیں اور جن کا وجود سوائے کسی ذہنی اختراع کے کچھ نہیں۔ ہم نے ہر اس مشہور آدمی جو کسی مسجد کے قریب سے گزرا یا جس نے قران کی کسی آیت کا ترجمہ کسی جگہ سنایا یا کسی فلم میں کسی مسلمان کا کردار ادا کیا اسلام قبول کروالیا۔ اکثر اوقات اس کی اجازت اور  علم کے بغیر ۔  مائیکل جیکسن کی چھوٹی بہن سے لیکر لیان نیسن تک سب کے نئے شناختی کارڈ بنوا لیے تاکہ مذہب کا خانہ درست ہو سکے لیکن سوائے چند ایک کے زیادہ تر خبریں جھوٹی نکلیں۔

ہم نے ایک دنیا ریورس پلاجرزم کی بھی دریافت کی، جہاں مشہور افراد کے الفاظ اپنے نام سے چھاپنے کی بجائے اپنے اقوال مشہور افراد کے سر تھوپے گئے۔ اچھے دنوں میں ہر مزاحیہ شعر امام دین کے نام کر دیا جاتا تھا۔ اب لوگوں کو اقبال ہاتھ آگئے ہیں۔ مصرعہ وزن میں ہو نہ ہو، ردیف قافیہ کا التزام موجود ہو نہ ہو، معنی کی بنیاد میں پختگی ہو نہ ہو، کوی مسئلہ نہیں۔ اگر آپ کو وہ شعر پسند ہے تو اقبال کے نام چپکا سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ یاروں نے مولانا رومؒ اور حضرت علیؑ کے نام بھی ایسے اقوال کر دیے  جو شاید معانی کے لحاظ سے تو عمدہ ہوں مگر ان کی ذات سے کبھی بھی منسوب نہیں رہے۔

مملکت خداد داد میں آپ کو آزادی ہے کہ کوئی  بھی در فطنی چھوڑ دیں۔ ٹوکیو کو جرمنی میں ملا دیں، چی گویرا کو اٹھارہویں صدی میں فرانس کا صدر بنا دیں، میانمار میں ہندو آباد کرواکر ان سے قتل عام کروا دیں، اپنی گلی میں موجود نلکے کو ایشیا کا سب سے بڑا ٹیوب ویل دکھا دیں، چاچے بشیر کی قلفی اوباما کو کھلا دیں۔ پبلک مانے گی۔ صرف مواد جذباتی ہونا چاہیےاور کسی بھی طبقے کی دینی، لسانی یا قومی حمیت کو سہلانے والا ہونا چاہیے ۔ اس بنانا ری پبلک کی پبلک دھڑا دھڑ چھاپے گی۔ سوچے سمجھے، تحقیق کیے اور تسلی کیے بغیر۔

سو کیا ہوا جو وزیردفاع نے زرا ڈیشنگ نظر آنے کے لیے جلدی میں ایک آدھ بیان جڑ ہی دیا۔ کیا ہوا جو ان سے خبر کی تصدیق میں زرا کاہلی ہو گئی۔ وزیردفاع بھی ہمارے ہی معاشرے کے فرد ہیں۔ اب اگر آپ بھٹی میں چنے ڈالیں گے تو آگے سے سیخ کباب پک کر آنے سے تو رہے۔ چنے ہی واپس ملیں گےنا

Views All Time
Views All Time
553
Views Today
Views Today
1
mm

اختر عباس

اختر عباس نہ لیفٹ کے ہو سکے نہ رائیٹ کے۔ دونوں کے درمیان صلح صفائی کی کوشش میں اکثر مار کھا جاتے ہیں۔ دہشت گردی، سیاست اور معاشرتی نظام کی بدلتی کہانیاں سناتے ہیں۔ انہیں آپ اس ٹویٹر ایڈرس پر فالو کر سکتے ہیں @Faded_Greens

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: