Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

دعا کی کہانی

by دسمبر 18, 2017 بلاگ
دعا کی کہانی
Print Friendly, PDF & Email

احمد جاوید صاحب کہتے ہیں کہ  بچوں کے ساتھ کھیلنا ایک روحانی عمل ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالٰی نے انسانوں کو سمجھانے کے لئے بہترین مثالیں اور تشبیہات دی ہیں۔ انسان کے لئے اپنی بے پناہ محبت سمجھانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ماں کی مثال دی ہے۔ “ اللہ تعالٰی انسان کو ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے”
میں جب اپنی بیٹی دعا کے ساتھ کھیلتی ہوں تو ایک کھیل ہمارا بہت پسندیدہ ہوتا ہے۔

جس میں میری بیٹی آنکھیں بند کر کے بستر سے چھلانگ لگاتی ہے اور میں بھاگ کر اسے اپنی بانہوں میں سنبھال لیتی ہوں۔ یوں وہ گرنے سے بچ جاتی ہے۔ بستر زمین سے بہت اونچا نہیں ہے لیکن چونکہ دعا ابھی اونچائی اور گہرائی کو ماپنے کا ادراک اور سمجھ نہیں رکھتی اس لئے دعا کے لئے یہ چھلانگ کسی بڑے کارنامے سے کم نہیں ہوتی اور وہ چھلانگ لگانے کے بعد بہت دیر تک خوشی اور ہیجان کی کیفیت میں رہتی ہے۔ دعا کو مجھ پر پورا بھروسہ ہوتا ہے کہ میں اسے گرنے سے بچا لوں گی۔ یہ کھیل جہاں دعا کو خود اعتمادی فراہم کرتا ہے وہاں اس کا میرے ساتھ تعلق کو مزید مضبوط بھی کرتا ہے۔

جہاں تک میری بات ہے تو مجھے یہ کھیل اس لئے زیادہ پسند ہے کہ مجھے دعا کا خود پر اندھا اعتماد کرتے ہوئے بے خوف و خطر کود جانا بہت اچھا لگتا ہے۔ غور کریں تو یہ کھیل تو ہم اپنے رب کے ساتھ بھی کھیلتے ہیں۔ جو ہر جگہ موجود ہے اور اس کی قدرت اور دائرہِ کار بھی غیر محدود ہے۔ ہم اپنی محدود سوچ اور نظر کے ساتھ زندگی میں بہت بار آگے بڑھتے ہوئے خوف محسوس کرتے ہیں۔ تب ہم اللہ تعالٰی پر مکمل بھروسہ کر کے تمام معاملات اللہ تعالی کے سپرد کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالٰی یقین رکھنے والوں کو پسند کرتے ہیں اور ہمارے یقین کو کبھی ٹوٹنے نہیں دیتے۔
شاید اسے ہی Leap of faith کہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   راؤ انوار کی پراسرار روپوشی

اسی ضمن میں ایک اور واقعہ کا یہاں ذکر کروں گی۔ کچھ عرصے پہلے تک روز صبح ناشتے کے دوران جب میں چائے پیتی تو دعا کی ضد ہوتی تھی کے اسے گرم کپ کو چھونے دیا جائے۔ بلکہ کہیں جا کر بھی کسی کے ہاتھ میں چائے یا کافی کا گرم کپ دیکھے تو چھونے کی ضد کرتی تھی۔ اسے بہت دفعہ سمجھانے اور باز رکھنے کی کوشش کی۔ دعا کی زبان میں اور اپنی زبان میں سمجھایا کہ کپ گرم ہے ، ہاٹ ہے۔ کتاب میں گرم کپ کی بھاپ اڑاتی تصویر دکھائی۔ دعا کے سامنے ہاتھ جلنے کی ایکٹنگ بھی کی۔ مگر اگلے دن صبح کی چائے پر پھر ضد۔ اتاولا پن اور ضد مجھ سے وراثت میں ملی ہوئی ہے۔ پھر ایک دن دل سخت کر کے میں نے دعا کو گرم کپ چھونے دیا۔ اسے کپ گرم محسوس ہوا اور اس نے ہاتھ فوراً پیچھے ہٹا لیا۔ اور میری طرف یوں شکایت بھری نظروں سے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو کہ مجھے تکلیف پہنچنے سے کیوں نہیں بچایا۔ اگلے دن سے دعا گرم کپ سے دور رہی۔

کئی بار جب ہم کتابوں میں درج نصیحت کی باتیں سمجھنا نہیں چاہتے نہ ہی دوسروں کے تجربے سے سبق سیکھنا چاہتے ہیں۔ جب ہم احکام نہیں مانتے تو کئی بار سزا اور تکلیف دینا ضروری ہوتا ہے۔ وہ تکلیف ہمیں بڑی معلوم ہوتی ہے کیونکہ ہم اپنی محدود نظر کے باعث اس بہت بڑی تکلیف کو نہیں دیکھتے جس سے ہمیں بچایا گیا ہوتا ہے۔ اللہ تعالٰی کے احکام ہمارے بھلے کے لئے اور ہمیں تکلیف سے بچانے کے لیے ہوتے ہیں۔ سزا اس لیے بھی ملتی ہے تاکہ ہمیں آئندہ کے لیے سبق مل جائے اور ہم ہلکی تکلیف کو یاد رکھتے ہوئے بڑی تکلیف سے بچ جائیں۔

Views All Time
Views All Time
601
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

One commentcomments

  1. بہت زبردست مثال کے ساتھ آپ نے اہم نقطہ سمجھایا ۔
    جیتی رہیں بہنا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: