میرا خدا مت چھینو

Print Friendly, PDF & Email

کہتے ہیں کے چار مسلمان ایک سمت تب ہی چلتے نظر آتے ہیں جب پانچواں اُن کے کاندھے پر ہو۔ یہ تعلیم و تربیت کی کمی اور کچھ ملاؤں کی مہربانی کا نتیجہ ہے۔ یہ بات میں نے تمام معزز مولوی حضرات کے لیے نہیں کہی بلکہ اُن نام نہاد دین کے ٹھیکیداروں کے بارے میں لکھی ہے جن کا اسلامی تعلیمات سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ دین اسلام کو قرآن و حضور پاک کی سنت پر عمل کی بجائے محض حضور پاک پر درورد اور شیطان پر لعنت بھیجنے تک محدود کر دیا ہے۔ انسان جتنا علم حاصل کرتا جاتا ہے اس میں عاجزی اور انکساری بڑھتی ہے۔ جتنا جانتے جاؤ یہ احساس بڑھتا ہے کہ میں کچھ نہیں جانتا۔ یہاں معاملہ اُلٹا ہے۔ دین کے ٹھکیدار کہتے ہیں کہ میں سب جان چکا ہوں لہذا مزید کچھ سیکھنا نہیں چاہتا۔

اس سلسلے میں ایک روایت سننے میں آتی ہے کہ مسلمانوں کے 72 فرقے موجود ہیں۔ میرے خیال میں توڑنے والوں کے لیے 172 فرقے بھی ہو سکتے ہیں اور جوڑنے والے کے سامنے 72 فرقے پیش کرو تو وہ یہ کہے گا کہ بظاہر مختلف ہیں یا نام مختلف ہیں مگر فرقے اتنے زیادہ نہیں۔ اُسے فرقوں کی تعداد کم لگے گی۔ بلکہ شاید وہ فرقوں سے اوپر اُٹھ کر سب کو صرف مسلمان کی حیثیت سے دیکھے۔ توڑنے والا اختلاف کے نقطے ڈھونڈھتا ہے اور جوڑنے والا مشترک نقطوں کی تلاش میں رہتا ہے۔

دوسرے کو اتنے یقین سے کافر کہنے اور جہنم کا ٹکٹ دینے والے کو خود کس نے یقین دلایا کے وہ جنت میں جائے گا ؟ مسئلہ یہ ہے کے مسلمان جب یہ سوچتا ہے کے حضور پاک ص کی امت بغیر حساب کتاب کے پہلے ہی بخشی جا چکی ہے۔ تو جنت کا ٹکٹ حاصل کرنے کے بعد دوسرے مذاہب کے لوگوں سے اس کا دل تنگ ہو جاتا ہے۔ حتی کہ دوسرے مسلمانوں سے بھی کیونکہ وہ سوچتا ہے کہ حضور پاک کی امت میں سے ایک فرقہ جو بخشا جا چکا ہے وہ میرا فرقہ ہی ہے۔ اس طرح دوسرے فرقوں کے لیے بھی اس کا دل تنگ ہو جاتا ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ الحکم و عادل پروردگار حقوق اللہ اور خاص طور پر حقوق العباد نہ ادا کرنے اور دوسروں پر ظلم کرنے والوں کو محض حضور پاک کا امتی ہونے پر جس میں بھی ان کا کوئ کمال نہیں کے رب العزت نے اُنہیں مسلمان گھرانے میں پیدا کیا حساب سے مبرا ر دیں گے عقل یہ بات تسلیم نہیں کرتی۔

دوسرا یہ کے بلفرض جنت ملنا اٹل ہے تب بھی پہلے ہر ظلم کا حساب ضرور ہو گا۔ اس لیے جو لوگ کر رہے ہیں وہ اتنے بےفکر ہو کر دوسروں پر ظلم کرنا چھوڑ دیں۔ جنت کمانے کا آسان طریقہ ہے کہ منہ پھاڑ پھاڑ کر دوسرے فرقے اور مذاہب پر لعنت بھیجو ، ایسے جنت پکی ہو جائے گی۔ عمل کے بارے میں کس کو خیال ہے۔ حضور پاک نے اپنے اوپر ظلم کرنے والوں کو عام معافی اور پناہ دی۔ اور یہ حضور پاک کے امتی کہتے ہیں کہ کوئی مر جائے تو اسے خالق و مالک پاک پروردگار کی بنائی زمین بھی نصیب نہ ہو۔ وہ رب جو بارش برساتا ہے تو نیکو کار اور گناہ گار سب پر اپنی رحمت فرماتا ہے۔ جو نیک و بد سب کا رازق ہے۔ جس کی رحمت اس کے غضب پر حاوی ہے۔وہ نیتوں کے حال جانتا ہے چاہے کس بات پر گناہوں کو بخش دے چاہے کس بات پر پکڑ کر لے۔

یہ بھی پڑھئے:   مولوی صاحب اور فلم – ابنِ حیدر

اسلام مذہب کے معاملے میں بھی اعتدال اور میانہ روی کو پسند کرتا ہے۔ ہمارے دل کس قدر تنگ ہو گئے ہیں کہ وہ شخص جو دنیا میں ہی نہ رہا اور جس کا معاملہ غفور و رحیم رب العالمین کی عدالت میں جا پہنچا آپ زمین پر خدا بن کر اسے سزادے ہے ہیں۔ وہ شخص جو اپنا دفاع کرنے کے لیے دنیا میں موجود نہیں اسے مرنے کے بعد کافر قرار دے دیا جاتا ہے۔ معذرت کے ساتھ کبھی کسی اور مذہب میں مُردوں کے ساتھ ایسا سلوک ہوتے نہیں دیکھا کہ مرنے کے بعد اس کے جسد خاکی کو مذہبی پیشوا مذہب کے مطابق احترام سے سپرد ِ قدرت کرنے اور آخری رسومات ادا کرنےسے انکار کر دیں۔

مگر اسلام جیسے خوب صورت مذہب جو کے امن و سلامتی کا دین ہے وہاں پہلے تو جی تے جی ایسے مولوی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے کے اسے مزہب کے دائرے سے خارج کر دیا جاۓ ورنہ جب وہ آنکھیں موندھ لے تو اس کی میت کو ذلیل و رسوا کیا جائے۔ اس سے بڑھ کر ظلم کیا ہو گا۔یہ تو ایسے ہی ہے کے ہمارے ماں باپ ہمیں اولاد ماننے سے انکار کر دیں۔ آپ کے مسلمان ہونے کا فیصلہ کوئی اور کیوں کرے گا ؟ یہ آپ کا اور اللہ کا معاملہ ہے۔ کسی اور کو اختیار نہیں کہ آپ کے ایمان کو اپنی تنگ نظری کے ترازو میں تولے۔

اُستاد ذہن ساز ہوتا ہے۔ اسے ایسے بیانات سے پرہیز کرنا چاہئے جن سے شدت پسندی اور فرقہ واریت کو فروغ ملتا ہے۔ ہمیں بحیثیت مسلمان لوگوں کو دکھانا چاہیے کے مذہبیت اور انسانیت ایک دوسرے کے ضد نہیں بلکہ ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ ہر سال کتنے ہی لوگوں کو گستاخ ِ رسول کہ کر مار دیا جاتا ہے۔ کوئی کسی پر گستاخِ رسول ہونے کا الزام لگا دے تو لوگ حقیقت جاننے کی کوشش بعد میں کرتے ہیں پہلے اس شخص کو مار کر اپنی جنت پکی کرتے ہیں۔ اتنا غصہ کیوں ہے بھائی ؟ اسلام اور عشق ِ رسول صرف نفرت اور غصہ کرتے وقت کیوں یاد آتا ہے ؟ رسول پاک کی سیرت پر عمل کرنے کے معاملے میں عشق کیوں جوش نہیں مارتا ؟ رسول پاک بہترین اخلاق کے مالک ، عدل انصاف کرنے والے ، صادق ،امین ،دیانت دار،حسنِ سلوک کرنے والے تھے۔ اپنے تمام کام اپنے ہاتھ سے کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھئے:   سب صحیح ہے

رسول پاک سے عشق کے اظہار کا بہترین طریقہ اُن کی پیروی کرنا ہے۔افسوس کی بات ہے کے عاشق ِ رسول ہونے کا دعوی کرنے والوں میں بڑی تعداد ایسے نوجوانوں کی بھی ہے جو سیرت النبوی پر عمل کرنے کی کوشش تو کیا اسے سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔ان کا سیرت النبوی سے دور دور کا کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ نہ تو ملک کی معیشت میں کوئ فعال کردار انجام دیتے نظر آتے ہیں۔ نہ ہی انہیں گھر سے باہر کسی طرح کے سخت محنت و مشقت کے کام کرتے دیکھا جاتا ہے۔ بلکہ گھر میں بھی کھانا کھانے اور بعت الخلا جانے کے علاوہ اپنا کوئی کام خود کرنا پسند کرتے ہیں۔ اسلامی نظام ِ حیات کو اپنا کر اپنے حسن سلوک سے غیر مسلموں کو اسلام کی طرف راغب کرنے کی بجائے بعض مولویوں نے مسلمانوں کو آپس میں ہی کافر کافر کھیلنے پر لگایا ہوا ہے۔ فتوی لگانے کا اگر اتنا ہی شوق ہے تو کسی مسلمان کو کافر کہنے پر فتوی لگانا چاہئے۔ غیر مسلموں کے خدا کو گالی دینے پر فتوی لگانا چاہئیے کے اس بات سے نفرت پھیلتی ہے۔

🌹🌻بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
🌹🍁 *وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ فَيَسُبُّوا اللّٰهَ عَدۡوًاۢ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ‌ؕ كَذٰلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمۡ ۖ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمۡ مَّرۡجِعُهُمۡ فَيُنَبِّئُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ* 🍁ترجمہ🍁🌷اور گالی مت دو ان کو جن کی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں کیونکہ پھر وہ جاہلانہ ضد سے گزر کر اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کریں گے (1) ہم نے اسی طرح ہر طریقہ والوں کو ان کا عمل مرغوب بنا رکھا ہے پھر اپنے رب ہی کے پاس ان کو جانا ہے سو وہ ان کو بتلا دے گا جو کچھ بھی کیا کرتے تھے۔🌷سورہ انعام نمبر 6 آیت نمبر 108 ایمان کی گٹھری جس میں ہم تعصب اور نفرت کے بھاری بھرکم پتھر بھر چکے ہیں لگتا ہے ہم اسے سنبھالتے سنبھالتے انسانیت کہیں راستے میں ہی چھوڑ آۓ ہیں۔ ان نام نہاد عالمِ دین کی وجہ سے اسلام کا نام بدنام ہو رہا ہے۔ اللہ رحم کرنے والا ہے اور رحم کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ مولوی اسلام کا ایک اہم حصہ ضرور ہے۔ مگر مولوی اسلام نہیں۔ کوئی مولوی قرآن کی تعلیم کے خلاف کوئی بات کرے۔ لوگوں میں نفرت ، شدت پسندی اور تفرقہ پھیلانے کی بات کرے تو سمجھو کے وہ خود اسلامی تعلیمات سے واقف نہیں۔

Views All Time
Views All Time
452
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: