احمد فرازؔ کی کہانی ان کی زبانی

Print Friendly, PDF & Email

میں صوبہ سرحر کے شہر کوہاٹ میں پیدا ہوا ۔ والدین نے میرا نام احمد شاہ رکھا، پرائمری تک ابتدائی تعلیم کوہاٹ میں حاصل کی، جس کے بعد پشاور آیا اور ایڈورڈ سکول سے میٹرک کر کے ایڈورڈ کالج میں داخل ہوا، جہاں سے گریجویشن کر کے پشاور یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے کیا ۔ اس دوران ریڈیو پاکستان پشاور سے بھی منسلک رہا۔ میں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان کراچی سے اسکرپٹ رائٹر کی حیثیت سے کیا مگر کچھ عرصے بعد ریڈیو کو خیرباد کہہ کر پشاور یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں لیکچرر ہو گیا ، جہاں آٹھ نو برس تدریس سے وابستہ رہنے کے بعد کونسل براۓ قومی یکجہتی نیشنل سنٹر کا ڈائریکٹر ہو کر اسلام آباد آیا جہاں اکادمی ادبیات کی تشکیل ہوئی تو اس ادارے کا پہلا پراجیکٹ ڈائریکٹر اور ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا ، مگر مارشل لاء لگنے کے بعد مجھے اس عہدے سے سبک دوش کر کے ” ٹرانسفر” کے گورکھ دھندے میں پھنسا کر مختلف اداروں میں بھیجا جاتا رہا اور بالآخر کچھ نظموں کو بغاوت کا حوالہ بنا کر مجھے گرفتار کر کے قید تنہائی میں ڈال دیا گیا مگر عدالت نے رہائی کے احکامات جاری کیے تو ارباب حکومت ہاتھ ملتے رہ گۓ، جس کے بعد مجھے کراچی کے ایک مشاعرے میں ” محاصرہ” نظم پڑھنے پر صوبہ بدر کر دیا گیا ۔ جب مجھ پر ذرائع ابلاغ اور آزادی اظہار کے تمام دروازے بند کر دیے گۓ تو میں نے اپنا ملک چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا یوں 1982ء میں برطانیہ چلا گیا ، جہاں بلو اور علی کی فیملی نے میزبانی کی ۔ وہاں میں نے سیاسی پناہ حاصل نہیں کی جس کی وجہ سے جلاوطنی کا ایک برس بڑی مشکل سے گزارا، مگر مجھے دنیا بھر سے مشاعروں میں شرکت کے دعوت نامے موصول ہونا شروع ہوۓ تو امریکہ اور افریقہ سے لے کر پورے یورپ اور مشرق وسطٰی تک کے مختلف ممالک کے دورے کرنے کا موقع ملا۔ جلاوطنی کے اس دور میں میری ملاقات دنیا بھر کے ادیبوں اور شاعروں سے ہوئیں اور بالخصوص افریقی شاعروں سے ملنے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ وہ انہی جیسے کرب اور نفسیاتی کیفیتوں سے گزر رہے ہیں ، چنانچہ میں نے ان کی شاعری کو اردو کے قالب میں ڈھالا ۔ کتاب ” سب آوازیں میری ہیں” کے نام سے سویڈن میں شائع ہوئی ۔ اسی طرح میری شاعری کے بھی مختلف زبانوں میں ترجمے کیے گۓ ، برطانیہ میں قیام کے دوران میری کتاب ” بے آواز گلی کوچوں میں ” بھی منظر عام پر آئی۔اسی طرح شعری مجموعہ ” نابینا شہر آئینہ” منٹریال سے شائع ہوا ۔ وطن سے دوری کے تجربے نے میرے لیے کئی نۓ دریچے کھولے اور کئی نۓ راستوں کا تعین کیا۔
اپنے حالات زندگی بیان کرتے ہوۓ احمد فرازؔ نے کہا کہ میں کوئی اچھا طالب علم نہیں تھا ، نویں یا دسویں جماعت میں تھا ، جب شاعری کی بیماری لگ گئی تھی اور اس کا سبب ایک کلاس فیلو تھی ۔ کلاس فیلو اس اعتبار سے کہ ہم نویں میں تھے وہ غالباً ایک سال سینئر تھی۔ اس کے اور ہمارے والدین کے تعلقات تھے، گھر آنا جانا تھا ، کیونکہ ہمارے سکول میں ایسے کوئی مشاغل نہیں تھے پھر انھوں نے ہمیں بتایا کہ آخری لفط سے شروع ہونے والے شعر کہنے کے مقابلے کو بیت بازی کہتے ہیں ، خیر ہمارے درمیان بیت بازی شروع ہوگئی۔ اسے بہت شعر یاد تھے ۔ اس لیے مجھے اکثر مات ہو جاتی ، اس پر میں نے سوچا کہ شعر یاد کرنے کی بجاۓ،اپنے گھڑیں ، اس طرح مجھے یہ بیماری لگی۔ اس کی تو خیر اس زمانے میں شادی ہو گئی تھی ، جب وہ دسویں جماعت کی طالبہ تھی ، اس طرح یہ قصہ ختم ہو گیا ۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے جو پہلا شعر لکھا تھا وہ کچھ اس طرح تھا ۔

؎ رات کو ، ایک خواب دیکھا
جس میں تیرا شباب دیکھا

میں جب دسویں جماعت میں پڑھتا تھا میرے والد میرے بڑے بھائی کے لۓ ایک سوٹ لے کر آۓ اور میرے لۓ ایک کوٹ کا کپڑا لاۓ جو مجھے کمبل کی طرح لگا ۔ اس پر میں نے ایک شعر لکھا ۔

؎ جب کہ سب کے واسطے لاۓ ہیں کپڑے سیل سے
لاۓ ہیں میرے لیے قیدی کا کمبل جیل سے

بہرحال جس کے سبب ہم بیمار ہوۓ،اس سے تو تندرست ہو گۓ،لیکن شاعری کی بیماری لیے ہم کراچی کے کالج پہنچ گۓ۔ اس دوران زمیندارہ کالج گجرات میں ایک مشاعرہ ہوا ، مجھے انعام ملا،اس کے علاوہ چند ادبی تنظیمیں تھیں ، جن میں سے ایک ” بزم سخن” اور ایک ادارہ ادبیہ” تھا ۔ پھر شوکت واسطی نے ” اردوصبا” کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد رکھی ۔ اس میں زیادہ تر امراء اور اعلٰی افسر شرکت کرتے تھے ۔ یہ گھروں پر ایک طرح کا سماجی اجتماع ہوتا تھا ، لیکن میرا چونکہ اس حلقے سے تعلق نہیں تھا اس لیے میں شروع ہی سے اس سے دور رہا۔ 1949ء۔50 کے دوران ابھی میں کالج میں ہی تھا کہ مجھے ریڈیو سے اسکرپٹ رائٹر کی ملازمت کی پیش کش ہوئی تو میں ریڈیو میں آ گیا ۔ وہاں شاہد احمد دہلوی اور ارم لکھنوی سمیت لکھنؤ اور دہلی کے بہت سے لوگ تھے ۔ میرے ساتھ مسئلہ یہ تھا کہ میں اردو لکھ سکتا تھا ، بول نہیں سکتا تھا ، صرف ہاں جی اور نہیں جی تک اردو بول سکتا تھا ۔ بڑی مشکل ہوتی تھی ، اس لیے مجھے محنت بھی کرنا پڑی، ان دنوں مجھے والدہ کی بہت یاد آتی ۔ ساری ساری رات انہیں یاد کر کے روتا رہتا اور دن کو کام کرتا ۔ پھر کوشش کر کے اپنا تبادلہ کراچی سے پشاور کرا لیا ، وہاں جا کر میں نے کالج دوبارہ داخلہ بھی لے لیا ، کیونکہ ریڈیو والوں نے مجھے اسکرپٹ رائٹنگ کا کام گھر پر یا کالج اوقات کے بعد کرنے کی اجازت دے دی ۔ اس طرح میرے ادبی کیریر کا آغاز ہوا ۔ اس میں کچھ اپنے لیے بھی لکھتے تھے۔ ساتھ ڈرامہ اور سرکاری تقاریر بھی لکھتے ، بعد ازاں کراچی سے قومی پروگرام کا آغاز رہا تو مجھے پھر کراچی جانا پڑا ۔ میرے ساتھ چار دوسرے افراد اور بھی تھے،جن میں چراغ حسن حسرت ، ان دنوں ہمارے چیف اسکرپٹ رائٹر تھے ۔ وہ بڑا اچھا زمانہ تھا ، ہم نے ان سب لوگوں سے بہت کچھ سیکھا ۔ بڑا اچھا ماحول تھا ، بڑے لطیفے ہوتے تھے ۔ حسرت صاحب ہر شخص کو مولانا کہتے تھے ، یہ ان کا تکیہ کلام تھا ۔ احمد بشیر نے ایک اسکرپٹ لکھا ۔ حسرت صاحب کے پاس گیا تو انہوں نے سب کو بلا لیا ، وہ چاۓ اور سگریٹ بہت پیتے تھے۔ مسودے کو الٹ پلٹ کر کہنے لگے ” مولانا یہ کیا ہے ؟” احمد بشیر نے جواب دیا "ڈرامہ ہے”انہوں نے کہا ” یہ کون سی زبان میں ہے لکھا گیا ہے؟”جواب ملا ” اردو میں ” تو حسرت صاحب نے سگریٹ کا کش لگایا اور کہنے لگے ” مولانا اگر آپ نے اردو سیکھنی ہے تو ” طلسم ہوشربا” پڑھیں یا دہلی کی کسی لڑکی سے شادی کر لیں ، تاکہ آپ کی مادری زبان ہو جاۓ ۔” ایک بار حسرت نے مجھے کہا کہ حضرت داتا جنگ بخش کا عرس آ رہا ہے اس پر فیچر تیار کرو، یہ کام میری پہنچ سے دور تھا۔ خیر تھوڑی دیر بعد انھوں نے پھر بلوایا اور کہنے لگے” رہنے دیں مولانا کیا کر رہے ہو؟” میں نے کہا کہ ” مواد اکھٹا کر رہا ہوں ” کہنے لگے ” رہنے دیں مولانا ، یہ خلصتاً تصوف کا معاملہ ہے اور آپ ٹھہرے ترقی پسند، خدا کو بھی خدا صاحب لکھ دیں گے” حسرت صاحب کی باتوں میں اس طرح کا طنز و مزاح ہوتا تھا ، لیکن میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ۔ایک سال یہ پروگرام چلا ، اس کے بعد ہم واپس آ گۓ ، دوبارہ کالج جوائن کر لیا۔ 1960ء میں ایم اے کر لیا تو مجھے یونیورسٹی سے لیکچرر شپ کی پیش کش ہوئی ۔ اگلے سال ریڈیو چھوڑ کر اسلامیہ کالج جوائن کر لیا ، لیکن مجھے ایک حوالے سے مایوسی ہوئی کہ وہاں کے اساتذہ اپنے مضامین میں ٹھیک ہوں گے ۔ لیکن دنیا جہان کا انھہیں علم نہ تھا ۔ وہاں اسٹاف روم میں انہی لوگوں کے ساتھ بیٹھنا ہوتا تھا ، میں چونکہ ریڈیو سے گیا تھا اور ریڈیو پر کام کرنے والوں کا علم بڑا وسیع ہوتا تھا ، وہاں سٹاف کے ساتھ باتیں کر کے ایسا لگتا تھا ، جیسے میں جاہلوں میں آ گیا ہوں ۔ ویسے مجھے ذاتی طور پر پڑھانے کا کام بہت پسند تھا، اس لیے میں یہ کرتا کہ اپنے پیریڈ لیتا اور واپس ریڈیو اسٹیشن چلا جاتا اور وہاں دوستوں میں بیٹھ کر گپ شپ کرتا ۔ کالج میں میرے ایک سینیءر کولیگ تھے جلال صاحب ، انتہائی شریف آدمی تھے ۔ ریٹائرمنٹ سے چھ ماہ پہلے یونیورسٹی نے انھیں کالج کا پرنسپل مقرر کر دیا ۔ ان دنوں کالج میں انتخابات ہو رہے تھے ، لڑکوں نے جلال صاحب کی اتنی بے عزتی کی انہیں فحش گالیاں دیں ، جس کی وجہ سے میرا دل اچاٹ ہو گیا ، کیونکہ استاد کے پاس سواۓ عزت کے اور کچھ نہیں ہوتا ، پیسے تو اسے اتنے ملتے نہیں ۔ اسی دن میں نے تہیہ کر لیا کہ اگر عزت نہیں تو پھر یہاں کام کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ ان ہی دنوں نیشنل کونسل فار امیگریشن پشاور کے لیے ڈائریکٹر کی اسامی کے لیے درخواستیں طلب کی گئیں تو میں نے وہاں درخواست بھجوا دی ، ابھی خفیہ والوں نے میری کلیئرنس نہیں دی تھی کہ ایک بار لاہور جاتے ہوۓ جہاز میں فیض احمد فیضؔ سے ملاقات ہو گئی۔ میں نے ان سے مشورہ کیا کہ سرکاری ملازمت مزاج سے میل نہیں کھاتی ، مجھے یہ ملازمت کرنا چاہیۓ یا نہیں ، تو کہنے لگے تم یہ ملامت نہیں کرو گے تو جماعت کا بندہ آ جاۓ گا ۔ جہاں تک ممکن ہو سکے ، اپنے لوگوں کو سرکاری ملامتیں کرنا چاہیئیں ۔ بہرحال ملازمت میں نے کر لی ۔ آخر میں وہی ہوا ، جس کا مجھے اندیشہ تھا ۔ کوثر نیازی سے نہ بن پائی ۔ انہوں نے میرے خلاف فتوے جاری کر دیے ۔ میں چھٹی پر اپنے بھائی کے پاس لندن آیا ہوا تھا کہ انھوں نے مجھے ملازمت سے برخاست کر دیا ، لیکن بعد ازاں دوبارہ بحالی ہو گئی ، پھر انہوں نے 1976ء میں اکیڈمی آف لیٹرز (اکدمی ادبیات) بنانے کا سوچا تو مجھے اس کا پہلا ڈائریکٹر جنرل بنایا گیا ۔ 1977ء میں جنرل ضیاء آ گۓ ، پھر فوج نے جو کچھ کیا تھا اس پر میں نے ” پیشہ ور قاتلو” لکھی ، یہ نظم کا آخری مصرعہ تھا ” یشہ ور قاتلو تم سپاہی نہیں ” اس نظم کو لوگوں نے مختلف نام دیے لیکن میں نے اس کام نام رکھا تھا ” پاک فوج کو سلام” صدیق سالک اور کرنل محمد خان آئے اور مجھ سے یہ نظم لے گۓ۔ اس پر آگے کاروائی ہوئی ، اس کے کچھ عرصہ بعد آئی اے رحمٰن اور ایوب مرزا ( جنہوں نے فیضؔ صاحب پر کتاب ” ہم کہ ٹحہرے اجنبی” لکھی تھی) آۓ، انہوں نے مجھ سے کہا مھتاط رہیں ۔ ملٹری انٹیلی جینس آپ کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ میں نے کہا ہم کیا کرتے ہیں جو وہ ہمارے پیچھے ہے ۔ ایک دن سیف الدین سیفؔ اور میں شالیمار ریکارڈنگ کمپنی سے واپسی پر گاڑی سے اتر رہے تھے کہ چاروں طرف سے پولیس نے گجی لیا ۔ سامنے سے ایک میجر آیا ۔ کہنے لگا آپ احمد فرازؔ ہیں میرے جواب پر کہنے لگا ، آپ زیر حراست ہیں ۔ میرے مطالبے پر اس نے مجھے دور سے ایک کاغذ دکھایا کہا آپ کا وارنٹ ہے ۔ مجھے پکڑ کر گاڑی مین بٹھا دیا گیا اور ایک شخص نے میری آنکھوں پر پٹی باندھ دی ۔ پھر مجھے راولپنڈی میں جائیگ ایریا نامی جگہ پہنچایا گیا ، جہاں فوجی مجرموں اور جاسوسوں کو رکھا جاتا تھا ۔ یہ ایک نیم تاریک غلیظ چھوٹا سا تہہ خانہ تھا ۔ چبھنے والی تاروں کا بستر پڑا ہوا تھا ۔ وہاں تشدد کرنے کے آلات پڑے تھے ۔ ایک ٹوٹی سی کرسی پڑی تھی ۔ اسی پر انگھ کر رات گزاری ۔ صبح دروازہ کھلا تو میں سمجھا شاید ایذا رسانی کا کوئی سلسہ ہو گا ، لیکن انھوں نے مجھے اٹھایا اور لاتعداد سیڑھیاں اوپر لے گۓ ۔ کھلی فضا میں آ کر طبیعت بحال ہوئی ، منہ دھویا تو وہاں سامنے درخت پر ایکفاختہ بول رہی تھی ۔ اس پر میں نے کال کوٹھڑی میں تین شعر کہے تھے۔

؎ ایسا سناٹا کہ جیسے ہو سکوت صحرا
اتنی تاریکی کہ آنکھوں نے دہائی دی ہے
درزنداں سے پرے کون سے منظر ہوں گے
مجھ کو دیوار دکھائی دی ہے
دور ایک فاختہ بولی ہے سر شاخ شجر
پہلی آوز محبت کی سنائی دی ہے

پھر ایک شخص ، جو انہی میں سے تھا ، میرے پاس آیا اور بڑے رازدارانہ میں دائیں بائیں دیکھ کر میرے کانوں میں سرگوشی کی ” وہ آپ کو لے جا رہے ہیں ” میرے استفسار پر کہنے لگا ، بس جی کہیں لے جا رہے ہیں ، کوئی پیغام وغیرہ دینا ہے تو دے دیں ، پہنچا دوں گا ۔ میں نے کہا میرا کوئی ہے ہی نہیں ، میں نے کسے پیغام دینا ہے۔ وہ دوبارہ میرے پاس آیا ، مجھے یاد ہے اس کے چہرے پر چیچک کے داغ تھے ۔ تھوڑی دیر بعد اور دو آدمی آۓ ۔ انھوں نے میری آنکھوں پر پٹی باندھ دی ۔ میرا بٹوہ وغیرہ انہوں نے لے لیا تھا لیکن گھڑی اور سگریٹ رہنے دیا ۔ میں نے وقت دیکھا ، اس وقت دن کے بارہ بجے تھے۔ پھر مجھے ٹرک میں بٹھا دیا گیا ، تقریباً ڈھایئ گھنٹے کے سفر کے بعد ایک جگہ پہنچے وہاں سلاخیں تو تھیں لیکن مجھے خوشی تھی کہ وہاں تازہ ہوا آ رہی تھی ۔ میں نے ایک گارڈ سے پوچھا تو اس نے مجھے بتایا کہ یہ مانسر کیمپ ہے ۔ مانسر کیمپ اٹک کے قریب فوجی مرکز میں ہے ، یہاں مجھے قید تنہائی میں رہنا تھا ۔ اسی دوران کیمپ کمانڈنٹ جو ایک میجر تھا میرے پاس آیا اور مجھے کافی دیر عجیب سی نظروں سے دیکھتا رہا ، پھر کہنے لگا آپ احمد فرازؔ ہیں؟ میں نے کہا آپ کو یہ تو بتایا گیا ہو گا کہ کون نیا مہمان آ رہا ہے تو اس نے بتایا کہ مجھے کہا گیا ہے کہ ہندوستان کا ایجنٹ بھیج رہے ہیں ۔ خیر اس کا رویہ میرے ساتھ بڑا اچھا تھا ، اس نے مجھے کتابیں لا کر دیں ، پھر کبھی کبھی وہ میرے پاس آتا اور ادب پر گفتگو کرتا رہتا۔ اس نے مجھے ریڈیو اور دیگر چیزوں کی پیش کش کی لیکن میں نے منع کر دیا ۔چونکہ مجھے سیف ایلدین سیفؔ کے سامنے گرفتار کیا گیا تھا ، اس لیے انہوں نے تمام احباب کو اطلاع کر دی ، سب سے پہلے میری اکلوتی بہن مجھ سے ملنے آئیں ، لیکن مجھ سے ملنے نہ دیا گیا اور دروازے سے واپس کر دیا گیا ۔ اسی طرح میرا دوست ضیاء بھی مجھ سے ملنے آیا ، پھر سیف الدین سیفؔ نے حکومت کے خلاف مقدمہ کر دیا ۔ تین چار روز سماعت ہوتی رہی ، ایک دن مجھے بیان کے لیے لاہور لے جایا گیا۔جسٹس افضل ظلہ بہت اچھے انسان تھے، میرے ساتھ بڑے احترام سے پیش آۓ ، بند کمرے میں خفیہ سماعت ہوئی ۔ سماعت کے موقع پر احمد ندیمؔ قاسمی ، کشور ناہید ، یوسف کامران ، سیف الدین سیفؔ سمیت تقریباً تمام دوست احباب موجود تھے ۔ بیان ریکارڈ ہونے کے بعد جسٹس ظلہ نے کہا کہ آپ کو مقدمے کے فیصلہ تک ان کی حراست میں رہنا ہو گا ۔ میرے مقدمے کی سماعت کے موقع پر ” پاکستان ٹائمز” میں کسی کونے کھدرے میں ایک چھوٹی سی خبر شائع ہو جاتی تھی کہ احمد فرازؔ کے کیس کی سماعت ہوئی۔ جیل میں کیمپ کمانڈنٹ یا کسی اور ذریعے سے اخبار مل جاتا تو پڑھ لیتے تھے ۔ جس دن مقدمے کا فیصلہ تھا ، اس دن اخبار ہی نہین ملا ۔اتفاقاً میری نظر ہاکر پر پڑی تو میں نے اسے آواز دی ، ویسے تو وہاں گارڈز اور دورے لوگوں کو قیدیوں سے بات کرنا تو درکنار ان کی بات کا جواب دینے کی ممانعت تھے ۔ اس کے علاوہ کوئی ایسی چیز جس سے قیدی خود کو نقصان پہنچا سکے ، رکھنے پر پابندی تھی ۔ شیو کرنے نائی استرا لے کر آتا تھا لیکن مجھے کیمپ کمانڈنٹ نے اپنی شیونگ کٹ دی ہوئی تھی ۔ بہرحال میں نے ہاکر کو بلایا وہ آ گیا میں نے اس سے اخبار لیا ۔ اس میں خبر چھپی ہوئی تھی ” فرازؔ کو عدالت نے رہا کرنے کا حکم دے دیا” میں نے کمانڈنٹ کو بلایا اور بتایا کہ آپ نے مجھے اس بارے میں کیوں نہیں بتایا اور آپ توہین عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔ جس پر مجھے راولپنڈی جی ایچ کیو لایا گیا جہاں مجھ سے اس اقرار نامے پر دستخط کراۓ گۓ کہ عدالتی حکم کے مطابق میں ضرورت پڑنے پر فوجی حکام کو دستیاب ہوں گا ۔ میں نے اس پر دستخط کر دیے اور باہر آ گیا۔

بشکریہ : محترم وجیہ احمد

Views All Time
Views All Time
442
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   کاٹھ کباڑ کب کسی کے کام آیا ؟ - وسعت اللہ خان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: