Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

مذہب اور ریاست کے درمیان دیوار – افضل رحمان

by فروری 6, 2017 کالم
مذہب اور ریاست کے درمیان دیوار – افضل رحمان
Print Friendly, PDF & Email
جس فیڈرل جج نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سات ملکوں کے لوگوں کے امریکہ میں داخلے کا حکم معطل کیا ہے، اس کا تعلق امریکی ریاست واشنگٹن سے ہے۔ عام طور پر خبروں میں جب واشنگٹن کہا جاتا ہے تو اس سے مراد واشنگٹن ڈی سی ہوتا ہے جو امریکہ کا دارالحکومت ہے۔ واشنگٹن نام کی ریاست بالکل ایک الگ حقیقت ہے۔ کوئی ستر لاکھ آبادی کی یہ ریاست امریکہ کے شمال مغرب میں واقع ہے۔ امریکہ میں فیڈرل جج کے حکم کے بعد واشنگٹن ریاست کا ذکر پوری دنیا میں ہو رہا ہے اور اس نسبتاً چھوٹی ریاست کے اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ انہوں نے اور ان کی قانونی ٹیم نے مکمل ہوم ورک کے بعد صدر ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف فیڈرل کورٹ سے رجوع کیا تھا اور جج نے یہ بات تسلیم کرتے ہوئے کہ صدارتی حکم کے اعلیٰ عدلیہ میں منسوخ ہونے کے واضح شواہد ہیں، صدارتی حکم معطل کیا ہے۔ صدر ٹرمپ واشنگٹن ریاست کے فیڈرل جج کے فیصلے پر بہت برہم ہیں اور پیش گوئی کی ہے کہ فیڈرل جج کا یہ حکم وہ منسوخ کرا دیں گے، لہٰذا اب یہ جنگ آئین کی تشریح پر ختم ہو گی۔
امریکی آئین میں ہونے والی پہلی ترمیم جس کو فرسٹ ایمنڈمنٹ کہا جاتا ہے، اس کی تشریح ہو گی کہ وہ مذہب، چرچ اور ریاست کی علیحدگی پر کیا کہتی ہے۔ پہلی ترمیم میں اس حوالے سے جو متعلقہ جملہ ہے وہ مندرجہ ذیل ہے:
"Congress shall make no law respecting an establishment of religion, or prohibiting the free exercise thereof.”
آئینی اور قانونی زبان کا ترجمہ کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ مفہوم سمجھنے کے لئے عرض ہے کہ امریکی صدر ٹامس جیفرسن نے 1802ء میں چرچ اور سٹیٹ کی علیحدگی کے حوالے سے بیان کیے گئے خدشات کے جواب میں کہا تھا کہ "The first amendment has erected a wall of separation between church and state.”
یعنی آئین میں ہونے والی پہلی ترمیم نے چرچ اور سٹیٹ کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے حکم سے اس دیوار کو گرانے کی کوشش کی ہے۔ گویا موصوف، دیوار ایک مقام پر بنا رہے ہیں تو آئین میں موجود ریاست اور چرچ کے درمیان دیوار کو گرا بھی رہے ہیں۔
امریکی آئین میں ریاست اور مذہب کے درمیان جو دیوار موجود ہے اس کی وجہ جاننے کے لیے تھوڑا تاریخ کو دیکھنا ہو گا۔ یورپ سے سب سے پہلے جو لوگ امریکہ آئے وہ Pilgrims کہلاتے ہیں۔ یہ لوگ 1620ء میں Mayflower نامی ایک بحری جہاز کے ذریعے امریکہ پہنچے تھے۔ اِن لوگوں نے امریکہ آ کر جو شکر کا سانس لیا، اُس دِن کو آج بھی امریکہ میں Thanksgiving Day کے طور پر منایا جاتا ہے اور اِس روز پورے ملک میں تعطیل ہوتی ہے۔ اِن Pilgrims کا تعلق انگلستان سے تھا مگر وہاں مذہب کے حوالے سے یہ لوگ مسائل کا شکار ہو گئے تھے۔ تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ 1534ء تک انگلستان کا سرکاری مذہب رومن کیتھولک تھا؛ تاہم وہاں بادشاہ ہنری ہشتم نے ایک نیا چرچ جس کا نام چرچ آف انگلینڈ تھا، قائم کیا اور خود اس کا سربراہ بن گیا۔ ظاہر ہے اس چرچ کی کئی باتیں رومن کیتھولک مذہب سے مختلف ہوتی گئیں۔ اس صورت حال میں کچھ کٹر مذہبی لوگ چرچ آف انگلینڈ سے علیحدگی کے داعی ہوئے تو مصیبتوں کا شکار ہو گئے۔ پہلے جان بچا کر ہالینڈ گئے، وہاں بھی مسائل پیدا ہو گئے تو یہ Pilgrims امریکہ آ گئے اور ایک طرح سے نئے ملک کی داغ بیل ڈال دی۔
یہ امریکہ کی ابتداء کی کہانی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس ملک نے ہمیشہ تارکین وطن کا خیر مقدم کیا ہے، یہاں ہر قسم کے مذہب کی آزادی دی ہے اور مذہب کی بنیاد پر تفریق و امتیاز کی کبھی کوئی گنجائش نہیں رہی۔ اٹھارویں صدی کے آخری حصے میں جب امریکی آئین تخلیق ہوا تو اس میں تو بنیادی باتیں تھیں، لیکن جو پہلی ترمیم ہوئی اس کے متعلق میں عرض کر چکا ہوں کہ صدر جیفرسن کا کہنا تھا کہ پہلی ترمیم مذہب اور ریاست کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دیتی ہے۔
امریکہ میں گزشتہ برس ہونے والے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے جو ”جاگ امریکی جاگ‘‘ قسم کے جذبات کو ہوا دی تو معلوم ہوا کہ امریکی عوام میں ایسے خیالات کی پذیرائی موجود ہے جو مذہب اور لوگوں کا دنیا کے جس حصے سے بنیادی تعلق ہے اُن حوالوں سے بطور امریکی شناخت سے متعلق ہیں۔ یعنی سادہ لفظوں میں جو کرسچیٔن ہے اور یورپی علاقوں سے آیا ہے وہی اصل امریکی ہے۔
PEW ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے اس حوالے سے ایک تازہ ترین سروے کے نتائج جاری کیے ہیں جن کے مطابق امریکہ کی 32 فیصد آبادی یہ باور کرتی ہے کہ اصلی اور سچا امریکی ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اس شخص کا مذہب عیسائیت ہو۔
امریکہ کی ری پبلیکن پارٹی کے 43 فیصد ارکان امریکی ہونے کے لیے عیسائی ہونے کو انتہائی اہم خیال کرتے ہیں جبکہ 29 فیصد ڈیموکریٹ بھی ایسا ہی سوچتے ہیں۔ دیگر لوگوں میں سے جو Independents کہلاتے ہیں، 26 فیصد ایسے ہیں جو امریکی ہونے کے لیے عیسائی ہونے کو اہم خیال کرتے ہیں۔
PEW کے اس سروے میں ستر فیصد کا خیال ہے کہ امریکیوں کی بنیادی شناخت اُن کا روانی سے انگریزی بولنا ہے۔ ظاہر ہے کہ امریکہ میں جو لاطینی امریکہ یا میکسیکو وغیرہ کے لوگ ہیں وہ تو Spanish بولتے ہیں اور انگریزی کی محض معمولی شُد بُد رکھتے ہیں۔ اِن سب کو اس سروے کے مطابق ستر فیصد امریکی اصل نہیں سمجھتے۔
قومی جذبات کا امریکہ میں یہ پس منظر ہے جس میں واشنگٹن ریاست کے فیڈرل جج کا فیصلہ چیلنج ہونے جا رہا ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کیا کریں گے، کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ایک طرف تو امریکہ میں عوامی سطح پر یہ جذبات پائے جاتے ہیں اور دوسری طرف آئین کی پہلی ترمیم یعنی فرسٹ ایمنڈمنٹ موجود ہے جو صدر جیفرسن کے الفاظ میں ریاست اور مذہب کے درمیان ایک دیوار قائم کرتی ہے۔ امریکی قوم کی پوری دنیا میں پذیرائی اور طاقت کے راز کی ایک وجہ اس ملک کے بے مثال آئین کو قرار دیا جاتا ہے۔ اگر عوامی جذبات سے مغلوب ہو کر ایسے فیصلے ہو جاتے ہیں جن سے آئین کی بنیادی روح متاثر ہو جائے تو اس کا براہ راست اثر امریکی قوم کی دنیا میں موجود ساکھ اور طاقت پر پڑے گا اور اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذہب اور ریاست کے درمیان قائم دیوار توڑ دی تو پھر امریکہ میں اور بہت کچھ ٹوٹ سکتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

Views All Time
Views All Time
176
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   پاکستان ٹوٹنے کے ذمہ دار کون۔۔۔ بھٹو ،مجیب ،فوج یا ہمارا رویہ ؟؟؟
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: