Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

صرف چند لاکھ – عدنان نذر

by اکتوبر 20, 2016 بلاگ
صرف چند لاکھ – عدنان نذر
Print Friendly, PDF & Email

adnan-nazarمیں اُن دنوں کافی پریشان تھا۔ مجھے پیسوں کی اشد ضرورت تھی۔ میری لاڈلی بیٹی کے گردے میں پتھری تھی اور جلد آپریشن کروانا انتہائی ضروری تھا جس کے لیئے بیس ہزار درکار تھے۔ میں میٹرک تک پڑھ سکا، باپ کے مرنے کے بعد پڑھائی جاری نہ رہی اور میں بچپن سے ہی چھوٹی موٹی دہاڑی لگاتا رہا، کبھی کسی دکان میں سیلزمین تو کبھی کسی فیکٹری میں ہیلپر، کبھی کبھی تو سبزی منڈی میں سامان تک اُٹھانے میں عار نا سمجھی۔ آخر شادی کے بعد ایک پان کے کھوکھے پر چار سو روپے روزانہ دیہاڑی پر بیٹھ گیا۔ جب تک باپ زندہ تھا تو مزے تھے لیکن اب کمانا مشکل اور مرنا آسان لگتا تھا۔ اسکول میں میرا ایک جگری دوست تھا وہ بڑی تیزی سے ترقی کرتا آگے نکل گیا۔ ٹھاٹ باٹ ،شاہانہ، گاڑیاں شاندار، بنگلہ محل نما ،نوکر چاکر وہ کسی ملٹی نیشنل کمپنی میں اعلی عہدے پر فائز تھا۔ جس طرح پھول اور کانٹے ساتھ ساتھ ہیں ویسے ہی ہر فیشن ایبل علاقے کے ساتھ کچی بستی موجود ہے، میرا دوست میرے پسماندہ علاقے سے ملحقہ ایک پوش علاقے میں رہتا تھا۔ وہ روز میرے پان کے کھوکھے پر آتا، کچھ باتیں کرتا، میں اُسے پان کھیلاتا، وہ کھاتا اور چلا جاتا، میں کبھی اُس سے پان کے پیسے نہ لیتا تھا یہ معمول عرصے سے جاری تھا۔ میں نے سوچا بیٹی کے علاج کے لیئے پیسے دوست سے ادھار لے لیتا ہوں۔ ہر ماہ تھوڑے تھوڑے لوٹا دونگا، اتوار والے روز میں صبح صبح دوست کے گھر پہنچا وہ مجھے اپنے گھر کے باہر ہی مل گیا، میں نے اُس سے اپنا مُدعا بیان کیا۔ اُس نے کچھ سوچا پھر کہنا شروع کیا” یار! تجھے پتا ہے آج کل حالات بہت پتلے ہیں، نوکری قائم رکھنا بہت مشکل ہوگیا ہے اوپر سے خرچے کم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے، بجلی،گیس کا بل، کچن کا خرچہ، مالی، ڈرائیور، چوکیدار،خانساماں، باورچی کی تنخواہیں ،کلب کے بلز،کپڑا لتہ، بیماری آزاری رشتے داری میں لینا دینا، اغلم بغلم شغلم، یار اتنے خرچے ہیں کچھ بچتا ہی نہیں جو پس انداز ہو سکے، اور پھر میری تنخواہ ہی کتنی ہے صرف ۔۔۔ چند لاکھ روپے ۔۔۔ تُو خود بتا کیسے گزارہ ہوتا ہوگا”؟ میں نے اُس کی بات سنی اور چُپ چاپ اپنے گھر کی راہ لی، راستے بھر میں مُسکراتا رہا، اپنے دوست کی زبان سے نکلا یہ جملہ! "میری تنخواہ ہی کتنی ہے صرف ۔۔۔ چند لاکھ روپے” میرے کانوں میں گونجتا رہا، خیر پیسوں کا انتظام میرے غریب پڑوسی لڈّن کباڑیئے نے کر دیا ۔میں نے اپنی بیٹی کا علاج کروایا اور مشکل سے نکل آیا، میرا وہ امیر دوست اب بھی میرے پان کے کھوکھے پہ آتا ہے پان کھاتا ہے اور چلا جاتا ہے، میں اب بھی اُس سے پیسے نہیں لیتا ۔۔ اور وہ اب بھی مجھے پیسے نہیں دیتا ۔۔۔۔ بے چارے کی تنخواہ ہی کتنی ہے ۔۔ صرف چند لاکھ روپے ۔۔۔۔ اللہ جانے میرا صابر امیر دوست کیسے گزارا کرتا ہوگا؟

Views All Time
Views All Time
820
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   مولوی صاحب اور فلم – ابنِ حیدر
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: