نیکی

Print Friendly, PDF & Email

adnan-nazarکہانی لکھنے کے لیے سوچنا پڑتا ہے لیکن کبھی کبھی کہانی وقوع پذیر ہوجاتی ہے جیسا کچھ عرصہ قبل  میرے ساتھ ہوا۔ چونکہ چھٹی تھی اور میں گھر میں ٹھالی بیٹھا تھا کہ اچانک ایک پُرانے دوست کا فون آگیا اور اُس نے پانچ ستارے والے ہوٹل میں کھانے کی دعوت دے ڈالی۔ میں فوراً نہا دھو کے بابُو بن گیا اور ہوٹل کی طرف دوڑ لگا دی کھانے سے فارغ ہونے ہی والا تھا کے میرے ایک بہت ہی اچھے دوست جناب مرتضی رشید خان کا فون آیا۔اُن کے کسی عزیز کو خون کی اشد ضرورت تھی انہوں نے درخواست کی کہ کہیں سے انتظام کیجئے۔میں نے کہا بھائی اگر مستی بھرا خون چل جائے تو میرا لہُو حاضر ہے۔ویسے میں بتاتا چلوں کہ میں ریگیولر بلڈ ڈونر ہوں۔ خیر اُن سے شام کا وقت مقّرر ہوا اور وقتِ مقّررہ پر میں کراچی کے ایک نامور ہسپتال میں موجود تھا۔ میں خون دینے کے لئے کاؤنٹر پر گیا اور اُس سے کہا بھائی خون دینا ہے۔ اُس نے مجھے اُوپر سے نیچے تک دیکھا ۔وہ شاید حلیے سے مجھے امیر سمجھ رہا تھا اور وہ یقیناً سوچ رہا ہوگا کے اب تک امیروں کو خون نچوڑتے دیکھا ہے یہ کیسا امیر ہے جو خون دینے چلا آیا؟ جب میرا نمبر آیا تو کمپاؤڈر نے چھوٹا سا انٹرویو لیا۔ آپ کو کبھی ملیریا ، بخار ، فلاں فلاں اغلم بغلم میں ہر سوال کا جواب نفی میں دیتا رہا لیکن جیسے ہی اُس نے پوچھا کوئی نشہ وغیرہ۔ میں نے چونک کے اُس کی طرف دیکھا بظاہر تو گردن نفی میں ہلائی لیکن دل ہی دل میں سوچتا بھی رہا کے کوئی نشہ بچا بھی ہے مجھ سے ؟ اچھا جناب خون تھوک کے سوری خون دے کے لیبارٹری سے باہر آیا۔گاڑی کی طرف جا ہی رہا تھا کے ایک نسوانی آواز نے پیر جکڑ لئے۔ پلٹ کے دیکھا تو ایک ۱۸ یا ۲۰ سال کی بہت ہی گڑیا جیسی بچی نے ہاتھ کے اشارے سے پاس بُلایا، دل بَلّیوں اچھلنے لگا میں گبھراتا ہوا اُس کے پاس گیا تو اُس نے ٹوٹی پُھوٹی انگریزی میں ایسی بات کی کے میں سٹپٹا کے رہ گیا۔ اُس نے کہا! ْمیرے ابّا اس ہسپتال کے جنرل وارڈ میں داخل ہیں ہم کوئٹہ سے آئے ہیں بھائی کوئی ہے نہیں اور رشتے دار سب کوئٹہ میں ہیں۔ ابّا کو تین بوتل خون کی اشد ضرورت ہے۔ دو بوتلیں تو ہو گئیں ایک میں نے اور ایک میری ماں نے دے دی بس ایک بوتل اور جمع کروانی ہے ورنہ اُس کے بدلے پیسے بہت دینے پڑیں گے۔ کیا آپ ایک بوتل خون دے سکتے ہیں؟ میں کافی دیر سے لوگوں کو آتا جاتا دیکھ رہی ہوں کسی سے کہنے کی ہمت نہیں جُٹا پا رہی تھی ۔میں شش و پنج میں پڑ گیا اگر کہتا ہوں کے ابھی ابھی خون دے کے آرہا ہوں تو بچی کو بہانہ لگے گا اور میں اس بچی کے اعتماد کو توڑنا نہیں چاہ رہا تھا۔ میں نے سوچا میاں عدنان اچھے خاصے مُسٹنڈے ہو ایک بوتل اور دے دو گے تو کون سی قیامت آجائے گی ۔یہی سوچ کر میں دوبارہ خون خانے میں اُس بچی کے ساتھ آگیا اور ٹوکن لے کراپنی باری کا انتظار کرنے لگا۔ میرا نمبر آیا کمپاؤڈر وہی تھا، کہا صاحب آپ ابھی تو خوں اُگل کے گئے ہیں اب کاہے کو آدھمکے ۔میں نے مختصرًا سارا ماجرہ اُسے سنا دیا اور کہہ بھی دیا کے مجھے خون دینے میں کوئی اعترا ض نہیں۔ لیکن یا تو میری بات کا اثر تھا یا اُس بچی کے دل کی دعا کا ثمر، اُس نے کہا جناب تھوڑی نیکی ہمیں بھی کمانے دیجئے، میرا ڈیوٹی ٹائم ختم ہوگیا ہے۔ خون میں دوں گا۔

یہ بھی پڑھئے:   سندھ کا ڈھکن وزیراعلیٰ ۔۔ دے گالی

کیا خوب نیکی کمائی واہ نیک دل انسان واہ

Views All Time
Views All Time
612
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: