Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

بائیکاٹ پھل کا یا غریب کی روزی کا؟ (حاشیے) | عادل باجوہ

بائیکاٹ پھل کا یا غریب کی روزی کا؟ (حاشیے) | عادل باجوہ

دو دن سے ہر کوئی فروٹ بائیکاٹ مہم کی پھکی بیچ رہا ہے تو سوچا موقع اچھا ہے میں بھی اپنا چورن بیچ لوں۔ تو قبلہ عرض یہ ہے کہ پھل اور سبزیوں کو اکنامکس کی زبان میں Perishable Goods کہتے ہیں اور ایسی Goods کا ریٹ روز مارکیٹ میں طلب اور رسد کے مطابق طے ہوتا ہے۔کسی بھی Perishable چیز کی طلب اگر تین دن کم کر دی جائے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس کا اثر اس چیز کی قیمت پر سارا سال پڑے گا۔۔۔ مطلب یہ کہ اگر آپ تین دن نہیں خریدیں گے تو اس سے ہوگا یہ کہ عام ریڑھی بان کا سودا بکے گا نہیں تو وہ اگلے دن نیا پھل نہیں لائے گا اور اس دن کی اس کی دیہاڑی مر جائے گی تو وہ شام کو یا پھر اس سے اگلے دن اسی مال کو سستا بیچنے کی کوشش کرے گا۔اور آپ سب سمجھیں گے کہ پھل سستا ہو گیا ہے۔اور حضور دوسری طرف یہ ہوگا کہ پھلوں کے کاشتکار سے بھی مال نہیں خریدا جائے گا اور وہ سارا پھل سستا بیچے گا اور جو پھل مافیا ہے وہ کاشت کار سے سستے داموں پھل خرید کے سٹور کر لے گا اور تین دن کے بعد وہی مال اب مزید مہنگے دام بیچے گا کیونکہ تب اس کی طلب کئی گنا بڑھ جائے گی اور اس کی کوالٹی بھی پہلے سے گری ہوئی ہو گی۔ تو محترم قارئین اس ہڑتال کا سراسر نقصان غریب پھل فروش ریڑھی والے اور کاشتکار کو ہو گا اور پھل مافیا پہلے سے بھی زیادہ منافع کمائے گا۔ تو جناب اگر بائیکاٹ کرنا ہے تو رشوت خوری کا کریں جس کا کینسر اس سارے معاشرے کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ بائیکاٹ کرنا ہے تو مہنگی گاڑیوں کا کیا جائے جو اس معاشرے بھی غریب کو اس کی غربت کا مزید احساس دلاتی ہیں اور جناب اگر بائیکاٹ کرنا ہی ہے تو جھوٹ، مذہبی منافرت، اقربا پروری اور آئے روز نئے پیدا ہونے والے فتنوں کا کریں جو ہمیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو لاشوں اور حیوانیت کے سمندر میں دھکیل رہے ہیں ۔۔۔ ایسے اندھا دھند بائیکاٹ کیوں جو کسی غریب کی روزی چھین لیں اور کسی مافیا کو مزید مضبوط کریں۔لیکن پھر بھی اگر آپ نے ٹھان ہی لی ہے فروٹ بائیکاٹ کی تو جناب پھر صرف ایک درخواست ہے کہ جتنے دن یہ مبارک بائیکاٹ جاری رکھنا ہے اتنے دن ہر غریب ریڑھی والے پھل فروش کے گھر راشن ڈال دیں۔۔ پھر چاہے اس بائیکاٹ کو سارا سال جاری رکھا جائے۔

 

مرتبہ پڑھا گیا
468مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: