Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

دو آنکھیں کتنا روئیں؟ – عادل باجوہ

by دسمبر 19, 2016 بلاگ
دو آنکھیں کتنا روئیں؟ – عادل باجوہ
Print Friendly, PDF & Email

دو دن پہلے سولہ دسمبر تھا، دن گزر گیا لیکن پھر سے ان زحموں کو تازہ کر گیا جو ابھی پرانے ہی نہیں ہوئے تھے،ان یادوں کو پھر سے جھنجوڑ گیا جو ابھی سنبھلی ہی نہیں تھیں، ان ماؤں کی نیندیں پھر سے اڑا گیا جو بیچاری ابھی ٹھیک سے سوئی ہی نہیں تھیں، بات یہاں تک رہتی تو پھر بھی ہم رو دھو کے چپ کر جاتے خود کو سمجھا لیتے ماؤں کو دلاسے دے لیتے لیکن سولہ دسمبر گزارا ہے اور اب ستائیس دسمبر کے لئے آنکھیں پھر نم ہونے کی تیاری کر رہی ہیں، پھر سے بی بی اور بی بی کے ساتھ  درجنوں دوسری جانوں کا سوگ  منانے لگ جائیں گے، ابھی آنسو تھمیں گے تو کوئی اور برسی سر پہ کھڑی ہو گی، کسی اور کی موت کا غم منہ کھولے کھڑا ہوگا، پھر سے کسی اپنے کی کٹی پھٹی لاش آنکھوں کے سامنے چکر کاٹنے لگے گی، اب تو ہمارے یہاں زمین صرف لاشیں دفنانے کے کام آتی ہے اور کیلکیولیٹر لاشیں گننے کے، کیلینڈر برسیاں منانے کے لیے ہیں اور خبریں بم دھماکوں کا بتانے کے لئے، اخباریں مذمتی بیانات کے لیے ہیں اور لکھاری ہر سانحے پر تنقید کرنے کے واسطے، اور ساری عوام صرف آنسو بہانے کے لیے اور جنازے اٹھانے کے لیے ہے ، ہم پے در پے صدمے اٹھاتے ہیں لیکن پھر بھی ہم بھلکڑ اور بے حس نہیں ہیں، ہمیں سب یاد ہے، ہمیں اے پی ایس کے بچے یاد ہیں تو ہم جاوید اقبال کے ہاتھوں مارے جانے والے سو بچوں کو بھی نہیں بھولے، ہمیں جی پی او چوک میں شہید ہونے والے پولیس والے بھی یاد ہیں اور ہزارہ کمیونٹی کے مقتول بھی، ہمیں واہگہ بارڈر کی ہولناکی بھی یاد ہے اور اقبال پارک کی سفاکی بھی، ہمیں وی آئی پیز کی سکیورٹی موومنٹ اور ڈاکٹروں کی غفلت سے مرنے والے بچے بھی یاد ہیں اور ماڈل ٹاؤن میں ماری جانے والی مائیں بھی یاد ہیں، ہم تھر میں بھوک سے بلکتے اور مرتے بچوں کو بھی نہیں بھولے اور ہمیں مناواں کا حملہ بھی یاد ہے اور کراچی ائیرپورٹ کی خونریزی بھی، ہمیں اگر میریٹ اور ایف آئی والے دھماکے یاد ہیں تو داتا دربار کی قیامت صغریٰ بھی دماغ سے نہیں نکلی،ہم ہر روز کسی سانحہ کی یاد منائیں تو سال کے دن ختم ہو جائیں لیکن سانحے ختم نا ہوں….. ہم بھلکڑ نہیں ہیں لیکن لاچار ہیں، روز لاشیں اٹھاتے ہیں لیکن کچھ کر نہیں پاتے، اب یہ لاچار صرف خدا سے رحم کے طلبگار ہیں کہ وہ اب ہماری حالتوں پر ترس کھائے کیونکہ کہ آخر یہ دو آنکھیں اور کتنا روئیں؟؟؟؟

Views All Time
Views All Time
393
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: