بریلوی مسلک میں پروان چڑھتی انتہا پسندی | عدیل بخاری

Print Friendly, PDF & Email

وطن عزیز پاکستان میں سب سے پرامن مسلک بریلوی مسلک رہا ہے ان کے پیر اور علماء کرام ہمیشہ امن کی تبلیغ کرتے رہے ہیں چونکہ یہ صوفیا کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کے دعوے دار ہیں تو اسی نسبت سے یہ ایک عرصے تک شدت پسندی سے کوسوں دور رہے لیکن حالیہ دنوں میں ان کے نوجوان شدت پسندی کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔

یہ قصہ کب شروع ہوا تو اس کے لیے آپ کو تھوڑا دور جانا پڑے گا۔ جب طاہر القادری صاحب نے شیعہ کے ایک امام بارگاہ میں ایمان جناب ابو طالب کے موضوع پر تقریر کی تھی اور سنی شیعہ بھائی بھائی کا نعرہ لگایا تھا اس وقت عقیدہ توحید سیمینار سے اپنی پہچان بنانے والے آصف جلالی نے ان سے حسد کی وجہ سے ان کے خلاف فتوی جاری کیا انہی دنوں میں قادری صاحب کی کتاب سیف الجلی علی منکر ولایت علی منظر عام پر آئی جسے یہاں سنی شیعہ دونوں نے سراہا اور پسند کیا وہاں سپاہ صحابہ کو آگ بھی لگادی۔ قادری صاحب کو نیم رافضی ہونے کا طعنہ دیا جانے لگا پروپیگنڈا اتنا سخت تھا کہ بریلوی نوجوان اس سے متاثر ہونے لگے اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے جلالی گروپ پھر میدان میں آیا قادری صاحب کے خلاف نفرت اگلی جانے لگی اس گروپ نے نفرت پھیلانے کے لیے رسالوں کی شکل میں لکھنا شروع کیا جس سے شیعہ سنی میں نفرت بڑھانے کی کوشش کی جاتی۔ اس کا مقصد صرف طاہر القادری کے خلاف اپنی بھڑاس نکالنا تھا۔ چونکہ یہ رسائل فقط مذہبی جماعتوں تک محدود تھے سو اس کا کوئی زیادہ فائدہ نہیں ہو رہا تھا۔ پھر وہ دن آیا جب ممتاز قادری نے سلمان تاثیر کو قتل کر دیا اس کےبعد طاہر القادری صاحب کا جو موقف سامنے آیا اس پر جلالی گروپ نے ان پر گستاخ رسول کا فتوی بھی صادر فرمایا۔

یہ بھی پڑھئے:   رمضان ٹرانسمیشن (حاشیے) | مجتبیٰ حیدر شیرازی

میری معلومات کے مطابق ایک طاہر القادری کے بیان کو رد کرنے کے لیے جامعہ نظامیہ میں خادم حسین رضوی صاحب کی سربراہی میں تقریباً 20 کے قریب مولوی جمع تھے جنہوں نے طاہر القادری کے موقف کو رد کرنا تھا اور ممتاز قادری کو عاشق رسول ثابت کرنا تھا لیکن پھر بھی جن لوگوں نے وہ بیانات سنے ہیں وہ بتا سکتے ہیں کہ آصف جلالی صاحب صرف چند صرف و نحو کی غلطیاں نکال سکے یہاں بھی قادری صاحب کا پلڑا بھاری رہا تو یہ گروپ فائنلی لوگوں کے جذبات سے کھیلتے ہوئے شدت پسندی کی طرف ابھارنے لگا۔

اب آتے ہیں دعوت اسلامی کی طرف تو یہ بات بالکل درست ہے کہ دعوت اسلامی ایک غیر سیاسی جماعت ہے جو ہر طرح کی سیاست سے پاک ہے کٹر بریلوی ہونے کے باوجود بھی ان کا تبلیغی لہجہ نہایت نرم اور پر کشش ہے جس کی وجہ سے سینکڑوں نوجوان اس سے متاثر ہوئے اور شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کا آغاز کیا لیکن دعوت اسلامی کسی کو روک نہیں سکتی کہ وہ فلاں جگہ نہ جائے فلاں جلسے میں شرکت نہ کرے اسی وجہ سے دعوت اسلامی کی وجہ سے کئی نوجوان شریعت کی طرف مائل ہونے کے ساتھ مختلف مولویوں کی صحبت اختیار کرتے ہیں آہستہ آہستہ ان میں شدت پسندی آنے لگتی ہے میں ایسے کئی عطاریوں کو جانتا ہوں جو بعد میں متشدد ہوگئے ممتاز قادری اس کی ایک واضح مثال ہے۔ فرقہ واریت کے لحاظ سے بھی یہ لوگ اپنے علاوہ باقی کسی کو سننا پسند نہیں کرتے۔

یہ بھی پڑھئے:   ایٹمی ملک میں تعلیمی صورتحال

ایک تیسری وجہ احساس محرومی ہے جی بریلوی علماء اور تنظیموں کے ذہن میں یہ بات ڈال دی گئی ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ تعداد میں بہت کم ہونے کے باوجود دیوبندیوں کو ہم سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ اس حوالے سے ایک تنظیم کے سربراہ نے کہا تھا کہ ہمیں ایجنسیوں کی نظر میں آنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمیں دیوبندیوں کے برابر نمائندگی دی جائے گو کہ شکار خود جال میں پھنسنے کو تیار تھا۔

یہ کچھ ایسی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے اکثریتی طبقہ شدت پسندی کی طرف مائل ہو رہا ہے ان کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ ملک کے لئے اچھی بات نہیں ہے یہی چیزیں شیعہ سنی اتحاد کے بھی خلاف ہیں۔

اے صوفیاء اور اولیاء کرام کے ماننے والو اپنی صفوں سے ان کالی بھیڑوں کو نکالو اور اولیاء اللہ کے پر امن اسلام والے راستے کو اپناؤ۔

Views All Time
Views All Time
1009
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: