Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

حسین رشتے پارٹ 2 زن مرید

Print Friendly, PDF & Email

ہمارے معاشرے میں ایک لفظ رائج ہو گیا ہے جسے زن مرید رن مرید یا جورو کا غلام کہتے ہیں
حقیقت میں یہ لفظ طعنہ یا گالی عورت کی حق تلفی کی علامت ہے ہم ہر اس مرد کو اس لقب سے نواز دیتے ہیں جو اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا ہے اس کا خیال رکھتا ہے یہ واحد ایسا رائج طعنہ ہے جسکی وجہ سے کوئی بھی شخص جو اپنی عورت سے محبت کرتا ہے کھل کر اس کا اظہار نہیں کر سکتا
اصل میں ہم عورت سے محبت کو توہین سمجھنے لگے ہیں اس لیے شادی کے کچھ عرصے بعد خواہ کتنی ہی محبت کیوں نہ ہو دوسروں کے سامنے بیوی یا عورت کا رونا روتے ہی نظر آتے ہیں
اس سلسلے میں ہمارے کچھ دوست باقاعدہ مذہبی روایات کا سہارا لیتے بھی نظر آتے ہیں جو کہ سراسر غلط ہے اگر میں یہ کہوں کہ شادی کے حوالے سے رائج باتیں جو عورتوں کی توہین پر مشتمل ہیں اخلاقی لحاظ سے بہت بڑا جرم ہیں تو بے جا نہ ہو گا یہاں بھی ہم ان لوگوں کا تعاقب کریں گے جنہوں نے چند روایات کی یا چند کرداروں کی بنا پر عورت کو قابل نفرت مخلوق بنا دیا ہے اور نام نہاد تقوے کو بچانے کے لیے عورت سے دوری کا درس دینا شروع کیا ہے
کسی فلسفی نے عورت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے

آئیے ہم کچھ روایات پڑھتے ہیں جن میں امام جعفر صادق علیہ السلام نے عورت کے بارے میں فرمایا
امام علیہ السلام نے فرمایا بندہ جس قدر عورتوں سے محبت کرے گا اتنا ہی ایمان میں اس کا فضل شرف زیادہ ہو گا
پھر فرمایا
جس قدر انسان کے ایمان میں زیادتی ہو گی اتنی ہی اس کے اندر عورتوں سے محبت میں زیادتی ہو گی
یہاں محبت سے مراد صرف جنسی تعلقات یا رومانٹک گفتگو نہیں ہے بلکہ انہیں ہر معاملے میں خوشی غمی میں شریک کرنا اور ان سے مشورہ لینا ہے جیسا کہ ہم پچھلی تحریر میں بتا چکے ہیں جب ہم ایسی روایات کا ذکر کرتے ہیں تو دوست کہتے ہیں وہ تقویٰ باز اور پرہیزگار عورتوں کے متعلق ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ کہ تقوے کا معیار بھی وہ خود طے کرتے ہیں
خیر ان دوستوں کے لیے بھی امام کا فرمان ہے کہ
سب سے زیادہ خیر عورتوں میں ہے
آئیے اس صنف سے محبت کیجیے جس کی محبت سے آپ کی دنیا اور آخرت کا مستقبل وابستہ ہے.

یہ بھی پڑھئے:   فیس بک کے دانشور اور گوبھیاں - محمد اشتیاق
Views All Time
Views All Time
71
Views Today
Views Today
11

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: