متوازن سوچ کی شدید کمی کا سنڈروم

Print Friendly, PDF & Email

rp_aamir-hussaini-new-247x300.jpgتحریر:پیجا مستری
ترجمہ: عامر حسینی
نوٹ: پیجا مستری سوشل میڈیا کی بہت ہی قیمتی اور نایاب آوازوں میں سے ایک ہیں اور ان کے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پہ آنے والے سٹیٹس خالی سیپیوں اور گوہر والی سیپیوں میں امتیاز کرنے کا فن آپ کو سکھاتی ہے۔اور ایسی ہی ایک تحریر ان کی "دیوار تدبر ” پہ رونما ہوئی ہے۔جس کا عنوان انہوں نے
ALSPS ۔ Acute Lack of Sense of Proportion Syndrome
کیا ہے۔اور ہم نے نہایت احتیاط سے اس کا ذرا ڈھیلا ڈھالا ترجمہ” متوازن سوچ کی شدید کمی کا سنڈروم ” کیا ہے۔اور اس عنوان کے تحت انہوں نے پاکستان کے الحاد پرستوں ، عقلیت پسندی کے جھنڈے اٹھائے لبرلز ( ریاض ملک الحجاجی ان کو ” اموی لبرلز، کمرشل لبرلز ” کہتے ہیں )اور سیکولر طبقے میں پائے جانے والے ایک عدم توازن کی جانب ہماری توجہ مبذول کرائی ہے۔اور اس عدم توازن کا سراغ انہوں نے اپنے مشاہدے اور تجربے میں آنے والے واقعات سے لگاتے ہوئے دو مثالیں ہمارے سامنے رکھی ہیں۔پیجا مستری نے دراصل ہمیں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ہمارے سماج کے اندر ملحد، سیکولر ، عقلیت پسند اور مارکسیوں میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو اسلام ازم سے جڑے فاشزم اور اس سے پیدا ہونے والی دہشت گردی اور بے ضرر سی مذہبی رسوم و رواج جو زیادہ سے زیادہ عقل کے ماؤف ہوجانے سے پیدا ہونے والی مضحکہ خیزی کے زمرے میں گردانی جاسکتی ہیں ، کے درمیان فرق یا امتیاز سے قاصر ہیں اور ان دو چیزوں کو ایک ہی طرح سے ٹریٹ کرتے ہیں۔اور یہاں ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہندو، یزیدی ، احمدی ، شیعہ ، بریلوی، مسیحی ، بہائی وہ مذہبی برادریاں جن کو سلفی /دیوبندی جہادی و تکفیری فاشسٹ بھی مرتد قرار دےکر اور شرک و بدعات پہ مبنی رسومات اور شعائر کے عادی کہہ کر قتل کرنا ، نسل کشی کرنا اور ان کو ملیا میٹ کرنا عین جائز خیال کرتے ہیں ،کے بارے میں اس سیکولر ، لبرل اور الحادی کیمپ کے کچھ حلقے بھی ایسی ہی نفرت اور مذمت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔اور پیجا مستری ان چند لوگوں میں سے ہیں جنھوں نے یہ شدید نفرت اور انتہا کی کراہت ان مفکرین میں بھی پائی اور اس کے ثبوت فراہم کئے جن کو روشن خیال ، ترقی پسند اور عقلیت پسند اسلامی مفکرین بناکر پیش کیا جاتا ہے۔جاوید احمد غامدی اور ڈاکٹر ذاکر نائیک کی اسلامی عقلیت پسندی کے اندر انہوں نے اسے تلاش کیا ہے۔عقلیت پسند ، سیکولر ، ملحد اور ماڈریٹ کیمپ میں اس توازن کی شدید کمی کا سنڈروم ترقی کررہا ہے اور اس سنڈروم پہ پیجا مستری نے انتہائی بصیرت افروز تنقید ہمارے سامنے پیش کی ہے۔اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس انتقاد کو اردو پڑھنے والے طبقے کے سامنے لانے کی ضرورت ہے۔اس لئے ان کی اس تحریر کو یہاں اپنے قارئین کے لئے پیش کیا جارہا ہے۔(ع۔ح)
کئی سالوں تک میں ایک پہیلی بوجھنے میں ناکام رہا –یہ اس قدر مشکل پہیلی تھی کہ میں نے کئی جگ راتے اس کو بوجھنے میں گزارے اور اس کا ممکنہ جواب تلاش کرنے میں خود کو عذاب میں ڈالے رکھا۔مرے کالج کے دنوں (جب خدا اور مذہب کا سوال گرما گرم بحث کا موضوع ہوا کرتا تھا اور جب روشن دماغ بہت سے مرے نوجوان دوست جنھوں نے مذہب اور الحاد بارے بہت سا فلسفہ اور ادب پڑھ رکھا تھا ) سے لیکر سوشل میڈیا تک جہاں میں بہت سے درمیانی عمر کے کامیاب مرد و عورتوں کو اسلام ازم کی بجائے سیکولر ازم ، الحاد کی جانب جاتا دیکھتا رہا ہوں –میں نے ہمیشہ اس رجحان و پیٹرن کا نوٹس لیا لیکن اس کی وجہ تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔
میں آپ کو تیزی سے ذرا پیچھے 90ء کی دھائی میں لےکر جاتا ہوں ۔ اس دور میں ایک روشن دماغ نوجوان مارکسی والٹئیر اور اس کی الحادیت کو زیربحث لاتے ہوئے بہت پرجوش طریقے سے مذہبی ڈسکورس کے احمقانہ استدلال کی چیرپھاڑ کرتا اور مذہبی تعصب کے سماجی ومعاشی اثر کی انتہائی سخت الفاظ میں مذمت کرتا۔اور سچی بات یہ ہے کہ یہ سب مجھے قرین قیاس لگتا تھا اور میں بھی اس بحث میں اپنا حصّہ ڈالا کرتا تھا۔اور ہم اسلام پسند دہشت گردوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے یہ دیکھتے کہ کیسے ان دہشت گردوں نے افغانستان بلکہ پوری دنیا میں دہشت گردی کو پھیلایا،کیسے مذہب کے نام پہ مردوں اور عورتوں کے گلے کاٹےاور کیسے ان کی آئیڈیالوجی تہذیب انسانی کے زوال کا سبب بن سکتی ہے۔ہمارا یہ مکالمہ چل رہا ہوتا کہ اچانک مرا دوست نشاندہی کرتا کہ یہ ہندو کس قدر مضحکہ خیز حرکات کرتے ہیں کہ گائے کا پیشاپ پیتے ہیں اور اس جیسی اور گندی رسوم ادا کرتے ہیں۔میں خود کو گم سم ،گنگ پاتا اور سمجھ نہ پاتا کہ کیسے اسلام پسندوں کی جانب سے انسانوں کی گردنیں کاٹنے کے عمل کا موازنہ گائے کے پیشاب پینے سے کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اس وقت میں اس کو غلط قرار نہ دے پاتا یا یہ نہ کہہ سکتا کہ زیادہ سے زیادہ ایسی رسوم پہ ہنسا جاسکتا ہے۔
آئیں اب ہم تیزی سے اپنے اس دور کی طرف آتے ہیں، انٹرنیٹ، فیس بک اور ٹوئٹر کا دور،جہاں آپ سینکڑوں بظاہر معقول نظر آنے والے سیکولر، ملحدین کو پائیں گے۔یہاں ایک خاتون ہے جو خود کو اعلانیہ ملحد یا سیکولر کہتی ہے، تصاویر یا وڈیوز شئیر کرتی ہوئی وہ سخت ترین الفاظ میں اسلام ازم کی مذمت کرتی ہے۔اس قبیل کے لوگ ملّاؤں کے ہاتھوں مار کھاتی عورتوں اور بچوں کو خودکش بمبار کی تربیت دیتے ہوئے دہشت گردوں کی تصویریں اور وڈیوز شئیر کریں گے۔اور وہ ان پہ تمام ممکنہ شدید تنقیدی الفاظ کی بارش بھی کریں گے۔اچانک وہ ایک احمدی خلیفہ کو اپنے پیروکاروں کو لیکچر دیتے ہوئے ایک تصویر میں دیکھیں گے تو وہ اس کی بھی ان ہی الفاظ اور اصطلاحوں میں تنقید اور مذمت کریں گے جیسے وہ اپنے ارد گرد کٹّر پنتھی ملّاؤں کے منظم گروہوں کی کرتے ہیں۔
ایک اور مثال یہاں پہ ایک سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کی جو کرہ ارض پہ ہونے والی ہر ایک سرگرمی پہ بات کرتا ہے جو معقول نظر آتی ہے۔افغانستان میں طالبان کی ، داعش کی عراق و شام میں ، اسلام پسندوں کی پاکستان میں مظالم کی مذمت کرتا ہے۔اپنے آپ کو ملحد قرار دیتے ہوئے مذہب کی حماقتوں پہ بھی وہ بات کرتا ہوگا۔اور پھر انہی الفاظ کے ساتھ وہ مذمت کرتا ہوا کہے گا کہ کس قدر احمق ہیں یہ بریلوی جو مزارات پہ جاتے ہیں اور وہاں جاکر ایسی ویسی کراہت انگیز رسوم ادا کرتے ہیں۔

Views All Time
Views All Time
845
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   یمن میں نسل کشی: میڈیا امریکی۔سعودی جنگی جرائم چھپا رہا ہے - منار مہوش (ترجمہ:عامر حسینی)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: