Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

(مشن اسلام آباد – علی سجاد شاہ (ابوعلیحہ

(مشن اسلام آباد – علی سجاد شاہ (ابوعلیحہ
Print Friendly, PDF & Email

میرا ماہی دھوتی بن بیٹھا
میں ہنیری کولوں ڈرنی آں
شاعرکہتا ہے کہ میرے ماہی نے دھوتی باندھ لی ہے اب میں آندھی سے ڈرتی ہوں کہ کہیں وہ اس کی دھوتی اڑا نہ لے جائے۔ اگر مذکورہ شعر کو الٹا دیا جائے تو تحریک انصاف کی کل سیاست کا نچوڑ بن جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ چونکہ ہمارے ماہی (عمران خان) نے دھوتی باندھ لی ہے اسلئے آندھی کو آنے سے کوئی نہیں ٹال سکتا۔ ہمیشہ کی طرح تحریک انصاف نے دوبارہ سے وہ سیاسی فضا تشکیل دے دی ہے جو رائے ونڈ کا گھیراؤ کرنے کے اعلان کے بعد بنائی گئی تھی۔ اسلام آباد دھرنا جسے خود تحریک انصاف کے آئن سٹائینوں نےمشن اسلام آباد لاک ڈاون کا نام دیا ہے۔ اس سے اندازہ لگالیں کہ پارٹی انٹیلیجنشیا سیاسی جدوجہد کو کیسے ایڈونچر سمجھ رہا ہے۔ شاید اسلئے کہ تحریک انصاف کی صف اول چھوڑ بستہ دوم کی قیادت کی اولاد یا پیارے بھی اس مہم جوئی میں شریک نہیں ہونگے۔ عمران خان سیاسی طور پر جتنے فرسٹریٹ ہوچکے ہیں ان سے بعید نہیں کہ وہ دو نومبر کو خود سے فائرنگ کرکے اپنے دو تین درجن کارکن مار کر "ان” کے عزائم پورے کرنے کی کوشش کریں جن کے نزدیک خود خان صاحب کی اہمیت ٹوائلٹ ٹشو پیپر سے زیادہ نہیں ہے۔ میڈیا پر جو سرکس چل رہی ہے وہ ن لیگ کی خواہشات کے عین مطابق ہے۔ گزشتہ تین سال کا عمران خان کا احتجاجی پیٹرن کچھ اس طرح رہا ہے۔ اوئے نواز شریف ۔ میں آرہا ہوں کارکنوں ۔ اس بار فیصلہ کن ہونے جارہا ہے۔ سارے پہنچو تحریک انصاف کے آفیشل فیس بک اور ٹویٹر اکاونٹس سے خوبرو لڑکیوں سے جلسوں میں شرکت کی اپیلیں کپتان کی متوالیاں بیوٹی پارلر پہنچ گئیں۔ نیوز پیکج جلسہ گاہ کے رنگین مناظر ناچ گانا۔ اوئے اوئے ۔ ناچ گانا ۔ اوئے اوئے کارکن اب فلانے شہر پہنچے ۔ میں آپ کو بتاؤنگا کہ آگے کیا کرنا ہے۔ اس بار بھی کم و بیش یہی ہونے جارہا ہے۔ ن لیگ کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ عمران خان کو عوام سے مایوس کرنے میں کامیاب ہوچکی ہے۔ اب خان صاحب کی تمام امیدیں طاقت کے مرکز سے وابستہ ہیں اور ان کے لئے کٹھ پتلی کا کردار ادا کرتے ہوئے عمران خان وہ سب کچھ کرنے کو تیار ہیں جس سے ان کے اقتدار تک پہنچنے کا راستہ ہموار ہوسکے۔ اسلام آباد لاک ڈاون پر بات کرتے ہیں تو میری رائے میں جو غلط بھی ہوسکتی ہے یہ سیدھا سادھا ن لیگ کا بچھایا ہوا ٹریپ ہے۔ میڈیا پر دانیال عزیز اور طلال چوہدری جیسوں کے ذریعے مصنوعی خوف و جھنجھلاہٹ کا تاثر پیش کیا جارہا ہے کہ حکومت دو نومبر سے خوفزدہ ہے جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ عمران خان کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان کے جلسوں کی رنگینیاں، میوزک، ناچ گانے اور ماڈرن خواتین کی شمولیت سے قائم ہیں۔ اس مرتبہ آپ گھیراؤ کی بات کررہے ہیں۔ کارکنان کو شہید کروانے کی خواہش نما امید ظاہر کررہے ہیں تو ایک چھٹانک دماغ رکھنے والا کارکن یا ویسے ناچنے گانے کا شوق رکھنے والا گھر سے ہی نہیں نکلے گا۔ اب تک آپ کے جلسوں کی خامیاں اور خالی کرسیاں رات کے اندھیرے نے بچائے رکھی تھیں۔ دن کو لاک ڈاون صریحا سیاسی خودکشی ہے۔ آپ کو اپنی عددی قوت پر غلط گمان ہے۔ کہتے ہیں کہ آٹھ جگہوں سے شہر بند کرینگے۔ قبلہ اگر آپ صرف بھارہ کہو سے آنے والا راستہ جو ڈھوکری چوک پر واقع ہے ، فیض آباد اور ٹیکسلا سے آنے والے راستے کو بندکرنے کی پلاننگ فرمالیں تو اسکے لئے آپ کو کم از کم تین لاکھ کی افرادی قوت درکارہے۔ آپ اپنے ضلعی صدور کو جتنی مرضی دھمکیاں دے دیں ۔ تین لاکھ آدمی لانا جوئے شیر لانے مترادف ہے جبکہ آپ کا اپنا دعویٰ دس لاکھ افراد کا ہے۔ سو موجودہ حالات میں تیس ہزار افراد کے ساتھ آپ اسلام آباد پر لشکر کشی کرتے ہیں تو ہر راستے پر دس ہزار سے کم افراد دن کی روشنی میں آپ کی عوامی حمایت کے دعوے کا لتر پولا کرتے دکھائی دینگے۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ آپ کی سیاسی جماعت منظم نہیں بلکہ محض آپ کا فین کلب ہے سو فیض آباد جہاں آپ خود ہونگے وہاں تو دس کے بجائے پندرہ ہزار کارکنان کی پیشن گوئی کی جاسکتی ہے۔ باقی جہاں آپ نہیں ہونگے وہاں الیاس مہربان، چوہدری سرور جیسوں کے لئے کارکن کھڑا ہونے پر تیار نہیں ہوگا۔ ن لیگ کی جانب سے وہ قدم اٹھالیا گیا ہے جس کی بابت میں نے دو ہفتے قبل اشارہ کیا تھا کہ اسلام آباد کی سیکیورٹی کو ایف سی اور رینجرز کے حوالے کردیا جائےگا اور خود سکون سے بلوائیوں اور انکو لانے والوں کو ایک دوجے کی پٹائی کرتے دیکھیں۔ جیو نیوز سمیت حمایتی میڈیا کو بتادیا گیا ہے کہ آپ صرف احتجاج سے اسلام آباد راولپنڈی میں جتنے لوگ متاثر ہورہے ہیں ان کی فوٹیج دکھاتے جائیں۔ سو ایک طرف عمران خان نعرے لگارہے ہونگے اور دوسری جانب پمز اور پولی کلینک ہسپتال جانے والے راستوں پر ایمبولینسیں پھنسی ہونگی اور ان کے اہل خانہ عمران خان کو کوس رہے ہونگے تو جو تاثر ابھرے گا ۔ اس کا ابھی سے اندازہ لگالیں۔ دفاع پاکستان کونسل کی چوہدی نثار سے ملاقات اور یقین دہانیوں کے باوجود وہ لوگ جلسے میں شریک ہونے جارہے ہیں ۔ شاید وہ دونوں اطراف سے فائدہ اٹھانے کے لئے اس کا باقاعدہ اعلان 28 تاریخ کو نہ کریں لیکن ان کے کارکن آرہے ہیں اور یہ میری نہیں انٹیلی جینس بیورو کی رپورٹ ہے۔ سو ہنگامہ ہوتا ہے ۔ توڑ پھوڑ ہوتی ہے تو میڈیا چن چن کر مدارس کے ان لڑکوں کی فوٹیج دکھائے گا جس سے ایک طرف تو مدارس کا متشدد ہونے کا تاثر جڑ پکڑے گا۔ دوسرا عمران خان کا دھرنے میں چند ہزار لوگ لانے کا جو کریڈٹ ہے وہ بھی ان سے چھن کر اسٹیبلشمنٹ کی جانب چلا جائے گا۔ ن لیگ کا سب سے اہم مسئلہ روس، امریکہ اور چین کو یہ باور کرانا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ جہادی عناصر کی سرپرستی کررہی ہے ، عمران خان ان کا ایجنٹ ہے اور یہ سب ملک میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں۔ سو کالعدم تنظیموں اور تحریک انصاف کے کارکن ایک ساتھ اسلام آباد پر حملہ آور دکھائی دینگے تو اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ن لیگ نئے آرمی چیف کی تقرری کا اعلان کرے گی جس سے نہ صرف سرل المیڈا کو فیڈ کی ہوئی اسٹوری کو منطقی انجام دیا جائے گا بلکہ عمران خان کی سیاست کے تابوت میں آخری کیل ٹھوک دیا جائے گا۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ وہ predictable ہے جبکہ ہمارا سیاستدان اب ڈیڑھ شانا ہوچکا ہے۔ شیخ رشید اور جہانگیر ترین جیسوں کے چنگل میں پھنسے عمران خان سے امید نہیں کہ وہ اسکے بعد بھی اپنے صوبہ میں جاکر وہاں کی گورننس کو بہتر بنانے مٰیں صرف کرینگے۔ عمران خان اور انکے حواری یہ امید کررہے ہیں کہ دو نومبر کو اسلام آباد میں ہنگامے ہوں تاکہ تیسری قوت کو مداخلت کا موقع ملے وہ نہیں جانتے کہ ن لیگ والے ہنگامے ہونے کے لئے دعائیں مانگ رہے ہیں۔ کیونکہ صرف اسی طرح سے وہ عمران خان کو ایک کلین سیاستدان کے بجائے اقتدار کا بھوکا ، لاشوں کا متمنی، جہادی عناصر کا ساتھی اور اسٹیبلشمنٹ کا چمچہ ثابت کرسکتے ہیں۔ المختصر دو نومبر کے احتجاج سے وفاقی حکومت کو اتنا ہی خطرہ ہے جتنا بھارتی سپر اسٹار عامر خان کو عامر لیاقت حسین کے فلموں میں اداکاری کرنے کے اعلان سے ہوسکتا ہے۔ اور عمران خان کو دو نومبر کے لاک ڈاون سے مطلوبہ مقاصد حاصل ہونے کی اتنی ہی امید رکھیں جتنی بشیر کھسرے کے گھر کاکا پیدا ہونے کی رکھی جاسکتی ہے

Views All Time
Views All Time
367
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   دہشت گردی یا نظریئے کی جنگ (حصہ اول) - سخاوت حسین
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: