Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

قلم کار کا خمار – ابوعلیحہ

by مئی 1, 2017 بلاگ
قلم کار کا خمار – ابوعلیحہ

سال قبل انباکس میں قمر عباس اعوان کو ٹھک ٹھک کی، رسمی کلمات کےبعد عرض کیا کہ جب تک شادی نہیں ہوتی، خواتین کی آئی ڈیز پر گواچی گاں کی طرح لورلور پھرنے کےبجائے کل وقتی بلاگر نویسی کیوں نہیں کرلیتے، اگر کرنے کا ارادہ ہے تو میری ننھی سی نیوز سائٹ حاضر ہے، اعوان نے میری خواتین والی جگت کا جواب یہ بتاکر دیا کہ اس نے اپنی ویب سائٹ قلم کار کے نام سے لانچ کرلی ہے اور اگر میں چاہوں تو وہ میری خرافات کو اپنی ویب سائٹ پر خداترسی کے ضمن میں شائع کرنے کو تیار ہیں۔ پڑھ کر قہقہہ بلند کیا اور ایک اور طنز فائر کرتے ہوئے کہا کہ نیوز سائٹ سے قبل بہتر نہیں تھا کسی اخبار میں چند دن سب ایڈیٹری کرلیتے، اعوان نے جوابی فائر مارا، اس کی ضرورت نہیں کیونکہ جتنی میری عمر ہے، اس سے زیادہ کے صحافتی تجربہ کے حامل حیدر جاوید سید ویب سائٹ کو بطور مدیر لک آفٹر کرینگے اور تمام تر ادارتی پالیسی وہی وضع اور کنٹرول کریں گے، میں نے "جا ؤمیں تم سے نہیں بولتا” کہا اور انباکس سے پھڑک کرکے نکل آیا۔
سال ہونے کو ہے، ریٹنگ کی دوڑ میں سرپٹ بھاگتی ویب سائٹس کے درمیان میں قلم کار کا باوقار سفر خراماں خراماں جاری ہے، نہ انہوں نے سائٹ کی رینکنگ بڑھانے کے لئے کسی متنازعہ مضمون کا سہارا لیا، نہ کسی الم غلم لکھاری کو انباکس خوچہ تم امارے لئے کیوں نہیں لکھتی کے ترلے ڈالے۔
میں قلم کار کو ایک سنجیدہ نیوزسائٹ سمجھتا ہوں کیونکہ قمر عباس اعوان جیسا پرجوش اور ہر وقت محنت کے لئے تیار رہنے والا نوجوان اور صحافت کی باریکییوں کو انگلی کی پوروں پر رکھنے والے مرشد حیدر جاوید سید کا بے باک قلم بطور مدیر میسر ہے۔
میرا شروع دن سے ماننا ہے کہ بلاگرز ویب سائٹس کے لئے ریٹنگ کے بجائے آڈینس اہم ہونی چاہئے، قلم کار کی آڈینس مخصوص ہے، لیکن وہ اس ویب سائٹ سے شائع ہونے والی تحاریر کو لازمی پڑھتی اور شئیر کرتی ہے۔ قلم کار نے بہت سے نوجوان خواتین و حضرات کو لکھنے کا پلیٹ فارم اور حیدر جاوید جیسے مایہ ناز صحافی کی سرپرستی مہیا کی۔ ام رباب باجی اور زری باجی کو اسی ویب سائٹ پر پڑھا اور انگشت بدنداں رہ گیا کہ ان کی تخلیقی صلاحیتیں کسی اور پلیٹ فارم سے پروان کیوں نہ چڑھیں۔ دوسروں کی کیا کہنا، میں نے اپنے ویب شو کے لئے خاتون صحافی کرن عابدی صاحبہ کا بطور میزبان انتخاب بھی ان کی قلم کار میں ایک شائع شدہ تحریر پڑھنے کے بعد کیا۔
دعا ہے کہ اللہ پاک قلم کار کو دن دگنی اور رات چوگنی ترقی عطا فرمائے اور یہ ویب سائٹ ایسے ہی سنجیدہ صحافت کی مین بنی رہے ، پھکڑ بازی اور سنسنی خیزی اس کو چھو کر بھی نہ گزرے۔ قمر عباس اعوان کی فجر کے وقت تک انباکس در انباکس بھٹکتی بے چین روح کو قرار ملے اور اس کی شادی قرار پائے، خیر جس کے ذیشان حیدر نقوی اور بابر لطیف ملک جیسے دوست ہوں، ان کی شادیاں اتنی جلدی نہیں ہوتیں۔
قلم کار کو پہلی سالگرہ پر ڈھیروں ڈھیر شبھ کامنائیں اور نیک تمنائیں۔

Views All Time
Views All Time
521
Views Today
Views Today
2
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: