کچھ لکھنے کے عمل بارے

Print Friendly, PDF & Email

مجھے آپ کو بتانا ہے کہ جس دن میں اچھے سے لکھ نہیں پاتا ،اپنی کتاب اندر کھونے کے قابل نہیں پاتا ہوں تو کیا محسوس کرتا ہوں۔

سب سے پہلے تو دنیا میری آنکھوں کے سامنے بدل جاتی ہے۔ یہ ناقابل برادشت ہوجاتی ہے اور مجھے کراہت انگیز لگتی ہے۔ وہ جو مجھ سے واقف ہیں اسے ہوتا دیکھ سکتے ہیں۔ میں خود اپنے چہرے پہ اس دنیا کو لے آتا ہوں جو میں اپنے اردگرد دیکھتا ہوں۔ مثال کے طور پہ میری بیٹی شام کو میرے چہرے پہ برستی رحم آمیز مایوسی دیکھ کر بتاسکتی ہے اس دن میں اچھا نہیں لکھ پایا ہوں۔ میں اس سے اپنے چہرے کے یہ تاثرات چھپانا چاہتا ہوں مگر نہیں چھپا پاتا۔ان تاریک لمحوں میں مجھے موت اور زندگی کے درمیان کوئی فرق کرنے والی لکیر دکھائی ہی نہیں دیتی۔ میں کسی سے بات کرنا نہیں چاہتا کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ کوئی مجھے اس حالت میں دیکھے کیونکہ ہوسکتا ہے ایسی حالت میں کوئی مجھ سے بات کرنے کی خواہش بھی رکھے گا۔

اس طرح کی ہلکی سی مایوسی کی تہہ ہر دوپہر ایک سے تین بجے مجھ پہ چھاجاتی ہے۔ لیکن میں لکھائی اور پڑھائی کے ساتھ اس کے ساتھ معاملہ کرنا سیکھ گیا ہوں۔ اگر میں ٹھیک سے کروں تو میں خود کو واپس موت کی لکیر سے زندگی کی لکیر کی جانب لے جاسکتا ہوں۔ اگر مجھے لمبے عرصے تک روشنائی اور کاغذ کے بغیر رہنا پڑے، چاہے سفر اس کا کارن ہو، گیس کا نہ ادا کیا جانے والا بل ہو، ملٹری سروس اس کی وجہ بنے(جیسا کہ ایک مرتبہ معاملہ بنا تھا)، یا سیاسی معاملات آڑے آئیں (جیسا کہ آج کل اکثر یہی معاملہ ہے) یا بہت ساری دوسری رکاوٹیں ہوں تو میں اپنے اندر بےچارگی و بے بسی کو سیمنٹ کی طرح جما محسوس کرتا ہوں۔ میرا بدن حرکت کرنے میں مشکل محسوس کرتا ہے، جوڑ اکڑ جاتے ہیں۔ میرا سر پتھر ہوجاتا اور یہاں تک کہ میرے پسینے کی بو بھی مختلف ہو جاتی ہے۔ اس بے بسی کی حالت میں زندگی ایسی چیزوں سے بھری لگتی ہے جو ایک آدمی کو ادب سے دور رکھنے کی سازش میں مصروف ہوں۔

یہ بھی پڑھئے:   متوازن سوچ کی شدید کمی کا سنڈروم

میں ایک پرہجوم سیاسی جلسے میں بیٹھا ہوسکتا ہوں یا اسکول کے برآمدے میں بیٹھا ہم جماعت لوگوں سے بات کر رہا ہو سکتا ہوں یا اپنے رشتے داروں کے ساتھ بیٹھا چھٹی کے دن کھانا کھا رہا ہوسکتا ہوں یا مجھ سے مختلف خیال کے مالک ایک شخص سے بات چیت کرنے پہ اپنے آپ سے لڑ رہا ہوسکتا ہے۔ یا ٹی وی اسکرین پہ جو آ رہا ہو اس میں اپنے آپ کو مصروف کر رہا ہوسکتا ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ میں اہم کاروباری ملاقات کررہا ہوں، یا روٹین کی خریداری کر رہا ہوں، نوٹری پبلک جارہا ہوں یا ويزے کے لیے اپلائی کر رہا ہوں تو ایسی حالت میں اچانک میرے پپوٹے بھاری ہوجاتے ہیں چاہے یہ دن کا نصف ہی کیوں نہ ہوں اور میں سوجاتا ہوں۔ جب میں گھر سے دور ہوتا ہوں اور تنہا کمرے میں وقت گزارنے کے قابل نہیں ہوتا تو میری واحد تسکین دن کے نصف میں اونگھنا ہوتا ہے۔ تو حقیقی بھوک ادب کی نہیں بلکہ ایک کمرے کی ہے۔ جہاں میں تنہا اپنے خیالات کے ساتھ ہو سکوں۔ایسے کمرے میں بالکل ویسی پرہجوم جگہوں ، خاندان کے اکٹھا ہونے کی تقریبات، اسکول کے دوستوں سے پھر سے ملنے کی جگہ، رشتے داروں کے ساتھ مل کر ڈنر کرنے اور ان سب لوگوں کے بارے میں خوبصورت خواب بن سکتا ہوں جن سے میں ملتا رہتا ہوں۔ میں پرہجوم چھٹی والے دن کو مزید بہتر بناتا ہوں۔ اس میں کچھ اور تفصیلات فرض کرسکتا ہوں اور لوگوں کو اور زیادہ خوش ہوتا دکھا سکتا ہوں۔ خوابوں میں بہرحال ہر شے اور ہر فرد دلچسپ، جاذب نظر اور حقیقی ہوتے ہیں۔ میں نئی دنیا کے لیے سٹف جانی پہچانی دنیا سے ہی لیتا ہوں۔

یہ بھی پڑھئے:   شادی، دہشت گردی، ولیمہ - باتیں ریحام خان کی

یہاں ہم معاملے کی جڑ تک پہنچ جاتے ہیں۔ اچھا لکھنے کے لیے اتنا بور ہونا ہے کہ توجہ منتشر ہوجانا اور پھر زندگی میں داخل ہونا ضروری ہوتا ہے۔ یہ تب ہوتا ہے جب شور کی بمباری کا سامنا کرتا ہوں۔ ایسے دفتر میں جہاں ہر طرف فون کی رنگ بج رہی ہوں۔ میں دوستوں اور پیاروں میں گھرا ہوا کسی خوب چمک دار دن میں ساحل پہ بیٹھا ہوں یا خوب بارش میں کسی جنازے کے ساتھ ہوں۔ دوسرے لفظوں میں اس لمحے میں جب میں اپنے اردگرد منظر کو کھلتے ہوئے دیکھ رہا ہوتا ہوں تو اچانک مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں حقیقی طور پہ وہاں نہیں ہوں بلکہ سائیڈ لائن سے دیکھ رہا ہوتا ہوں تو میں دن میں خواب دیکھنا شروع کردیتا ہوں۔اگر میں مایوسی کا شکار ہوں تو میں صرف یہ سوچتا ہوں کہ کتنا بور ہوں میں ۔ کچھ بھی ہے معاملہ اتنا سا ہے کہ میرے اندر سے ایک آواز اٹھتی ہے جو مجھے واپس کمرے میں جانے اور میز کے گرد بیٹھ جانے کو کہتی ہے۔

(مترجم :عامر حسینی، اورحان پامک کی کتاب "دوسرے رنگ” سے لیا گیا مضمون)

Views All Time
Views All Time
386
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: