سیاسی کھچڑی اور آمرانہ جمہوری رائتہ

Print Friendly, PDF & Email

انسان اپنے منصوبے بناتا ہے، اپنی سوچیں لڑاتا ہے اور اپنے کھیل کھیلتا ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ انسان کے منصوبے ، سوچیں اور کھیل بالکل اسی طرح کامیاب بھی ہو جائیں جیسے وہ سوچ رہا ہوتا ہے کیونکہ انسانوں کے اوپر ایک ہستی اور بھی ہے جو انسانوں کا رب ہے اور اس رب کے حکم کے بغیر کائنات میں ایک پتہ بھی نہیں ہل سکتا۔ انسان کی فطرت ہے کہ اپنے منصوبے بناتا ہے اپنے کھیل کھیلتا ہے مگر آخری فیصلہ انسانوں کے رب کا ہی ہوتا ہے اور جو رب چاہتا ہے وہی کرتا ہے۔ غیب کا علم صرف اللہ کی ذات جانتی ہے انسان صرف اپنی سوچ کے مطابق حالات کا اندازہ لگاتا ہے۔

بطور صحافی وطن عزیز کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے سیاست کے نوشتہ دیوار پر مجھے اپنی چشم تصور سے جو نظر آرہا ہے اس پر میرا ناقص تجزیہ حاضر خدمت ہے جو کہ غلط بھی ہو سکتا ہے مگر بطور صحافی وطن عزیز کے آنیوالے سیاسی حالات پر گہری نظر رکھتے ہوئے مجھے یہی دکھائی دے رہا کہ مارچ کا مہینہ جہاں موسم سرما رخصت ہو رہا ہوگا اور موسم گرما اپنا آغاز کر چکا ہوگا تو ملکی سیاسی موسم میں بھی خاصی گرما گرمی ہوگی۔ مارچ میں عدلیہ کی طرف سے کئی اہم معاملات پر اہم فیصلے ہوں گے اور یہ فیصلے شریف خاندان کے لیئے جہاں سخت ہوں گے وہیں ملکی سیاست میں شریف خاندان کی مستقبل کی سیاست کو مزید مضبوط بھی کریں گے۔ مارچ میں عدلیہ کی طرف سے آنے والے متوقع فیصلے ، نواز شریف کی بطور وزیر اعظم پاکستان نااہلی اور پھر پارٹی سے بطور صدارت نااہلی سے زیادہ سخت ہوں گے جن میں نہ صرف نواز شریف بلکہ ان کی بیٹی مریم نواز اور بیٹوں حسن نواز اور حسین نواز کو بھی سزائیں سنائی جائیں گی جس کے نتیجے میں نواز شریف اور مریم نواز اڈیالہ جیل کے مہمان بنیں گے۔

ایک سال تک شریف خاندان مقدمات اور عدالتوں کا سامنا کرتا رہے گا اور پھر ایک سال بعد سزاؤں اور مقدمات کے خاتمے کے بعد شریف خاندان زیادہ قوت سے ملکی سیاست میں ابھر کر سامنے آئے گا۔ مسلم لیگ ن کی سیاست کا محور و مرکز نواز شریف ہی ہوں گے اور مسلم لیگ ن کی سیاست نواز شریف کے گرد ہی گھومتی رہے گی۔ ابھی جہاں مریم نواز کو نواز شریف اپنے ساتھ رکھ کر انکی سیاسی تربیت کر رہے ہیں وہیں مریم نواز اپنے والد نواز شریف کےساتھ جیل میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد ایک متحرک اور طاقتور سیاسی رہنما بن کر مستقبل میں نواز شریف کی سیاست کی سیاسی میراث بنیں گی۔ ویسے بھی وطن عزیز کی سیاست میں یہ مانا جاتا ہے کہ جب تک جیل کی سیر نہ کی جائے تب تک سیاست کے میدان میں سیاسی داؤ پیچ سے آشنائی ممکن نہیں اور جیل کی ہوا کھانے کے بعد ہی ایک پکا سیاست دان بنا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   سامراجی زوال کا نوشتۂ دیوار!-ڈاکٹر لال خان

وطن عزیز کی سیاست کی چوپال میں کٹھ پتلی تماشا جاری ہے ، کھیل کھیلنے والے اپنا کھیل بڑی مہارت سے کھیل رہے ہیں۔ وطن عزیز کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وطن عزیز کی آزادی سے لے کر اب تک کھیل کھیلنے والوں کی مرضی اور منشا کے مطابق ہی سیاست کا میدان سجا کر اپنی مرضی اور من پسند کے گھوڑے دوڑا کر جمہوریت کی گاڑی میں اپنے کھیل کے مطابق جی حضوری کرنے والے ڈرائیور کو ہی بٹھا کر جمہوریت کی گاڑی کو رواں دواں رکھا گیا ہے۔ اپنے کھیل کے مطابق کبھی جمہوریت تو کبھی آمریت کا کھیل کھیلا جاتا رہا ہے۔ اصل طاقت کھیل کھیلنے والوں کے ہاتھ میں ہی رہی ہے جمہوریت تو محض کٹھ پتلی ہی رہی ہے جس کی ڈوریں کھیل کھیلنے والے اپنی مرضی سے ہلاتے رہے ہیں۔

جمہوریت اور آمریت کی آنکھ مچولی چل رہی ہے۔ مملکت خداداد ریاست پاکستان کے آزاد ہونے کے ساتھ ہی اقتدار کی غلام گردشوں میں سازشوں اور چالوں کا سلسلہ شروع ہوا جو تاحال جاری و ساری ہے ، کبھی جمہوریت تو کبھی آمریت اپنے مقررہ وقت پر اقتدار کے ایوانوں تک رسائی حاصل کرتی رہیں اور ریاست پاکستان کو اسلامی جمہوری باندی کے نام پر اپنے مفادات کے کھیل میں نچاتے رہے۔ ریاست پاکستان کی گاڑی 1947 سے 1958 تک جمہوریت کی پٹڑی پر چلتی ہوئی اپنے سفر پر گامزن تھی کہ کھیل کھیلنے والوں نے آمریت کے ذریعے اقتدار پر پہلا شب خون مار کر آمر کو گاڑی ڈرائیو کرنے کا موقعہ دیا جس نے آمریت کی پٹڑی پر گاڑی دوڑا کر 10 سال کا سفر طے کیا تھا کہ پھر گاڑی کا ڈرائیور تبدیل کرنے کی ضرورت پڑی تو 1970 میں عام انتخابات کروا کر ایک بار پھر جمہوریت بحال کی گئی جس نے اپنا مقررہ وقت پورا کیا اور پھر 1977 میں جمہوریت کا بوریا بستر گول کر کے آمریت کا کھیل رچایا گیا جو تقریبا 10 سال تک جاری رہا۔ 1988 میں ایک بار پھر جمہوریت بحال ہوئی جو کہ اپنا مقررہ وقت پورا کر کے 1999 میں اختتام پذیر ہوئی۔

یہ بھی پڑھئے:   حرفِ دُعا

1999 سے 2008 تک پھر آمریت نے راج کیا اور 2008 سے 2018 تک ریاست کی گاڑی کا سفر جمہوریت کی پٹڑی پر جاری ہے جس کا مقررہ وقت پورا ہوگیا ہے اور اب ساتھ کھیل کھیلنے والے اپنا کھیل کھیل رہے ہیں مگر اس بار کھیل نئے انداز میں کھیلا جا رہا ہے۔ اس بار بندوق کسی اور کندھے پر چلائی جارہی ہے۔ سامنے تو بابا رحمتا ہے جو نااہلی پر نااہلی کیئے جا رہا اور اب اگلے مرحلے میں سزائیں بھی سنائے گا۔ کھیل اپنے منصوبے کے تحت کھیلا جا رہا ہے باقی کھیل کھیلنے والوں کے اوپر جو ذات بیٹھی ہے وہ ہی بہتر جانتی ہے کہ آگے کیا ہوگا۔ آخر میں ہوگا تو وہی جو منظور خدا ہے۔ اللہ کرے کہ جو بھی ہو اس وطن عزیز کی جمہور کی بہتری ، سلامتی اور خوشحالی کے لئے ہو۔ آخر میں مجھے کیوں نکالا والوں کے لیئے عرض ہے کہ اگر آپ اپنی ذات سے اوپر کا سوچتے تو آپ کو کبھی نہ نکالا جاتا اس سے پہلے بھی ایک بار آپ کی یہی بات آپ کو نکالنے کا باعث بنی تھی اور اس بار بھی۔ خیر آپ کو نکالنے والے ہی تو آپ کو لائے بھی تھے۔

Views All Time
Views All Time
214
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: