عبدالستار ایدهی : سماج کا سب سے زندہ درویش

Print Friendly, PDF & Email

aamir hussainiعبدالستار ایدھی صاحب چلے گئے اور موت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی لاکھ انکاری ہو مگر اس سے راہ مفر ممکن نہیں ہوسکتی۔مگر ایدھی صاحب تو موت ، تکلیف ، مصائب سے ذرا گبھرانے والے نہ تھے بلکہ انھوں نے ان سے مقابلہ کرنے کی ٹھانی اور وہ پھر مقابلہ کرتے ہی چلے گئے۔
کافی مہینوں سے وہ سخت بیمار تھے اور ان کے گردے کام کرنا چھوڑ گئے تھے جبکہ ان کو بڑھاپے میں عمومالاحق ہوجانے والے بہت سے اور امراض بھی لاحق ہوچلے تھے ۔اور اس دوران جیسے پوری قوم کےذہن میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ ایدھی صاحب چراغ سحری ہیں ‘اب گئے کہ تب’۔یہی وجہ ہے کہ ان کی موت کی خبر کئی مرتبہ سوشل میڈیا پہ پھیل جاتی اور تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری رہتا اور پھر خبر آتی کہ یہ غلط ہے۔اور مرگ یوسف کی خبر کے سچ نہ ہونے پہ نجانے کیوں سکون کی ٹھنڈی سانس بھری جاتی ۔
ایدھی صاحب ایک درمیانے درجے کے کپڑے کے تاجر کے گھر پیدا ہوئے اور میمن برادری سے ان کا تعلق تھا اور یہ برادری کاروباری معاملات میں بہت طاق گردانی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس برادری میں باہمی خیرسگالی اور سوشل نیٹ ورکنگ کے بہت پرانی ہے اور اس بنیاد پہ سوشل ورک اس برادری کا ایک خاص وصف گردانا جاتا ہے ۔لیکن یہ سوشل ورک اکثر و بیشتر ان کی برادری سے باہر نہیں جاپاتا۔اور اس برادری کے لوگ بہت زیادہ اندروں بیں ہوتے ہیں ۔ ایدھی صاحب نے میٹھا در میں اسی مخصوص ماحول میں آنکھ کھولی ۔لیکن مجھے لگتا ہے کہ ایدھی صاحب نے اپنے فکری تشکیلی دور میں کچھ ایسے ایسے لوگوں کو ضرور پڑھا جنہوں نے ایدھی صاحب کے ہاں خدمت انسانی کے عالمگیر تصور کو پروان چڑھانے میں مدد فراہم کی ۔ایدھی کا جنم ایک صوفی روایات کے حامل سنی گھرانے میں ہوا تھا اور یقینی بات ہے کہ برصغیر کی جو صوفی روایت ہے اس میں سب کے لیے امن اور سب سے صلح کا جو خیال ہے اس نے ایدھی صاحب کی مدد کی ہوگی ۔اس کا ایک ثبوت تو یہ ہے کہ ایدھی صاحب نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں جنگجو مذہبیت سے ابھرنے والی تحریکوں کو مسترد کردیا اور انھوں نے طالبانائزیشن کے خلاف آواز اٹھائی۔ایک پیٹی بورژوازی گھرانے سے تعلق کی وجہ سے ان کے ہاں یوٹوپیائی مساوات پہ مبنی خیالات پروان چڑھے ہوں گے اور انہوں نے غریبی، محرومی، بیماری،مصائب کو اسی روشنی میں دیکھا ہوگا۔معمولی سے پڑھے لکھے ایدھی کے ہاں ہمیں فکر کی تشکیل کے سفر کے کئی ایک مرحلے ان کے عمل اور لائحہ عمل کو سمجھنے میں مدد کرتے ہیں ۔جیسے ایدھی صاحب نے کئی مرتبہ بتایا کہ وہ کربلا کی ٹریجڈی سے بہت متاثر تھے اور مسلم نابغہ ہستیوں میں سے انہوں نے ایک نام بطور خاص لیا اور وہ تھا ابوذ رضی اللہ عنہ کا نام ۔غریبوں ،ناداروں اور بے نوا لوگوں سے ان کی ہمدردی اور ان کا رشتہ ہمیں ابوذر سے ان کے شغف کی کہانی کی تفہیم کرنے میں مدد دیتا ہے ۔ان سے جب کبھی پوچھا جاتا کہ وہ کن لوگوں کو پڑھتے ہیں اور کس لٹریچر سے استفادہ کرتے ہیں تو انہوں نے برملا دو ایسے نام لیے جس سے پولیٹکل اسلام ،اسلام ازم، جہاد ازم سے وابستہ لوگ تو الرجک ہیں ہی خود سرمایہ داری کے حامی دانشور بھی بہت بیزار دکھائی دیتے ہیں اور یہ نام تھے کارل مارکس اور لینن کے ۔ایدھی کارل مارکس اور لینن کا لٹریچر پڑھنے کا اعتراف ہی نہیں کرتے تھے بلکہ ان کو کارل مارکس کی تصویر سے بھی عشق سا لگتا تھا۔اس کا ذاتی طور پہ ایک تجربہ ہمیں بھی ہے ۔کراچی میں ورلڈ سوشل فورم ہورہا تھا تو فیصل ایدھی نے بائیں بازو کے کئی گروپوں سے رابطہ کیا اور ان سے کہا کہ ان کے والد کی خواہش ہے کہ اس فورم کے شرکا کے اندر کارل مارکس کی تصویر اور اس کا معروف فقرہ ” دنیا بھر کے مزدوروں متحد ہوجاؤ” کے ساتھ پوسٹر تقسیم کیے جائیں ۔پھر فیصل ایدھی نے انقلابی سوشلسٹ کو کہا کہ وہ کراچی شہر میں کارل مارکس کی تصویر والے پوسٹرز چسپاں کریں ۔سوویت روس نے ان کو یونہی لینن پرائز نہیں دیا تھا۔بلکہ ان کو ایدھی صاحب کے خیالات سے پوری آگاہی تھی ۔
edhi 2ایدھی صاحب کا سوشل ورک جو تھا اس کو بیان کرنے والے اکثر ایدھی صاحب کو یہ سب کسی بھی ایسی آئیڈیالوجی سے ماورا ہوکر کرتے دکھاتے ہیں جس سے ان کو ایک غیرسیاسی آدمی قرار دیا جاسکے ۔ایدھی صاحب تضادات سے بھرے اس سماج میں غیر جانبدار ہرگز نہیں تھے ۔ان کے سیاسی آدرش بھی تھے اور وہ چاہتے بھی تھے کہ ان سیاسی آدرشوں کو حاصل بھی کیا جائے ۔ان کا سب سے بڑا آدرش یہ تھا کہ معاشرے میں اس وقت جو سماجی تقسیم ہے وہ ختم ہو اور لوگوں کی محنت ان کی پہچان بنے اور معاشرہ ہر قسم کے استحصال اور ہر قسم کے امتیاز سے پاک ہوجائے۔تو اس کے لیے انہوں نے کوشش بھی کی ۔وہ کم از کم منڈی کی معشیت سے ترتیب پانے والی ‘اخلاقیات ‘ سے تو سخت بے زار تھے ۔یہی وجہ ہے کہ ان کو کارل مارکس ، لینن اور ابوذر بہت اچھے لگتے تھے ۔انہوں نے اپنے سوشل ورک کے دوران اپنے ان خیالات کو کبھی نہیں چھپایا ۔یہی وجہ ہے کہ ان کے جنازے پہ ریاست کی جانب سے وی آئی پی پروٹوکول کو ان کے بیٹے فیصل ایدھی نے مسترد کردیا اور راستے بند کرنے کی مخالفت کی ۔ ایدھی نے ملیشیا کے کپڑے سے سلے لباس میں دفن کیے جانے کی وصیت کی اور اس وصیت کو پورا کیا گیا ۔
ایدھی صاحب کا سماجی شعور غیرسیاسی نہ تھا اور یہ سٹیٹس کو سے مصالحت اور مطابقت پذیری کی دعوت دینے والا نہیں تھا بلکہ یہ بجا طور پہ انقلابی اور مزاحمتی بھی تھا ۔ ان کا سوشل ورک نیولبرل ازم کے تصور سوشل ورک سے بالکل مختلف تھا اور اس کا وہ ایجنڈا بھی نہیں تھا جو ہمارے ہاں این جی اوز نے عمومی طور پہ اپنا رکھا ہے جو ہر ایک سماجی تحریک کو اندر سے بدلنے اور ان کو پروجیکٹ میں بدل کر مزاحمت کو پھیل جانے سے روکنے کا کام کرتی آئی ہیں ۔
ایدھی صاحب نے کئی ٹیبو توڑے ۔ انہوں نے مارے جانے والوں کی باعزت تدفین کرکے اور ان کے مذہب و عقائد کو ایک طرف رکھ کر تقسیم کرنے والی قوتوں کے خلاف عملی مزاحمت کی ۔اور انہوں نے جس طرح سے نوزائیدہ بچوں کی جانیں بچانے، سماجی بے حسی اور خود غرضی کا شکار ہونے والے بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو پناہ دی اس پہ ان کو جتنا خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے ۔ ایدھی صاحب کے سوشل ورک کی ایک اور جہت ہے اور وہ یہ ہے کہ انہوں نے انسانیت پسندی کو سب عقائدخیالات، ذات پات، رنگ ونسل، جنس، مذہب سب سے بلند تر قرار دیا اور ٹھیک معنوں میں ایک سیکولر صوفیانہ سوچ کو پروان چڑھایا ۔ ایدھی ہمارے سماج کی نسلی و مذہبی بنیادوں پہ تقسیم کے خلاف ایک روشن استعارہ تھے ۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ اس مردہ ہوگئے سماج میں وہ سب سے زیادہ زندہ اور خود آگاہ شخص تھے ۔ ہمارے ٹوٹتے، تقسیم ہوتے اور تباہی کی طرف بڑھتے سماج کو تعمیر اور ترقی کی جانب لیجانے کی کوشش کرنے والے سب سے زیادہ مخلص انسان تھے ۔
مجھے پیجا مستری کی یہ بات بہت بھائی کہ جنونی اور بھٹکے ہوئے لوگوں نے ریش اقدس کو جس طرح سے ایک برا استعارہ بناڈالا ہے ایدھی کی لمبی سفید داڑھی نے پھر سے اسے ادب و احترام کا استعارہ بنانے میں مدد دی ہے ۔اور یہ بتایا ہے کہ ظاہری ہئیت کسی کے نظریات کا عکس نہیں ہوا کرتی ۔ ویسے کارل مارکس ، لینن ، فیڈرک اینگلس یہ سب صاحبان باریش تھے ۔ بلکہ مرے کمرے میں لگی کارل مارکس کی تصویر دیکھ کئی سادہ لوگ مجھ سے یہ سوال کربیٹھتے ہیں کہ یہ کس پیرصاحب یا عالم کی تصویر ہے اور وہ کارل مارکس کی خوب روشن آنکھوں میں مومنانہ فراست کی روشنی بھی خود ہی تلاش کرلیتے ہیں ۔ اقبال نے یونہی تو نہیں کہا تھا کہ دل او مومن است ‘دماغتش کافر است ۔ ویسے دماغ کے کافر ہونے اور دل کے مومن ہونے سے ہی انسانیت بچ سکتی ہے ۔کیونکہ ایسا ہونے سے آدمی کٹھ ملا ہونے سے بچ جاتا ہے ۔ دماغ کافر نہ ہو تو مساوات اور لا طبقاتیت غیر فطری اور غیر اسلامی لگنے لگتی ہے ۔ مولانا عبداللہ درخواستی نے ایک مرتبہ ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس اسلام سے وہ کفر لاکھ درجے بہتر ہے جو معاشی نا انصافی اور لوگوں کے معاشی استحصال سے نجات کی سبیل کرتا ہو ۔ عبداللہ درخواستی نے یہ بات اس زمانے میں کہی تھی جب جماعت اسلامی کے مفکرین غریبی و مفلسی اور طبقاتی تفاوت کو اسلامی طور پہ فطری امر قرار دے رہے تھے اور اسے بدلنے کی جدوجہد کرنے والوں کی لڑائی کو اسلام ومذہب سے لڑائی قرار دینے کے لیے 113 مولویوں کا فتویٰ لیکر میدان میں اترے تھے۔ایسے میں کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا
شرابیں پئیں ، سٹہ کھیلیں اور سود سے کاروبار کریں
زرداروں کے آگے چپ ہے فتویٰ ایک سو تیرہ کا
امین گیلانی پدر سلمان گیلانی
آخر میں بس اتنا کہنا ہے کہ عبدالستار ایدھی کی جسمانی موت ہوگئی مگر ان کی معنوی موت کبھی واقع نہیں ہوگی ۔ ہمارے سماج میں وہ سب سے زیادہ زندہ رہنے والی ہستی کا درجہ پاگئے ہیں اور انسانیت کا جو بھی علم بلند ہوگا اس علم کے اندر ایدھی صاحب کا چہرہ جھلکتا ہوا نظر آئے گیا ۔
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

Views All Time
Views All Time
1857
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   پاکستان کا الٹرا کنزرویٹو ازم کی جانب جھکاؤ کیسے سعودی علاقائی سیاسی مقاصد کے لئے فائدہ مند ہے؟ (2) - ترتیب و ترجمہ : مستجاب حیدر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: