انسان سے ڈیڈ ویٹ لاس میں منتقلی – عباس سیال

Print Friendly, PDF & Email

abbas-sayalجن بھائیوں نے اکنامکس پڑھ رکھی ہے وہ اس کی ایک ٹرم Dead weight Loss ڈیڈ ویٹ لاس سے بخوبی واقف ہوں گے۔بغیر جذباتی ہوئے آپ نیکی، بدی، گناہ، ثواب کو اکنامکس کی طرزپر سمجھنے کی کوشش کریں کہ ہماری یہ دنیا سپلائی اور ڈیمانڈ کے equilibriumپرچل رہی ہے۔ مگر کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے جب کوئی فیکٹری مارکیٹ میں غیر موثر، ناکارہ، ناقابل استعمال اور بیکار پراڈکٹ پروڈیوس کرتی ہے یا پھر ایسی مصنوعات کہ جن کی مارکیٹ میں کھپت نہ ہو تو وہ پراڈکٹس فیکٹری کے گوداموں میں پڑی پڑی نہ صرف گلنے سڑنے لگتی ہیں بلکہ گوداموں کے شیلفوں میں ا لگ سے جگہ گھیرے پڑی رہتی ہے۔ ایسی پیداوار، ایسی پراڈکٹس کو اکنامکس کی ٹرم میں ڈیڈ ویٹ لاس پراڈکٹ کہاجاتا ہے اور ا س کا ذمے دار کمپنی کا R&D ڈیپارٹمنٹ ہوتا ہے جو صارفین کی طلب کے مطابق مارکیٹ میں کسی مخصوص شے کی ڈیمانڈ پر ریسرچ کو سمجھ نہیں پاتااور اپنے وسائل غیر موثر قسم کی اشیاء میں جھونک دیتا ہے، نتیجتاً یہی اشیاء کسی فیکٹری یاکمپنی کو دیوالیہ بنا دیتی ہیں۔
کیا ایسا نہیں ہے کہ گزشتہ کئی عشروں بلکہ پچھلی کئی صدیوں سے تیار کی جانے والی مسلمان نسل جس میں ہم سبھی شامل ہیں ایک غیر موثر اور ناقابل استعمال مصنوعات کی شکل میں تیار ہو کر مارکیٹ میں مسلسل سپلائی کی جارہی ہے کہ جن کی کوئی ڈیمانڈ نہیں بلکہ ہم ایک ڈیڈ ویٹ لاس سوسائٹی کا روپ دھار چکے ہیں۔
تو کیا ہم اس دھرتی پر بوجھ ہیں کہ جو فقط جگہ گھیرنے کیلئے زمین پر اتارے جارہے ہیں؟۔مذہب کے نام پر ایموشنلی بلیک کرنے والے گناہ و ثواب کے سائنٹیفک کیلکولیٹرزتو ہمیں عرصہ دراز سے یہی کچھ بتاتے چلے آئے ہیں کہ دنیا فانی ہے،اس نے ایک دن فنا ہونا ہے،لہٰذا یہاں کچھ نہ کرو۔بحیثیت مسلمان ہمارا بھی ایمان ہے کہ ا س سیارے نے ایک دن ضرور فنا ہونا ہے اور زندگی ایک مایا (دھوکہ) ہے،لیکن ہم نے بھی ٹھان لی ہے کہ اس زمین کو اپنے مقررہ وقت پر فنا ہونے سے پہلے ہی ہم اسے کیوں نہ ٹھکانے لگا دیں؟۔
ہمارا دوغلہ پن ملاحظہ کیجئے کہ ہم اس زمین پر رہتے ہوئے اس کی نعمتوں سے توخوب لطف اندوز ہوں، اُجلے نکھرے کپڑے پہنیں،مزے لے لے کر کھائیں پئیں،بے شماربچے پیدا کریں، بے دریغ درخت کاٹیں، فضائے بسیط کو کشادہ کرنے والے چرند پرند سمیت ہر زی روح کو بھون کر کھا جائیں۔اپنے گلی، محلوں،دریاؤں اورسمندروں کو آلودہ کریں،مگرمجال کہ کوئی علمی سوال اٹھائیں۔ کوئی پراگریسو سوچ،کوئی پروڈکٹیو ایکٹیویٹی،کوئی ریسرچ،کسی قسم کاکوئی ایسا عملی کام کہ جس سے انسانیت کو فائدہ پہنچے، ہم پر یہ سب چیزیں حرام ہیں۔کیوں؟ کیونکہ دنیا فانی ہے،کیا فائدہ عارضی دنیا میں دل لگانے اور درخت اگانے کا؟ کیا فائدہ ماحولیات کے بارے میں سوچنے کا؟چرند پرند کی نسل کشی کا؟ صفائی ستھرائی کا؟ پڑھنے لکھنے، روٹی رزق کمانے اور بچے پالنے کا؟۔بس آخرت کی فکر کیجئے۔اور۔۔۔ ہمیں آخرت کا درس دینے والے پتہ نہیں اتنے منافق کیوں ہیں کہ دن میں دو کی بجائے تین وقت کا کھانا کھاتے ہیں، ڈٹ کر کھاتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ان کو من و سلوی ہے۔
ہم سے اچھے تو درخت ہیں جو نہ صرف سایہ فراہم کرتے ہیں بلکہ ہمارے نتھنوں سے نکلنے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ نگل کر ہمیں آکسیجن مہیا کرتے ہیں اور ہم بدلے میں بدبودار ہوا نکال کر واپس دیتے ہیں۔اُجلے کپڑے پہنے، نرم ملائم ہاتھ ملانے و الے ان سہیلی نماانسانوں سے اگر جسمانی مشقت یا دماغی ایکسرسائز کی بات کی جائے تو ایک ہی جواب ملتا ہے۔ بھا ئی دماغی کالکولیٹر اگر استعمال کرنا بھی ہے تو اسے دنیا وی حساب کتاب کی بجائے آخرت میں ملنے والے گناہ و ثواب کیلئے رکھ چھوڑو۔ سب پیچھے رہ جائے گا،بس آخرت کی فکر کرو۔ شاید اسی سو چ نے ہمیں ایک قوم سے Zombi بنا دیا ہے اور آج ہم زومبیوں سے سیارے کی باقی ماندہ مخلوق کی بقا کو شدید ترین خطرات لاحق ہیں۔
ہم سے اچھا تو شہزادہ سدھارتھ تھا جو اپنے عمل سے سادھو بنا اور عارف کہلایا۔جس نے سچائی کی تلاش میں دنیا وی آسائشات ترک کیں۔اپنے بال منڈوائے، شاہی لباس اتار پھینکا ا اور بن کی راہ لی پھر پیپل کے درخت کے نیچے بیٹھ کر فاقہ کشی، درختوں کے پتے کھائے، خود اذیتی سے دوچار ہوا لیکن ملا اسے بھی کچھ نہیں۔ سدھارتھ(گوتم) کو بدھ بننے کے بعد پتہ چلا کہ دنیاسے نفرت، فاقہ کشی اور خود اذیتی سے نروان (دائمی خوشی) نہیں ملا کرتا بلکہ لالچ اور غصے سے آزاد ہونے کا نام ہی نروان ہے۔اس روگی اور پاپی دنیا میں نروان اسے ملے گا جو فریبی اور فانی دنیا میں خود غرضی،اندھی خواہشوں اور آرزوؤں سے ماورا ہوجائے گااور جودوسروں کیلئے کشائش رکھے گا وہی مُکت ہو گا۔اور۔۔۔ہم پاکستانی؟۔ ہم جنگی ترانوں سے جنگ جیتنا چاہتے ہیں اورہر گلی کی نکڑ پر اپنے اپنے مسلک کی عبادت گاہیں کھڑی کرنے کو ہی کامیابی کا واحد زینہ قرار دے رہے ہیں۔ معیشت، معاشرت، تعلیم، مستقبل کی منصوبہ بندی سمیت کسی قسم کے علمی اور عقلی مسائل پرجستجو، غور فکر کرنے کی بجائے تین تین چار چار بار روٹیاں کھا کر اس پاپی دنیا سے بدلہ لینے اور اپنی آخرت سنوارنے کے متمنی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ٹھوس حقائق پر سوالات اٹھانے سے ہمارا ایمان متزلزل ہو گا اور صدیوں سے ملک میں بسنے والی قوموں کو ان کے جائز حقوق دینے سے ہمارا ملک ٹوٹ جائے گا۔
حکمران اشرافیہ بھی یہی چاہتی ہے کہ بنیادی انسانی حقوق دینے کی بجائے قوم کی رگوں میں دھرم کی ڈرپ لگی رہے اورمذہب کے نام پر اوورڈوز Overdose سوسائٹی میں چلے پھرتے زومبیوں کی بھرمار ہو۔اپنے اردگرد نظر اٹھا کر یکھ لیجئے کہ آج چپے چپے پر اتنی عبادت گاہیں کھل چکی ہیں کہ اگر ملک کی ساری آبادی کو کہا جائے کہ پانچ منٹوں کے نوٹس پر اپنے گھروں سے نکل کر قریبی عبادت گاہوں میں چلے جائیے تو ملک کی ساری آبادی اپنے محلوں کی عبادت گاہوں میں ہی سما جائے گی بلکہ پھر بھی آدھی عبادت گاہیں خالی رہیں گی،مگر ہم پھر بھی بضد ہیں کہ زورو شور سے مزید تعمیر جاری رکھیں گے۔ گناہ ثواب کی چلتی پھرتی موبائیل فیکٹریوں سے پیدا ہونے والی ڈیڈ ویٹ لاس سوسائٹی جو ٹھہرے۔لہٰذا ڈٹ کر کھاؤ پیو ، یہ دنیا تو آخرت کی کھیتی ہے اور ماشاء اللہ اس کھیتی کو ہم ہی نے سیرا ب کرنا ہے۔ہماری کنٹری بیوشن جاری ہے اور جاری رے گی۔
عباس سیال، آسٹریلیا

Views All Time
Views All Time
391
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   فنِ سخن میں جنوں کی حد تک ریاضت کرتی شاعرہ۔۔۔ سدرہ میر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: