آخر کب تک؟

Print Friendly, PDF & Email

Aamna Ahsan

کچھ عرصہ پہلے پاکستان کی عوام پر اصلاحی نکتہ نظر سےتنقید کرنے کی کوشش کی تھی۔ جواب میں جو میرے ساتھ ہوا، وہ بتانے لائق بھی نہیں۔ ہم وہ لوگ ہیں جو اپنے سوا کسی کو بھی کافر سمجھ اور کہہ سکتے ہیں ۔ہمارے لئے ہمارے رویئےپر تنقید کرنے والا را (RAW) کا ایجنٹ بن جاتا ہے۔
یہ الیکٹرانک دور ہے ۔ سوشل میڈیا پر گرم ہر موضوع سننے اور دیکھنے لائق ہوتا ہے ۔ایک بات چلی ، پھر کہاں سے کہاں پہنچ گئی ۔میں اور آپ صرف دیکھ سکتے ہیں ، مسکرا سکتے ہیں ، بولتے کی زبان اور لکھتے کا ہاتھ نہیں پکڑ سکتے۔
آج کل جو موضوع سوشل میڈیا کی زینت بنے ہوے ہیں ، انہی میں سے ایک واقعہ ہے ایک خاتون نیوز رپورٹر اور ایک ایف سی اہلکار کا۔
قصّہ مختصر یہ ہے کہ نیوز رپورٹر نے حسب معمول اپنے گئے گزرے الفاظ میں ایف سی اہلکار کو للکارا اور اس نے نیوز رپورٹر کے چہرے پر اپنے ہاتھوں کے نشان چھوڑ دئیے۔
سوشل میڈیا پر اس واقعہ کا ملا جلا رد عمل آیا ، کسی کو لگتا ہے خاتون نے اپنی بد زبانی سے اہلکار کو یہ کرنے پر مجبور کیا ، کوئی کہتا ہے ایف سی اہلکار نے "ٹیپیکل” مردوں کی طرح طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔
مختصر یہ کہ اس واقعہ کے بعد، اس پر بہت کچھ لکھا اور کہا گیا ۔بہت کچھ سن لینے کے بعد ، میں اس نتیجہ پر پہنچی ہوں کہ غلطی مرد یا عورت کی نہیں بلکہ ہمارے اس رویے کی ہے جس کا مظاہرہ کرنا ، ہم نے اپنا معمول بنا لیا ہے ، مسئلہ پیشہ وارانہ غیر احساس ذمہ داری ہے ، جو پاکستان میں روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہے ، وجہ ہے وہ ناقابل قبول عدم برداشت ، جسکا ہم پاکستانی عملی نمونہ بنتے جارہے ہیں۔
یہ احساس ذمہ داری کی کمی نہیں تو اور کیا ہے کہ گٹر صاف کرنے والے کو سب کچھ آتا ہے سوائے گٹر صاف کرنے کے ، ڈاکٹر سب کچھ کر سکتا ہے سوائے ایمانداری سے مریض کا علاج کرنے کے ،پولیس کو سب کچھ کرتے دیکھا جا سکتا ہے سوائے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے ، اور میڈیا کی تو بات ہی نرالی ہے ، نیوز کے ساتھ میوزک چلانا ہو یا ڈرامے بنا بنا کر لوگوں کو مزید ہراساں کرنا ، ان کا کوئی ثانی نہیں۔
اردو نیوز چینلز میں استعمال ہونے والی اردو سن کر ، اردو دان قبر میں جانے کی دعائیں کرتے ہیں۔
نیوز چینلز ریٹنگز کے علاوہ کسی کو کچھ نہیں دے رہے ہیں۔
اوپر بیان کئے گئے واقعہ میں خاتون رپورٹر نے بھی چینل کو ریٹنگ دینے کی خاطر ، خود کو خطروں کا کھلاڑی ثابت کرنے کی کوشش کی ، جو ایف سی اہلکار نے ناکام بنا دی۔
اگر آپ نے وہ ویڈیو لائیو یا انٹرنیٹ پر دیکھی ہے تو آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ لوگ ایک خاتون اورایک مرد نہیں بلکہ ناکامیوں سے بھرے دو وجود ہیں ، ایسے دو لوگ جن میں سے ایک نے بھی تھوڑی سی برداشت یا احساس ذمہ داری دکھانے کی ضرورت محسوس نہ کی۔
خاتون نے ایف سی اہلکار کو دھکے دئے ، بدلے میں اس نے تھپڑ رسید کیا اور دونوں دیکھتے ہی دیکھتے عدم برداشت کی منہ بولتی تصویر بن گئے۔
آخر کب تک ہم اس پیشہ وارانہ غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر کے دنیا کے آگے رسوا ہوتے رہیں گے۔
آخر کیا اور برا ہو اس قوم کے ساتھ جب یہ عدم برداشت کا شیوہ چھوڑ کر صبر اور برداشت کا دامن پکڑے ؟
آخر ہم کب سمجھیں گے؟ کیا برداشت کا دامن پکڑے بغیر ترقی کی راہ پر نہیں نکلا جا سکتا ؟ آخر اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا رواج کب ختم ہوگا ؟ 
آخر کب ؟

 

Views All Time
Views All Time
712
Views Today
Views Today
1
mm

آمنہ احسن

آمنہ احسن کو کتابیں پڑھنے کا بہت شغف ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: