Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

رکھوالے ہی مارے گئے – آمنہ احسن

Print Friendly, PDF & Email

aamna-ahsan-1-249x300ہم سب رات کو سونے سے پہلے چوکیدار کی سیٹی کی آواز سنتے ہیں۔ کبھی غور سے اگر اس چوکیدار کو دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ وہ ایک غریب سا بوڑھا ، ہاتھ میں ڈنڈا تھامے سیٹی بجا بجا کر آپ کو ، مجھے یا شائد خود کو مطمئن کر رہا ہوتا ہے۔
کبھی اگر اس کے قریب جائیں ، اسے ہاتھ لگائیں تو اس کا بوڑھا جسم اور ہاتھ میں تھما ڈنڈا آپ کو چیخ چیخ کر کہہ رہا ہوتا ہے کہ اگر تم کسی مسئلے کا شکار ہوئے تو میں تو خود کو اور اس ڈنڈے کو نہیں سنبھال پاتا ، تمہیں کیونکر سنبھالوں گا ؟ 
کل رات کوئٹہ والوں پر خاص کر کچھ ماؤں پر قیامت گزری ، تین دہشت گرد سریاب روڈ پر موجود پولیس ٹریننگ سینٹر میں داخل ہوئے۔ جہاں 600 کے قریب افراد موجود تھے۔ دہشت گردوں نے کیا کیا یہ ہم سب جانتے ہیں۔ رات 2 بجے آخر کار آرمی طلب کی گئی ، جن کے مختصر آپریشن نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ، دو دہشت گرد پہلے ہی خود کو اڑا کے جنت پہنچ چکے تھے باقی ایک کو آرمی نے پہنچا دیا۔
بعد میں پتا چلا کہ ایسا کوئی خاص برا نقصان نہ ہوا ، صرف 60 جوان شہید ہوئے ( مرنے میں اور شہید ہونے میں بڑا فرق ہوتا ہے جناب ) اور کوئی ڈیڑھ سو زخمی ، جن میں سے متعدد کی حالت نازک ہے۔
پھر وہی ہوا جو ہر بار ہوتا ہے ، ہرسیاسی پارٹی نے مذمتی بیان دیا ، دشمن کی کمر ٹوٹنے پر مبارک باد دی اور نقصان کی کمی پر شکر کیا۔
پھر سوشل میڈیا پر وہی جنگ ، وہی عمران خان کے حامیوں کی مسلم لیگ (ن) پر الزامات کی بارش ، وہی سوال اور جواب کے حملے۔
وہی افسوس ، وہی حکومت پر اعتراضات ، اپنی پسندیدہ پارٹی کی طرف داری۔
ہاں کسی ، کسی نے ان 60 گھرانوں اور ان ماؤں کا بھی ذکر کیا جو اپنے بیٹوں کو وردی میں دیکھنے کے شوق میں اب انھیں کفن میں دیکھنے والی تھیں۔
بات نہ ہوئی تو بس صرف ایک موضوع پر ، کوئی نہیں پوچھ رہا تھا کیا بھئی یہ تین دہشت گرد کس مٹی کے بنے تھے جو 600 پر بھاری پڑ گئے ؟ کسی نے نہ سوچا کہ پولیس کی ٹریننگ لینے والے ہمارے نو جوان آخر تین دہشت گردوں سے مقابلہ کیوں نہ کر پائے ؟ مقابلہ کرنا تو دور کی بات یہ نو جوان تو جان بچا کر بھاگ بھی نہ سکے۔
سوال یہ ہے کہ یہ 600 نو جوان اس ادارے میں کس چیز کی ٹریننگ لے رہے تھے ؟ 
اگر آپ مخالف پارٹی کو گالیاں دے کر اور اپنی پسندیدہ پارٹی کے بارے میں تعریفی پل باندھ کر فارغ ہو چکے ہیں ، تو براہ کرم ملکی حالات پر ذرا نگاہ ڈالیے، آپ کو تحفظ پہنچانے کی ٹریننگ لینے والے ،خود کو تین جی ہاں صرف تین دہشت گردوں سے بچا نہ پائے ، وقت پڑنے پر ان سے آپ کیا امید رکھتے ہیں؟ 
دھرنا دینا ہے شوق سے دیں ، روکنا ہے شوق سے روکیں ، لیکن خیال رہے آنے والے وقت میں کسی مشکل میں گرفتار ہوں ، تو ایک لمحہ کے لئے بھی پولیس کی مدد کے بارے میں سوچئے گا بھی نہیں ، کیونکہ جن لوگوں کو اپنی حفاظت کرنا نہ سکھائی گئی ، وہ یقینا آپ کی مدد کرنے سے بھی قاصر ہوں گے۔
کاش کہ مذمت کرنے کے بجائے ، ایک دوسرے پر الزام لگانے سے پہلے کسی ، کسی ایک انسان نے بھی پولیس کی ٹریننگ بہتر بنانے کے لئے کسی حکمت عملی پر بات کی ہوتی ، بیان ہی دے دیتے ، آپ کا کیا جاتا ؟ 
چلئے اب پڑھ کیا رہے ہیں تیاری پکڑئیے ، آپ دھرنا دے رہے ہیں ؟ یا روک رہے ہیں ؟ تبدیلی آپ کے دھرنا دینے اور اسے روکنے کی کوششوں سے آنی ہے ،تربیت ، حفاظت اور سوچ بدل کر بھلا کیا ملنا۔۔۔۔

Views All Time
Views All Time
612
Views Today
Views Today
2
mm

آمنہ احسن

آمنہ احسن کو کتابیں پڑھنے کا بہت شغف ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: