Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ن لیگی محبوبہ کا انصافی محبوب کو آخری خط

by دسمبر 19, 2017 مزاح
ن لیگی محبوبہ کا انصافی محبوب کو آخری خط
Print Friendly, PDF & Email

سلام محبت،
پیارے فیروز تمہیں یہ پڑھ کر شاید افسوس ہو کہ یہ میرا تمہاری طرف آخری خط ہے اور شاید تم بھی اندر اندر یہ بات سمجھ چکے ہو کہ اب ہمارا ملن ممکن نہیں رہا۔ میں نے جہاں تک ممکن ہوا اس تعلق کو بچانے کی کوشش کی لیکن شاید ہماری پارٹیوں کو ہمارا ایک ساتھ رہنا منظور نہیں ہے۔ بلکہ صرف پارٹیوں کو ہی کیوں اب تو ہم دونوں کے گھرانوں کو بھی یہ رشتہ منظور نہیں ہے، میں پچھلے چند دنوں سے دیکھ رہی ہوں تمہاری ماں اور تمہاری بہنوں کا رویہ بھی میرے ساتھ بدلتا جارہا ہے۔ تمہاری بہن تو ایک دو بار جاتے جاتے مجھے سنا بھی چکی ہے کہ ’’ہم نااہلوں کے گھر رشتے نہیں کرتے،‘‘ اور وہ تمہاری تین فٹ اور ساڑھے دو انچ کی بھابھی ،جو چلتے ہوئے بھی بیٹھی بیٹھی لگتی ہے بلکہ جو اٹھ کے کھڑا ہونے کی بھی اہل نہیں ہے، وہ بھی میاں محمد نواز شریف کو نااہل نواز شریف نااہل نواز شریف کہتی پھرتی ہے، فیروز اگر میاں محمد نواز شریف کچھ اداروں کی بددیانتی کی بدولت الیکشن لڑنے کی اہلیت کھو چکے ہیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟

ویسے 2013 میں جب میاں محمد نواز شریف نے مخالفین کو شکت فاش دے کر حکومت میں قدم رکھا تب ہی مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ اب ہمارے درمیان حکومت و اپوزیشن کی دیوار آگئی ہے جو کبھی نہیں گرائی جا سکتی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے جیت کی خوشی میں جب ابا نے چھت پر میاں محمد نواز شریف کے نعرے لگائے تھے تو تمہارے چہرے پر شدید نفرت اور غصے کے آثار تھے، حالانکہ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں نعروں کے جواب میں بہت آہستہ آہستہ سے زندہ باد زندہ باد کہہ رہی تھی لیکن پھر بھی تم نے دو ماہ تک مجھ سے سیدھے منہ بات نہیں کی۔ خیر یہ بات میں بھول گئی کیونکہ میں چاہتی تھی کہ ہمارا تعلق برقرار رہے۔ لیکن تمہیں شاید تعلق سے اپنا امران کھان زیادہ عزیز تھا، میں جیت کر بھی تم پر دل ہاری رہی اور تم ہارکر بھی کبھی میری دل جوئی نہ کر سکے ۔الٹا موڑ موڑ پر میرا دل جلاتے رہے، فیروز میں نے پورے چھ ماہ تمہارے امران کھان کا وہ اشہتار بھی برداشت کیا جو تم لوگوں نے ہمارے گھر کے بالکل سامنے لگا دیا تھا، وہ تو میونسپلٹی والوں کا شکریہ کہ انہوں نے پوسٹرز ہٹا لیے ورنہ تم لوگوں نے تو زچہ بچہ ہسپتالوں کی طرح پکا پکا ہی پوسٹر چپکا لیا تھا۔ فیروز میں نے تمہاری محبت میں’’جتنا بھئی عمران خان جتنا‘‘ والا پورا گانا بھی سنا لیکن تمہیں میری محبت پر یقین نہیں آیا۔ میں نے تمہاری محبت میں عمران خان کا پیج تک لائک کیا لیکن تمہیں یقین نہیں آیا، میں نے تمہاری محبت میں بانوے کا کرکٹ ورلڈ کپ دیکھا لیکن تم نے اعتبار نہیں کیا۔ تمہیں کبھی اعتبار آ ہی نہیں سکتا فیروز۔

یہ بھی پڑھئے:   موسمی قصائی بمقابلہ خاندانی قصائی | شازیہ مفتی

پھر وہ دن یاد ہے تمہیں جب عدالت نے میرے لیڈر میاں محمد نواز شریف کو نااہل قرار دیا تو تم اور تمہارے سارے گھرانے نے ناچ ناچ کر پورا محلہ سر پر اٹھا لیا تھا اور وہ تمہارے دادا جن کی عمر ایکسپائری ڈیٹ سے بھی اوپر ہو چکی ہے وہ بھی کئی گھنٹے ناچتے رہے، فیروز حالانکہ تم یہ جانتے ہو کہ وہ دن، وہ وقت، وہ گھڑیاں میرے لیے قیامت سے کم نہیں تھیں لیکن تم لوگوں نے پھر بھی "جب آئے گا عمران” ڈیک پر اونچی آواز میں لگا کر ساری رات جو تماشا لگایا تھا وہ بھولنے کے لائق نہیں تھا لیکن میں وہ بھی ہماری محبت، ہمارے تعلق کے لیے بھول گئی۔

ہاں میں مانتی ہوں میں نے ریحام خان کی ایک ٹویٹ کو ری ٹویٹ کیا تھا لیکن تم نے بدلے میں کیا کیا، تم نے بھی تو فرحان ورک اور عمران خان کی ہزاریں ٹویٹیں مجھے ٹیگ کیں لیکن میرا حوصلہ دیکھو میری محبت دیکھو، میں پھر بھی کچھ نہیں بولی، کیونکہ فیروز میں تم سے محبت کرتی تھی اور چاہتی تھی کہ ہمارا تعلق برقرار رہے۔

ہاں میں یہ بھی مانتی ہوں کہ ایک بار دادو سے غلطی سے جیو کی آواز بلند ہو گئی تھی جو تمہاری اماں کے کانوں میں پڑ گئی تھی لیکن تم لوگوں نے بدلے میں کیا کیا،؟ یاد ہے اے آر وائی اور بول کی آواز ہمیں سنانے کے لئے ایکسٹرا سپیکر ہی لے آئے تھے۔ اب یہ کل ہی بات دیکھ لو تمہارے لیڈر کی اہلیت کی خبر سن کر تمہارے گھر والے تو یوں خوش ہورہے ہیں جیسے پہلے خان صاب نااہل تھے اور آج ہی اہل ہوئے ہیں۔ صبح سے تمہاری بہنیں چار بار ہمارے دروازے کے سامنے سے گزرتے ہوئے عمران خان کے نعرے لگا چکی ہیں اور تمہاری ماں چھت پر صبح سے جھنڈا  یوں لہرا رہی ہیں جیسے طارق بن زیاد کے لشکر کی سپہ سالار ہوں اور کوئی سلطنت آزاد کروا لی ہو، اور تمہارے دادا جو پتہ نہیں خود کبھی اہل رہے ہیں یا نہیں وہ بھی بغیر دانتوں کے توتلے منہ سے ’’تھان دندہ باد‘‘ کئے جارہے ہیں، اور وہ تمہاری ساڑھے تین فٹ سے کم قد کی بھابھی اچھل اچھل کر ہمارے گھر کی طرف منہ کر یوں چیخ رہی ہیں جیسے پچھلے الیکشن میں تحریک انصاف کو شکست فاش سے دوچار کرنے والا ہمارا ہی گھرانہ ہو، یہ سب میری برداشت سے باہر ہے فیروز ، سو یہ میں نے فیصلہ کیا ہے ہم اس رشتے کو یہیں پر ختم کردیں، اس کے علاوہ مجھے کچھ نہیں کہنا۔
مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو معاف کردینا

یہ بھی پڑھئے:   مایوسی کی انتہا پر کھڑے نواز شریف

اللہ میاں محمد نواز شریف کا صاحب کا حامی و ناصر ہو

تمہاری (ازل سے ابد تک ن لیگی) شبانہ

اللہ حافظ

 

Views All Time
Views All Time
422
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: