کم زور (حاشیے) | عامر راہداری

Print Friendly, PDF & Email

بابا جی آج بھی اسی تاش کے تھڑے پر چند بچوں کو اپنی بہادری کے قصے سنا رہے تھے
"بچو پھر جب انگریج بہادر نے پاکستان بنانے کا اعلان کیا تو ہمارے گاؤں کے تمام سکھ راتوں رات دم دبا کر بھاگنے کی کوششیں کرنے لگے، ہم چند "گبھرو جوانوں” نے فیصلہ کیا کہ ہم سکھوں کو اتنی آسانی سے نہیں جانے دیں گے اور پھر ہم نے کلہاڑیاں اور ٹوکے اکٹھے کیے اور تمام باہر جانے والوں راستوں پہ بیٹھ گئے. بچو اس رات ہم نے 16 سکھ مارے اور میں نے اپنے ہاتھوں سے چار سکھ مارے”
بابا جی کے چہرے پر ایک فخریہ مسکراہٹ ابھری اور بچوں نے تالیاں بجا کر ان کو اس کارنامے پر داد دی.
میں کافی عرصے سے ان کی فخریہ مسکراہٹ کو دیکھ رہا تھا،
آج مجھ سے برداشت نہ ہوا اور میں بول اٹھا
"نہیں بابا جی آپ بہادر نہیں ہیں، آپ کی بزدلی نے چار سکھ نہیں بلکہ چار نسلیں اجاڑی ہیں آپ بہادر ہوتے تو اپنی ایمانی قوت سے ان نسلوں کے سینکڑوں لوگوں کو مسلمان کرسکتے تھے. آپ صرف جسمانی طور پر ہی نہیں، بلکہ ایمانی طور پر بھی کمزور تھے.”
میں یہ کہہ کر مڑا تو پیچھے سے ہلکی سی تالیوں کی گونج میرا کافی دیر تک پیچھا کرتی رہی.

Views All Time
Views All Time
283
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: