Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

میں ، ماں اور مدرز ڈے | عامر راہداری

میں ، ماں اور مدرز ڈے | عامر راہداری

میں فون پر تھا، دوسری جانب میری بیسٹ سہیلی یعنی میری اماں تھیں
”اماں، انصاری لاہور کی سب سے بڑی کلاتھ شاپ ہے اور یہاں سے دنیا بھر کا کپڑا ملتا ہے بولیں آپ کے لیئے کیا لوں؟“
میں انصاری کلاتھ ہاؤس میں تھا
”میں نے بولا نا، میرے لیے کچھ مت لو، مدرز ڈے پر اتنا ہی کافی ہے کہ تم نے اپنی مصروفیات میں سے ٹائم نکال کر مجھ سے بات کر لی ہے“
اماں بس اسی بات پہ خوش تھیں کہ میں نے آج ایک ہفتے بعد اُن سے بات کر لی ہے
”اماں تو اسی لیے کال کی ہے ناں کہ آج کا دن صرف آپ کے لیے ہے، اب ضد نہ کریں، پٹیالہ شاہی سوٹ لے لیتا ہوں انڈیا سے سپیشل آتا ہے“
میں نے لالچ دینے کی کوشش کی
”نہیں مجھے کوئی شاہی واہی سُوٹ نہیں لینا، پہلے ہی صندوق بھرے پڑے ہیں، تم بس گھر واپس آجاؤ، اتنی گرمی میں باہر سڑ رہے ہو صبح سے“
اماں کو پھر بھی میرا خیال تھا
”اچھا چلیں کپڑے چھوڑیں میں انار کلی چلا جاتا ہوں وہاں سے کچھ لے لیتا ہوں“
میں نے ایک اور کوشش کی
”انار کلی میں کیا کیا ملتا ہے“
اماں کے لہجے میں تجسس تھا
”اماں انار کلی میں سوئی سے لے کر جہاز تک سب دستیاب ہوتا ہے“
میں نے حد ہی مُکا دی
”اچھا چلو تم ضد کرتے ہو چلے جاؤ وہاں، کوئی گھر کے کام کی چیز لے لینا“
اماں تھوڑی سی راضی ہوئیں تو میں بھی خوشی خوشی باہر نکلا
”آپ کو میں انارکلی پہنچ کر کال کرتا ہوں“
میں نے کال بند کی اور انصاری سے باہر نکل کر انارکلی کی طرف چل نکلا، آج صبح سے ہی میں نے سوچ رکھا تھا کہ آج مدرز ڈے پر میں نے اماں کے لیئے کوئی خاص گفٹ ضرور لینا ہے لیکن اماں مان ہی نہیں رہی تھیں سو میں نے بھی ”مال“ پر پہنچ کر ہی انہیں کال کی تاکہ انہیں تھوڑا گرمی اور میری ضد کا احساس ہو تو مان جائیں، آخر وہ مان ہی گئیں سو میں دوڑا بھاگا انار کلی پہنچا، نمبر ملایا اماں پھر کال پر تھیں
”جی اماں اب بولیں کس قسم کا گفٹ چاہیے آپ کو“
میں نے انہیں دوبارہ پکا کرنا چاہا
”مجھے کوئی گفٹ وفٹ نہیں چاہیے، اپنی بہنوں کے لئے کچھ لے لو“
اماں بولیں
”اوہو اماں بہنوں کے لئے تو لے ہی لوں گا لیکن آج کے دن کے حوالے سے آپ کے لیے ضرور کچھ لینا ہے جس سے آپ کو خوشی ملے“
میں نے ایک بارپھر سمجھانا چاہا
”اچھا….!! کچھ بھی لے لو مجھے اچھا ہی لگے گا“
اماں نے گیم پھر مجھ پر ڈال دی
”نہیں اماں آپ بتائیں میں آپ کو چیزیں بتاتا ہوں جو آپ کو پسند ہو وہی لے لوں گا“
میں کہتے ہوئے ایک مارکیٹ میں گھس گیا
”ہمم، ٹھیک ہے بتاؤ مجھے کیا کیا پڑا ہے وہاں“
میں نے مارکیٹ میں گھس کر مختلف چیزوں کے تعارف اماں کے گوش گزار کرنے شروع کردئیے، جو چیز اماں کو بتاتا اماں اس کی قیمت پوچھتیں اور قیمت سن کر جھٹ انکار کردیتیں، اما ں نے سیدھا سیدھا مجھے کہہ دیا
”ایک ہزار سے اوپر کچھ نہیں لینا“
”ایک ہزار میں یہاں اچھے جوتے بھی نہیں ملتے اماں“
میں روہانسا ہوگیا
”اچھا دو ہزار ….اس سے زیادہ ایک روپیہ بھی لگایا تو میں گفٹ نہیں لوں گی“
اماں نے فائنل فیصلہ دے دیا
انارکلی میں دو ہزار کی چیز ڈھونڈنا بھی ایماندار سیاستدان ڈھونڈنے کے مترادف ہے، میں ایک ایک شاپ میں جاتا اور کوئی بھی چیز نہ پاکر وہاں سے نکلتا، اماں کے ساتھ فون پہ ویسے ہی لگا ہوا تھا، جو مجھے پسند آتا وہ اماں قیمت کی زیادتی کا کہہ کر رد کر دیتیں اور جو انہیں پسند آتا وہ میں رد کردیتا،اماں نے اب ضد کرنا بھی شروع کردی کہ گھر چلے جاؤ پھر کبھی لے لینا، لیکن میں نے بھی ضد پکڑ لی کہ آج اماں کے چہرے پر مسکان ضرور لانی ہے ایک ہی تو دن ہوتا ہے جس دن ماں باقی دنوں سے ذرا زیادہ یاد آتی ہے، ویسے تو میں بھی تھک چکا تھا اور اب سوچ رہا تھا کہ کچھ بھی اچھا سا لے لوں اور اماں کو قیمت غلط بتا دوں، اسی نیت سے باہر نکلا اور سیدھا مال کا رخ کیا ابھی باہر سڑک پر آیا ہی تھا کہ ایک دکاندار پر نظر پڑی
”اماں مل گیا آپ کا گفٹ“
میری باچھیں کِھل گئیں
”کیا ہے؟“
اماں نے فوراً پوچھا لیکن میں نے جواب نہیں دیا اور سیدھا دکاندار کے پاس جا پہنچا
”بھائی ایک کتنے کی ہے؟“
میں نے دکاندار سے استفسار کیا
”سو رپے کی ایک“
دکاندار نے گرمی سے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا
”ٹوٹل کتنی ہیں؟“
میں نے ان کو غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا
”بیس ہیں“
دوکاندار نے دلچسپی دکھاتے ہوئے کہا
”کیا لے رہے ہو مجھے بھی تو بتاؤ“
اماں نے درمیان میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا تو میں نے انہیں بتا دیا کہ میں ان کے لئے کیا گفٹ لے رہا ہوں،اماں نے سنا تو ان کا چہرہ بھی کِھل اٹھا
فوراً اجازت دے دی
میں نے اماں کی اجازات ملتے ہی دو نیلے نوٹ دکاندار کی طرف بڑھائے اور دوکاندار سے بیس کی بیس گرمی سے تڑپتی پیاسی چڑیاں خریدیں اور وہیں کھڑے کھڑے آزاد کردیں، شاید مدرز ڈے پر اس سے اچھا کوئی اور تحفہ نہیں ہوسکتا تھا، میں، دکاندار، چڑیاں اور اماں ہم سب خوش تھے

عامر راہداری

مرتبہ پڑھا گیا
188مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: