صدیقی صاحب – عامر راہداری

Print Friendly, PDF & Email

"ہم خود اپنے مجرم ہیں، دنیا میں قومیں اپنے جینے کے ڈهنگ خود ڈهونڈتی ہیں، میں نے تو آج تک کوئی قوم نہیں دیکهی جو اپنی شکم کی آگ کو بجهانے کے لیے حکومت کی طرف نظریں ٹکائے بیٹهی ہو”
قدرت اللہ صدیقی صاحب بولے جارہے تهے اور ہم چاروں ان کی باتوں کو بڑے غور سے سن، اور ہاں میں ہاں ملائے جارہے تهے. صدیقی صاحب ایک دانشور کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں ان کا اپنا کاروبار ہے اور اسلام آباد کے پوش ایریا میں ایک عدد خوبصورت بنگلہ بهی ان کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے ہم چاروں دوست کبهی کبهی ان کے بنگلے پہ آکر معاشرے کی برائیوں اور مختلف ایشوز پر گپ شپ کرتے ہیں. ہم چاروں کو ہی صدیقی صاحب کی باتوں سے عشق تها پتا نہیں کہاں سے وہ ایسی باتیں سوچ لیتے تهے. ہم پوری توجہ سے ان کی باتیں سن رہے تهے
"آج دیکهیں ہمارے ملک میں کس قدر غربت، افلاس، بهوک اور بے روزگاری ہے لیکن کیا ہم اس لیے بهوک برداشت کیے جائیں کہ حکومت کچھ نہیں کرتی؟ کتنے ہی ایسے افراد ہیں جو اپنی مدد آپ کے تحت اپنے بازوؤں پہ بهروسا کرکے اپنے مسائل کو حل کرنے کے لیے اٹھ کهڑے ہوئے ہیں”
"بالکل سر”
میں پتا نہیں کیوں ان کی باتیں سن کر جذباتی سا ہوجاتا تها. خون میں ایک طوفان سا برپا ہوجاتا تها. آج ہمارا موضوع تها کہ معاشرے سے چهوٹی چهوٹی برائیوں اور مفلسی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے.
"دیکهیں میں مانتا ہوں یہ معاشرہ مفلس کا معاشرہ نہیں لیکن کیا مفلس سے جینے کا حق بهی چهین لیا جائے، غربا کو مار دیا جائے یا انہیں بهی بهیک مانگنے پہ مجبور کیا جائے.؟؟
"بالکل نہیں سر”
میرے ساتھ بیٹهے محترم تاثیر بهائی نے بهی سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے ان کی ہاں میں ہاں لگائی
"اور یقین کریں کہ اکثر لوگ مر تو جاتے ہیں لیکن کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پهیلاتے، میں نے خود اپنی آنکهوں سے دیکها ہے. آج بهی دنیا اچهے لوگوں سے بهری پڑی ہے یورپی معاشرے کو دیکھ لیں کسی کی مدد کرنے کے معاملے میں کتنا آگے ہیں وہاں تو یہ بهی دیکها گیا ہے کہ جب کوئی چیز ان کے کام کی نہیں رہتی تو وہ اسے سڑک پر رکھ دیتے ہیں کہ کوئی ضرورت مند اٹها کر لے جائے اور اپنی ضرورت پوری کرے. ہم بهی ایسا کر سکتے ہیں اسی طرح پشاور کی "دیوار مہربانی” بهی اپنی مثال آپ ہے جس پر لوگ اپنے پرانے کپڑے ڈال جاتے ہیں اور وہ غریب غربا کے کام آتے ہیں”
"واہ واہ کیا خوب بات بتائی، اگر ایسے ہی ہر شخص سوچنے لگے تو معاشرہ کتنا خوبصورت بن جائے”
جمال بهائی نے بهی لقمہ دیا.
صدیقی صاحب نے سگریٹ کا کش لیا اور بات آگے بڑهاتے ہوئے بولے:-
"بالکل ایسا ہوسکتا ہے اگر ہم آج بهی خود سے وعدہ کریں کہ ان مسجدوں، مندروں اور گرجوں کی بجائے خدا کی مخلوق کی مدد کریں تو معاشرے میں کوئی غربت کے نام پر بچے نہ بیچے گا کوئی عورت طوائف بن کر جسم نہ بیچے گی کوئی غریب گهر کے حالات کی وجہ سے خودکشی نہیں کرے گا بلکہ بحیثیت معاشرہ ہمیں تو چاہیئے کہ ہم اپنے آپ کو ظاہر نہ کرکے اسی طرح ضرورت مندوں کی مدد کریں”
ماحول میں ایک عجیب سا جوش اور ولولہ اٹھ رہا تها کچھ کرنے کی لگن نے سب کے چہرے خوشی سے لال کردیئے
"تو میرے خیال میں ہمیں آج سے اور ابهی سے ایک عزم کرنا چاہیئے کہ ہم اس کو ایک مشن کی طرح آگے بڑهائیں گے”
میں نے بول کر سب کے چہروں کی طرف دیکها تو مجهے مثبت تاثرات نظر آئے
"چلیں میں ہی اسٹارٹ کرتا ہوں یہ ہزار روپے میری طرف سے”
میں نے جیب سے ایک نیلا نوٹ نکال کر سامنے رکها میری دیکها دیکهی جمال، تاثیر اور عبیداللہ نے بهی جیبوں سے ایک ایک نوٹ نکال کر رکھ دیا. پیسے سامنےڈال کر ہم چاروں کی نظریں محترم صدیقی صاحب کی جانب اٹهیں
صدیقی صاحب نے ایک نظر سامنے پڑے چار ہزار روپوں پر ڈالی اور کهسیانی سے ہنسی کے ساتھ ایک لمبا سا کش لیتے ہوئے بولے
"دیکهیں بهئی ہم ٹهہرے دانشور، ہم تو صرف دانش ہی دے سکتے ہیں”
دهوئیں کا ایک مرغولہ سا پهینک کر انہوں نے قیمتی گاؤ تکیے سے ٹیک لگائی. ماحول میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چها گئی میں نے حیرانی سے ایک دفعہ صدیقی صاحب کی طرف دیکها اور پهر باقی تینوں کی طرح سامنے پڑے نیلے نوٹ کو دوبارہ جیب میں ڈالنے کے لیے ہاتھ آگے بڑها دیا

Views All Time
Views All Time
313
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   سب کو معیشت کی پڑی ہے معاشرہ بگڑگیا – شیخ خالد زاہد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: