Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

چرواہا اور شیر (جدید) – عامر راہداری

by فروری 1, 2017 مزاح
چرواہا اور شیر (جدید) – عامر راہداری
Print Friendly, PDF & Email

سنا ہے کسی دیہات میں ایک چرواہا رہتا تها چونکہ چرواہا تها اور دیہاتی بهی اس لیے کوئی بکری اسے دودھ دیئے بغیر گهر نہیں جاتی تهی. بکریاں بے چاری خود اس سے پریشان تهیں اور اپنے بچوں کو اس امید پہ پال رہی تهی کسی دن تو گاوں والے اس موئے پہ اعتبار کرنا چهوڑیں گے اور یہ حرامخور معصوم میمنوں کا حق مارنا چهوڑے گا. چونکہ چرواہا دودھ کے معاملے میں "انهے وا” تها تو ظاہر ہے خوبصورت تو ہوگا ہی سو، اصل بات یہ کہ چرواہا خوبصورت گهبرو پڑها لکها نوجوان تها.(پاکستان میں تو چرواہے بهی پڑهے لکهے ہیں اور لوگ کہتے ہیں پاکستان ایک ناکام ریاست ہے) ہوا یوں کہ ایک دن چرواہے کو گاوں میں ایک لڑکی نظر آگئی، لڑکی اتنی خوبصورت تهی کہ دیکهنے سے بهی میلی ہوتی تهی چرواہا بکریاں شکریاں بهول کر اس الہڑ مٹیار کو دیکهتے ہی رہ گیا. لڑکی نے بهی ایک نظر ڈالی اور واپس لے لی، چرواہا بهی "گٹے گوڈوں” سمیت مٹیار پہ فدا ہوچکا تها. اب تو چرواہے کا روزانہ کا معمول بن گیا کہ ایک آدھ بکری اس کے محلے میں چهوڑ آتا تها کہ وہاں جانے کا بہانہ مل سکے لیکن دوسری طرف مسئلہ گهمبیر لگ رہا تها کہ لڑکی نے جو ایک نظر دیکها دیکها، اس کے بعد تو چرواہے کو اس نے جوتی بهی نہیں سمجها کہ دوبارہ دیکھ لے. چرواہا بهی ضد کا پکا تها بکریوں کی ہیلپ سے ایک دن آخر اس نے اچانک لڑکی کو متوجہ کر ہی لیا ادهر لڑکی کی نگاہ اس پر پڑی، ادهر بهائی نے ہوائی بوسہ پهینکا، لڑکی یکدم ایسی حرکت دیکھ کر بوکهلا گئی اور پهر کهلکهلا پڑی اور پهر منڈے دا رونگ روپ ذرا غور سے دیکھ کر تقریباً فدا ہوگئی چرواہے کا دل بلیوں کتوں شیروں اچهلنے لگا اور پهر اس دن کے بعد چرواہا بهی ملنے کی تراکیب لڑانے لگ گیا ادهر بکریاں بهی اس کی چال کو سمجھ گئی تهیں کہ یہ تو اپنے ٹهرک میں بهی ہمارا استحصال کررہا ہے سو وہ بهی دس منٹ "گوٹ واک” کرنے کے بعد اس لڑکی کے محلے سے نکل کر اپنے بال بچوں کو حوصلہ دینے چلی جاتیں. پهر کافی دن ہوگئے چرواہے کو وہ نظر نہ آئی تو پریشان ہوگیا اسے اب کوئی حل بهی نظر نہیں آرہا تها کہ کیا کرے کہ وہ لڑکی کو دیکھ پائے. کافی سوچ بچار کے بعد اسے ایک حل نظر آیا وہ چونکہ پڑها لکها بهی تها اور اس نے وہ "شیر آیا، شیر آیا” والی کہانی بهی پڑھ رکهی تهی اس لیے اسے آخری حل یہی نظر آیا کہ وہ بهی اسی طرح بہانے سے گاوں والوں کو بلائے اور اس مٹیار کو ایک نظر دیکھ لے اور ساتھ اپنا پیشہ بهی دکها دے.
یوں اس گهناونے منصوبے پر اس نے اسی دن سے ہی کام شروع کردیا، ایک اونچا سا ٹیلہ ڈهونڈا اس پہ چڑھ کر آواز لگائی

"شیر شیر شیر لوگو سنو، شیر شیر شیر”

گاوں کے لوگ ویسے بهی سادہ ہوتے ہیں کئیوں نے کہانی ہی نہیں سنی ہوگی اور کئیوں کو بهول بهال گئی ہوگی، بهاگے چلے آئے اور وہاں تو ویسے بهی اتنی بهوک ہوتی ہے کہ مفت کا "بهت” لینے فیملیوں کی فیملیاں اکٹهی ہوجاتی ہیں اور یہ تو شیر تها لاکهوں روپے کا، ڈنڈے، سوٹے، وٹے جو جس کے ہاتھ لگا اٹها کر ٹیلے کی جانب رواں ہوئے. وہاں پہنچے تو سمجھ لگی کہ وہی سین ہو چکا ہے نہ وہاں کوئی شیر، نہ وہ چرواہا، خالی بکریاں عیش کررہی تهیں لیکن گاوں والے اتنے بهی سادہ نہیں تهے انہوں نے بهی فوراً تلاش شروع کردی ایک بهائی دوکاندار تو چار گاہک دوکان پر چهوڑ کر شیر مارنے آگیا تها وہ تو پائی پائی کا حساب لینے کا سوچ رہا تها اور وہاں وہ خبیث چرواہا پڑھا لکها ہونے کے ساتھ ساتھ سیانا بهی نکلا، وہ دوسرے رستوں سے ہوتا ہوا دوشیزہ کے گهر میں مزے لے لے کر اپنا کارنامہ سنا رہا تها اور لڑکی کهلکهلائے جارہی تهی، شرمائے جارہی تهے…!!!

Views All Time
Views All Time
597
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   روداد سالگرہ کی-ساجدہ سلطانہ
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: