قائد کے نام خط

Print Friendly, PDF & Email

ڈئیرسر قائداعظم ہیلو،
امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے
سب سے پہلے تو آپ کو جنم دن کی ڈھیر ڈھیر مبارک

امید ہے آپ کو میرا ڈسٹرب کرنا برا نہیں لگے گا۔ اگر برا لگے بھی تو برداشت کیجئے گا۔ کیونکہ آج کل سب ہی برداشت کر رہے ہیں۔
خیر اپنی بات پہ آتا ہوں میں نے سنا ہے آپ خواب پورے کرتے تھے۔؟ آج آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ایک خواب جو آپ نے شرمندہ تعبیر کیا تھا اس کا کیا حال ہے۔ وہی مشہور اقبال کا خواب جسے ہم آج کل پاکستان کہتے ہیں۔ مجھے اقبال صاحب  سے جو گلے شکوے تھے وہ میں دور کرچکا ہوں۔ لیکن پھر بھی میں نے سنا ہے آپ اقبال سے خط وکتابت کرتے رہے اگر اب بھی خط وکتابت کا سلسلہ جاری ہو تو ان کو میرا پیغام دیجئے گا کہ شاعری لازوال نہیں ہوتی، اب لوگ شاعری سے نہیں لاشوں سے جاگتے ہیں۔ اور انہیں میرا پیغام دیجئے گا کہ اس قوم کے شعور کے مطابق آپ کو صرف "مکڑا اور مکھی”، "گائے اور بکری”، "پرندہ اور جگنو”، اور ” پہاڑ اور گلہری” جیسی نظمیں لکھنی چاہئیے تھیں۔ علامہ صاحب کو اس پیغام میں یہ ضرور کہئے گا کہ کاش اس رات آپ کوئی اچھی فلم دیکھ لیتے اور خواب نہ دیکھتے۔

محترم قائد میں بڑے افسوس کے ساتھ آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کا تعبیرکردہ خواب الٹا ہوگیا آپ نے سیکولر ریاست بنانا چاہی لیکن آپ کی وفات کے ساتھ ہی بڑی بڑی داڑھیوں اور داڑھیوں سے بڑی توندوں والے مولویوں نے اس کی باگ دوڑ سنبھال لی، اور یہ وہی مولوی تھے جو پاکستان بنانے کے خلاف تھے ہے نا مزے کی بات۔۔
اور ہاں آپ نے جمہوری ریاست کی بنیاد رکھی لیکن ان 68 سالوں میں ہم نے زیادہ عرصہ ڈکٹیٹروں کی آمریت میں گزارا۔ آپ کو بتاؤں کے ڈکٹیٹروں کے علاوہ بھی اکثر سیاسی پارٹیاں بھی آپ کے نام کو استعمال کرکے ہمیں کھا کھا کر تھک چکی ہیں۔ آپ کوپتہ ہے آپ کے نام پر روزانہ کتنے لوگ مرتے ہیں۔ آپ کو پیسوں پر اپنی تصویر لگوانی ہی نہیں چاہئیے تھی۔ آپ کی تصویر لگا پیسا کتنی گھناؤنی جگہوں پر استعمال ہورہا ہے مجھے تو بتاتے ہوئے بھی شرم آرہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   تصویر

اچھا آپ بتائیں جب کانگرس میں گئے تو کیا ضرورت تھی جھگڑا کرنے کی۔۔۔؟ وہیں رہتے تو ہم آج شاید پرسکون ہوتے۔
اچھا، میں نے سنا ہے آپ ہندو بنیے کو ننگا رہنے کے طعنے دیتے تھے۔ حیرت کی بات بتاؤں وہ ننگا اب مریخ پر پہنچ گیا ہے۔ اور وہ ننگا اب دنیا کی سپر پاور بننے جا رہا ہے۔ اور ہاں اس ننگے بنیے کے ملک سے ہم کپاس خرید کر اپنے لئے کپڑے بناتے ہیں اور ہاں کپڑوں سے یاد آیا، ہے تو شرم کی بات لیکن آپ کے مزار پر جسم فروشی کا دھندہ پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔ شاید جسم فروشوں کی کوئی لاجک ہوکہ "اگر اس شخص کی قبر پہ دھندہ کریں گی جس کی تصویر پیسوں پہ لگی ہے تو شاید زیادہ کمائی ہوگی” خیر آپ کو شاید اس بات کا بہتر علم ہو۔

اور ہاں ساری زندگی آپ کلین شیو رہے لیکن مولویوں نے آپ کے منہ پر داڑھی مونچھ اگا لی ہے اس بات کو مذاق مت سمجھیئے گا کیونکہ میں ثبوت دے سکتا ہوں، آپ کے ہر قول کو اسلامائز کرکے مولوی نے آپ کو مولانا بنا دیا ہے۔ اور آپ کو ایک حیرت کی بات بتاؤں کہ آپ نے جو 11 اگست کو تقریر کی تھی وہ سرے سے غائب ہی کردی گئی ہے۔ صرف تقریر ہی نہیں بہت کچھ غائب کردیا گیا ہے۔ آپ نے کہا تھا "ریاست ہوگی ماں کی جیسی سب اقلیتوں کے لئے” اس جملے میں اقلیتوں کی جگہ لفظ د”ہشت گردوں” لگا دیا گیا ہے۔ اور مزے کی بات یہ دہشت گرد حکومتی فیکٹری کی زیرقیادت ہی پروان چڑھتے ہیں مطلب ہم اس معاملے میں خود کفیل ہیں۔
چھوڑیں دہشت گردوں کو یہ بات آپ نہیں سمجھ پائیں گے۔

یہ بھی پڑھئے:   اے وطن پیارے وطن | شاہانہ جاوید

ایک اور اہم بات بتاتا چلوں کے ہمارے ملک کی آبادی دن دگنی رات چوگنی ترقی کررہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ بے روزگاری ہے ظاہر لوگوں کے پاس کام ہوتا نہیں تو فارغ اوقات میں ایک دو بچے پیدا کرلیتے ہیں اور مزے کی بات اس آبادی کو ختم کرنے کے لئے بھی بے روزگاری ہی کام آرہی ہے ہر روز سو ڈیڑھ سو افراد نوکری نہ ہونے کی وجہ سے خودکشی کرلیتے ہیں۔ آپ تو اس وقت پانچ ہزار تنخواہ لیتے تھے لیکن آج کے دور میں پانچ ہزار تنخواہ پانا بھی مشکل ہوگئی ہے۔ اور ہاں ایک میرا ذاتی شکوہ ہے آپ سے، کہ آپ اسے اسلامی ریاست ہی بنا دیتے تاکہ کوئی اقلیت داخل ہی نہ ہوپاتی۔
شاید آپ کا بہت ٹائم لے لیا اس لئے اب اجازت چاہتا ہوں۔
باقی ملک بجلی اور گیس کے بغیر ٹھیک ہی جارہا ہے۔ اور لگتا ہے رہتی دنیا تک ایسے ہی چلتا رہے گا

والسلام
میری کرسمس
خدا حافظ

آپ کا
عامر راہداری

 

Views All Time
Views All Time
618
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: