Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

خرم زکی پہ برستے تیر اور شکستہ ڈھال – عامر حسینی

by اکتوبر 23, 2016 کالم
خرم زکی پہ برستے تیر اور شکستہ ڈھال – عامر حسینی
Print Friendly, PDF & Email

بہت سے دوستوں نے مجھے فیس بک پہ بنے ایک پیج "رسم شبیری ” کی ایک پوسٹ کا لنک ارسال کیا اور ایک دوست نے سکرین شاٹ بھی بھیجے، میں نے پوسٹ پڑھ لی اور اس قدر بکواس اور غیر مربوط باتوں پہ مشتمل یہ پوسٹ تھی کہ دل ہی نہیں کرتا تھا کہ اس پوسٹ کا کوئی جواب تحریر کروں۔پھر میں خرم زکی کی لاش پہ برسنے والے ان علامتی تیروں کے آگے ڈھال کرنے سے اس لئے بھی گریزاں تھا کہ کئی ہفتے گزر جانے کے بعد بھی کراچی کے دوستوں نے مجھے یہ خوشخبری نہیں سنائی کہ وہ سب اپنے اختلافات کو پس پردہ ڈال کر ایک مشاورتی اجلاس بلاچکے اور سید خرم زکی قتل کیس کی فائل کو کھلوانے کے لئے انھوں نے ایک مشترکہ کمیٹی بنالی ہے جو اس کیس کو کھولنے کے حوالے سے حکومت پہ دباؤ بڑھانے کے لئے تمام دستیاب راستے اختیار کرے گی۔لیکن جب "رسم شبیری ” والوں کی جانب سے شور بڑھتا ہی گیا اور ان کی جانب سے خرم زکی کی فکر پہ تہمتوں اور بہتانوں کا سلسلہ ترقی پکڑ گیا تو مرے لئے یہ لازم ہوگیا کہ میں جواب میں کچھ لکھوں ،کم از کم وہ لکھوں جس کا مجھے پتا ہے۔خرم زکی پہ سب سے بڑا الزام یہ لگا ہے کہ وہ پاکستانی فوج میں ایک کرنل رینک کا افسر تھا اور اسے ایک منصوبہ بندی کے تحت شیعہ کمیونٹی میں بھیجا گیا تھا۔یہ ایک ایسا الزام ہے جو پہلی مرتبہ اس طرح سے کھلے انداز میں لگایا گیا ہے۔تکفیری دیوبندی انتہا پسند جن سے سید خرم زکی کی باقاعدہ ایک فکری لڑائی چل رہی تھی ان کی سب سے مرکزی اور نمائندہ تنظیم سپاہ صحابہ پاکستان/ اہلسنت والجماعت اور اس کا ایک اور فکری بازو لال مسجد بریگیڈ جامعہ حفصہ والے اور کراچی میں دیوبندی مدارس میں سب سے طاقتور حمایتی آواز کا حامل مدرسہ جامعہ بنوریہ کراچی سے وابستگان کے سوشل ميڈیا پہ جو پیچز بنے ہوئے ہیں، ان سب کی جانب سے تواتر سے سید خرم زکی پہ یہ الزام عائد کیا جاتا تھا کہ وہ پاکستان کے اندر ایرانی پراکسی کا ایک اہم حصّہ ہیں۔اور ان پہ ایران سے فنڈز لینے کا الزام بھی لگتا تھا۔لیکن ان تکفیری دیوبندی پروپيگنڈا پیجز نے سید خرم زکی پہ یہ الزام عائد نہیں کیا تھا کہ وہ پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ کا حصّہ ہیں اور ان کی جانب سے کسی خاص مشن پہ فائز گئے گئے ہیں
سید خرم زکی سے جب میں ملا تو ان کی وفات تک مرا ان سے تعلق تین سال بنتا ہے۔ان تین سالوں میں ہم پانچ مرتبہ ملے اور ایک مرتبہ میں نے کئی دن اور راتیں ان کے ساتھ گزاریں۔سید خرم زکی کے ساتھ اس تین سالہ تعلق میں، میں جب ان سے بات چیت میں آیا تو یہ وہ دور تھا جب جنرل مشرف رخصت ہوچکے تھے اور جنرل کیانی آچکے تھے۔ان دنوں شیعہ نسل کشی اپنے عروج پہ پہنچ چکی تھی، تحریک طالبان پاکستان بہت مضبوط ہوکر سامنے آگئی تھی اور سپاہ صحابہ پاکستان اہلسنت والجماعت کے نام سے کام دوبارہ شروع کرچکی تھی۔پاکستان کی سیکورٹی پالیسی ، خارجہ پالیسی میں ملٹری اسٹبلشمنٹ کا وژن(اگر اسے وژن کہا جاسکے تو )اگر اس زمانے میں کوئی ابھر کر سامنے آرہا تھا تو وہ بہت کھلے انداز میں تحریک طالبان افغانستان کو اپنے تزویراتی اثاثے کے طور پہ قائم دائم رکھنے، کشمیر میں غیر فعال ہوگئی جہادی پالیسی کو دوبارہ سے فعال کرنے کی جانب حرکت کرنے ، اس حوالے سے جماعت دعوۃ کے ساتھ ساتھ جیش محمد کو پھر سے کام کھلے عام کرنے کے سگنل دینے کی طرف جارہا تھا۔جنرل کیانی کے ساتھ دیوبند کی جہادی لابی کے رشتوں کی مضبوطی کے آثار اس وقت کھلنا شروع ہوئے جب جی ایچ کیو پہ حملہ ہوا اور جی ایچ کیو کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہونے والوں سے مذاکرات کرنے کے لئے طاہر اشرفی ، ملک اسحاق اور محمد احمد لدھیانوی کو کیانی صاحب کے خصوصی طیارے میں جی ایچ کیو لایا گیا جس کی تفصیل کارلوٹاگیل امریکی صحافی نے اپنی کتاب ” رانگ اینمی "میں دی ہے۔جنرل کیانی نے اپنے تئیں فوج کے امیج کو جو نقصان مشرف دور میں پہنچا تھا اس کی بحالی کے لئے ایک مربوط اور منظم کوشش شروع کی۔اس پروجیکٹ کے تحت ملٹری اسٹبلشمنٹ نے اپنی جہادی پراکسیز اور دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں میں اپنی لابی کو چھپانے کے لئے کئی لبرل چہروں کو بھی ہائر کرلیا۔اس زمانے میں کئی اہم لبرل ڈیموکریٹک چہرے جنرل کیانی کے خاص قریب ہوئے اور اسی زمانے میں آئی ایس پی آر کی جانب سے کئی نامور لبرل صحافیوں کو اپنے بہت قریب کرلیاگیا جن میں سے ایک نام سیرل المیڈا کا بھی تھا۔سید خرم زکی سے جب بھی مری بات چیت ہوئی تو وہ اس بات پہ زور دیتے نظر آئے کہ پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ کے بارے میں یہ کہنا کہ اس نے دیوبندی اور وہابی جہادی نیٹ ورک سے اپنا رشتہ ناطہ توڑ لیا غلط ہے اور پاکستانی ملٹری اسٹبلشمنٹ نے غیر موافق عالمی فضاء کو دیکھتے ہوئے اسے کیموفلاج کیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ خرم زکی پاکستان میں خود کو تزویراتی گہرائی کی پالیسیوں اور ملٹری اسٹبلشمنٹ کے خلاف مدارالمہام کہلوانے والے لبرل اشراف میں سے ایک سیکشن کو کمرشل لبرل مافیا قرار دیتے تھے اور یہ ظاہر ہے وہ اس میں اکیلے نہ تھے۔یہ لبرل کمرشل مافیا وہ تھا جو مسلم لیگ نواز اور میاں محمد نواز شریف اور ان کے کئی ایک ساتھیوں کو اینٹی اسٹبلشمنٹ اور لبرل بناکر پیش کررہا تھا۔لیکن سید خرم زکی کا مؤقف یہ تھا کہ سعودی عرب ، تکفیری و غیر تکفیری نام نہاد جہادی دیوبندیوں اور غیر مقلدوں سے رشتے ناطوں اور ان کی پاکستان کے اندر شیعہ نسل کشی کے باب میں ، صوفی سنیوں ، کرسچن ، احمدیوں اور ہندوؤں پہ حملوں کے ذمہ داران سے تعلقات کے باب میں رویوں اور پالیسی میں ملٹری اسٹبلشمنٹ سے کوئی جوہری اختلاف موجود نہیں ہے۔اس لئے وہ جہادی اور تکفیری لابی کو عسکری ، عدالتی اور سیاسی اسٹبلشمنٹ کے اندر ایک مضبوط حالت میں دیکھتے تھے۔ان کو میں نے ایک دن بھی افغان طالبان ، حقانی نیٹ ورک ، کشمیری جہاد بیسڈ دیوبندی و سلفی گروپوں کو تکفیری دیوبندی دہشت گردوں سے الگ کرکے دیکھتے ہوئے نہیں پایا اور نہ ہی سید خرم زکی کو میں نے ایک دن بھی تزویراتی گہرائی کی پالیسی کو اچھی نظر سے دیکھتے ہوئے پایا۔اور جو آدمی تزویراتی گہرائی کے فلسفے کو سرے سے مسترد کرتا ہو اور وہ کیسے ملٹری اسٹبلشمنٹ کا پیارا ہوسکتا ہے۔پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ ، سیاسی و عدالتی و صحافتی اسٹبلشمنٹ سے لے کر امریکی سامراجی اسٹبلشمنٹ کے اندر شیعہ کمیونٹی کے حوالے سے اگر کوئی حکمت عملی ترتیب پاتی رہی ہے تو اس کا سرد جنگ کے زمانے سے لیکر پوسٹ کولڈ وار تک اور بعد میں مابعد افغانستان حملے کے دور سے لیکر ابتک یہ فوکس ضرور رہا ہے کہ پاکستان ميں شیعہ کمیونٹی کے اندر سامراجی پالیسیوں کے خلاف بڑی ریڈیکل مزاحمت ابھر کر سامنے نہ آئے۔اور پاکستانی ملٹری اسٹبلشمنٹ ہو کہ سعودی حامی سیاسی و عدالتی و صحافتی اسٹبلشمنٹ ہو اس کا مقصود یہ رہا کہ پاکستان کے اندر شیعہ۔سنّی یک جہتی کسی صورت پروان نہ چڑھے اور اس کا فوکس پاکستان کے اندر جاری سعودائزیشن پلس دیوبندائزیشن کا پروسس نہ بن جائے اور وہ اس کے خلاف منظم نہ ہوجائیں۔سید خرم زکی کا وژن اگر کوئی تھا تو مرے حساب سے وہ یہ تھا کہ اس ملک کے شیعہ، صوفی سنّی ، غیر تکفیری اعتدال پسند دیوبندی ، سلفی ، کرسچن ، احمدی ، ہندؤ اور حقیقی لبرل و لیفٹ فورسز تکفیری فاشزم اور اس ملک کو سعودائزیشن کی جانب دھکیلنے والی فورسز کے خلاف ایک مشترکہ فرنٹ کی تعمیر کی جائے۔اور یہ ایک ایسی تحریک کی تعمیر کرے جو اس ملک کے منتخب و غیر منتخب اداروں کو پرائیوٹ جہاد سازی اور اس کے جملہ ہمدردوں اور سہولت کاروں کی سرپرستی نہ کرنے پہ مجبور کردے۔پاکستان نہ تو امریکیوں کا آلہ کار بنے اور نہ ہی وہ سعودی عرب کے بغل بچہ کا کردار ادا کرے۔سید خرم زکی پاکستان کو ایران کی طفیلی ریاست بنانے کے حق میں بھی نہ تھے اور وہ ایران سے برادرانہ تعلقات استوار کرنے کے حق میں تھے۔اب سوال یہ جنم لیتا ہے کہ کیا سید خرم زکی کا یہ وژن اس ملک کی ملٹری اسٹبلشمنٹ کے وژن سے کوئی مماثلت رکھتا تھا؟سید خرم زکی کی بلوچستان کے ایشو پہ چند ایک ہی تحریریں موجود ہیں۔ خرم زکی پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ کی جانب سے بلوچستان میں ریاست سے لڑنے والے بلوچ گوریلوں اور ریاست کے ترقیاتی ماڈل سے اختلاف کرنے والوں سے نمٹنے کی پالیسی میں نام نہاد جہادیوں کو اپنی پراکسی کے طور پہ استعمال کرنے کی شدید مخالفت کررہا تھا اور اس نے شیعہ ہزارہ نسل کشی کی زمہ داری صرف ایک سویلین حکومت پہ ہی نہیں ڈالی تھی بلکہ وہ اس کی زمہ دار ملٹری اسٹبلشمنٹ کی پالیسی کو بھی قرار دیتا تھا۔بلکہ اس کا خیال یہ تھا کہ بلوچستان میں طاقت کا اصل منبع ہی کور کمانڈر سدرن پاور تھا۔اور اس نے بلوچستان کے ایشو پہ انسرجنسی پہ بات کرتے ہوئے کبھی بھی شیعہ ہزارہ نسل کشی کو راء کی سازش قرار نہیں دیا تھا۔اور وہ اس کے پیچھے تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کے ہاتھ دیکھتا تھا۔خرم زکی نے کراچی آپریشن بارے بھی آخری دنوں میں دو ٹوک الفاظ میں یہ کہا تھا کہ یہ ایک آئی واش کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔اور اس کا ہدف دہشت گردی کے خاتمے کی بجائے سیاسی قوتوں کو کمزور کرنا ہے۔سید خرم زکی نے پاکستان تحریک انصاف کی خیبرپختون خوا میں حکومت کی پالیسیوں پہ بھی سخت تنقید کی اور اپنی زندگی کے آخری مہینوں میں اس نے نیشنل ایکشن پلان بنانے والی فوجی اور سیاسی اسٹبلشمنٹ دونوں کو اپنی تنقید کی زد میں رکھا ہوا تھا۔اس سے صاف اندازہ ہوسکتا ہے کہ سید خرم زکی کا وژن کسی بھی لحاظ سے اس ملک کی عسکری اسٹبلشمنٹ کے وژن سے بالکل متضاد بلکہ ٹکراؤ میں کھڑا تھا اور اس وژن کے حامل آدمی کو ملٹری اسٹبلشمنٹ کا آدمی کوئی پاگل شخص ہی قرار دے گا۔اس پہ یہ الزام لگایا گیا ہے کہ وہ شیعہ کمیونٹی کو تقسیم کرنے کے ایجنڈے پہ کاربند تھا تو میں اس الزام لگانے والی کی عقل کے سلب ہوجانے کا حکم لگاؤں تو بے جا نہ ہوگا۔وہ تو اس ملک کی سب مذہبی و نسلی کمیونٹیز کے درمیان بھائی چارے کی پالیسی پہ کاربند تھا۔اور ان کو بانٹنے والی تکفیری لابی کے خلاف شمشیر برہنہ بنا ہوا تھا۔اور سب سے بڑھ کر بات یہ کہ سید خرم زکی سازشوں سے تکفیری فاشزم کے خاتمے کی لڑائی نہیں لڑرہا تھا اور نہ ہی وہ کسی خفیہ ہاتھ اور خفیہ فنڈنگ کے بل بوتے پہ تکفیری فاشزم کے خلاف کسی فنڈڈ اور سپانسرڈ جعلی تحریک کو پیدا کرنے کا خواہاں تھا بلکہ وہ ایک حقیقی عوامی جڑیں رکھنے والی سول سوسائٹی کی اینٹی تکفیری موومنٹ کے قیام کا خواہش مند تھا اور اسی کے لئے بھاگ دوڑ کررہا تھا۔وہ مرد آزاد تھا کسی کے پے رول پہ نہیں تھا اور اسی لئے اس کے قتل کیس کی فائل تین ماہ بعد ہی سردخانے میں پھینک دی گئی۔

Views All Time
Views All Time
1604
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   دولہے کی شیروانی کی کچی سلائی
Previous
Next

One commentcomments

  1. raza mehdi baqari

    excellent narrative.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: