سامراجی فیمن ازم (دوسرا حصہ) – عامر حسینی

Print Friendly, PDF & Email

aamir-hussaini-new-1لیکن 90ء کی دھائی میں ہی این جی اوز میں سے نصف سے زائد این جی اوز تین ایشوز پہ بہت زیادہ فوکس کئے ہوئے تھیں—- ویمن رائٹس ، ہیومن رائٹس اور ماحولیات-ہیومن رائٹس پہ یہ فوکس کوئی حادثاتی امر نہیں تھا۔یہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد وجود میں آیا اور اس کے جنم ، پیدائش نو اور ہیومن ٹیرین ازم کو عراق ،صومالیہ سے لیکر یوگوسلاویہ تک میں سامراجی مداخلتوں کے جواز فراہم کرنے کے لئے استعمال کیا گیا تھا،جیسے شام میں ، یمن میں سامراجی مداخلتوں کے لئے اسی کو بنیاد بنایا گیا-اس تناظر میں ہیومن ٹیرین این جی اوز اور ہیومن رائٹس گروپوں نے کانفلکٹ کے دوران نیوٹرل رہنے کا ڈھونگ رچانا چھوڑ دیا اور اور مغربی طاقتوں سے فوجی مداخلتوں کی درخواستیں شروع کردیں،بلکہ حملہ آوری اور قبضہ گیری میں شراکت و تعاون بھی شروع کردیا-1990ء میں صومالیہ میں قحط کے خاتمے کے لئے سی اے آر ای نے یو این کی مداخلت کی درخواست کی-ورلڈ وژن اور ہیومن رائٹس واچ نے سربینکا میں مسلمانوں کو بچانے کے لئے فوجی مداخلت کی اپیل کی،آکسفیم نے سربیا کے حلاف کوسوو میں نسلی صفائی روکنے کے لئے نیٹو کو فوجی حملہ کرنے کو کہا اور ایمنسٹی یو ایس اے نے افغانستان میں نیٹو کو قبضہ جاری رکھنے کو کہا-امریکہ این جی اوز کے ملٹری پلاننگ، آپریشن اور پوسٹ وار قبضے کے حق میں ہونے پہ خوش تھا-کولن پاول نے افغانستان میں این جی اوز کے بارے میں کہا تھا: ” وہ ہمارے لئے کئی گناہ طاقتور ثابت ہوئی ہیں اور ہماری کومبٹ ٹیم کا وہ ایک اہم جزو ہیں-فوجی فتوحات کے بعد ایڈ ایجنسز نے ریاست کے کام سنبھال لئے جیسے ہیلتھ ، ایجوکیشن اور ویلفئیر سسٹم کا چلانا –جیسے ہم شام میں رجیم تبدیلی پروجیکٹ میں این جی اوز کے کردار کو ویکی لیکس کے زریعے سے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مراسلوں کے سامنے آنے سے بہت اچھی طرح پہچان چکے ہیں-اور وہاں وائٹ ہلمیٹ کا جو پٹھو کردار سامنے آرہا ہے، اس سے بھی سامراجی پروجیکٹ میں این جی اوز کے کردار بار بخوبی آگاہی ملتی ہے-این جی اوز کی کشش وار آن ٹیرر ، نیو لبرل ازم میں میں اس لئے ہے وہ سوشل فنکشن کی نجکاری کرتے ہیں اور کئی سوشل ری پروڈکشن ضرورتوں کو ایسے اداروں کو دے ڈالتے ہیں جن کو کارپوریشنز اور طاقت ور ریاستیں آسانی سے کنٹرول کرلیتی ہیں کیونکہ این جی اوز فنڈ کے لئے کئی ڈونرز پہ انحصار کرتی ہیں اور ان کو بیوروکریٹک(افسر شاہی ) طریقے سے ایسے منظم کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ڈونرز کے کنٹرول سے باہر نہ ہوں،چاہے وہ ڈونر حکومت ہو یا کوئی نجی ادارہ-اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ این جی اوز کو سماجی تحریکوں سے کم خطرناک خیال کیا جاتا ہے، کیونکہ سماجی طریقوں کو اتنا آسانی سے کنٹرول نہیں کیا جاسکتا-

فیمنسٹ اور ویمن این جی اوز اسی عام تناظر میں آپریٹ کرتی ہیں-اور مزید ان کی صورت گری میکسیکو سٹی ، نیروبی اور بیجنگ میں یو این کی ویمن کانفرنسز کے زریعے سے کی گئی-1995ء میں یہ بیجنگ ویمن کانفرنس تھی جس میں ہیلری کلنٹن نے اپنی مشہور زمانہ تقریر میں کہا تھا ” عورتوں کے حقوق ہیومن رائٹس ہیں ” اور اس نے ایسی این جی اوز کو عالمی توجہ فراہم کی تھی اور اسی نے فیمنسٹ ایکٹوازم کو فرنٹ فٹ پہ لاکھڑا کیا تھا-

سبائن لینگ جوکہ جے ایس آئی ایس میں انٹرنیشنل اینڈ یوروپئن سٹڈیز کی پروفیسر اور ڈیپارٹمنٹ آف پولیٹکل سائنس اینڈ جینڈر ،ویمن اینڈ سیکس چوئلیٹی سٹڈیز میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں اور ان کام کا وکس سول سوسائٹی ،نان گورنمنٹ سیکٹر اور جینڈر پالٹیکس ہے، کا کہنا ہے کہ یہ پروسس اصل میں فیمن ازم کی این جی او آئزیشن کا پروسس ہے اور اس کا مطلب ان کے ںزدیک نہ صرف 1990ء اور 2000ء کے دوران فیمنسٹ این جی اوز کی بے پناہ گروتھ ہے، بلکہ اس سے ان کی مراد ایسا فیمنسٹ ایکٹوازم کا سماجی اور سیاسی تحریکوں میں شرکت سے رخ بدل کر این جی اوز کی ایڈوکیسی اور ایکشن کی صورت اختیار کرلینا ہے-سبائن کا کہنا یہ ہے سامراجی فیمن ازم اس شفٹ کی توجیح یہ کہہ کر پیش کرتا ہے کہ جہاں سماجی سپورٹ بالکل نہیں ہے یا تھوڑی ہے وہاں این جی اوز بہت زیادہ ضروری سروسز/ خدمات فراہم کرتی ہیں

پاکستان کے اندر بھی ہم اس شفٹ کو دیکھ سکتے ہیں، آج کے پاکستان میں فیمنسٹ ایکٹوازم کی ایک سماجی تحریک کی شکل میں موجودگی کی تلاش ہمیں ناکامی سے دوچار کرسکتی ہے لیکن یہاں پہ فیمنسٹ ایکٹوازم ہمیں این جی اوز کی ایڈوکیسی اور ایکشن کی شکل میں ہی نظر آرہا ہے اور اگر کوئی سماجی تحریک کھڑی بھی ہو تو یہ این جی اوز ان میں جب شرکت کرتی ہیں تو ان کی شرکت کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور یہ سماجی تحریک میں کھڑے ہونے والوں کو غیر سرگرم کرنے کا کام کرتی نظر آتی ہیں-اور ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ماضی کے کئی بڑے فیمنسٹ سماجی و سیاسی ایکٹوسٹ اب این جی اوز میں جاکر ٹھس ہوگئے ہیں-لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ این جی اوز کوئی یہ نوعی/مونو لتھ فنومنا ہے-کچھ این جی اوز بہت اچھا کام بھی کررہی ہیں-لیکن یہ دیکھنا بھی بہت اہم ہے بہترین فنڈڈ این جی اوز اور زیادہ طاقتور این جی اوز ہر طرح کی کارپوریشنز اور انٹرنیشنل ایجنسیز کے ساتھ بندھی ہوئی ہیں،اسی لئے یہ اکثر ڈھے جاتی ہیں اور کسی بھی تحریکی سرگرمی کو لبرل رائٹس بیسڈ اپروچ کے حق میں غیر متحرک کردیتی ہیں اور سرمایہ دارانہ سرگرمی کے حق میں اسے ختم کرنے یا اس کو اس کے مطابق کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور یہ این جی اوز ایمپائر اور سرمایہ کے جواز کھونے والے کسی بھی اقدام ساتھ چلنے کو تیار نہیں ہوتیں کیونکہ ان کا ڈیزائن اس کی اجازت نہیں دیتی

پاکستان کی مثال اس میں ایک مرتبہ پھر دی جاسکتی ہے-کراچی سمیت پاکستان کے تمام اربن سنٹرز میں بڑی بڑی این جی اوز کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے اور 90ء کی دھائی کی بعد سے اس میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے اور ان بڑی این جی اوز کے ریسورس سنٹرز، ٹاسک فورسز اور کرائے پہ انگیج کی گئی چھوٹی این جی اوز کے دفاتر ہر چھوٹے بڑے شہر مین موجود ہیں لیکن اس اتنے بڑے نیٹ ورک کی موجودگی کا نتیجہ پاکستان میں عورتوں کی تحریک کا ڈی موبلائز ہونا ہے اور یہ تحریک اپنے سیاسی چہرے سے تو محروم ہوئی ہے، ساتھ ہی اس کے گراس روٹس بھی نظر نہیں آتے-اور ایک تاثر اور بھی شدید ہوا ہے کہ فیمن ازم اپر مڈل کلاس اور پروفیشنل مڈل کلاس تک محدود نظر آتا ہے اور اس کی اپیل ورکنگ کلاس ویمن میں نظر نہیں آتی، این جی اوز سماجی تحریکوں کو غیر متحرک کرکے صورت حال کو اور بدتر بناتی ہیں اور اکثر سرگرمیاں این جی اوز ایکٹویٹی ہی چوس لیتی ہیں

کامریڈ دیپا کمار فیمنسٹ ایکٹوازم مین بنیادی شفٹ کے بارے میں ایک اور رجحان کی نشاندہی کرتی ہیں اور وہ اسے "کمرشلائزیشن آف ہیومن رائٹس ” کا نام دیتی ہیں-پاکستان کے اندر کئی این جی اوز انٹرنیشنل این جی اوز کی فنڈنگ سے "بیوٹی ود آؤٹ باڈرز ” پروجیکٹ چلارہی ہیں اور اس پروجیکٹ کا بنیادی تھیم پاکستانی عورتوں کو بیوٹی فیکشن کورسز کے وریعے سے آزادی حاصل کرنے کا راستہ دکھانا ہے اور اس مين فنڈنگ کا بنیادی سورس کاسمیٹک کمپنیاں ہیں-اور اس کا اصل مقصد منافع میں اضافہ اور کاسمیٹک کی منڈی میں وسعت لیکر لانا ہےاور ایسا ہی ایک کمپئن افغانستان میں بھی چلی تھی

عورتوں کو بیوٹی سکلز کی فراہمی کی منطق یہ ہے کہ وہ ان کو سیکھنے کے بعد اپنے بیوٹی سیلون چلاسکیں،اور اس کی بنیاد ڈویلپمنٹ/ماڈرنائزیشن اپروچ پہ ہے جو کہ عورتوں کو انٹرپریرنیر بناکر امپاور کرنے کی بات کرتی ہےاور افراد کو تربیت دیکر ان کو اپنا بزنس چلانے کے قابل بنانے کا یہ ماڈرنائزیشن فریم ورک دنیا بھر کی این جی اوز کے غالب فریم ورک میں لبریشن کا ایک طریقہ کار ہے اور اسی وجہ سے ” ہندوستان کی بیٹی ” جیسی ڈاکومنٹری کے لئے جیوتی سنگھ ایک پوسٹر گرل بن جاتی ہے

Views All Time
Views All Time
426
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   لبرل اشراف مقدس گائے نہيں ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: