Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ہیپی برتھ ڈے ام رباب | عامر حسینی

by جولائی 12, 2017 کالم
ہیپی برتھ ڈے ام رباب | عامر حسینی
Print Friendly, PDF & Email

کھلتی فضائیں ، کھلتی گھٹائیں ، سر پہ نیا ہے آسماں
چاروں دشائیں ہنس کے بلائیں
کیوں سب ہوئے ہیں مہرباں
آج بارہ جولائی ہے، یونہی عام سا ایک گرم دن ہے مگر کسی کے لئے یہ بہت خاص دن ہے اور اس کے لئے خاص دن ہے تو میرے لئے بھی یہ خاص دن بن گیا ہے۔مجھے خاص اور عام دن اکثر یاد نہیں رہتے اور بھول جاتا ہوں لیکن یہ دن بار بار سکرین پہ جگمگاتا رہا کیونکہ مجھے ہر بار موبائل کھولنے پہ بتایا جاتا تھا کہ 12 جولائی آنے والی ہے اور جس کے لئے خاص دن ہے اسے بتائیں کہ آپ اس کے حوالے سے سوچ رہے ہیں۔آج جیسے ہی تاریخ بدلی تو الارم بجنے لگا اور مجھے بار بار کاشن دینے لگا کہ وہ دن آگیا ہے ۔میں جس کا رزق دینے والا کام رات کے دس بجے شروع اور صبح کے چھے بجے ختم ہوتا ہے لکھ لکھ کر، ایڈٹ کرکے ، اور ترتیب دیتے دیتے بری طرح سے تھک چکا تھا اور ابھی مجھے اس بیگانی محنت سے نجات پانے میں چھے گھنٹے اور لگنے تھے۔دل تو کررہا تھا سوجاؤں ،مگر یہ محنت بیچنے کی مجبوری مرضی سے کہاں سونے اور کہاں آرام کرنے دیتی ہے،سو لگارہا۔پھر پتا ہی نہ چلا کہ کب کرسی پہ ٹیک لگائے لگائے میں سوگیا۔اور سہ پہر آنکھ کھلی تو بھاگ دوڑ پھر سامنے تھی۔کچھ اسائنمٹ نمٹانے کے لئے کئی دنوں سے گھر سے باہر ہوں اور اب بہت دور کا سفر بھی لاحق تھا۔21 گھنٹے لگے ہیں وہاں پہنچنے میں اور تب جاکر بھی گوہر مقصود ملتا ہے کہ نہیں کچھ پتا نہیں۔ابھی راستے میں ایک ویرانہ میسر آیا اور سگنل بھی کمال کے ہیں تو سوچا اس فرصت کو غنیمت جانوں اور لکھ ڈالوں جو من میں آتا ہے۔

بیک گراؤنڈ میں ، میں نے ڈھلتے دن کی مناسبت سے گایا جانے والا کافی راگ لگایا ہوا ہے اور اس راگ کا ہلکا ہلکا سا رومان بھرا درد مجھے اپنے دل میں انڈیلتا محسوس ہورہا ہے۔رباب اور ستار کے تار میرے دل کی دھڑکنوں کے ساتھ ایک مکمل آہنگ بنائے ہوئے ہیں۔میرے دونوں طرف بلند و بالا پہاڑ ہیں اور میرے سنگ اور ساتھ ہمسفر کہیں گم ہوگیا ہے شاید وہ جانتا ہے کہ مجھے تھوڑی تنہائی درکار ہے اور اب میں یہاں اپنا لیپ ٹاپ کھولے سخت سی سنگلاح زمین پہ بیٹھا ہوں۔اور سوچ رہا ہوں اس کو اس خاص دن پہ کیسے وہ جیسے انگریزی میں بیسٹ وشز ہیں دوں اور اسے بتاؤں کہ کیسے ہماری دوستی کی جڑیں زمین کی اتھاہ گہرائیوں میں دفن اور اس کی شاخیں آسمان کو چھوتی ہیں۔میں اس کی تحریریں خاموشی سے پڑھتا تھا اور میں اس کے بارے میں جو بھی جانتا تھا وہ بس وہی تھا جو مجھے اس کی تحریروں میں نظر آتا تھا اور کبھی میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن آئے گا کہ ہم دوست ہوں گے اور وہ ہستی بھی میرے لکھے شبدوں کی دیوانی نکل آئے گی اور یوں ہم دوستی کے بلند ترین آکاش کو چھولیں گے۔

میں جب کبھی یادوں کے ریلے میں بہہ جاتا اور کراچی یونیورسٹی اور اس کے فلاسفی ڈیپارٹمنٹ کی عمارت اور اس کے اردگرد ماحول کا نقشہ کھینچتا اور اس دور کا تذکرہ کرتا جب اس یونیورسٹی کے اندر باہر سے آنے والے فکری حبس نے پوری طرح سے ڈیرے نہیں لگائے تھے اور میں پرانی محبتوں کے آسیب اور پرچھائیوں کو جیتے جاگتے وجود اور چلتے پھرتے گوشت پوست کے انسانوں میں بدلنے کی کوشش کاغذ پہ کررہا ہوتا تھا تو وہ بھی اپنی روح کو وہیں بھٹکتے دیکھ رہی ہوتی تھی۔اور اپنی اس روح کو اپنے سے بہت پرے دیکھا کرتی تھی۔اور ہم اپنے اپنے محبس وجود کو ان روحوں کے پاس لیجانے کی کوشش کررہے ہوتے تھے۔لفظ ایسا منتر ہوتے ہیں جو انسانوں کو اپنے ڈپریشن، بائی پولر ڈس آڈر اور حواس باختگی کو تخلیق میں بدلنے کا کام کرتے ہیں اور ہمیشہ کے لئے نہ سہی کم از کم ایک لمبے عرصے تک خودکشی کے درندے میں کشش کم کردیتے ہیں اور بہت ہی انتہائی قدم اٹھانے سے روک دیتے ہیں۔اور جن کے پاس لفظوں کا منتر نہ ہوں رقص کا آرٹ ہو یا پھر گلے میں بھگوان ہو وہ اس کے سہارے اپنے تمام تر دکھوں ، مصائب اور دباؤ کو تخلیق میں ڈھالنے ہنر سیکھ لیتے ہیں۔دکھوں اور مصائب کے اندر سے جہان انبساط کیسے وجود میں آتا ہے اس کے براہ راست مظاہرے میں دیکھ ہی چکا تھا اور زندگی کے بے ڈھنگے پن سے روشنی، دوستی اور ان سب سے توازن برآمد کرلینا بھی بڑا فن ہوا کرتا ہے۔یہ سب میں کہیں اچھے طریقے سے اپنے اس دوست سے سیکھا ہے جو آج کے دن پیدا ہوئی تھی۔لاہور میں اس کا جنم ہوا تھا اور ایک ایسے گھر وہ پیدا ہوئی جس میں قدرت نے ‘خلافت و امامت ‘ دونوں کو اکٹھا کردیا تھا اور یہ ‘منصوص و جمہور ‘ کا امتزاج تھا اس نے ہی اس کی تربیت کی تھی۔پدر اور مادر دونوں ہی آئیڈیل ہوں اور سینت سینت کر زندگی کی تعمیر کریں یہ بہت کم ہوتا ہے اور دونوں ہی آپ کو جینے کا پراعتماد ڈھنگ بخش دیں یہ سونے پہ سہاگہ ہوتا ہے۔اور جب ایسے جینے کا اعتماد ملتا ہے اور آگے آپ فلسفے کی دنیا میں گم ہوتے ہیں تو ‘رومان ‘ بھی ایک فکری جہت لئے آتا ہے اور آپ اس شئے کی تلاش کرتے ہیں جو سفلی دنیا کی سفلی چیزوں میں ملتا نہیں ہے اور ایسے میں اگر آپ ڈپریس ہوجائیں اور بائی پولر ڈس آڈر آپ کو شکار کرنے لگے تو حیرانی نہیں ہونی چاہئیے۔میں اکثر کہتا ہوں کہ ہمارے جیسے سماج میں جو بیک وقت ارتقاء کی کئی آگے اور پیچھے کی گھڑیوں میں بیک وقت سانس لے رہا ہے اس میں وقت کے انتہائی جدید ترین دور میں تربیت پائے گئے ‘مردوں’ کو سانس لینا مشکل کردیتا ہے تو ایسی ‘عورت’ کو کیسے ‘ سانس ‘ لینے دے گا جو ارتقاء میں بچھڑے ہوئے سماج میں اپنے ہونے پہ اصرار کرتے ہوئے آگے کی بات کرتی ہو۔ویسے سچ پوچھئے تو مجھے ایسے سارے مرد اور عورت چلتے پھرتے آسیب اور پرچھائیں لگتے ہیں اور ماضی میں جب یہ سوشل میڈیا نہیں تھا تو ان آسیب اور پرچھائیوں کو جلدی سے باہم مل بیٹھنے اور اپنی ‘ذات کا دکھ ‘ ایک دوسرے سے بیان کرنے کا کوئی راستا ہی نہیں نکل پاتا تھا۔لیکن آج کسی حد تک یہ سارے آسیب اور پرچھائیں باہم مل بیٹھتے ہیں اور ایک دوسرے کو اپنی غائب روحوں کا نوحہ سناکر اپنا کتھارسس کرنے کے قابل ہیں۔ویسے یہ فاصلے جو زمانی و مکانی دونوں طرح کے ہیں اور ایک اور ہی ومان و مکان ہے جو ان کے درمیان پیدا ہوجاتا ہے اور اس کے لئے مل بیٹھنا شرط نہیں ہوتا۔پھر بھی کبھی کبھی زمانی و مکانی فاصلوں کو پاٹنا برا نہیں ہوتا۔ضروری نہیں ڈولمین ہو اور وہاں کی خنک فضاء میں بیٹھا جائے۔یہ قبرستان میں بنا وہ گیسٹ ہاؤس بھی ہوسکتا ہے جس کے کمروں میں بجلی اس لئے نہیں جاتی کہ وہاں بجلی پڑوس میں موجود ایک ہسپتال کے مردہ خانے سے لی جارہی ہوتی ہے اور مردہ کھانے ميں وہ کنگلے پڑے آرام کررہے ہوتے ہیں جن کو زندگی میں تو ایسے ٹھنڈے ٹھار صندوق میسر نہیں رہے تھے۔(ارون دھتی رائے ! تم سے صد معذرت کہ تمہارے ناول کے ایک باب ‘خوابگاہ ‘ کی ایک سچوئشن میں نے یہاں فٹ کردی ہے کیونکہ مجھے کوئی اور جملہ اس کیفیت کو بیان کرنے کے لئے میسر نہیں تھا جو اس وقت مجھ پہ طاری ہے۔نجانے مجھے کیوں لگ رہا ہے کہ تم نے ہیجڑوں کا جو المیہ اپنے ناول میں بیان کیا ہے وہ یہاں پسماندہ سماج کے اندر ہر خرد افروز اور ہر آگے کی سوچ رکھنے والے انسان کا ہے ۔ہر مرد اور عورت کا ہے جس نے سٹیٹس کو کے ساتھ مصالحت کرنے سے انکار کیا ہے اور اپنے آپ کو بھوت اور جنوں سے بھی زیادہ وحشت ناک بنالیا ہے)
میں آج تمہاری سالگرہ پہ ‘وشز’ تخلیق کرنے کا ارادہ باندھے بیٹھا تھا لیکن یہ بولان کی سرزمین آج کل ‘وشز’ کا سواگت کرنے کو تیار ہرگز نہیں ہے۔یہاں نجانے مجھے سب کچھ ‘جبری گمشدگی ‘ کا شکار لگتا ہے اور سارے پہاڑ بہت ‘اداس ‘ نظر آتے ہیں اور دور افق پہ لالی نظر آتی ہے۔اور ‘المیوں ‘ کے اندر سے ہی کچھ کہنے اور لکھنے پہ مجبور کرتی ہے۔کٹے پھٹے اعضا،شناخت نہ ہونے والی اور مسخ شدہ لاشوں کا انبار نظروں میں پھرجاتا ہے حالانکہ یہاں دور دور تک کوئی نہیں ہے سوائے میرے، میرے لیپ ٹاپ کے، اس کے کيی بورڈ پہ متحرک میری انگلیوں اور سامنے نمودار ہوتے منتر جیسے لفظوں کے اور میرے کانوں میں لگا ہیڈ فون اور اس کے سپیکرز سے ابھرتا پیلو راگ جو اداسی کا ہے کیونکہ شام کے سائے گہرے سائے پھیلتے جارہے ہیں اور دور پہاڑوں کے پیچھے سورج ڈوبتا دکھائی دے رہا ہے۔ لیکن کچھ چیخیں مرے کانوں کے پردے پھاڑے دے رہی ہیں، کسی کی دبی دبی سسکیوں نے مجھے بہت بے چین کررکھا ہے اور وہاں جھونپڑوں کے اوپر منڈلاتے ہیلی کاپٹرز اور زمین پہ بھاری بوٹوں کی دھمک یہاں مجھے کیوں سنائی دے رہی ہے اور آگے کیا ہونے والا ہے میرے تخیل کو مہمیز لگتی جارہی ہے۔یہ کربلاءصرف ریت کے صحرا پہ بپا ہوا کرتی ہے کیا ؟ نہیں ہو یہ پہاڑوں اور ساحلوں میں آباد بستیوں میں بھی وقوع ہونے لگتی ہے اور ہم جیسوں کو بے چین رکھتی ہے۔یہ تو کاسموپولیٹن شہروں میں ‘وادی حسین ‘ بسا دیتی ہے اور کتبے سنگ مرمر کے لگا لگا کر لوگ تھکنے لگتے ہیں اور نماز برائے دفع وحشت قبر کی درخواستوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔اور کیسا ستمگر دن ہے آج کا 12 جولائی ۔۔۔۔ ایک طرف تمہیں وش کرنا ہے دوسری طرف مجھے شجاع الحسن ولد تاج الدین کا پرسہ دینا ہے اور ان کے اہل خانہ کی طرف سے مجھ کمیونسٹ سے بھی کہا گیا ہے کہ میں نماز وحشت قبر ادا کروں۔مجھے تم سے اس کا طریقہ پوچھنا تھا کہ یہ کیسے ادا کی جاتی ہے کیونکہ میں درخواست کرنے والوں کو نراش نہیں کرنا چاہتا جیسے میں نے کھڑے ہوکر غلط سمت میں انگلی اٹھارکھی تھی جب میرے دوستوں کا مجمع کوئی دعا پڑھ رہا تھا جس میں انگلی کا اشارہ ایک خاص سمت کیا جاتا ہے اور مجھے جسے بچپن میں اپنے گھر سے سکھائی جانے والی وہی چند دعائیں یاد تھیں جن کے ہاں جنازے کی تکبیریں اور عیدین کی تکبیریں بھی کم ہیں اور نماز وحشت قبر تو وہاں پڑھنے کو کبھی نہیں کہا جاتا۔لیکن انگلی کا اشارہ چاہے غلط سمت میں تھا لیکن میں نے اپنے دوستوں کا دل تو ٹوٹنے نہیں دیا نا۔آج تمہارے جنم دن پہ میں نے تمہیں ‘المیاتی وش ‘ سے بھرا یہ پیام لکھا ہے تو امید ہے تم میرے حالات و واقعات کی رعایت کرتے ہوئے مجھے اس پہ معاف رکھوگی ۔بولان میرا ساتھ نہیں چھوڑتا چاہے میں اپنے وسیب میں ہی کیوں نا ہوں،اگرچہ وسیب میں بھی دکھوں کی کمی نہیں ہے اور شناخت کا بحران یہاں بھی ہے جس نے میری نثر کو مرثیہ کردیا ہے۔اور ایسے میں سہرا لکھنے بیٹھوں بھی تو لکھا نہیں جاتا۔مجھے اب کچھ کچھ سمجھ آنے لگا ہے کہ وہ ساجد، وہ عابد ، وہ زین ،وہ سجاد ہنستا کیوں نہیں تھا اور اس کے ہاں آنسوؤں کی لڑی کیوں لگی رہتی تھی۔رباب کی ماں۔۔۔۔۔۔ یہ عجب نام ہے اس کو لینے لگتا ہوں تو مجھے جلتے خیمے یاد آنے لگتے ہیں اور کسی کا چہرہ طمانچوں سے سرخ نظر آتا ہے اور ایک عورت آسمان کی طرف سر اٹھائے کہتی نظر آتی ہے ‘تو گر کیوں نہیں پڑتا’
Happy birthday Umme Rubab my dear friend and many ,many happy wishes.
خدائے ذوالجلال تمہیں سوائے غم حسین کے اور کوئی غم نہ دے
تمہارا دوست
عامر حسینی

Views All Time
Views All Time
574
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   انسانوں کی ضرورت ہے دولے شاہ کے چوہوں کی نہیں | حیدر جاوید سید
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: