Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

افسانہ-Rubbish

by مئی 19, 2017 افسانہ
افسانہ-Rubbish

یہ تحریریں کہاں بتاتی ہیں کہ ان کو لکھنے والا 103 بخار میں تپ رہا ہے اور اس کی آنکھیں سرخ ہیں جبکہ سر درد سے پھٹا جاتا ہے اور پاس رکھے موبائل کی کالنگ ٹون ہے کہ خاموش ہونے کا نام نہیں لے رہی اور ساتھ ہی ایک دوسری ونڈو پہ ایک گیت ہے کہ اس کے کانوں کے راستے اس کے سینے میں داخل ہوکر ہجر کی سلگتی آگ کو اور بھڑکانے میں لگا ہے۔۔ اور اس دل میں کیا رکھا ہے۔۔ ذرا فاصلے پہ فرش پہ ایک ننھا سا بچہ کھیل رہا ہے اور اس کی قلقاریاں مسلسل جاری ہیں اور لکھنے والا سوچتا ہے کہ کاش یہ اسی عمر میں رک جائے اور اسے عمر کے اس حصّے میں قدم رکھنے کا موقعہ نہ ملے جہاں احساس کی آگ ہر دم بھسم کرتی اور پھر دوبارہ زندہ کرتی رہتی ہے اور آدمی واپس قلقاریوں کے زمانے میں چاہنے کے باوجود بھی جا نہیں پاتا۔بھسم ہونے سے بھی احساس کی آگ ٹھنڈی پڑجانے کی منزل سے آشنا نہیں ہوپاتی اور کرب کا سفر یونہی جاری رہتا ہے۔
” کلاسیکل گیت وائلن پہ پلے کرنے سے پیسے مل رہے ہوتے تو کیا ‘نیلی پیلی ‘ فلموں میں بھدے طریقے سے جنس کی بھوک مٹانے والے سین کے بیک گراؤںڈ میوزک کے طور پہ وائلن پیس پلے کررہا ہوتا؟ اور تم خود کیا کررہے ہو؟ وہ میر صاحب جو دھن سیٹ کریں تمہارا قلم ویسا ہی رقص پیش کرنے لگتا ہے۔اور مجھے کہتے ہو کہ میں اپنے فن کی توہین کررہا ہوں۔ وائلن پلئیر دیکھنا، پتا چل جائے گا کہ بھوک کیسے نہ چاہتے ہوئے بھی بے ضمیر بنا دیتی ہے اور جذبات سلادیتی ہے”۔
یہ صدیق تھا وائلن استاد ، کمال کا وائلن نواز تھا مگر آج کل ‘ننگی فلموں’ میں ‘خصوصی مناظر ‘ میں بیک گراؤنڈ میوزک کے لئے وائلن پلے کرنے کے لئے بلایا جاتا تھا۔نجانے ‘اس وظیفہ ‘ کی ادائيگی کے سین ميں بیک گراؤنڈ میوزک کے لئے وائلن کا انتخاب کیوں کیا جاتا ہے؟
اس کا ذہن تھوڑی دیر کے لئے پراگندہ ہوا تھا اور وہ اپنے خیالات پہ خود ہی شرمندہ ہوگیا تھا۔آج کل وہ عجب کی کیفیت کا شکار تھا اور اسے لگتا تھا جیسے اس کے اندر تخلیق کے سوتے خشک ہوگئے تھے اور لفظ تو بہت تھے اس کے پاس لیکن خلاقی کہیں دور چلی گئی تھی اس سے۔وہ بھی اب اس سے ملنے نہیں آتی تھی جو کبھی اس سے کچھ نہ کچھ سننے کو بے تاب رہا کرتی تھی اور وہ اس کی توجہ پاکر مسرت سے نہال ہوجاتا تھا۔
نجانے اس نے کب اور احساس کی کس منزل میں اسے ‘صاحب ‘ کہنا شروع کردیا تھا اور جب بھی ‘درد’ کا اظہار کرنا ہوتا تو فوری اسے ‘صاحب ‘ کہنے لگتی اور انباکس میں آکر اس کو چند حرفوں کی خیرات دینا اور ایموجی سٹکرز بھیجنا بھی بند کردیتی اور کبھی کبھار اس کی لکھی کسی تحریر کے نیچے کمنٹ کرتی تو اسے ‘صاحب ‘ کہہ کر مخاطب کرتی اور پھر خاموش ہوجاتی۔مگر وہ خاموش کب ہوتی تھی۔لبوں کو بند رکھ کر اور یک گونہ خاموشی کے ساتھ عورت چاہے آپ کے سامنے ہو یا نہ ہو مگر خاموشی میں بھی آپ سے بتلانے لگتی ہے اور اس کے ہاں گلہ خاموشی کا لباس پہن کر آپ کے باطن کو بے چین کردیتا ہے اور اس طرح بات کہنے کے سلیقے سے مرد کبھی آشنا ہو ہی نہیں سکتا اسی لئے اس کے ہاں وحشت بھی ‘اجڈ پن’ کے ساتھ امڈ آتی ہے اور وہ حوصلہ کھوبیٹھتا ہے اور پھر ملال سے آگے پچھتاوے کی منزل میں پڑا جلتا رہتا ہے۔وہ بخار سے کم اور اس کے شکوے سے زیادہ جھلس رہا تھا۔
آخری بار جب وہ اسے گلوریا جینز کافی ہاؤس میں ملی تھی ،جہاں وہ اسے ہمیشہ بلایا کرتا تھا تو اس کے لبوں سے زیادہ اس کی آنکھیں کلام کررہی تھیں۔
Rubbish
اس کے منہ سے نکلا
What Rubbish?
وہی جو آج کل تم لکھ رہے ہو، سطحی سی باتیں ، اور کہاں جاپڑے ہو ؟
بہت غصّے میں لگتی ہو
اس نے آہستہ سے کہا
اس نے اس کی آنکھوں میں جھانکا اور اسے لگا کہ جیسے زبان حال سے کہہ رہی ہو،
افسوس ! میرا دکھ، ملال اور کسک تمہیں غصّہ لگنے لگی ہے
Rubbish
پھر اس کے منہ سے نکل گیا ۔
"نجانے مجھے کیوں لگتا ہے کہ تم وہ نہیں ہو جسے میں دسمبر کی سرد رات میں لارنس میں ملی تھی جو بہت کھویا ،کھویا ، گم سم تھا جس کے چہرے پہ ہمہ وقت میں نے ملال دیکھا اور آنکھیں رنج میں ڈوبی دیکھی تھیں ،وہ جو اولڈ بکس ہوم سے شہ پارے خرید کر ایسے خوش ہوتا تھا جیسے اسے قارون کا حزانہ مل گیا ہو۔مگر آج کیا؟ کتابیں مہنگی خریدتے ضرور ہو ،مگر بکواس سی سیاست پہ ، بکواس سے رومانس پہ ، کہاں گیا تمہارا ورجینیا وولف سے عشق ، اس کے نوجوان شاعر کا روپ دھارنا اور ایڈیٹ کے مرگی کے مریض میشکن کی طرح سوئی سوئی سی آنکھیں رکھنا؟کچھ بھی تو نہیں ہے تمہارے پاس۔۔۔۔ کوئی ایک بڑا جملہ سننے کو نہیں ملتا تمہارے لبوں سے۔۔ پمفلٹ باز ہوگئے ہو، اور اردو لغت میں تلاش کرنا یہ باز اکثر ان کاموں کے ساتھ لگتا ہے جس کے بعد آدمی کے اندر سے آدمیت ویسے ہی رخصت ہوجاتی ہے”۔
یہ سب کہہ کر وہ چلی گئی تھی اور وہ وہاں سکتے کی حالت میں کافی دیر یونہی خلا کو تکتا رہ گیا تھا۔اٹھا تو پتا چلا کہ بل بھی اسے ادا کرنا تھا۔کل ملا کر اس وقت اس کے پاس اتنے پیسے بچے تھے کہ بس کا کرایہ ادا کرسکے اور وہ چپ کرکے بس میں بیٹھا واپس اپنے آبائی شہر لوٹ گیا تھا۔
جب سے واپس آئے ہو ، کھوئے کھوئے رہتے ہو، اخبار میں بھی تمہاری طرف سے کچھ پڑھنے کو نہیں ملتا، چائے کے کھوکھے پہ بھی تمہاری زور و شور سے سیاسی بحثیں سنائی نہیں دیتیں، کدھر ہو بھئی ؟
اس کے دوست نے اسے گھر آگر گھیر لیا تھا۔
Rubbish
اس کے منہ سے بے اختیار نکلا

Views All Time
Views All Time
260
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: