Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

سعودی عرب کی جنگ – عامر حسینی

سعودی عرب کی جنگ – عامر حسینی
Print Friendly, PDF & Email

شاہی بنیاد پرستی اور عالمی طاقت 

The Battle For Saudi Arabia : Royalty Fundamentalism and global Power

پروفیسر اسد ابو خلیل امریکی یونیورسٹی میں پولیٹکل سائنس کے استاد ہیں اور وہ لبنانی نژاد عرب ہیں ، بیروت سے شائع ہونے والے عربی روزنامہ "الاخبار” میں باقاعدگی سے آرٹیکل لکھتے ہیں اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں ، ان کی ایک کتاب

The Battle for Saudi Arabia : Royalty Fundamentalism and Global Power

بہت مقبول ہوئی ،اس کتاب میں جہاں انھوں نے سعودی عرب کے حکمران خاندان آل سعود اور امریکی حکومتوں کے باہمی تعلقات اور امریکی صدور اور دیگر حکام کی جانب سے انسانی حقوق ، جمہوریت اور مذھبی آزادی پر مبنی اقدار کے ڈھونڈرا پیٹنے کے باوجود سعودی عرب میں انسانی حقوق کی پامالی ،مذھبی انتہا پسندی ،تنگ نظری ، بدترین بنیاد پرستانہ ماڈل سے صرف نظر کرنے کا جائزہ لیا اور یہ بھی بتایا کہ کیسے نائن الیون کے بعد جب یہ معلوم ہوا کہ ہائی جیکرز میں انیس کے قریب سعودی عرب کے باشندے تھے تو امریکی پریس ، رائے عامہ ، یہآں تک کہ کانگریس کے اندر بھی سعودی عرب کے بارے میں بہت منفی خیالات اور آل سعود پر سخت تنقید ہوئی اور سعودی عرب کے بارے میں 2011ء میں امریکی رائے عامہ 80 فیصد تک منفی سطح پر چلی گئی ،لیکن اس کے باوجود امریکی صدور ،سیکرٹری خارجہ اور دیگر لوگ آل سعود کی تعریف کرتے رہے اور اس کے پشتیبان بنے رہے۔
اس کتاب میں اسد ابوخلیل نے یہ بھی بتایا کہ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تزویراتی تعلقات کا آغاز 80 ء کی دھائی میں ہوا لیکن اصل میں یہ آغاز سرد جنگ کے شروع ہونے پر ہی ہوا گیا تھا ، مڈل ایسٹ میں 60ء اور 70ء کی دھائی میں جب کیمونسٹ ،سیکولر، ڈیموکریٹک لبرل سیاسی قوتیں غلبہ حاصل کررہی تھیں اور عرب معاشروں میں اساتذہ، طالب علم، مزدور، دانشور، ادیبوں ميں قوم پرست عرب اشتراکی جمہوری خیالات مقبولیت پکڑ رہے تھے تو ایسے میں یہ امریکہ اور سعودی عرب تھے جن کے درمیان بیداری کی اس لہر کو دبانے پر اتفاق ہوگیا اور یہ تزویراتی اتحاد کے بندھن میں بندھ گئے۔
ابوخلیل اس کتاب میں یہ جائزہ بھی لیتا ہے کہ سعودی عرب، آل سعود اور اس کے خیالات و افکار کیسے براہ راست عرب کلچر اور ادب سے ٹکراتے ہیں۔ مرے خیال میں اسد ابوخلیل نے اس موضوع پر The Arab Paradox کے عنوان سے جو باب باندھا ہے، اس کا مقصد یہ ثابت کرنا بھی ہے کہ عرب کی تہذیبی اور ادبیاتی زندگی کا جو جوہر ہے آل سعود، سعودی وہابی خیالات اس سے براہ راست متصادم ہیں اور اس نے عرب کلچر اور عربی ادب کو بنجر کرنے کی کوشش کی ہے ، اسد ابوخلیل لکھتا ہے

The Saudi Royal family has been derided in Arab popular culture and literature for decades . Despite being host of Muslim world,s holiest sites , its brand of Islam – Wahhabism – strikes most Muslims as fanatical and eccentric at best .

اسد کہتا ہے کہ عرب دنیا میں جمال عبدالناصر ( مصر کے معروف قوم پرست اشتراکی صدر جنھوں نے 1952 ء سے لیکر 1957ء تک حکمرانی کی ) وہ پہلے عرب سنّی حکمران تھے جنھوں نے آل سعود کے خلاف کھل کر بولنا شروع کیا ۔ جمال عبدالناصر نے آل سعود اور خلیج عرب کی ریاستوں کے حکمرانوں پر جم کر تنقیدی حملے کئے ان سے 50ء اور 60ء کے عشروں کا عرب سماج میں پاپولر عرب پولیٹکل ڈسکورس تشکیل پایا تھا -جمال عبدالناصر نے کنگ فیصل پر شدید تنقید کی اور اس کے مسلسل حملوں سے خود آل سعود میں پھوٹ پڑی اور پرنس طلال بن عبدالعزيز نے بغاوت کردی اور وہ سعودی عرب سے مصر آگیا اور اس نے”فری پرنسز” کے نام سے مغرب مخالف اور عرب قوم پرستی کے حق میں تحریک چلائی۔ جمال عبدالناصر کا سیاسی ڈسکورس اس وقت انتشار کا شکار ہوا جب 1967ء میں اسرائیل کے خلاف اسے شکست ہوگئی اور خراب معاشی حالات کی وجہ سے اس کو سعودی تعاون کی ضرورت آن پڑی اور اس نے سعودی عرب اور آل سعود کے خلاف پروپیگنڈا ترک کردیا اور جب انور سادات ناصر کی وفات کے بعد صدر بنا تو ساری ہچکچاہٹ ختم ہوگئی اور شاید سعودی عرب کے عرب کی تہذیبی و ادبیاتی معاشرت پر چھاجانے کے آگے جو بڑی روکاوٹ تھی وہ بھی جمال عبدالناصر کی وفات سے دور ہوگئی تھی
اسد ابوالخلیل لکھتا ہے

A new era, the Saudi Epoch (al-hiqbah as-sa”udiyyah ) , spread its wings throughout the region.Petrodollars dominated the media . With the exception of those under the influence of generous subsidies and gifts from regime of Saddam Husayn ,Arab media were under Saudi control.Even PLO was easy to control through direct funding of its major groups —— through the mainstream Fatah (more accurately ,Fath ) movement and through a relationship between royal family and politically shifty Yasser ‘ arafat .

تو اس طرح سے ایک نئے سعودی دور کا آغاز ہوا اور اس دور میں سعودی پیٹروڈالرز نے عرب سماج کے میڈیا پر کنٹرول حاصل کرنا شروع کردیا اور اس کے غلبے کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ خود یاسر عرفات کی ترقی پسند پی ایل او کو بھی اس پیسے نے رام کرنا شروع کردیا

The Saudi Ability to control political and media culture of the region also coincided with Saudi dominance within the League of Arab .Saudi Arabia ,s fellow Arab countries had been easy to shape and mold with promises of financial aid and access to royal largess.

اسد ابوخلیل کے مطابق یہ وہ دور تھا جب سعودی معاملات پر عرب دنیا میں بحث دب گئی اور وہ مین اسٹریم سے غائب ہوگئی ۔اسد ابوالخلیل نے اس جگہ اس بڑے پہلو پر روشنی نہیں ڈالی کہ سعودی عرب کے عرب خطے کی معشیت ،اس کی سیاست اور ميڈیا پر کنٹرول اور پورے عرب سماج کے اندر مذھبی ڈسکورس پر بھی چھاجانے کی وجہ سے عرب کا جو تکثیری کلچر تشکیل پایا تھا اسے زبردست دھچکا لگآ اور اس میں سب سے زیادہ چہرہ اگر مسخ ہوا تو وہ خود سنّی اسلام کا تھا اور یہ آل سعود کا برانڈ تھا جو سنّی اسلام کی غالب شکل بنادیا گیا اور جو اس کی سب سے اکثریتی جمہوری شکل تھی یعنی صوفی اسلام اسے بدعت و شرک کہہ کر دبادیا گيا ،اسد ابوالخلیل لکھتا ہے

All this felicitated the stifling of debate over Saudi affairs .Nevertheless ,detestation of Saudi practices and policies remained under the surface .

اس زمانے میں سعودی عرب کے اعمال و افعال پر سعودی عرب کے جن دانشوروں ،ادیبوں اور لکھاریوں نے ہمت کرکے تنقید کرنے کی کوشش کی وہ یا تو گرفتار کرلئے گئے یا ان کو سعودی عرب سے نکال دیا گیا ،ان میں ایک نام عبدالمحسن مسلم جوکہ مدینہ میں رہنے والے ایک بڑے اعلی پائے کے شاعر اور ادیب ہیں، کا بھی ہے۔ انھوں نے ایک نظم ” انتم المفسدون فی الارض ” تم سب اس زمین میں فسادی ہو – کے عنوان سے سعودی عرب کے نام نہاد قضاۃ کے خلاف لکھی۔ یہ نظم ” جریدہ المدینۃ السعودیہ میں ميں 26 ذوالحج 1422 ھ کو آخری صفحے پر شائع ہوئی اور جب یہ نظم شائع ہوئی تو اس پر اس وقت کے سعودی عرب کے وزیر داخلہ نے ان کو جیل میں ڈال دیا اور اخبار کے ایڈیٹر کو ان کے عہدے سے برطرف کردیا ۔اس نظم کا آغاز ان مصرعوں سے ہوتا ہے
گلکم قاتل ولا استثناء والقتیل القضاء والشرفاء
سقطت رایۃ الحسین و عادت من جدید بثوبھا کربلاۂ
مات عصر الفاروق ، لم تبق منہ غیر ذکری سطورہا بیضاء
فآبونا ” الحجاج ” و ابن سلول
آعذرونا فنحن نسل "یزید "
اسی طرح عبدالرحمان منیف جوکہ عرب کا معروف ادیب ، ناول نگار ہے کی بھی سعودی شہریت ختم کردی گئی اور اسے جلاوطن ہونا پڑا اور جب عبدالرحمان منیف 2014ء میں فوت ہوا تو آل سعود نے اس کے خاندان کو دوبارہ ایوارڑ اور مراعات کی آفر بھی کی ۔ان کے خاندان نے انکار کیا اور اپنے حق شہریت کی بحالی پر اصرار کیا جو سعودی حکومت نے دینے سے انکار کردیا۔ اسی طرح نزار قبانی شام کے معروف شاعر کو سعودی عتاب کا سامنا کرنا پڑا جب اس نے سعودی لائف اسٹائل اور سعودی شہزادوں کی عیاشیوں پر تنقید کی۔
تیل سیمن ہے ، یہ نہ تو قوم پرست ہے ، نہ عرب ہے ، نہ ہی عوامی
یہ تو وہ خرگوش ہے جو ہر جنگ ہارتا ہے
یہ تو بڑے شہنشاہوں کا مشروب ہے نہ کہ یہ سلطانی جمہور کا
سعودی عرب اور آل سعود اگر فری تھنکررز کو آزاد خیالی سے نہ روک سکی اور نہ ہی وہ ان کی اپنے نظام کہن پر تنقید کو روک پائی تو اس نے بہت آسانی سے عرب حکومتوں اور عرب پریس کو کنٹرول کرلیا -جب 1991ء میں صدام حکومت کی مالیاتی ساکھ جنگ کے بعد بالکل تباہ ہوگئی تو سعودی حکومت نے خالد بن سلطان کو یہ ڈیوٹی سونپ دی کہ وہ ہر حالت میں عرب پریس کا سیاسی اور مالیاتی کنٹرول حاصل کرے اور اس کی کوششوں سے یہ ہوا کہ فرانس میں صدام نواز عرب قوم پرست جریدہ ” الوطن العربی ” بھی سعودی نواز ہوگیا – بااثر عربی اخبار ” الحیات ” کو جب اس کے مالکان نے بیچنے سے انکار کیا تو ایک بھاری رقم اسے لیز پر لینے کے لیےدی گئی ۔ صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد سعودی حکومت کم از کم آفیشل عرب منظرنامے پر چھاگئی ۔
اسد کہتا ہے کہ یہاں ایک پیراڈوکس بھی موجود ہے کہ کیسے عرب خطے کے پریس پر ایسا حکومتی کنٹرول ہوسکا؟ کیسے سعودی خاندان کے اسکینڈلز عرب پریس اور اخبارات سے باہر رکھے گئے ؟ اور کیسے ہوسکتا تھا کہ بہت چھوٹا اور انتہا پسند وہابی فرقہ پورے ریجن میں اپنے وہابی ڈسکورس کو پھیلاتا رہتا اور سعودی عرب کے اس انتہا پسند فکر کے خلاف پورے عرب خطے میں چلنے والی بحث کو میڈیا سے غائب رکھا جاتا
اسد کہتا ہے کہ یہ سب کرنے کے لیے سعودی عرب کو خوف اور مطلق العنانیت کی فضا کو بڑھوتری اور ہلہ شیری دینا پڑی تھی ۔شفافیت اور احتساب کا عمل سعودی سیاسی اور مذھبی مفادات کے خلاف تھے ۔لیکن عرب دنیا میں شفاف حکومت اور بے رحم احتساب کے نعرے اب بہت مقبولیت پکڑ چکے ہیں ، جبکہ سعودی فنڈنگ سے ہٹ کر خطے میں نئے ٹی وی چینلز ، اخبارات ، ویب سائٹس ، بلاگرز ، سوشل میڈیا نے اس مناپلی اور کنٹرول کو کافی حد تک کمزور کیا ہے اور 9 / 11 کے بعد سعودی عرب کے لیے سازگار پریس کوریج بھی عالمی سطح پر کافی مشکل ہوگئی ہے۔
اسد ابوخلیل نے ایک باب میں ” سعودی عرب ” کی تشکیل اور عرب بدویت خاص طور پر نجد کے کردار کو ڈسکس کیا ہے اور اس میں اس نے یہ دکھایا ہے کہ کیسے جزیرۃالحجاز ” کی غالب تہذیبی ثقافتی حثیت کو سعودی عرب کی تشکیل کرنے والی قوتوں نے ختم کیا ۔
اسد ابوالخلیل نے اسی باب میں اس بات سےبھی بحث کی ہے کیسے مغربی مستشرقین نے بھی سعودی عرب کی مینوفیکچرنگ سے ابھرنے والے اور ایک مصنوعی "عرب” کے امیج کو نمائندہ عرب امیج قراردیا اور پھر اگلے باب میں ابوالخلیل ” وہابی ” کے عنوان سے وہابیت اور اس سے ابھرنے والے وہابی براںڈ اسلام اور اس برانڈ کے اولین نقش ونگار بنانے والوں جن ميں محمد بن عبدالوہاب اور شیخ ابن تیمیہ کے نام نمایاں کو بھی ڈسکس کرتا ہے اور یہ دکھاتا ہے کہ کیسے سعودی عرب نے علاقائی پریس اور خود مغرب کے اندر بھی یہ کوشش کی کہ اینٹی وہابیت ڈسکورس سامنے نہ آئے اور وہابیت کے اجنبی ، اقلیتی تصور کی حقیقت سامنے نہ آجائے ۔اسد ابوخلیل کا کہنا یہ ہے کہ وہابیہ ہی ہے جسے مغرب غلطی سے” ریڈیکل پولیٹکل اسلام” سے تعبیر کرتا ہے اور اسٹریوٹئپس لیکر آتا ہے اور ایک عرب مسلم کا امیج اسی آئینہ میں بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ پورا باب بہت دلچسپ ہے اور پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے
اسد ابو خلیل کا محمد بن عبد الوہاب اور شیخ ابن تیمیہ پر یہ طویل تبصرہ بہت ہی چشم کشا ہے

In writing about Muhammad bin Abdulwahhab founder of Wahhabiyyah , one has to distill the facts from the tale that has been spun by the modern Sudi state in order to represent a glamorizing pictures of a man who did not leave much of an intellectual imprint ,In 2003 Prince Sultan bin Abdul Alziz , the Minister of defense , was talking defensively about Wahhabiyyah and about Muhammad Ibn Abdul Wahab .He was reacting to Western press reports critical of stat ‘s faith .He Said : ” All know who Muhammad Bin Abdul -Wahhab is . He is man of Knowledge and education , and he was islamically educated in , from what has been said , India , Egypt , Pakistan and finished his studies in his country …..”Another Saudi account claims that he also , traveled to Iran , although , as Hamid Algar points out , there is no mention of him in the Persian sources of period in question.

اسد محمد بن عبدالوہاب کے 17033ء میں پیدا ہونے کے بعد سے لیکر اس کے بچپن میں اس کی غیر معمولی ذہانت اور حافظہ کی کہانیوں اور اس کے احصآء سمیت قریبی علاقوں میں تعلیم حاصل کرنے کا تذکرہ کرنے کے بعد لکھتا ہے کہ

Muhammad is said to have traveled to Hijaz , Ahsa , and Basrah for study .Then in Madina , a center of great learning before it fell under the control of anti -intellectual clerics of Wahhabiyyah , he was introduced to the work of Ibn Tamiyyah (A.D. 1263-1328 ) , who influenced him great deal , and who shared with him ” a delight in polemics . He is reported to have said : ” I know of nobody who approximates Ibn Taymiyyah in the science of Hadith and interpertation save Ahmad Bin Hanbal .Ibn Taymiyyah was also man of sword: He fough the crusaders and others in his lifetime , and observed that foundation of religion is Quran and sword .
It is significant also that Ibn Taymiyyah was unique among "mainstream "Musim theologians in his praise of Kharijites.The Khawarij , as they are known in Arabic , were an early Islamic sect that split off from Ali Ibn Abi Talib during his dispute with the companion of Prophet (PBUH) .Khawarij were perhaps the first group of Muslims to sanction , on theological grounds , the murder of fellow Muslims .Some Khawarijite splinter sects even permitted the killing of childern of ” deviant ” Muslims . In Islamic history , the Khawarij are often catagorized as fanatical , ans some of their practices may have been emulated by armed groups like Al-Qa’idah .On Khawarij , Ibn Taymiyyah said , "Although they have deviated in religion , they do not lie but are known as truthful and they only cite the sound of hadiths .But they were ignorant and misguided in their innovation , but their innovation was not due to Zandaqah (the ideas of group of freethinking antimonotheists in Islamic history who were influenced by "concepts Philosophiques helleniques et rationnels ") or atheism , but to misguidedness an ignorance .”
Today Ibn Taymoiyyah ‘s thought and practics can be seen as key philosophical predecessor of contemporary Islamic fundamentalism , and no one can trace some of Wahhabiyyas’s core ideas back to his prolific writings .His most important contribution to present -day militant ideologies , like those of Al-Qa’idah , is his belief that misguided Muslims – those who do not abide by (his interpertation of ) Sharia’ah (the body of Islamic Laws ) – should be fought as they were infidles.

یہاں ابن تیمیہ کے فتوی اہل ماردین کا ذکر ابو خلیل کرتا ہے اور یہ بھی رائے دیتا ہے کہ ابن تیمیہ تھیولوجی میں جتنا سخت تھا ، اتنا ہی لچک دار وہ پرسنل لاءز کے معاملے میں تھا۔
ابن تیمیہ کے بارے میں اپنا تبصرہ مکمل کرنے کے بعد اسد ابوالخلیل محمد بن عبدالوہاب پر اپنی رائے دیتا ہے

Ibn Taymiyyah was , like Wahhabiyyah later , concerned with reminification of prayer in terms of strict monotheism that sums up the message of Islam.It is easy to discern the influence of Taymiyyah on Abdulwahhab , and it can be stated that latter was a fanatical and extremist devotee of former. Some of the issues that woulod later occupy the mind of life of Abdul-wahhab were tackled ,with less intensity perhaps ,by Ibn Taymiyyah.Taymiyyah was uncompromising in his attacks on Sufis and he compared some of them to infidles and pagans, although as Algar points out , he unlike Muhammad bin Abdul-wahab did not reject in toto,Similarly ,there was another doctrine that Wahhabiyyah would later strech to extremes: Taymiyyah permitted Muslims to seek intercession of Prophet in their prayer , but only when the Prophet was alive , and he forbade the practices – very common among Muslims -after Muhammad (PBUH) ‘s death .He similarly forbade Muslims from making requests in their visits to the tombs of holy people , including the tomb of Prophet ( PBUH).

اسد ابوالخلیل آگے چل کر ابن سعود اور محمد بن عبدالوہاب کے درمیان ہونے والے معاہدے اور اس سے وہابیہ کے بطور سیاسی تحریک سامنے آنے کا زکر کرتا ہے اور وہابیت کو وہ مین اسٹریم اسلام سے متصادم قرار دیتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ کیسے جب خود قبضہ حجاز پر وہابیہ نے کرلیا تو اپنے ہی گرو شیخ ابن تیمیہ کے فلسفہ جہاد سے انحراف کرلیا گيا اور آل سعود کے خلاف بغاوت کو خلاف اسلام قرار دے دیا گیا۔
ابن سعود نے سعودی ریاست کے ارتقاء کا بھی جائزہ لیا ہے اور بتایا ہے کہ آل سعود اور وہابیت کیسے گھل مل کر پوری دنیا میں مذھبی جنونیت اور مین اسٹریم مسلم رجحانات کو کاؤنٹر کرنے کا کردار ادا کررہی ہے اور وہ پھر سعودی عرب کا خطے میں امریکی سامراجیت کے پھیلاؤ اور دونوں کے باہمی رشتے کا جائزہ بھی لیتا ہے ۔اسد ابوالخلیل کی یہ کتاب بہت جامع اور بہتر طریقے سے سعودی وہابی پولیٹکل ڈسکورس کو بے نقاب کرتی ہے اور بائیں بآزو کے کیمپ سے ایک اچھا انٹلیکچوئل ورک ہے۔

Views All Time
Views All Time
413
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   وحشت کی نئی یلغار-ڈاکٹر لال خان
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: