اداس مجسمے کے سائے میں-عامر حسینی

Print Friendly, PDF & Email

بہت تیز بارش تھی جب میں اپنے ہوٹل سے نکلا ،اتنی تیز بارش کہ ہوٹل کے سامنے سڑک پوری ویران پڑی تھی ،کوئی گاڑی ،کوئی موٹر سائیکل ،کوئی سائیکل سوار اور کوئی پیدل چلتا مجھے نظر نہیں آرہا تھا ،میں نے آسمان پہ نظر کی تو عین جنوب مغرب کی جانب جس اور مدینہ تها سیاہ کالے بادل چهائے تهے اور مجهے آسمان کا یہ افق انتہائی اداس دکهائی دے رہا تها ، مجهے اپنے اندر سے اداسی امنڈ کر باہر پهیلی اداسی سے گهلتی ملتی محسوس ہورہی تهی اور میں سڑک کے عین درمیان اپنے خوابوں کی کرچیاں بکهرے دیکھ کر ذرا ٹهٹک کر رک سا گیا تها اور میں نے ادهر ادهر دیکها کہ کوئی مجهے دیکھ تو نہیں رہا کہ کہیں بیچ سڑک کوئی مجهے زمین پهرولتا دیکهے اور مجهے سنکی دیوانہ نہ سمجھ لے (ویسے اگر کوئی دیکھ بهی لیتا اور سمجھ بهی لیتا تو کیا بگڑ جانے والا تها مرا ) ایک کرچی اس دوران مری انگلی کی پور میں چبهی تو جهٹ سے ایک بوند لہو کی پور پہ چمکنے لگی ،مجهے لگا کہ دور افق پہ جنوب مغرب کی سمت بهی ہلکی سی لالی سیاہی میں گهل گئی ہے ، ذرا دور اسی سڑک پر نجانے کب مرا ہمزاد مجھ سے باہر نکل کر مجھ سے دور کهڑا ہوگیا اور کہنے لگا کہ اپنے خوابوں کی ایک کرچی سے انگلی کی پور پہ چمکتی بوند کی لالی جنوب مغرب کے افق پہ پهیلی سیاہی میں گهل جانے سے بهی اور تیز برستے مینہ سے اور اردگرد کی ویرانی سے بهی نہیں سمجهے آج دن کیا ہے ؟
میں تهوڑا سا پریشان ہوا اور اس کی طرف ہونق بنکر دیکهنے لگا اور میں نے اپنے خوابوں کی کرچیوں کو سمیٹنے کا ارادہ ترک کردیا اور ہوٹل کی سڑک کو کراس کرکے لاہور ہائی کورٹ کی بلڈنگ کے سامنے والی روڈ پہ آگیا اور وہاں سے تیز تیز قدم اٹهاتا ہوا میں نیلا گنبد سے نکلتا ہوا بادشاہی مسجد کے سائے میں بنے اس بازار تک آن پہنچا جس بازار کی رونقیں عرصہ ہوا ماند پڑگئیں اور اب وہاں ایک فوڈاسٹریٹ بنی تهی ،مجهے اقبال حسین کی حویلی کی تلاش تهی وہاں بڑی مشکل سے پہنچا اور دیکها وہاں کوئی کوکوڈین ریسٹورنٹ بنا ہوا تها خیر مجهے کسی ریستوران سے کیا لینا دینا تها میں اندر گهسا تو سامنے سیڑهیوں پہ اقبال حسین کا تراشا ہوا مجسمہ پڑا تها ، میں اس مجسمے کے سامنے ٹہرگیا اور اسی وقت میں نے دیکها کہ کندهے پہ بیگ لٹکائے ، تیز تیز قدم اٹهائے شہر بانو چلی آتی ہے ، اور مرے قریب آکر وہ بولی
تم آج سر بیگ کی کلاس سے اچانک غائب کیوں ہوئے ؟ آج ان کا لیکچر وجودیت پہ تها اور وہ سارتر کے ساتھ ساتھ علی شریعتی کے ہاں آثار وجودیت پہ بهی بولے تهے ، تمہیں وہاں ہونا چاہئیے تها اور تم نجانے کہاں نکل پڑے
میں شہر بانو کو بتانا چاہتا تها کہ تم کب کی
Ex Ravian
ہوگئی ہو بلکہ تم کب کی
Late Shehar Banu
ہوگئی ہو تو ابهی تک یہ شولڈر بیگ کاندهے پہ دهرے اور ایک زندہ سلامت ذی روح طالبہ بنکر کیوں گهومتی پهرتی رہتی ہو ،کیا شہر خموشاں میں تمہاری قبر جنت کا ایک باغ نہیں بن پائی ، کیا تمہاری آتما کو شانتی نہیں مل پائی ؟ اتنی بے چین کیوں ہو ؟ کیا تمہارے کرم اچهے نہیں تهے جو بے قراری سے اب بهی ادهر ادهر گهومتی پهرتی رہتی ہو ، کون سی شئے ہے جو تمہیں چین لینے نہیں دیتی ؟
یہ سب باتیں مرے دل میں ہی تهیں کہ میں نے شہر بانو کے چہرے کا رنگ پیلا پڑتے دیکها ، اس کی ہاتهوں کی نسیں جو پہلے ہی بہت سبز تهیں اور سبز ہونے لگیں ، ہونٹ خشک ہوئے تو زبان ہونٹوں پہ پهیرنے لگی ، مجهے لگا کہ وہ مرے ذهن کو جیسے پڑھ رہی تهی ، تهوڑی دیر بعد اس نے ہسڑیائی انداز میں مرے ہاتھ کو پکڑا اور مجهے جهنجهوڑنے لگی
عا می ! تم نے اپنے ہمزاد کی بات نہیں سنی تهی ؟ اس نے تمہاری پور سے نکلی لہو کی بوند کی لالی کے آسمان کی سیاہی میں مل جانے کاذکر کرتے ہوئے کہا تها کہ
تمہیں اندازہ نہیں ہورہا کہ آج کون سا دن ہے ؟
میں ذرا گڑبڑایا تو اس نے پهر کہا کہ
میں کیسے وہاں قبر میں سکون سے رہ سکتی ہوں جب مری ماں وہاں جنوب مغرب کے قبرستان میں آج بهی بے چین ہے ، کنکریوں کا ڈهیر ہے جس کے نیچے اس کی قبر چهپی ہے اور اس کی اولاد اور آل کو اس کی قبر کے پاس آنے نہیں دیا جاتا اور وہاں مسلح لوگ کهڑے ہیں جو اس کے لئے کسی کو حرف دعا کہنے نہیں دیتے ، کسی کو اسے مخاطب کرنے یا نداء کرنے نہیں دیتے اور اس کی بے سکونی کا ایک سبب یہ بهی ہے کہ اس کی ماں کے گهر کو دور مکہ میں پبلک ٹوائلٹ میں بدل دیا گیا ہے اور اس کے سسر کے گهر پر میٹرو لائن بچهائی جارہی ہے ، بے سکونی کا ایک اور سبب ہے کہ وہ دیکھ رہی ہے کہ کیسے ترقی کے نام پہ اس کے آثار اور تاریخ کو مٹائے جانے کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔
شہر بانو نے یہ کہا تو مرے ذهن میں جیسے کوئی فلیش لائٹ کلک ہوئی ہو اور روشنی دور دور تک پهیل گئی اور مجهے یاد آگیا کہ کیوں لالی سیاہی سے ملی ، اندر کی اداسی کا باہر کی اداسی سے ملاپ کیا اور کیوں ہے ، شہر بانو جسے خون کے کینسر اور ٹی بی نے بہت پہلے قبر میں جاسلایا تها ، وہاں سے اٹھ کر کیوں ماری ماری پهرتی ہے ؟
آؤ اوپر چلتے ہیں اور اس اداس سے چہرے والے مجسمے کے پاس بیٹهیں اور تهوڑی دیر اسے یاد کریں جس کے پاس خوشیاں کم اور مصائب زیادہ ہیں ۔ شہر بانو نے مرا ہاتھ پکڑا اور مجهے اوپر لے جانے لگی ، اقبال حسین نے یہاں ایک ایسا مجسمہ تراشا ہے جس کی آنکهوں میں بے پناہ درد اوراذیت سمائی ہوئی ہے
شہر بانو اور میں اکثر جی سی سے یہاں چلے آتے ، اس مجسمے کے سائے میں بیٹھ جاتے ، سامنے بادشاہی مسجد کے مینار اور صحن کی دید ہوتی اور اس کے سائے میں بنی گلی سے بهانت بهانت کے لوگ گزرتے ملتے ، شہر بانو اپنا بیگ کهولتی اور اکثر وہ شقشقیہ کے کلمات دہرانے لگتی اور کبهی کبهی "ان ” کی قبر پہ "ان کی بیٹی” کا مرثیہ سناتی ، میں اکثر کہتا کہ
شہر بانو ! یہیں اس اداس آنکهوں والے مجسمے کے سائے میں بیٹھ کر ہی کیوں اور سامنے بادشاہی مسجد کے صحن کے منظر نامے کے سامنے ہی کیوں ؟
شہر بانو کہتی
جہاں میناروں سے اشہدان محمد رسول اللہ کی صدا گونجے یہ شقشقیہ اورمرثیہ وہیں پڑهنا تو اچها لگتا ہے ،گواہی دینے والوں سے یہ پوچهنا پڑتا ہے کہ
کیا گواہی ایسے دی جاتی ہے کہ جس کی گواہی دی جارہی ہو اس کی اولاد کے گلے پہ چهری یہ کہہ کر پهیری جائے کہ وہ خروج عن الخلیفہ کا مرتکب ہوا ، اور مشہود کی بیٹی کی قبر کنکریوں کا ڈهیر ہی رہ جائے اور اس کے گرد کسی کو کهڑے ہوکر اپنی عرض تک نہ سنانے دی جائے اور گواہی کے مصداق کے عم زاد کو یہ کہنے پہ مجبور کردیا جائے کہ اونٹ کی لگام کهینچوں تو خرابی ڈهیل چهوڑوں تو تباہی
عامی ! یہ کیسی گواہی ہے جس نے اس مشہود کی بیٹی کی قبر کو بے سایہ رکها ہوا ہے ، یہ کیسی گواہی ہے کہ مشہود کی بیوی کے گهر کو غلاظت خانہ بنادیا گیا اور کیسی گواہی ہے کہ مشہود کی اولاد کو تہہ تیغ کردیا گیا اور سر نیزے پہ بلند کردئیے گئے
شہر بانو مجهے اداس مجسمے کے سائے میں لیکر بیٹھ گئی ، کہنے لگی ، وہاں برزخ میں ارواح میں کہرام مچا ہے اور کوئی روح امن ایسی نہیں ہے جس کا چین نہ چهینا گیا ہو ، جس کا دل بے قرار نہ ہو ، میں وہاں ہوٹل میں تمہارے پاس آنے کو تهی کہ تم ہوٹل سے باہر نکلتے دکهائی دئیے ، میں نے غیب کے مصداق کو آواز دی تو انہوں نے کہا کہ وہیں جائے گا جہاں تم جایا کرتی تهیں ، وہیں جانے دو ، پهر ملنا اور اسے بتانا کہ یہ اداسی بے سبب نہیں ہے
تمہیں پتہ ہے کہ
وہ یزیدی اور ترکمانی عراقی بچیوں ، عورتوں کو لیکر کسقدر بے چین ہیں اور ان کے آنسوؤں سے ایک نہر آشوب ہے جو وہاں عالم برزخ میں وجود میں آگئی ہے ، جیل میں بند بهٹہ مزدور عورت کی قید تنہائی عالم برزخ کے سبهی باسیوں کو اداس تو کرتی ہے لیکن "وہ ” تو اس عورت کے مصائب پہ "ام المصائب” کو مخاطب کرکے کہتی ہیں "اے ام عون و محمد ذرا دیکهو تو سہی دارالسجن کیا فقط دمشق و کوفہ ہی میں تهے ؟ نہیں یہ کوٹ لکهپت میں بهی ہے اور بے قصور عورتوں کانصیب آج بهی قید تنہائی ہے”
سکینہ !ذرا محضر زہرا تک جانا ، اس ترکمانی عراقی بچی زینب کو بتانا کہ تم اپنے باپ سے پہلی بار محروم نہیں ہوئیں یہ سلسلہ تو صدیوں سے چلا آرہا ہے ، باپ مثلہ ہوتا ہے،اور اس کی بچیوں پہ طمانچے برستے ہیں اور اس ظلم پہ اس ڈرسےبولا بهی نہیں جاتا کہ کوئی تمہیں "رافضی ” نہ کہہ ڈالے
شہر بانو ! عالم برزخ میں یہ بے چینی عجب لگتی ہے ، کیا نفس مطمئنہ کی منزل موت کے وقت نہیں آتی فادخلی فی عبادی وادخلی فی الجنتہ کا مطلب کیا ہے ؟
زخمی سی مسکراہٹ شہر بانو کے چہرے پہ نمودار ہوئی ، اسی لیے تو کہتی ہوں کہ اپنے اوپر چهائے مادی غبار کو تهوڑی دیر کے لیے ہٹاو تو تمہیں نظر آئے کہ اطمینان الی الحقیقتہ الاعلی ہے اور بے چینی الی الخلق ہے
وہ بے نیاز تو ہیں مگر بے حس نہیں اور اگر ان کی باخبری کو مانتے ہو تو پهر ان کی خبر گیری کی صلاحیت سے انکار کیوں ہے ؟
میں تهوڑا سا شرمندہ ہوا ، سوچنے لگا کہ واقعی اگر ان کی برزخی حیات کا اگر میں قائل یوں تو کیا وہ اس ساری واردات سے بے خبر ہوں گے
وہ کہتے ہیں
Next we are coming to Karbala
کیوں آنا چاہتے ہیں ؟
سمجه دار ہو سمجهو کہ عالم برزخ تو جا نہیں سکتے یہاں زمین پہ جو نشانیاں ہیں ان کی ان کو مٹانے کے درپے ہیں
لیکن نشان مٹانا اتنے آسان ہوتے تو مسلم بن عقبہ کبهی کا مٹا چکا ہوتا ہے
رات کی تاریکی میں جنازہ ہوا کوئی مدعو نہیں تها ، چالیس ایک جیسی قبریں بنائی گئیں کیوں ؟ اور پهر ایک لمبے عرصے سوائے اس کی اولاد کے کسی کو پتہ نہ تها کہ کونسی قبر ہے
شہر بانو ! یہ سب باتیں بتانے آئی ہو ، اتنی دور سے ، برزخ میں رہ کر کسی رات خواب میں آکر بتاجاتیں
بہت بے چین ہوں ، تمہارا خلا ہما علی نے کچھ پر کیا مگر وہ تو برزخ جاکر پهر نہیں لوٹی
میں چاہتا تها کہ اپنی رام کہانی بهی سناڈالوں
وہ شام گئی ہے وہیں اس کی ڈیوٹی ہے کہ بیواؤں، یتیم بچیوں کو تاریخ کے شعور سے مسلح کرے ، ان کو بتائے کہ جب سب میدان کهیت ہوجائیں تو کوفہ سے دمشق تک اور واپس مدینہ تک کا سفر کیسے کیا جاتا ہے اور آخری معرکہ تک اعصاب کیسے سنبهال کر رکهے جاتے ہیں
عامی ! افسوس تمہیں اپنے دکھ کو طاقت بنانا نہیں آیا ، تم نہج البلاغہ کے سامنے وہیں کهڑے ہو جہاں میں نے چهوڑا تها
سر! آپ مینیو دیکھ کر بتائیں گے کہ آپ کیا لینا پسند کریں گے ، رش بہت ہے اور ہم میز زیادہ دیر مصروف نہیں رکھ سکتے۔
ایک ویٹر مرے آگے ہاتھ ہلاکر زور سے بولا تو میں نے چونک کر دیکها ، اداس مجسمہ دور نصب تها ، شہر بانو کا کچھ پتا نہ تها اور ویٹر مری طرف دیکھ رہا تها ، اس کے چہرے کے تاثرات سے پتہ چلتا تها کہ سمجھ رہا ہے کہ” کوئی کهسکا ہوا آدمی لگتا ہے”

Views All Time
Views All Time
432
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   ہجوم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: