ترقی پسند دانشور سید علی جعفر زیدی سے ملاقات

Print Friendly, PDF & Email

پاکستانی سیاست فی الوقت جہاں ہے اس کے رنگ ڈھنگ نرالے ہیں۔ سیاسی کلچر کی جگہ اندھی تقلید اور عدم برداشت کو پروان چڑھانے والی قوتوں کو تو اس صورتحال پر خوشی ہو رہی ہو گی کہ سیاسی عمل اور جمہوریت کو گالی بنا دیا گیا ہے۔ ایک ایسی نسل میدان میں دندناتی پھر رہی ہے جس کے خیال میں ان کا پیشوا واحد دیانت دار شخص ہے اور ریاستی ادارے ہی مسیحا ہیں۔ سیاسی گھٹن اور اختلافات کے نام پر دشنام طرازی سے بنے اس ماحول میں بیسویں صدی کی چھٹی اور ساتویں دہائی کے معروف ترقی پسند رہنما ، ادیب اور دانشور سید علی جعفر زیدی لندن سے آبائی وطن آئے تو ان سے ایک بھرپور نشست ہوئی۔ سید مکرم پیپلز پارٹی کے بانی رکن ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بااعتماد رفیق اور پارٹی کے ترجمان جریدے ہفت روزہ ’’نصرت‘‘ کے ایڈیٹر رہے۔ زمانہ طالب علمی میں ترقی پسند تنظیم این ایس ایف کے پلیٹ فارم سے سرگرم عمل رہے۔ جنرل ضیاء الحق کے عہد ستم میں دوسرے انگنت ترقی پسندوں کی طرح انہیں بھی سنگین نوعیت کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں وہ ملک چھوڑ کر لندن جا بسے اور اب وہیں رہتے ہیں۔ علی جعفر زیدی کا خاندان بٹوارے کے وقت ہندوستان سے پاکستان منتقل ہوا تھا۔ پھر ایک دن زیدی صاحب دوسری ہجرت پر مجبور ہوگئے۔ اپنی آپ بیتی ’’باہر جنگل اندر آگ‘‘ میں انہوں نے تقسیم برصغیر سے رواں عہد کی سیاست تک کا ذکر تفصیل کے ساتھ کیا۔

بیسویں صدی کی چھٹی اور ساتویں دہائی کی سیاست کے حوالے سے ان کی کتاب خاصے کی چیز ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں بھٹو اور پیپلز پارٹی کے حوالے سے رجعت پسندوں کے بیسوا مزاج پروپیگنڈے کا بھرپور انداز میں جواب دیا۔ چند دن ادھر لاہور میں زیدی صاحب کے برادر عزیز سید حسن جعفر زیدی کی اقامت گاہ پر نشست ہوئی۔ سید حسن جعفر زیدی ترقی پسند فہم کے حامل محقق اور تاریخ نویس ہیں۔ انہوں نے 12 جلدوں میں تاریخ پاکستان تصنیف کی۔ زاہد ملک مرحوم اس تحقیق میں ان کے ساتھ تھے۔ تاریخ پاکستان کے علاوہ بھی ان کی متعدد تصانیف ہیں۔ سید علی جعفر زیدی سے ہوئی نشست میں ان سے مختلف موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ سچ یہ ہے کہ طالب علم نے ان کی خدمت میں سوالات رکھے اور سید مکرم دھیمے انداز میں تاریخ کے اوراق الٹتے چلے گئے۔ ان سے دریافت کیا ’’دوسری ہجرت کیسی لگی‘‘؟ بولے ہجرت اپنی مرضی سے کوئی نہیں کرتا۔ حالات ہجرت پر مجبور کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   کھیلن کو مانگے چاند

ملک میں تیسرے مارشل لاء کا طوطی بولتا تھا۔ سیاست اور مکالمے پر پابندی کے اس سیاہ ماحول میں میرا نام لیبیا سازش کیس میں محض اس لیے شامل کر دیا گیا کہ میرا تعلق مزاحمتی طبقے سے تھا۔ تب یہ سوچا کہ خوف کے ساتھ جینے سے بہتر ہے کہ اپنی فہم کے مطابق کام کو آگے بڑھایا جائے۔ ملک میں زندان خانے سیاسی کارکنوں ، ادیبوں اور اہل دانش سے بھرے ہوئے تھے۔ خاندان اور دوستوں کے مشورہ سے لندن منتقل ہوگیا تب سے وہیں ہوں۔ عرض کیا ، کہا جاتا ہے کہ جاگیردارانہ سماج اور ملائیت زدہ ماحول نے پاکستان کا ترقی پسند چہرہ نہیں بننے دیا۔ سیدی بولے بات تو یہی ہے۔ جاگیردارانہ سماج میں عوام کے حق حکمرانی اور مساوات کے لیے جدوجہد مشکل تو ہے ناممکن نہیں لیکن پاکستان کا المیہ یہ ہی رہا اور ہے کہ جب بھی عوام کے حق حکمرانی کی فہم مقبول ہونے لگتی ہے ملک پر مارشل لاء مسلط کر دیا جاتا ہے۔

جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء نے تو ساری حدیں پھلانگ لی تھیں۔ ریاست کے بیانیے کو ایمان کا حصہ بنا کر جمہوری شعور کو کچلنے کے لیے ہر ہتھکنڈہ آزمایا گیا۔ پاکستان کا حقیقی چہرہ مسخ کر کے بنیاد پرستی کی ایسی لیپا پوتی کی گئی کہ اس کی اصل شناخت کی بحالی اور حقیقی عوامی جمہوریت کے قیام کے لیے بڑا وقت لگے گا۔ ہماری نسل نے اپنے حصے کا فرض اخلاص کے ساتھ ادا کیا۔ بدقسمتی سے ترقی پسند آدرشوں پر قائم ہونے والی پیپلز پارٹی پر وہی طبقے قابض ہو گئے جن سے عوام اور ملک کو نجات دلانے کے لیے پارٹی قائم ہوئی تھی۔ عرض کیا بھٹو صاحب کا سقوط مشرقی پاکستان میں کیا کردار تھا؟ سید علی جعفر زیدی بولے مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کی وجوہات کے ذمہ داروں نے مسلسل پروپیگنڈے کے ذریعے عوام کی توجہ خود سے ہٹا کر بھٹو کی طرف مبذول کروا دی۔ بھٹو تو مجیب الرحمان سے مزاکرات کر رہے تھے۔ ساڑھے پانچ نکات پر معاملات طے پاگئے تھے۔ صورتحال کو سمجھنے کے لیے یحییٰ خان کے لیگل فریم ورک آرڈر کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے:   افغانستان‘ المیوں سے بھرے پانچ دن | حیدر جاوید سید

ایل ایف او میں کہا گیا تھا کہ اگر 90 روز میں آئین نہ بنا تو اسمبلی توڑ دی جائے گی۔ 1970ء کے انتخابات پیپلز پارٹی نے ترقی پسند منشور پر اور عوامی لیگ نے بنگالی قوم پرستی پر لڑے تھے۔ عوامی لیگ کیسے پیچھے ہٹتی؟ ضروری تھا کہ اس سے مذاکرات ہوتے ۔ وہ تو ہو رہے تھے مگر جرنیلوں کی نیت ٹھیک نہیں تھی۔ بنگالیوں کی نسل کشی میں تعاون کرنے والی جماعت اسلامی نے ریاستی اداروں کی مدد سے منفی پروپیگنڈہ کیا جس سے دو نسلیں متاثر ہوئیں۔ جوں جوں علم و آگہی میں اضافہ ہو گا لوگ اصل حقائق اور مجرموں سے آگاہ ہو جائیں گے۔ عرض کیا پاکستان کا مستقبل کیا دیکھتے ہیں؟ پر امید انداز میں گویا ہوئے پاکستان کا مستقبل جمہوریت میں ہے۔ حقیقی عوامی جمہوریت عوام ہر سطح پر شریک اقتدار اور اختیار ہوں۔ طبقاتی جبر کی زنجیریں ٹوٹیں، سیاسی جماعتیں شخصیات کی مرہون منت نہ ہوں بلکہ نظریات پر منظم ہوں اور نظریاتی جدوجہد کریں۔ سیاسی عمل میں نیا خون شریک ہو ، تربیت یافتہ سیاسی کارکن اس کے لیے ضروری ہے کہ طلباء یونین اور مزدور تنظیمیں بحال ہوں اور وہ اپنا کام کریں تاکہ سیاسی ماحول بن سکے۔

Views All Time
Views All Time
158
Views Today
Views Today
3

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: