عالمی سیاست اور معیشت میں ایک نیا چیلنج

Print Friendly, PDF & Email

akram sheikhنئی دنیا اقتصاد کی دنیا ہے تمام ممالک اسی بنیاد پر تعلقات کی ازسر نو تشکیل کر رہے ہیں کوئی کسی کا دوست نہیں محض مفادات کا حصول، تحفظ اور نگرانی ہے اگرچہ ماضی بھی ایسی ہی سچائیوں سے بھرا ہوا ہے لیکن وہی بات کہ تاریخ صرف پڑھنے کے لیے ہوتی ہے سبق حاصل کرنے کو نہیں جب کہ وقت اور حالات حوادث کو جنم دیتے ہیں تو یہ حوادث خود نئی تاریخ مرتب کرتے ہیں۔ آج کی دنیا خصوصاً جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور اس کے قریب ترین علاقے اپنے جغرافیے اور اس میں موجود آبادیوں کی بنا پر اقتصادی مافیا کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں بلکہ سرمایہ داراور ترقی یافتہ ممالک اس خطے کو باقاعدہ محاذ جنگ بنائے ہوئے ہیں جو نئی جغرافیائی تقسیم کا باعث بھی بن سکتا ہے ۔۔۔ کچھ عرصہ بعد۔
فی الوقت حقیقت یہی ہے کہ۔۔۔ اس جنگ کا پہلا مرحلہ مفادات کا حصول، ان پر مضبوط گرفت اور استحکام ہے چنانچہ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو ا کہ فریقین نے اپنی اپنی فوجیں اتارنا شروع کر دی ہیں۔ سرد جنگ کی عملی اشکال سامنے آنا شوع ہو گئی ہیں۔۔۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔۔۔ ابھی اس سرد جنگ کو اقتصادی جنگ بھی کہا جا سکتا ہے۔ لیکن چوں کہ دنیا میں تمام جنگیں مفادات کے حصول اور زر و جواہر کی لوٹ مار کے لیے ہوئی ہیں آج چوں کہ زر و جواہر کی شکل تبدیل ہو گئی ہے سونا بہہ رہا ہے، ہوائیں گیس کی زد میں ہیں اور معدنی ذخائر زمین کے خد و خال تبدیل کر رہے ہیں تو مفادات اور کاروبار کی صورت بھی بدل رہی ہے، مارکیٹیں، وسائل اور مصنوعات نئی جنگ کے ہتھیار بن کر ایک دوسرے کو دعوتِ گناہ بھی دے رہے ہیں لیکن سچائی یہی ہے کہ مذکورہ علاقو کی آبادی اور اس کی وسیع تر مارکیٹ خود اپنی دشمن آپ بنی ہوئی ہے جس کو ہر کوئی زیر کرنے کے لیے اپنے وسائل استعمال کر رہا ہے عالمی اقتصادی مافیا مقامی معاشی قوتوں کے ساتھ سودے بازیاں، ساجھے داریاں اور لوٹ مار کے معاہدے کر رہا ہے جو کسی بھی وقت مفادات میں تضادات کو جنم دے سکتے ہیں ستم ظریفی کی انتہا تو یہ ہے کہ اس خطے میں کم از کم چار قوتیں ایسی ہیں جو ایٹمی صلاحیت رکھتی ہیں اور وہ مفادات کی اس جنگ میں جنون کا شکار ہوئیں تو یہ اس خطے میں موجود انسانیت کی تباہی کا آخری منظر ہو گا۔ پھر نہ وسائل کی تقسیم ہو گی اور نہ ہی مارکیٹوں تک رسائی۔ اس لیے تمام علاقائی قیادتیں نئے امتحانی دور میں داخل ہو گئی ہیں جہاں قدم قدم ہوش مندی کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔ ورنہ!!!
بہ ہر حال اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ جنوبی ایشیا کی وسیع مارکیٹ اور اس کے قدرتی راستے عالمی مافیا کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں گذشتہ صدی میں افغانستان اور وسطی ایشیا میں موجود تیل اور گیس کے ذخائر کے ساتھ معدنی خزانوں پر امریکا اور یورپ نے قبضہ کیا اور پھر چینی سرمایہ کار اپنی بے پناہ دولت اور اقتصادی ترقی کے ساتھ اپنے گھر سے باہر کھلے میدانوں میں بھی آ گئے اور انھوں نے جنوبی ایشیا کے راستے افریقا، یورپ اور مشرق وسطیٰ اور جنوب مشرقی ایشیا تک رسائی کی منصوبہ بندی کر لی۔ اور کچھ راستوں کی نشاندہی کی، یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مغرب نے جنوبی ایشیا کے دوبڑے ملکوں بھارت اور پاکستان پر ہی توجہ مرکوز کی ہے بنگلہ دیش جس کی آبادی سولہ کروڑ سے زائد ہے چین اور جاپان کی توجہ کا مرکز ہے اور دونوں ملکوں میں بنگلہ دیش میں ترقیاتی معاہدے حاصل کرنے کے لیے بھی دوڑ جاری ہے۔ یاد رہے کہ جاپان نے بھی دوبارہ جنوبی ایشیا کی مارکیٹوں پر توجہ دینا شروع کر دی ہے گذشتہ ماہ جی سیون کے اجلاس میں میزبان کی حیثیت سے جاپان نے سری لنکا اور بنگلہ دیش کو بھی بلایا تھا یاد رہے کہ سری لنکا کے پاس بھی ایک کروڑ سے زائد افراد کی مارکیٹ ہے اور اس کی اپنی جغرافیائی اہمیت ہے۔ اسی اہمیت کی بنا پر چین، جاپان اور امریکا بحرہند کے اس جزیرے پر توجہ دے رہے ہیں جس میں بھارت سب سے بڑا فریق بن کر سامنے آیا ہے۔ اور اس نے امریکا کے معاشی بحران میں سمٹی پالیسیوں سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے بحر ہند پر کنٹرول کا موقع حاصل کر لیا ہے۔ تو دوسری طرف ایران کے ساتھ مل کر ’’چاہ بہار‘‘ کی بندرگاہ پر سرمایہ کاری بھی حاصل کر لی ہے جو گوادر سے صرف چار سو کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ جسے بھارتی تجزیہ کار گوادر کے بالمقابل اہمیت دے رہے ہیں لیکن ان کا یہ بھی خیال ہے کہ بھارتی حکومت کو ہمسایہ ممالک سے مخاصمت کے فیصلے بھارت کی علاقائی بالادستی کے حق میں ثابت ہیں ہوئے چھوٹے ملکوں کو نظرانداز کرنے کی اسی پالیسی نے ہی چین کو کوہ ہمالیہ سے نیچے اتر کر نیا معاشی جغرافیہ ترتیب دینے میں مدد ملی ہے بھارت کی اس سردمہری اور جارحانہ پالیسی سے ہی ان ملکوں کو دیگر قوتوں کی مدد حاصل کرنے پر راغب کیا ہے جس پر بھارت کے پالیسی سازوں کو غور کرنا چاہیے۔ کیوں کہ چین نے ہمالیہ سے نیچے سیاسی، معاشی اور دفاعی نئی پالیسی پر باقاعدہ عمل شروع کر دیا ہے۔
یہ ایک دوسرا اور مخالف نقطہء نظر ہے۔۔۔ لیکن ادھر حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان میں اقتصادی راہداری اور 46 ارب ڈالر کے معاہدے، انڈسٹریل سٹیٹس سڑکوں، موٹرویز اور ریلوے لائنوں کی تعمیر، پاور پلانٹس کی تعمیر اور ان کے لیے انفراسٹرکچر کی تیاری۔ عالمی سیاسی کردار میں تعاون اور دفاعی معاہدے محض دوستی اور محبت کا ہی تقاضا نہیں۔ اس کا بنیادی مقصد معاشی تعلقات میں توسیع اور مفادات کی دیگر منڈیوں تک رسائی ہے اور اس کی بنیادی وجہ وہ جغرافیہ ہے جو صدیوں سے ان راستوں کی نشاندہی کرتا ہے جن سے فوائد حاصل کرنے کا وقت حالات کے تناظر میں سامنے آ گی اہے جسے مخالف قوتیں تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہی ہیں جن کے سیاسی اور معاشی مفادات بدترین خطرات کی زد میں ہیں۔ اور وہ اس کو باقاعدہ محاذ آرائی کی بنیاد بنا رہے ہیں کیوں کہ حقیقت، تو یہ بھی ہے کہ۔۔۔ چین گوادر کو تجارتی شہر ہی نہیں بحر ہند میں مبینہ طور پر اپنا نیول بیس بھی بنانا چاہتا ہے چین جس کا دنیا کی پچاس فی صد تجارت پر قبضہ ہے وہ صرف نئی مارکیٹوں کو ہی تلاش میں نہیں بلکہ وہ انھیں سیاسی کردار میں اپنا شریک بنا کر نئے عالمی کردار کی تیاری کر رہا ہے۔ چنانچہ دنیا خصوصی طور پر ایشیا ایک نئی تقسیم کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ تقسیم ایشیا کی برتری کی واضح نشاندہی کے ساتھ امریکا اور یورپ کی موجودہ بالادستی کو بھی پستی کی طرف لے جا رہا ہے۔ چنانچہ ان خدشا ت کا تصور بھی نمایاں ہو رہا ہے کہ بین الاقوامی سیاسی اور معاشی ادارے جو امریکا اور یورپ کی بالادستی اور عالمی پالیسیوں میں مہرے کا کردار ادا کرتے ہیں نئے سیاسی اور معاشی منظر میں اپنا اثر و رسخ کھو دیں۔ اس تناظر میں ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ چین نے پسماندہ اور ترقی پذیر ملکوں کی معاشرتی اور معاشی مدد کے لیے ایک بینک بنانے کا فیصلہ کیا ہے جو بیس ارب ڈالر سالانہ سرمایہ کاری کرے گا۔ جو آئی ایم ایف سے بھی زیادہ وہ گی۔ اگر ایسا ممکن ہوتا ہے تو معاشی ضرورتیں نہ صرف نئی عالمی سیاسی قوت کی تشکیل کا باعث ہوں گی بلکہ ان کا جھکاو بھی اسی طرف ہو گا یہی وہ پس منظر ہے جس میں امریکا اور یورپ بھارت کو چین کے بالمقابل سیاسی قوت کے طور پر طاقت ور بنا رہے ہیں لیکن بھارت کے روایتی حکمران طبقے ابھی تک اکھنڈ بھارت کے خوابوں سے باہر نکل کرنئے حقائق کی روشنی میں آنکھیں کھولنے کو تیار نہیں۔ وہ چھوٹے ممالک کوابھی تک راجدھانیاں اور ریاستیں سمجھتے ہیں اور ان کے ساتھ مساویانہ سوچ کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کو تیار نہیں۔

Views All Time
Views All Time
566
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   وطن سے محبت کی تدریس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: