Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ساتویں آسمان سے قصور کی 9 سالہ زینب کا خط

by جنوری 10, 2018 کالم
ساتویں آسمان سے قصور کی 9 سالہ زینب کا خط
Print Friendly, PDF & Email

شاہ جی انکل! میرے امی ابو آقائے دوجہاںؐ کے دربار میں حاضری دینے گئے ہوئے تھے اور مجھ پر قیامت ٹوٹ پڑی میں تو اپنے گھر سے قرآن پڑھنے کے لئے نکلی تھی صاحبؐ قرآن کی امت کے درندوں نے میری معصومیت اور جان لے لی۔

شاہ انکل! چلیں پہلے اپنا تعارف کروادیتی ہوں۔ میرا نام زینب اور عمر 9سال ہے۔ میرے ابو جان، محمد امین انصاری معلم ہیں۔ علم کے نور کے ذریعے لوگوں کے گھروں میں اُجالا کرنے والے میرے ابو میری والدہ کے ہمراہ حجاز مقدس گئے ہوئے ہیں عمرہ کرنے۔ مجھے ہنستا کھیلتا چھوڑ کر گئے تھے لوٹیں گے تو میری قبر پر پڑی پھول کی پتیاں مرجھا چکیں ہوں گی۔ آپ حیران تو نہیں ہوئے کہ میں آپ کو خط کیوں لکھ رہی ہوں۔ بیٹیوں کا باپ بیٹی کے باپ کا دکھ اور بیٹی پر ٹوٹی قیامت کو محسوس کرسکتا ہے۔

شاہ انکل! کیا واقعی یہ مسلمانوں کا ملک ہے کیسے مسلمان ہیں یہ۔ ہمارے رسول خداؐ تو دشمن کی بیٹیوں کے سروں پر دستِ شفقت رکھ کر چادریں اوڑھاتے تھے اور یہ اپنے ہی بھائیوں کی بچیوں کو سوروں کی طرح نوچتے گھسوٹتے ہیں۔ آپ انہیں یہ مت یاد دلائیے گا کہ ہمارے رسولؐ کے گھر جب ان کی صاحبزادی حضرت بی بی فاطمہؑ صاحبہ تشریف لاتی تھیں تو رسول خداؐ اپنی جگہ سے اُٹھ کر اُنؑ کی پیشانی پر بوسہ دیتے پھر اپنی کالی کملی بچھا کر اس پر بیٹھاتے اور شفقت سے پوچھتے جانِ پدر کیسے آنا ہوا۔ یہ اور اس جیسی دوسری باتیں جو کتابوں میں لکھی ہیں صرف پڑھنے کے لئے یا مولوی کی تقریر میں اس کا ذکر آتے ہی پرجوش نعرے لگانے کے لئے۔
شاہ انکل! میرے امی ابو کے میرے لئے بہت خواب تھے اور میرا خواب یہ تھا کہ میں معلمہ بنوں گی تا کہ اس ملک اور خصوصاً اپنے شہر قصور سے جہالت ختم کرسکوں۔ آپ کو خط لکھنے کی وجہ یہ ہے کہ میں کئی بار آپ کے مرشد و بزرگ حضرت بلھے شاہؒ کے مزار پر اپنے ابو کے ساتھ جا چکی ہوں۔ یہاں آسمانوں کی دنیا میں آنے والوں پر زمین کے سارے راز اور باتیں بڑی سکرین پر چلنے لگتی ہیں۔میرا تعلق چونکہ آپ کے مرشد و بزرگ قبلہ بلھے شاہؒ کے شہر سے ہے اس لئے سوچا کہ ٓاپ کے مرشد و بزرگ کے شہر کی معصوم مقتولہ اپنا درد آپ کو سنائے۔ مرنے کی عمر تو نہیں ہوتی 9 سال کی عمر ۔ اس عمر کے بچے تو دشمن کے بھی ہوں تو لوگ پیار سے سر پر ہاتھ پھیر کر دعائیں دیتے ہیں میری اسلامیات کی کتاب میں لکھا تھا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ ابو اکثر کہتے تھے ہمارے رسولؐ نے فرمایا ہے کہ ’’ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے اس کا مسلمان بھائی محفوظ رہے‘‘۔ اس ارشاد کی روشنی میں کیا میری معصومیت اور جان کے قاتل مسلمان کہلانے کے حقدار ہیں؟۔

یہ بھی پڑھئے:   دہشت گردی کے محاذ پر نرمی دکھانے کا شاخسانہ - ایاز امیر

شاہ انکل! میں جب سے یہاں آئی ہوں آپ کے مرشد و بزرگ اور میرے شہر قصور کی وہ 10کم سن بچیاں بھی مجھے ملنے آئیں جن کی معصومیت اور جان کو کچھ مسلمان نما درندے کھا گئے ہم ساری بچیاں مل کر سوچتی اور روتی ہیں کہ ہمارا جرم کیا تھا۔ کیا بیٹی ہونا جرم تھا یا بیٹی کا گھر سے باہر کوئی ٹافی ، سلانٹی لینے جانا یا پھر قرآن پڑھنے کے لئے جانا جرم ہے۔ کیا ان بچیوں اور میرے قاتلوں کی بیٹیاں، بہنیں نہیں ہیں۔ ماؤں کی گود اجاڑ کر انہیں کیا ملا۔ یہ کیسا ملک ہے جہاں انسانیت ہر قدم پر ذلیل و رسوا ہوتی ہے۔ آپ سوچئیے قصور کی ہم گیارہ بچیوں کے ساتھ جو ظلم ہوا اس کے بعد قصور کے سارے والدین کا فرض نہیں بن جاتا کہ وہ اپنی اپنی زینبوں کا گلا دبا کر گھر کے صحنوں میں دفن کردیں۔ یا پھر بیٹیاں پیدا ہی نہ کریں۔

انکل۔ مجھے یہ بتائیں اگر گیارہ بچیاں بڑے چودھریوں، سرداروں، اسمبلیوں میں بیٹھے یا حکومت کرتے بڑے لوگوں کے خاندانوں کی ہوتیں تو بھی ایسی خاموشی ہوتی۔کیا سفید پوش والدین کی بیٹیاں اسی طرح درندوں کے ہاتھوں مرتی رہیں گی۔ مجھے معلوم ہے چند دن جلوس نکلیں گے۔ احتجاج ہوگا۔ خبریں شائع ہوں گی پھر سب اپنے اپنے کاموں میں لگ جائیں گے یہ خاموشی اس وقت ٹوٹے گی جب کوئی اور ارجمند آراء، نسیم بانو یا زینب امین درندگی کا شکار ہوگی اور اس کے گھر سے بین بلند ہوں گے اس کی ماں کو غشی کے دورے پڑیں گے۔

شاہ انکل! میرا کل سے دل کر رہا ہے کہ میں ابو کے ساتھ حضرت بلھے شاہؒ کے دربار پر جاؤں اور ان سے شکائیت کروں۔ مجھے معلوم ہے میں دنیا میں واپس نہیں جا سکوں گی۔ اچھا انکل یہاں آسمانوں کی دنیا میں کسی دن مجھے اپنے رسول پاکؐ کی زیارت نصیب ہوئی تو میں سرکارؐ کے حضور درودوسلام پیش کرنے کے بعد ان سے آپ سب کی شکائیت کروں گی کیوں نہیں آپ لوگوں نے اس ملک کو ایسا بنایا کہ بیٹیاں گھر سے باہر نکلیں تو خود کو گھر میں ہی سمجھیں۔ مجھے یقین ہے کہ میرے پیارے رسولؐ میری شکائیت سُن کر آبدیدہ ہو جائیں گے۔ اسلامیات کی کتاب میں لکھا تھا رسول خداؐ بچوں سے بہت پیار کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھئے:   لاہور دل میں،تو قصور آنکھوں میں بسا ہے

شاہ انکل! رسول خداؐ کا اُمتی ہونے کا دعویٰ کرنے والے بچوں سے شفقت و پیار کی سُنت پر عمل کیوں نہیں کرتے؟۔
میں بہت بدنصیب ہوں۔ میرے امی ابو نے میرے لئے جو خواب دیکھے تھے وہ برباد ہوگئے میں معلمہ کی بجائے مقتولہ بن گئی۔ لیکن کیا میرے پیارے شہر قصور اور ملک پاکستان میں ایسا ہی ہوتا رہے گا؟۔ آپ لوگ بھی چند روزہ سوگ کے بعد مجھ پر بیتے مظالم بھول جائیں گے مجھ سے پہلے قصور کی جن 10بیٹیوں کے ساتھ ظلم ہوا تھا انہیں بھی تو بھول گئے آپ لوگ۔ ان معصوم کلیوں کے قاتلوں کو شہر کے کسی چوک پر پھانسی چڑھایا ہوتا تو میں آج بھی سکول جاتی اور شام کو خالہ کے گھر قرآن پڑھنے بھی۔ میرے امی اور ابو جب عمرہ کرکے واپس آتے تو میں ان سے ذکر حبیبِ خداؐ سنتی کاش میں بدنصیب اُس دن گھر سے ہی نہ نکلی ہوتی۔

شاہ انکل! ایک فرمائش کرلوں۔ آپ اپنی اپنے بہن بھائیوں بلکہ سارے پاکستان کی بیٹیوں کے والدین نواسیوں کے ناناؤں اور پوتیوں کے داداؤں سے میری طرف سے درخواست کریں کہ وہ اپنی معصوم بیٹیوں، نواسیوں اور پوتیوں کو تنہا گھر سے باہر نہ نکلنے دیں گلیوں میں آوارہ سوروں جیسے جانور پھرتے ہیں یہ صرف بچیوں کے دشمن ہیں۔میں دعا کرتی ہوں کہ اللّہ تعالیٰ کسی بیٹی کے ماں باپ کو یہ دن نہ دیکھائے جو میرے ماں باپ کا نصیب بن گئے ہیں۔

واسلام
آپ کی بیٹیوں جیسی
زینب بنتِ امین انصاری
ساتواں آسمان

بشکریہ یو این این

Views All Time
Views All Time
332
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

One commentcomments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: