کافر سائنس کا اسلام کے نام خط – اویس اقبال

Print Friendly, PDF & Email
16 دسمبر 2016
اقبال ٹاون
لاہور-
عزیزم اسلام،
بہت دنوں سے آپ کو خط لکھنے کا سوچ رہی تھی مگر دہشت گردی اور اس کے سدباب دونوں میں آپ کی مصروفیات دیکھ کر ارادہ ترک کر دیتی تھی مگر آج رہا نہیں جا رہا ۔فرض کیجئے آپ کے دنیا میں سو ہوٹل ہیں اور ہر ہوٹل میں ہزار کمرے ہیں تو آپ ایک لاکھ کمروں کے مالک ہوئے ۔آپ کے سڈنی ہوٹل کے ہزار کمروں میں سے کمرہ نمبر 623 میں دو فریج ہیں ۔بڑے فریج میں دیگر سامان کے علاوہ گیارہ انڈے اور چھوٹے فریج میں آٹھ انڈے ہیں اور اس چھوٹے فریج کے آٹھ انڈوں میں سے چھٹے انڈے کی زردی کے اندر دو بیکٹیریاز آپس میں ناجائز جنسی مراسم قائم کر رہے ہیں تو کیا آپ کو اس کی فکر ہو گی ۔اگر ہو بھی تو بیکٹیریاز کو اس کی کوئی فکر نہیں ۔معلوم کائنات کے مبینہ مذہبی خالق کو ترانوے ارب نوری سالوں کے پھیلتے ٹائم سپیس فیبرک میں Laniakea,ورگو سپر کلسٹر،لوکل شیٹ،لوکل گروپ،ملکی وے سب گروپ،ملکی وے گیلیکسی اور اسکے اندر موجود نظام شمسی کے ساڑھے چار ارب سال پرانے سیارے زمین پر زندگی کے ارتقاء،فنا اور پھر ارتقاء کے اربوں سال بعد جب انسانی زبان کا ظہور ہو گیا تو صرف تین ہزار سال پہلے ممالیہ میں انسانوں کے جنسی مراسم کو Regulate کرنے کا خیال آیا اور پہلی الہامی کتاب تورات نازل کر ڈالی ۔تب سے وہ مرد اور عورت کے اپنی ہی دی گئی جبلت کے تحت غیر عروسی بوسے پر تو آگ بگولہ ہو جاتا ہے مگر باون سالہ مرد کے چھ سالہ لڑکی سے نکاح پر معترض نہیں ہوتا اور نہ ہی لونڈیوں سے جسمانی تعلقات استوار کرنے کے لئے حرمت نکاح کی شرط عائد کرتا ہے ۔اس کھانے کے ساتھ متعہ کاسلاد بھی موجود ہے ۔اسلام صاحب اگر آپ نہیں جانتے تو عرض ہے کہ ایک شمسی سال نو ارب کلومیٹر کا پھیلاو رکھتا ہے اور ترانوے ارب شمسی سالوں میں پھیلی معلوم کائنات میں صرف دو ہی ممکنات ہیں ۔یا تو Extra Terrestrial Intelligent Life موجود ہے یا نہیں ہے ۔دونوں ہی ممکنات خوفناک ہیں ۔اگر غیر ارضی ذہین مخلوق موجود ہے تو مذہبی خالق کائنات نے اسکا ذکر کیوں نہیں کیا اور اگر موجود نہیں ہے تو اس کائناتی وسعت کی توجیہ کیا ہے ۔ویسے تو آپ نے کبھی Relativity of Space and Time، ڑارک میٹر اور ڑارک انرجی کے متعلق بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا اور جبرائیل کا سارا Air Time لوکل عرب پالیٹکس کو دیئے رکھا مگر آپ اپنے معاملات بہتر سمجھتے ہیں ۔دن زمین کی اپنے Axis کے گرد Rotation کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے جس کا دورانیہ آج کل 24 گھنٹے ہے تو زمین کی پیدائش سے قبل وہ چھ دن کہاں سے آئے جس میں دنیا کی تخلیق ہوئی اس کے متعلق راقم کی راہنمائ کیجیئے گا۔ فلم PK کی ڈانسنگ کارز کی مانند اگر ہلتی ہوئی کار میں راج اور سونیا اپنی جبلتوں کی تکمیل نہیں کر رہے تو کون کر رہا ہے کچھ اسی طرح کا استدلال آپ کی جانب سے یہ کہ کر اختیار کیا جاتا ہے کہ اگر اس کائنات کو خدا نے نہیں بنایا تو کس نے بنایا ہے ۔کائنات کو خدا نے بنایا ہے،یہ دعوی مجھ جیسے کم علموں نے نہیں کیا ۔ہمیں تو نہیں معلوم کہ بگ بینگ سے پہلے زمان و مکان کی عدم موجودگی میں نہ سونے والے خدا کا تخت فرشتوں نے Super String Theory کی کس Dimension میں اٹھا رکھا تھا مگر جنہیں خدائے لم یزل کی آفاقیت پر کامل علم کی جگہ ایمان ہے،یہ انکی ذمہ داری ہے کہ وہ اس دعوے کا دفاع کریں۔اور اگر انکے مضحکہ خیز دلائل کی Introspection سے انکے مذہبی جذبات کی توہین ہوتی ہے تو انکے غیر منطقی دلائل سے ہمارے عقلی شعور کی بھی توہین ہوتی ہے ۔ویسے سچے خدا اور اس کے پیروکاروں کو نہ ماننے والے کافروں کی گستاخی کی پروا نہیں ہونی چاہئے کیونکہ بقول خود انکے ایک پتہ بھی کائنات میں خدا کی مرضی کے بغیر نہیں ہلتا ۔ویسے لگتا یہی ہے کہ صرف ایک پتہ ہی نہیں ہلتا۔ارسطو قدیم یونان کے شمالی شہر Stagira میں 2400 سال قبل پیدا ہوا ۔اس کے حیاتیاتی فلسفے کے مطابق مادہ منویہ کے خون کے ساتھ ادغام کے نتیجے میں انسانی زندگی کا ظہور ہوتا ہے۔993 برس بعد روایات کے مطابق 609 عیسوی میں پیغمبر اسلام ﷺ پر غار حرا میں پہلی وحی اتری جس کے مطابق اقراء باسم ربک الذی خلق۔خلق الانسان من علق کے الفاظ جناب جبرائیل نے آنحضور کو خدا کی جانب سے عطا کئے۔ترجمہ یہ ہے کہ پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے تجھے پیدا کیا۔جس نے تجھے جمے ہوئے خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا ۔غور کیجئے کہ کسطرح ارسطو کا حیاتیاتی فلسفہ مذہب کی Paradigm میں نقل کیاجارہا ہے حالانکہ آج ہم جانتے ہیں کہ جما ہوا خون کا لوتھڑا صرف اسقاط حمل کے نتیجےمیں بنتا ہے اورسپرم اور ایگ کے اادغام کے نتیجے میں جو Zygote بنتا ہے صرف وہی انسانی نسل کی افزائش کی صلاحیت رکھتا ہے ۔اسی طرح مسلمانوں کی کتاب مقدس کے مطابق خدا اور فرشتوں کے کلام کو سننے کی کوشش کرنے والے جنوں پر آگ کے گولے برسائے جاتے ہیں اور میں ان آگ کے گولوں کو Asteroids کے نام سے جانتی ہوں ۔ویسے جو جرات اشرف المخلوقت انسان نہیں کر سکتا وہ یہ جن کیسے کر سکتے ہیں،اس پر تو مذہب خاموش ہے ہی مگر خدا کے دفاعی نظام کا اسلحہ ڈپو نظام شمسی میں مریخ اور مشتری کے درمیان موجود Asteroid Belt کی صورت میں موجود ہے جس میں چار بڑے اینٹی جن میزائیلز کے نام Ceres,Vesta ,Pallas اور Hygia ہیں ۔بڑے جن کے لئے بڑا میزائیل اور چھوٹے جن کے لئے چھوٹا میزائیل ۔کمبخت خدائی معاملات میں کان لگاتے ہیں۔انسانی جسم میں دس متروک یا Vestigial حیاتیاتی عوامل کی موجودگی حیاتیاتی ارتقاء کا ناقابل تردید ثبوت ہے ۔ان میں اپینڈکس،Sinuses,عقل داڑھ،ٹیل بون،کانوں کی لویں،رونگٹے،ٹانسلز،مردانہ نپلز،Palmar Grasp Reflex اور Plica Semilunaris شامل ہیں۔اگر پرفیکٹ ڈیزائن کی ڈاکٹرائن کو درست تسلیم کر لیا جائے تو انسانی جسم کی درج بالا اعضاء اور Processes کے بغیر کام کرنے کی صلاحیت ڈاکٹرائن کو Imperfect Design میں تبدیل کردیتی ہے ۔مذہب زمین کو چپٹا تصور کرتا ہے اور اسی لئے امام غزالی کا خیال تھا کہ سورج غروب ہو کر خدا کے تخت کے نیچے چھپ جاتا ہے اور اگلے دن خدا اسے دوبارہ نکالتا ہے ۔بیچارے غزالی صاحب کو پتہ ہی نہیں تھا کہ سورج تو زمین پر کبھی غروب ہوتا ہی نہیں ۔ویسے بھی گِیارہویں صدی کےایرانیوں کو ساتویں صدی کے عربوں کی طرح معلوم نہیں تھا کہ زمین کے نقشے پر شمالی امریکہ،جنوبی امریکہ آسٹریلیا اور انٹارکٹیکا بھی پائے جاتے ہیں۔سورہ لقمان کی چونتیسویں آیت کے مطابق ماں کے پیٹ میں موجود بچے کی جنس کا تعین کسی جاندار کے لئے ممکن نہیں ہے ۔چلیں مان لیجئے کہ الٹرا ساونڈ مشینوں کے خالق جاندار نہیں ہیں اور یہ سوچئے کہ مسلمان زنابالجبر کے تعین کے لئے چار تماشائیوں کی جگہ ڈی این اے ٹیسٹ کی شہادت قبول کرنے کے لئے آمادہ نہیں وہ کیوں اپنے مردوں کی مسخ نعشوں کی شناخت کے لئے ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج پر بھروسہ کرتے ہیں ۔اگر حیات بعد از ممات پر ایمان ہی مذہب کامقصود ہے تو حضرت ابراہیم کی بصری تسلی کے لئے پرندے کے چار ٹکڑوں کو کیوں دوبارہ زندہ کیا گیا۔اگر ایک پیغمبر بغیر دیکھے یقین نہیں کرتا تو مذہب ایک عام انسان سے کیسے یہ توقع کرتا ہے اور اس منطق کی رو سے عام انسان پیغمبر سے زیادہ برگزیدہ ٹھرتا ہے جو دیکھے بغیر ایمان لاتا ہے ۔ویسے قران تمام جانداروں کو جوڑوں میں پیدا کرنے کا بھی دعوی کرتا ہے اور اس دعوے کے مطابق نرگس کے پودے کی شادی ٹماٹر کی بیل سے ہونی چاہئے اور گوبھی کو آلو سے بڑھ کر کون پیار دیگا ۔اگر پودے جاندار نہیں ہیں تو شاید Earthworm بھی جاندار نہیں ہے جن کا جوڑا انکے اپنے جسم میں پایا جاتا ہے اور ہیجڑے تو چکوال کا کمہار مٹی سے بنا کر چائنہ کے سیل ڈال کر ٹریفک سگنلز پر بھیک مانگنے کے لئے جھوڑ دیتا ہہے۔اب لوگ انہیں جاندار سمجھیں تو یی انکی غلطی ہے خدا کا کوئی قصور نہیں ۔ایک دن دو بار کسی ایک سال میں نہیں آ سکتا مگر یہ کارنامہ بھی اسلام صاحب آپ نے سر انجام دیا ہے ۔لیلتہ القدر سال میں ایک بار طاق راتوں میں آتی ہے اور عرب میں عید پاکستان سے ایک دن پہلے ہوتی ہے۔اب یا تو لیلتہ القدر عرب کو میسر آتی ہے یا پاکستان کو یا دنیا کے دیگر خطوں میں بسنے والے لوگوں کو مگر لیلتہ القدر کے فرشتوں کی شفٹ میں ڈیوٹیز کا تصور شاید مذہبی پیشواوں کو بھی نہیں آیا تھا ۔ٹائم ٹریول کا تصور بھی آپ کے ہاں ملتا ہے ۔فلسطین میں مسجد اقصی حضرت عمر کی خلافت کے دور میں تعمیر ہوئی مگر سورہ الاسری کی پہلی آیت اور احادیث کے مطابق پیغمبر ﷺ اسلام اس مسجد میں اپنی وفات سے قبل براق نامی پروں والے سفید گھوڑے پر اڑتے ہوئے تشریف لے گئے اور وہاں سے سات آسمانوں پر فرداًفرداً پیغمبران سے ملاقاتیں کیں- ,Troposphere,Stratosphere,Ozosphere,Mesosphere,Thermosphere
Ionosphere
اور Exosphere زمینی Atmosphere کی سات پرتیں ہیں جن کے بعد خلاء شروع ہوتی ہے مگر Apologetic علماء کے مطابق یہی سات آسمان ہیں ۔یعنی Exosphere جو زمین سے صرف 640 کلومیٹر کی بلندی پر واقع ہے مقام سدرتہ المنتہاء ہے جس کے آگے اللہ تعالیٰ موجود ہیں ۔حضرت نوح کے چار بیٹے تھے ۔حام،سام،یافص اور کنعان۔کنعان تو طوفان نوح میں غرق ہو گیا مگر بقیہ تینوں سمجھدار تھا ۔انہوں نے اپنے ابا کی لکڑی سے بنی کشتی میں زمین پر بسنے والے تمام جانور ٹارزن کی مانند سیٹی مار کر اکٹھے کرلئے اور یوں زمین پر موجود حیات اور سامی مذاہب کی بقاء میں اہم کردار ادا کیا۔اب زمین پر بسنے والی ستاسی لاکھ Species کا انبوہ کسطرح اس کشتی میں سمایا یہ پوچھنا شاید اہل ایمان کو حلال شراب اور حسین حوروں والی جنت سے محروم کر سکتا ہے جہاں بخیریت پہنچنے کی اطلاع جنید جمشید نے طارق جمیل کو مس کال مار کر دی تھی۔ صرف اپنی لاش کی شناخت کے بارے میں بتانا بھول گئے تھے۔ویسے قبر کے سوال جواب سے پہلے جنت پہنچنے کی یہ نادر مثال ہے جس کے لئے انسان کا حج اور عمرہ ٹورز میں طارق جمیل کا بزنس پارٹنر ہونا ضروری ہے ۔اسلام صاحب چاہتی تو ہوں کہ آپ کا مزید وقت لوں مگر اپنے قیمتی وقت کے پیش نظر اب اجازت چاہوں گی۔
فقط آپکی منطقی دشمن
سائنس۔
Views All Time
Views All Time
972
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   عصرِحاضر میں مسلمانوں کی مشکلات اور اُن کا حل اسفر ہاشمی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: