Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

مٹی کی مونا لیزا-اے حمید

by May 3, 2017 افسانہ
مٹی کی مونا لیزا-اے حمید

مونا لیزا کی مسکراہٹ میں بھید ہے؟
اس کے ہونٹوں پر یہ شفق کا سونا، سورج کا جشن طلوع ہے یا غروب ہوتے ہوئے آفتاب کا گہرا ملال؟ ان نیم دا مستبم ہونٹوں کے درمیان یہ باریک سی کالی لکیر کیا ہے؟ یہ طلوع و غروب کے دین بیچ میں اندھیرے کی آبشار کہاں سے گر رہی ہے؟ ہرے ہرے طوطوں کی ایک ٹولی شور مچاتی امرود کے گھنے باغوں کے اوپر سے گزرتی ہے۔ ویران باغ کی جنگلی گھاس میں گلاب کا ایک زرد شگوفہ پھوٹتا ہے۔ آم کے درختوں میں بہنے والی نہر کی پلیا پر سے ایک تنگ دھڑنگ کالا لڑکا رتیلے ٹھنڈے پانی میں چھلانگ لگاتا ہے اور پکے ہوئے گھرے بسنتی آموں کا میٹھا رس مٹی پر گرنے لگتا ہے۔

سنیما ہال کے بک اسٹال پر کھڑے میں اس میٹھے رس کی گرم خوشبو سونگھتا ہوں اور ایک آنکھ سے انگریزی رسالے کو دیکھتے ہوئے دوسری آنکھ سے ان عورتوں کو دیکھتا ہوں جنہیں میں نے فلم شروع ہونے سے پہلے سب سے اونچے درجے کی ٹکٹوں والی کھڑکی پر دیکھا تھا۔ اس سے پہلے انہیں سبز رنگ کی لمبی کار میں سے نکلتے دیکھا تھا اور اس سے پہلے بھی شاید انہیں کسی خواب کے ویرانے میں دیکھا تھا۔

ایک عورت موٹی بھدی ، جسم کا ہر خم گوشت میں ڈوبا ہوا، آنکھوں میں کاجل کی موتی تہہ، ہونٹوں پر لپ اسٹک کا لیپ، کانوں میں سونے کی بالیاں ، انگلیوں پر نیل پالش ، کلائیوں میں سونے کے کنگن ، گلے میں سونے کا ہار، سینے میں سونے کا دل، ڈھلی ہوئی جوانی، ڈھلا ہوا جسم، چال میں زیادہ خوشحالی ، اور زیادہ خوش وقتی کی بیزاری، آنکھوں میں پر خوری کا خمار اور پیٹ کے ساتھ لگایا ہوا بھاری زرتار پرس۔۔دوسری لڑکی۔ل الٹرا ماڈرن ، الٹرا اسمارٹ ، سادگی بطور زیور اپنائے ہوئے، دبلی پتلی، سبز رنگ کی چست قمیض کٹے ہوئے سنہرے بال ، کانو ں میں چمکتے ہوئے سبز نگینے کلائی میں سونے کی زنجیر والی گھڑی اور دوپٹے کی رسی گلے میں ، گہرے شیڈ کی پنسل کے ابرو، آنکھوں میں پرکار سحر کاری، گردن کھلے گریبان میں سے اوپر اٹھی ہوئی ، دائیں جانب کو اس کا ہلکا سا مغرور خم ، ڈورس ڈے کٹ کے بال، بالوں میں یورپی عطر کی مہک، دماغ گزری ہوئی کل کے ملال سے نا آشنا، دل آنے والی کل کے وسوسوں سے بے نیاز زندگی کی بھر خوشبوؤں اور مسرتوں سے لبریز جسم ، کچھ رکا رکا سا متحرک سا، کچھ بڑ بڑاتا ہوا۔ اس دودھ کی طرح جسے ابال آنے ہی والا ہو۔ سر انیگلو ، پاکستانی، لباس، پنجابی زبان انگریزی اور دل نہ تیرا نہ میرا۔

بک اسٹال والا انہیں اندر داخل ہوتے دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا اور کٹھ پتلی کی طرح ان کے آگے پیچھے چکر کھانے لگا۔ اس نے پنکھا تیز کر دیا۔ کیونکہ لڑکی بار بار اپنے ننھے ریشمی رومال سے ماتھے کا پسینہ پونچھ رہی تھی۔ موتی عورت نے مسکرا کر پوچھا۔ آپ نے “لک” اور وہ “ٹر اسٹوری” نہیں بھجوائے۔ اسٹال والا احمقوں کی طرح مسکرانے لگا۔ وہ جب اب کے ہمارا مال راستے میں رک گیا ہے۔ بس اس ہفتے کے اندر اندر سرئنلی بھجوا دوں گا۔ موٹی عورت نے کہا۔ پلیز ضرور بھجوادیں۔ لڑکی نے فوٹو گرافی کا ارسالہ اٹھا کر کہا۔ پلیز اسے پیک کر کے گاڑی میں رکھوا دیں۔ بک اسٹال والا بولا۔ کیا آپ انٹرویل میں ہی جا رہی ہیں۔ موٹی عورت بولی ۔یس پکچر بڑی بور ہے۔
انہوں نے ساڑھے تین روپے کے ٹکٹ لئے تھے۔ پکچر پسند نہیں آئی ۔ لمبی کار کار دروازہ کھول دیا اور کار دیرا کی پر سکون لہر کی طرح سات روپوں کے اوپر سے گزر گئی۔

وہ سات روپے جن کے اوپر سے لوہاری دروازے کے ایک کنبے کے پورے سات دن گزرتے ہیں اور لوہاری دروازے کے باہر ایک گندہ نالہ بھی ہے۔ اگر آپ کو اس کنبے سے ملنا ہو تو اس گندے نالے کے ساتھ ساتھ چلے جائیں۔ ایک گلی دائیں ہاتھ کو ملے گی۔ اس گلی میں سورج کبھی نہیں آیا لیکن بدبو بہت آتی ہے۔ یہ بدبو بہت حیرت انگیز ہے۔ اگر آپ یہاں رہ جائیں تو یہ غائب ہو جائے گی۔ یہاں صغرٰی بی بی رہتی ہے۔ ایک بوسیدہ مکان کی کوٹھری مل گئی ہے۔ دروازے پر میلا چکٹ بوریا لٹک رہا ہے، پردہ کرنے کے لئے۔ جس طرح نئے ماڈل کی شیو ر لیٹ کار میں سبز پردے لگے ہوتے ہیں۔ صحن کچا اور نم دار ہے۔ ایک چارپائی پڑی ہے۔ ایک طرف چولھا ، اپلوں کا ڈھیر ہے۔ دیوار کے ساتھ پکانے والی ہنڈیا مٹی کا لیپ پھیرنے والی ہنڈیا اور دست پناہ لگے پرے ہیں۔ ایک سیڑھی چڑھ کر کوٹھری کا دروازہ ہے۔ کوٹھری کا کچا فرش سیلا ہے۔در ودیوار سے نم دار اندھیرا رس رہا ہے۔ سامنے دو صندوقوں کے اوپر صغرٰی بی بی نے پراناکھیس ڈال رکھا ہے۔ کونے میں ایک ٹوکرا الٹا رکھا ہے جس کے اندر دو مرغیاں بند ہیں۔ دیوار میں دو سلاخیں ٹھونک کر اوپر لکڑی کا تحفہ رکھا ہے۔ اس تختے پر صغرٰی بی بی نے اپنے ہاتھ سے اخبار کے کاغذ کاٹ کر سجائے ہیں اور تین گلاس اور چار تھالیاں ٹکا دی ہیں۔ اندر بھی ایک چارپائی بچھی ہے۔ اس چارپائی پر صغرٰی بی بی کے دو بچے سو رہے ہیں۔ دو بچے اسکول پڑھنے گئے ہیں۔

صغرٰی بی بی بڑی گھریلو عورت ہے باکل آئیڈیل قسم کی مشرقی عورت۔ خاوند مہینے کی آخر ی تاریخوں میں پٹائی کرتا ہے تو رات کو اس کی مٹھیاں بھرتی ہے۔ وہ لات مارتا ہے تو صغرٰی بی بی اپنا جسم ڈھیلا چھوڑ دیتی ہے۔ کہیں خاوند کے پائوں کو چوٹ نہ آجائے۔ کتنی آئیڈیل عورت ہے یہ صغرٰی بی بی یقینا ایسی ہی عورتوں کے سر کے اوپر دوزخ اور پاؤں کے نیچے جنت ہوتی ہے۔ خاوند ڈاکیہ ہے۔ ساٹھ روپے کی کثیر رقم ہر مہینے کی پہلی کو لاتا ہے۔ پانچ روپے کوٹھری کا کرایہ۔ پانچ روپے دونوں بچوں کے اسکول کی فیس، بیس روپے دودھ والا کے اور تیس روپے مہینے بھر کے راشن پانی کے۔ باقی جو پیسے بچتے ہیں ان میں یہ لوگ بڑے مزے سے گزر بسر کرتے ہیں۔ کبھی کبھی صغرٰی بی بی ساڑھے تین روپے والی کلاس میں بیٹھ کر فلم بھی دیکھ آتی ہے اور اگر پکچر بور ہو تو انٹرول میں ہی اٹھ کر لمبی کار میں بیٹھ کر اپنے گھر آجاتی ہے۔ بک اسٹال والا ہر مہینے انگریزی رسالہ ، لک اور لائف اسے گھر پر ہی پہنچا دیتا ہے۔ وہ کھانے کے بعد میٹھی چیز ضرور کھاتی ہے۔ دودھ کی کریم میں ملے ہوئے انناس کے قتلے صغرٰی بی بی اور اس کے ڈاکیے خاوند کو بہت پسند ہیں۔ کریم کو محفوظ رکھنے کے لئے انہوں نے اپنی کوٹھڑی کے اندر ایک ریفریجریٹر بھی لا رکھا ہوا ہے۔ صغرٰی بی بی کا خیال ہے کہ وہ اگلی تنخواہ پر کوٹھری کو ایئر کنڈیشنڈ کروا لے کیونکہ گرمی حبس اور گندے نالے کی بدبو کی وجہ سے اس کے سارے بچوں کے جسموں پر دانے نکل آتے ہیں اور وہ رات بھر انہیںاٹھ اٹھ کر پنکھا جھلتی رہتی ہے ۔ صغرٰی نے ایک ریڈیو گرام کا آرڈر بھی دے رکھا ہے۔
مائی گاڈ وٹ اے لولی ہوم از دس
ہوم سویٹ ہوم
صغرٰی بی بی کا رنگ ہلدی کی طرح ہے اور ہلدی ٹی بی کے مرض میں سے بے حد مفید ہے۔ اس کے ہاتھوں میں کانچ کی چوڑیا ں ہیں ۔ مہینے کے آخر میں جب اس کا خاوند اسے پیٹتا ہے تو ان مین سے اکثر ٹوٹ جاتی ہیں۔ چنانچہ اب وہ اس ہر ماہ کے مستقل خرچ سے بچنے کے لئے سونے کے موٹے کنگن بنوا رہی ہے۔ کم از کم وہ ٹوٹ تو نہیں سکیں گے۔ صغرٰی بی بی کے چاروں بچوں کا رنگ بھی زرد ہے اور ہڈیاں نکلی ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر نے کہا ہے انہیں کیلشیم کے ٹیکے لگاؤ۔ ہر روز صبح مکھن ، پھل انڈے ، گوشت اور سبزیاں دو۔ شام کو اگر یخنی کا ایک ایک پیالہ مل جائے تو بہت اچھا ہے اور ہاں انہیں جس قدر ممکن ہو گندے کمروں ، بدبودار محلوں اور اندھیری کوٹھڑیوں سے دور رکھو۔ صغرٰی بی بی کا خیال ہے کہ وہ اگلی سے اگلی تنخواہ پر گلبرگ یا کینال پارک میں کسی جگہ ان بچوں کے لئے زمین کا چھوٹا سا ٹکڑا لے کر وہاں ایک چھوٹا سا تین چار کمروں والا مکان بنوالے گی۔ دو چھوٹے بچے ابھی اسکول نہیں جاتے لیکن انشاء اللہ وہ بھی ایک دن اسکول جانا شروع کر دیں گے اور جو دو بچے مزید پیدا ہوں گے وہ بھی اسکول ضرور جائیں گے۔ اب کی دفعہ وہ انہیں کانونٹ میں داخل کروانے کا ارادہ رکھتی ہے جہاں وہ ہر صبح خدا کے بیٹے کی دعا پڑھیں ۔ صغرا بی بی کو ممی کہیں ، فر فر انگریزی بولیں اور اردو فارسی پڑھ کر تیل بیچنے کی بجائے مقابلے کے امتحان میں بیٹھیں اور اونچا مرتبہ اور لمبی کار اور چوڑے لان والی کوٹھی پائیں۔

کیلشیم کے ٹیکوں کا پورا سیٹ بیس روپے میں آتا ہے۔ یہ تو معمولی بات ہے۔ اب کی وہ اپنے خاوند سے کہے گی کہ ڈاک خانے سے پہلی تاریخ کو گھر آتے ہوئے دو سیٹ لیتے آئے۔ اپنی کوٹھڑی والا ریفریجریٹر اس نے لال لال سیبوں ، سرخ اناروں ، موٹے انگوروں ، مکھن کی ٹکیوں تازہ انڈوں اور گوشت کے قتلوں سے بھر دیا ہے۔ بچے سارا مہینہ مزے سے کھائیں گے اور موج اڑائیں گے لیکن خدا کی دی ہوئی ہر نعمت کے ہوتے ہوئے بھی صغریٰ کے رخسار کی ہڈیاں باہر کو نکلی ہوئی ہیں۔ کمر میں مستقل درد رہتا ہے ،چہرہ کمزور ہو کر پیلا پڑ گیا ہے، آنکھیں پھٹی پھٹی سی، ویران ویران سی رہتی ہیں۔ ان آنکھوں نے کیا دیکھ لیا ہے؟ اس کی عمر پچیس سال سے زیادہ نہیں ۔ مگر اس کا جسم ڈھل گیا ہے اندر ہی اندر گھل گیا ہے۔ ہاتھ کی نسیں ابھر آئی ہیں۔ کنگھی کرتے ہوئے ڈھیروں بال جھڑتے ہیں۔ ہاتھ پیر ہر وقت ٹھنڈے رہتے ہیں جس طرح ریفریجریٹر میں کریم پھل اور گوشت ٹھنڈا رہتا ہے۔
صغریٰ بی بی کی شادی کو پانچ سال ہو گئے ہیں اور خاوند نے اسے صرف چار بچے عطا کئے ہیں ۔ خدا اسے سلامت رکھے ابھی اور بچے پیدا ہوں گے۔ ہر پہلی تاریخ کو اس کے خاوند کو صغریٰ بی بی سے محبت ہو جاتی ہے۔ جب بیس روپے دودھ والا لے جاتا ہے تو محبت کے اس تاج کا ایک برج گرتا ہے۔ پانچ روپے کرایہ جاتا ہے تو دوسرا برج گرتا ہے۔ پھر بچوں کی فیس، کاپیاں پنسلیں، کتابیں ، راشن ، دال ، آٹا ، نمک، مرچ ، ہلدی ، اوپلے ، کپڑا ، پریشانی ، تفکرات ، وسوسے ، ملال اور نا امیدیاں اور یہ تاج محل گنبد سمیت زمین کے ساتھ آن لگتا ہے اور خاوند اپنی محبت کی پٹاری میں سے ڈنڈا نکال کر اپنی پہلی تاریخ کی محبوبہ کی پٹائی شروع کر دیتا ہے۔

ونڈر فل ہوم
ڈیڈی آج آپ کامک نہیں لائے۔
او ممی یہ جیلی گندی ہے اسے پھینک دیں۔
کم آن ڈارلنگ صغرٰی بی بی ۔ آج الحمرا میں کلچرل شو دیکھیں۔ ڈانس، میوزک اووٹ ایتھرل ۔ ہنی۔ بس یہ وائیٹ ساڑھی خوب میچ کرے گی اور اس کے ساتھ بالوں میں سفید ماتھے کے پھولوں کا گجرا۔۔۔۔مائی مائی یو آر سویٹ مائی ڈارلنگ صغرٰی بی بی۔۔

ندی کنارے یہ کاٹج کس قدر خوبصورت ہے۔ سر سبز لان، ترشی ہوئی گھاس قطار میں لگے ہوئے پھولوں کے پودے۔ ایک ملازم غسل خانے میں لکس صابن سے کتے کو نہلا رہا ہے۔ اس کے بعد تولیے سے اس کا جسم خشک کیا جائے گا۔ کنگھی پھیری جائے گی۔ گلے میں اپرپن باندھا جائے گا اور اسے دو آدمیوں کا کھانا کھلایا جائے گا اور پھر فورڈ کار میں بیٹھ کر مال روڈ کی سیر کروائی جائے گی۔ آج اگر گوتم بدھ زندہ ہوتا تو وہ جانوروں کے ساتھ انسانوں کی اتنی شدید محبت کو دیکھ کر کتنا خوش ہوتا۔ آج اسے انسانی دکھوں اور مصیبتوں کو دیکھ کر محل چھوڑ کر جنگل میں جا بیٹھنے کی کبھی ضرورت محسوس نہ ہوتی ۔ بلکہ وہ محل ہی میں اپنی بیوی بچے اور لونڈیوں کے ساتھ رہتا ۔ کتوں کی ایک پوری فوج رکھتا، شام کو کلب میں جا کر دوستوں کے ساتھ تاش کھیلتا ، سنیما دیکھتا اور بچوں کو ساتھ لے کر انہیں کار میں سیر کرواتا۔ اس کے بچے رنگ دار قمیض اور جینز پہن کر گردن اکڑا کر ، چھوٹی سی چھاتی پھیلا کر ، پتلی سی کمر مٹکا کر کالج والے بس اسٹاپوں ، اعلی ہوٹلوں ناچ گھروں کے چکر لگاتے۔ وہ رات کو ایک بجے سوتے اور صبح منہ اندھیرے گیارہ بجے اٹھتے اور دانت صاف کئے بغیر چائے پیتے اخبار میں فلموں کا پروگرام دیکھتے۔گرمیاں کبھی مری اور کبھی سوئٹرزلینڈ میں بسر کرتے اور اپنے باپ کا نام روشن کرتے اور اسے کبھی بال منڈوا کر شاہی لبادہ پھینک کر ننگے پاؤں نروان حاصل کرنے کے لئے جنگل کا رخ نہ کرنے دیتے۔

اف مائی گڈ نس لوہاری دروازے کی اس گندی گلی میں کس قدر حبس ہے۔ یہ لوگ کیسے چارپائی گندی نالیوں پر ڈال کر سو رہے ہیں۔ وٹ اے پٹی مجھے ان لوگوں سے بڑی گہری ہمدردی ہے۔ میں ان کے تمام مسائل سے واقف ہوں ۔ میں ہر ہفتے ان کی پھیکی اور بے رس زندگی پر ایک افسانہ لکھتا ہوں ۔ میرا خیال ہے کہ میں ان لوگوں کی زندگی پر ایک پر مغز تحقیقی مقالہ لکھ کر سب مٹ کروا دوں۔ بڑا ونڈر فل میجکٹ ہے ۔ ڈاکٹریٹ تو وہ پڑی ہے۔ جس طرح وہ کھری چارپائی پڑی ہے، جس پر تین پھنسیوں زدہ بچے اور ایک بچہ زدہ ماں سو رہی ہے۔ میں ناک پر رومال رکھے۔ پرنالوں سے اپنے اجلے کپڑے بچاتا ، ان لوگوں کا گہرا مطالعہ کرتا بدبو دار گلی میں سے باہر نکل آتا ہوں۔ لاہور میں قیامت کی گرمی پڑ رہی ہے ۔ لیکن اس ہوٹل کی فضا کس قدر خشک ہے، ایئر کنڈیشننگ بھی خدا کی کتنی بڑی نعمت ہے۔ آج ہوٹل میں بڑی رونق ہے۔ سایہ دار دھیمے قمقموں کی ملائم روشنی میں لوگوں کے چہرے کتنے خواب آور دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ کہیں خواب ہی تو نہیں۔ میرا خواب صغرٰی بی بی کا خواب۔ اس کے ڈاکیے خاوند کا خواب، ہری اوم وہ پونی ٹیل والی لڑکی کتنی پیاری ہے اور وہ بلیک ٹیشو کی چست قمیض والی دوشیزہ جس کے بالوں میں ریل کے گجرے ہیں۔ کانوں میں زہریلے رنگ کے نگینے ہیں اور جس کا چہرہ باقاعدہ اور قوت بخش غذاؤں کے اثر سے کھانا کھانے والے چاندی کے چمچ کی طرح چمک رہا ہے اور وہ مرغن چہرے والی موٹی عورت جس کی آدھی آستینوں والی قمیض بازوؤں پر گوشت کے اندر دھنس گئی ہے اس عورت کا چہرہ سوم کے بت کی طرح ہے۔ بے حس اور ٹھنڈا۔ اس کی گاڑی چودہ گز لمبی ہے اور غسل خانے کا فرش بارہ مربع گز ہے اس نے ریڈیو گرام جرمنی سے منگوایا ہے۔ قالین ایران سے، عطر فرانس سے، کیمرہ امریکہ سے خاوند پاکستان سے حاصل کیا ہے۔ جتنے پیسوں کا صغرٰی بی بی کے ہفتے بھر کا راشن آتا ہے اتنے پیسے یہ بیرے کو ٹپ کر دیتی ہے۔ اس کے بنگلے میں چار کتے اور سات بیرے رہتے ہیں۔ یہ ہمیشہ چاندی کے کافی سیٹ میں کافی پیتی ہے۔ چاندی کے برتنوں میں بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ ایک تو انہیں زنگ نہیں لگتا دوسرے وہ نان پوائزنس ہوتے ہیں۔ ایک سیٹ اپنے گھریلو استعمال کے لئے لوہاری دروازے کی گلی والے ڈاکیے کو بھی خرید لینا چاھئیے۔

ہوٹل تو بالکل جنت ہے۔ ایک جوڑا سب سے الگ بیٹھا ہے۔ لڑکی دبلی پتلی سی ہے۔ چست کپڑوں نے اسے اور دبلا بنا دیا ہے۔ بال ماتھے پر ہیں۔ ناخنوں پر ریڈ انڈین گلابی رنگ کا پالش چمک رہا ہے۔ اس شیڈکی لپ اسٹک کی ہلکی سی تہہ پتلے پتلے ہونٹوں پر ہے۔ چہرے پر نسوانی نزاکت کے ساتھ ساتھ جذبات کا دھیما دھیما ہیجان سا ہے۔ کان اپنے ساتھی کی باتوں پر ہیں اور بے چین آنکھیں موقع ملنے پر ایک ایک میز کا جائزہ لے رہی ہیں۔ لڑکے کی گردن کالی بو اور بارڈر کالر میں بری طرح پھنسی ہوئی ہے۔ ان کے سامنے کولڈ کافی کے گلاس ہیں۔ روشی ڈارلنگ میں پرومس کرتا ہوں کل سے صنوعی کے ساتھ کوئی کنسرن نہیں رکھوں گا۔

شٹ اپ یو بگ لائر، تم مجھ سے فلرٹ کر رہے ہو۔ فار گاڈ سیک ڈونٹ تھنک لائیک ویٹ ۔ آئی نو یو ڈارلنگ ۔ ۔لائی ۔۔۔جھوٹ بالکل جھوٹ ۔میں یو کے سے واپس آتے ہی تم سے شادی کر لوں گا۔ تم وہاں شادی کر کے آؤ گے۔ نو ۔۔نیور۔۔تم خود دیکھ لو گی۔ پھر ہم دونوں یو کے چلے جائیں گے او وہیں جا کر سیٹل ہو جائیں گے۔ میں اس گندے شہر سے بور ہو گیا ہوں۔۔ بیرا۔۔۔
یس سر۔۔
ایک کریم پف۔
یس سر
ووڈ یو لائیک مور ڈارلنگ؟
نو تھینک یو۔
میں بھی سوچ رہا ہوں کہ یو کے جا کے سیٹل ہو جاؤں۔ میں بھی اپنی گندی گلیوں سے دور ہو گیا ہوں۔ شاید میں صغرٰی بی بی اور اس کی گلی میں کھڑی چارپائی پر ماں کے ساتھ سونے والے پھنسی زردہ بچوں کو بھی لیتا جاؤں۔
بیرا تھری اسکویش مور۔
اوپر گیلری کو جانے والی سیڑھیوں کے پاس والی میز پر تین میڈیکل اسٹوڈنٹ بیٹھے باتیں کر رہے ہیں۔ گفتگو برجی باردو، کے کالھوں ،ایگا تھاکر سٹی کے ناولوں اور پکاڈلی کی پر اسرار گلیوں سے ہو کر میڈیکل پیشے میں آکر ٹھر گئی ہے۔ یار میں تو فانئل سے نکل کر سیدھا لندن چلا جائوں گا۔ یہاں کوئی فیوچر نہیں ہے۔ بالکل ۔۔میں بھی وہیں جا کر پریکٹس کروں گا۔ برادر وہاں پیسہ بھی ہے اور مریض بھی برے پالشڈ ہوتے ہیں۔ ۔
یار میں تو یو کے جا کر کینسر ٹریٹمنٹ سپشلائیز کروں گا۔ یہاں کینسر اسپیشلسٹ کے بڑے چانسز ہیں۔ بیس روپے فیس رکھو گا اور ایک سال بعد اپنا کریم کلر کی ففٹی ایٹ مادل شو ہوگی اور گلبرگ میں ایک کوٹھی۔
بھئی یار تم نے ہل مین بیچ کیوں دی؟
چھکڑا ہوگئی تھی۔ آئل بڑا کھانے لگی تھی۔
شی۔ مس قریشی آرہی ہے۔
صدیقی تم نے اس کی بڑی بہن مسز ارشاد کو پرسوں گرفن میں دیکھا تھا؟ ارے بھئی۔ تم ساتھ ہی تو تھے کیا کلاس ون عورت ہے۔
نو ڈاؤٹ ۔۔بالکل لولوبریجڈا۔
سب لوگ پاکستان سے باہر جا رہے ہیں ۔کوئی برجی باردو کے پاس، کوئی لولوبریجیڈا کے پاس، کسی کو بیوی لئے جا رہی ہے کوئی بیوی کو لئے جا رہا ہے۔ کسی کو پیس کھینچ رہا ہے اور کسی کو پالشڈ قسم کے مریض۔ ہم لوگ کہاں جائیں گے؟ میر ابھائی ڈاکیہ کہا جائے گا؟ صغرٰی بی بی کہاں جائے گی؟ اس کے بیمار بچوں کا علاج کون کرے گا؟ مثانے کی بیماری میں نیم حکیم سے گردے کی درد کی دوا کھانے جانے والے دیہاتی کہاں جائیں گے؟ ان لوگوں کا علاج پاکستان میں کون کرے گا؟ کونے والی میز پر ایک پاکستانی آدمی امریکیوں کی طرح کندھے اچکا کر اپنے ساتھی سے کہہ رہا ہے۔ بڑی پرابلم بن گئی ہے۔ کیسی پرابلم ؟بے بی نے تین سال لوئر کے جی میں لگائے ہیں۔ کراچی سے یہاں تبدیل ہو کر آگیا ہوں۔ یہاں کسی انگریزی اسکول میں داخلہ نہیں مل رہا ۔ کارپوریشن کے اسکول والے بی بی کو پھر سے دوسری جماعت میں لے رہے ہیں۔ کہتے ہیں بچے کو اردو نہیں آتی۔ بھئی وہ تو سوائے انگریزی کے اور کچھ بولتا ہی نہیں۔ اب سمجھ میں نہیں آ رہا کیا کروں؟ اردو کو گولی مارو ۔۔اب اسے فرانسیسی پڑھا ئو گھر پر۔۔

ہوٹل میں بڑی رونق ہو گئی ہے۔ یہ بڑی رومانٹک جگہ ہے او گیلری تو بڑی پر سکون جگہ ہے۔ میں انشا ء اللہ پرسوں اس گیلری میں بیٹھ کر لوہاری دروازے کی بوسیدہ گلی والی بیمار صغرٰی بی بی پر ایک کہانی ضرور لکھوں گا۔ پارکر کا قلم ، کرو کسلے کا پیڈ، کولڈ کافی کا گلاس ، تھری کاسل کا سگریٹ ، کاؤنٹر کے گلدان میں لگی یو کلپٹس کی پتیوں اور ہوٹل میں بیٹھی خوبصورت نازک عورتوں کے کپڑوں کی یورپی مھک اور صغرٰی بی بی کا ونڈر فل میجسکٹ ایسا افسانہ تو بس اسی جگہ بیٹھ کر لکھا جا سکتا ہے۔
میں گیلری میں بیٹھا جھانک کر نیچے دیکھتا ہوں۔
تین ہم شکل ، ہم لباس لڑکیاں گردنیں اٹھائے سینہ تانے ، آنکھوں میں مغرور چمک لئے داخل ہو رہی ہیں۔ گردنیں موڑے بغیر آنکھیں اٹھائے بغیر ہر شخص جائزہ لینے لگا ہے۔

یہ دور شجاعت کے انگریزی ناولوں کی ہیرونئیں معلوم ہو رہی ہیں جو کبھی پھولدار بیلوں سے نصف ڈھکی ہوئی بالکونیوں میں کھڑے ہو کر چاندنی راتوں میں اپنے محبوب کا انتظار کرتی تھیں اور نوکیلی رنگیں چونچوں والے پرندوں کے پروں میں انتہائی جذبات، محبت نامے باندھ کر انہیں چوم کر فضا میں چھوڑ دیا کرتی تھیں۔ جو اپنے محبوب کی بے وفائی کا حال سن کر زہر کھا لیا کرتی تھیں۔ لیکن اس ایٹمی دور میں عشق فورڈ کا ر کی چابی گھمانے سے اسٹارٹ ہوتا ہے اور محبت نامے بنک کی چیک بک پر لکھے جاتے ہیں۔ اب یہ لڑکیاں محبو ب کی بے وفائی کا سن کر زہر کھانے کی بجائے چکن سینڈویچ کھا کر رومال سے منہ پونچھتی ہیں اور دوسرے محبوب کی تلاش میں دوسری کار کی تلاش میں، دوسرے کیئریر کی تلاش میں نکل پڑتی ہیں۔ محبت کے جذبات آج کل اسپرو کی ایک ٹکیہ کھا کر غائب ہو جاتے ہیں اور عشق کا ہیجان فروٹ سالٹ کے ایک ہی چمچ سے بھاپ بن کر اڑ جاتا ہے ۔ شادی زندگی کے کاؤنٹر پر مستقل سودا ہے اور محبت شادی کی گاڑی کے پیچھے لٹکتا ہوا جوتا ہے۔

فضا میں ایئر کنڈیشمنگ پلانٹ کی سونفی مہک کے ساتھ باریک ریشمی کپڑوں کی لطیف سر سراہٹ ، بجلی کی دھیمی روشنی میں روغنی چہروں کی جھلملاہٹ ، چاندی کے سر پوش والی چٹنی مربہ کی شیشیوں کی چمک دمک اور مختلف قسم کے کھانوں کی خوشبوئیں گھل مل رہی ہیں۔ دھیمی دھمی باتوں کی بھنبھناہٹ ہے۔ مسرت اندوزی کے منصوبے ہیں۔ خود اطمینانی کی ہلکی ہلکی ہنسی ہے ، خود پرستی کی ادائیں ہیں۔ گہرے اسرا رو رموز والی پر اسرا نگاہیں ہیں اور خواب ہیں صحت مند دھلے دھلائے چہرے ہیں۔ رگڑ رگڑ کر داڈھی مونڈھے گال ہیں۔ گردن ، کندھے اور نظرو ں کے غیر ملکی ٹکسال میں ڈھلے ڈھلائے اشارے ہیں۔ پھنسی پھنسائی گردنیں ہیں۔ گھٹی گھٹی باتیں ہیں۔ برجی باردو کے ہونٹ ہیں ، لولو بریجنڈا کے پاؤں ہیں ، ڈورس ڈے کے بال ہیں، امریکی ٹائیاں ہیں۔ فرانسیسی عطر ہیں، انگریزی جوتے ہیں، سوئٹرزلینڈ، جرمنی ، سیلون اور سنگا پور کی باتیں ہیں۔ کہیں چک 92 ایف کی دوپہر میں ہل چلاتا کاشتکار نہیں۔ کہیں حلوائی کی دکان کے پھٹے پر بیٹھ کر پیا جانے والا لسی کا گلاس نہیں، کہیں دور افتادہ گاؤں میں غوثیہ یونیورسٹی کی بنیاد رکھنے والا ڈاکٹر فرید نہیں، کہیں تاریک افریقہ کے جنگلوں میں انسانوں کی بھلائی کے لئے زندگی وقف کر دینے والا الرٹ شویٹرز نہیں۔ کہیں صغرٰی بی بی کے زرد گالوں اور کمر کی مستقل درد کے لئے کیلشیم نہیں۔ کہیں مشرقی پاکسان کے دریاؤں کے سیلاب سے برسر پیکار رہنے والے ماہی گیر نہیں۔ وہ اداس آنکھیں نہیں، وہ ناریل کے تیل لگے گہرے سیاہ بال نہیں، کہیں وہ پہلی کی پہلی بیوی سے محبت کرنے والا اور مہینے کے آخر میں اس کی پٹائی کرنے والا مفلوک الحال ڈاکیہ نہیں، کوئی سیل زدہ دیوار نہیں جس پر صرف تانبے کے چار گلاس اور تین تھالیاں لگی ہوں۔ کھیتوں کی کڑکتی دھوپ میں اپنی ہیر کی راہ دیکھنے والا کوئی رانجھا نہیں۔ سب ڈرائینگ روم لورز ہیں، ٹھنڈی نشست گاہوں میں انناس کے قتلے اور کولڈ کافی کا گلاس سامنے رکھ کر محبت کی سرد آہیں بھرنے والے عاشق ہیں۔ یوکلپٹس کی پتیوں کو فرنچ عطر کانوں پر لگا کر کہانیاں لکھنے والے افسانہ نگار ہیں۔ قوم ، مذہب ، ملت او سیاست کے نام پر اپنی گاڑیوں میں پٹرول دلوانے والے اور اپنی کوٹھیوں میں نئے کمرے بنوانے والے درد مندان قوم ہیں۔ عشرت انگیزی ہے، تصنع آمیزی ہے۔ سر پرستی ہے، خود پسندی ہے، جعلی سکے ہیں کہ ایک کے بعد بنتے چلے جا رہے ہیں۔ روشنی کے داغ ہیں کہ ایک کے بعد ایک ابھرتے چلے جا رہے ہیں۔ انہیں صغرٰی بی بی کے بچوں کی پھنسیوں سے کوئی سروکار نہیں۔ انہیں اس کے ڈاکئے خاوند کے تاج محل کی بربادی کا کوئی علم نہیں۔ انہیں کھڑی چرپائی پر گندے نالے کے پاس رات بسر کرنے والوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ دھان زمین میں اگتا ہے یا درختوں پر لگتا ہے انہیں کوئی خبر نہیں۔یہ اپنے ملک میں اجنبی ہیں۔ یہ اپنے گھر میں مسافر ہیں۔ یہ اپنوں میں بیگانے ہیں۔ چیک بک ، پاسپورٹ ، کار کی چابی کوٹھی اور لائسنس ۔۔یہی ان کی منزل ہے ،یہی ان کا محور ہے، یہی ان کا مرکز ہے، یہی ان کا مذہب ہے اور یہی ان کا پاکستان ہے۔یہ وہ باسی کھانے ہیں جن کی تازگی ریفریجریٹر بھی برقرار نہ رکھ سکا۔ یہ دو سورجوں کے درمیان کا پردہ ہیں۔ یہ کھلے ہوئے متبسم لبوں کے درمیان کی تاریک لکیر ہیں یہ اس غار کے منہ پر تنا ہوا جالا ہیں جہاں چاند طلوع ہو رہا ہے۔

اب رات آسمان کی راکھ میں سے تاروں کے انگارے کریدنے لگی ہے۔ لوہاری دروازے کی تنگ و تاریک گلی میں حبس میں بدبو ہے، گرمی ہے ، مچھر ہیں ، پسینہ ہے، ٹوٹی پھوٹی کھڑی چارپائیوں کی سیدھی ٹیڑھی قطاریں ہیں ، نالیوں میں جمی ہوئی گندگی ہے۔ چارپائیوں سے نیچے لٹکتی ہوئی گلی کے فرش پر لگی ہوئی ٹانگیں ہیں۔ کمزور باسی چہرے ہیں پھٹے پھٹے ہونٹ ہیں۔ صغرٰی بی بی اپنے چاروں بچوں کو پنکھا جھل رہی ہے، کوٹھڑی میں حبس کے مارے دم گھٹا جا رہا ہے۔ گندے نالے والی کھڑکی میں گرم ایشیائی رات کے سبز چاند کی جگہ اوپلو کا ڈھیر پڑا سلگ رہا ہے ۔ اس کا ڈاکیہ خاوند پاس ہی پڑا خراٹے لے رہا ہے۔ پنکھا جھلتے جھلتے اب صغرٰی بی بی بھی اونگھنے لگی ہے۔ اب پنکھا اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گر پڑا ہے ۔ اب کمرے میں اندھیرا ہے۔ خاموشی ہے۔ چار بچوں کے درمیان سوئی ہوئی مٹی کی مونا لیزا کے ہونٹ نیم وا ہیں۔ چہرہ کھنچ کر بھیانک ہو گیا ہے۔آنکھوں کے حلقے گہرے ہو گئے ہیں اور رخساروں پر موت کی زردی چھا گئی ہے۔ اس پر کسی ایسے بوسیدہ مقبرے کا گمان ہو رہا ہے ، جس کے گنبد میں دراڑیں پڑ گئی ہوں جس کے تعویذ پر کوئی بتی نہ سلگتی ہو اور جس کے صحن میں کوئی پھول نہ کھلتا ہو۔

مرتبہ پڑھا گیا
183مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: