Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

برا کہانی کار

by ستمبر 11, 2016 افسانہ
برا کہانی کار
Print Friendly, PDF & Email

عالمی افسانہ میلہ bura-kahani-kaar2016
عالمی افسانہ فورم
افسانہ نمبر18 ” برا کہانی کار ”
سید تحسین گیلانی جنوبی افریقہ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
"یار سچی بات ہے میں اچھا کہانی کار نہیں ہوں”
"ارے آفاق کیسی بات کرتے ہو یار ”
"ویسے اچھی گفتگو ہوئی شیریں کے ادق تنقیدی مضامین پڑهے ہی تھے لیکن وہ تو مکالمہ بھی کمال کا کرتی ہے یار ”
"ہاں پرکاش ، وہ بلاشبہ خاص دماغ ہے
تم چائے پیو ”
وہ کہتی ہے تم اچھے کتها کار نہیں ہو تمہارے پیغام کی ترسیل نہیں ہو پاتی-
ہا ہا
ہاں یاد آیا اس دن مباحثے میں بھی تو اس نوجوان فسوں گر نے یہ ہی کہا تھا شاید اس کا اشارہ میری جانب ہی تھا اس نے بهی تو شیریں کی تائید میں ہی کہا تھا کہ :
آپ خود دیکھ لیں عصمت ، منٹو ، واجدہ تبسم ان کی مانگ ہمیشہ زیادہ رہی ہے وہ اچھی کہانی لکھتے ہیں وہ قاری کے ذہن سے کھیلتے ہیں انہیں معلوم ہے پردہ در پردہ چھپے ان برہنہ اذہان کی چاہ جنس ہی ہے -تو میں نے جواب میں کافکا کے ” کاسل ” "ٹرائل ” "میٹاموروفوسس ” کی مثالیں دیں اور دوران گفتگو کہا تھا، گو کہ کافکا استعاراتی و صنعتی زبان کا مخالف تھا لیکن اس کی کہانیوں کے سبھی کردار سمبالک ہیں اس کے ہاں فکشن میں محض Fancy ہی نہیں Imagination بهی موجود ہوتی ہے سرئیلی ادبا میں ایمجز خود کار Automatic تحریر ہوتے چلے جاتے ہیں –
یار آفاق تم گنجلک ہو رہے ہو اس نوجوان کی بات اپنی جگہ اہم ہے کہ قارئین کیا چاہتے ہیں وہ اہم ہوتا ہے –
ہاں شاید میں ہی غلط ہوں لیکن کیا کروں مجبور ہوں مجھے اس آسان رستے پر کانٹے دکھائی دیتے ہیں میں اردی تخلیقی ادب کا قائل نہیں ہوں –
ہا ہا ہا ارے بهئی تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ وہ ارادی تخلیق کار ہیں ؟؟
ہاں تو جو ادب ،آرٹ کی سطح سے ہٹ کر سطحیت پر اتر آئے اور جنس کا سہارا لے اور قاری کو مدد نظر رکھ کر خلق کیا جائے اسے اور کیا کہوں ؟؟
جو ادب ،شاید میں غلط کہہ گیا
جو تحریر ، بہتر ہے …
دیکھو آفاق تمہاری بات اپنی جگہ ، لیکن آج شاید Survival کی جنگ لڑتا ادیب بکنا چاہتا ہے بالخصوص ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ
ہمارے ادیب کا دماغ ہی اس کا پیٹ ہے وہ اپنے دفاع کی جنگ میں قلم اٹھاتا ہے اس کے مسائل اور ہیں، اور تم جن کا ذکر کرتے ہو ان کے مسائل اور ہیں یہ تقابل ہی غلط ہے سرے سے –
دیکھو پرکاش میں خالص تخلیقی عمل کی بات کر رہا ہوں تم سب جانتے ہو مسائل مجھے بهی ہیں، بچے گھر روزگار واقعی یہ ہمارے ادیب کے اہم مسائل ہیں جن کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا یہ مسائل کسی نہ کسی طرح ہر معاشرے کے ادیب کے ساتھ جڑے رہے ہیں یہاں وائف بچوں کے مسائل تو وہاں گرل فرینڈ اور نفسیاتی الجھنیں ….خیر تم موضوع مت بدلو –
اچھا بابا دھیرج رکھو میں سن رہا ہوں معلوم ہے بھابھی نہیں ہے تو میرا دماغ چاٹو گے تم؟ یار انہیں لے آؤ چھ مہینے سے زیادہ ہو گئے اب تو اور پچھلے چھ مہینے سے میں روز دیکھتا ہوں یہ بستر یوں ہی پڑا ہے کم از کم صفائی ہی کروا لو کسی کو بلا کر اور خود گیانی صاحب یہاں پڑے رہتے ہیں ….
بات تو کرتے ہو نا ……؟؟
ارے ہاں ہاں ہوتی رہتی ہے بات سب ٹھیک ہے آ جائے گی اس کی ماں بیمار ہے تو ویسے بهی گاؤں میں بہن بھائیوں کے ساتھ خوش رہتی ہے مجھے کہتی ہے یہاں سیٹل ہو جائیں ….اسے کیا معلوم کچھ جگہوں سے محبت ہو جاتی ہے شاید اس کی محبت وہ ہے –
آ جائے گی تب تک ان بستر کی سلوٹوں کو سنبھال کر رکھا ہے –
ہاں معلوم ہے تم رومان پسند تو ہو – لیکن اپنی کہانیوں میں بورنگ ہو صحیح کہتی ہے شیریں اچھے کہانی کار نہیں ہو تم ،
آفاق مجھے یاد ہا شیریں نے جدید کہانی کاروں پر لکھے ایک تجزیے میں تمہارے سمبالک اظہار کو بہت رگیدا تھا اور میں متاثر بهی ہوا ،اس نے معروف جرمن فلسفی شاپن ہاور کے منطقی استدلال سے تمہارے سمبالک اظہار کو رد کیا تھا –
یاد ہے آفاق ؟؟
یاد نہیں آ رہا کون سا مضمون؟
ہاں ہاں یاد آیا وہ مضمون "ترنگ ” میں بهی شائع ہوا تھا اور خاصی لمبی بحث رہی تهی اس پر –
ہاں وہ ہی اس نے شاپن ہاور کا جو منطقی استدلال کوٹ کیا تھا اس کی گونج آج تک مجھے سنائی دیتی ہے کہ حقیقی اور اصل معرفت Knowledge کی بنیاد ادراک ہے –
محض تجریدی تخیل ادراک کا کوئی جوہر نہیں ہوتا بلکہ وہ ساخت کی ترکیب میں بادل ہوتے ہیں عقل اور عبقریت Genius کی بنیاد تجریدی Abstract اور اسطرادی Discursive عناصر پر نہیں ہے بلکہ قوت مشاہدہ پر ہے –
ارے یار پرکاش میں جوابی مضمون لکھ چکا ہوں بلکہ اسی جریدے میں میرا خط بهی شائع ہوتا تھا تو خاموشی ہوئی –
اس مضمون کا اصل point یہ تھا کہ اور شاپن ہاور کا کہنا بهی اصلا یہ تھا کہ حکمت Wisdom ایک بدهی intuitive عنصر ہے – تو میں اس کے اس کہے کو مانتا ہوں -اس نے ہمیں سمبل سے قریب ہونے میں مدد دی ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن یاد رہے اس نے یہ بات تب کی تھی جب فلسفے کا منطقی دور تھا اور فلسفہ خالص تجریدی نظریات سے نفسیات کی جانب پیش قدمی کر رہا تھا لیکن بعد ازاں فرائیڈ اور ژونگ نے اس موضوع کا دائرہ وسیع کیا-
ہاں مجھے یاد ہے تمہارا خط لیکن مجهے محسوس ہوا ناقدین نے شیریں کو زیادہ سراہا تمہارے خط پر سب چپ تو ہو گئے لیکن مکالمہ رک گیا جس وجہ سے تمہارے اہم نکات بهی وقت کی دھول میں دب گئے –
وہ عورت ہے یار اور فطین بهی ….
ہا ہا ….ہاں …..لیکن اس کا انداز بھی تو مدلل تھا …..
میں کب انکار کرتا ہوں میں خود معترف ہوں اس کی علمی رائے کا لیکن مجھے اختلاف رائے کا پورا حق ہے –
میں تخلیق کو ایک بدهی و عفوی عمل جانتا ہوں –
ایک داخلی تجربہ اور سطحی ادب کو آرٹ سے الگ کرتا ہوں جب کہ وہ سطحی اور پاپولر ادب کی پر پرچارک ہے –
بس بس بس –
اب میں چلتا ہوں کل یہیں سے بات شروع کریں گے – آرام کرو تم بهی …..
آرام کہاں یار ….ابھی کچھ لکھ رہا ہوں مکمل کر لوں پھر سو جاؤں گا –
کیا لکھ رہے ہو ؟؟
Narcissus نرگس
لڑکا تھا لیکن اس کے لیے مونث کی جنس کیوں متعین کی گئی ؟؟
—————————–
پانچ سال بعد …..
آفاق ….سمجھ سے باہر ہے تمہیں مبارک باد دوں یا اس کی جیت پر اسے !!
شیرین حسن کو تمہارے افسانے ” برا کہانی کار ” کے تنقیدی و فکری جائزے پر نیشنل ایوارڈ دیا گیا آخر اس نے تمہیں ایک "برا کہانی کار ” ثابت کر ہی دیا –
پرکاش تم اس کے سمبالک تجزیے کو شاید سمجھ ہی نہیں پائے ورنہ یہ سوال کبھی نہ کرتے !!!
مجهے علم ہے میں واقعی ایک برا کہانی کار ہوں –

Views All Time
Views All Time
581
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   قبرستان کی باتیں شہروں میں سنائی نہیں دیتیں
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: