گهمن گهیرہ میں مسلک بدنام

Print Friendly, PDF & Email

مسلکی تعصب رکھ کر بات کرنا کم ظرف شخص کا کام ہے بلکہ مسلکی تعصب ہمیشہ انہی کے پیش نظر ہوتا ہے جنہیں اپنا مسلکی چورن بیچنا ہوتا ہے۔ چونکہ میں سیدها سادها مسلمان ہوں اور تمام فرقوں پر اپنے تحفظات کا اظہار بهی برملا کرتا رہتا ہوں اس لیے مسلکی مجاہدین کی اکثریت مجھ سے خفا ہی رہتی ہے۔
الیاس گهمن واردات کو لے کر دوستوں کا خیال ہے کہ مسلک کو بدنام نہ کیا جائے۔ گزارش ہے کہ مسلک تب بدنام ہوتا ہے جب مسلکی لوگ برائی کی وکالت شروع کردیتے ہیں۔ الیاس گهمن کو لےکر واقعی کچھ مسلکی علماء نے اعلانِ برات کیا مگر رعایت اللہ فاروقی جیسے احباب کی بروقت وکالت نے ان کے اعلان برات پہ پانی پهیر دیا اور مخالفین مسلک کے خلاف لٹھ لے کر نکل پڑے۔ یہ بات ابهی تک میں بهی نہیں سمجھ پایا کہ فاروقی صاحب نے الیاس گهمن کی وکالت کرکے دوستی کا حق ادا کیا ہے یا کوئی سن بلوغت سے متعلق پرانا بیر نکالا ہےکیونکہ فاروقی صاحب کے کالم نے جلتی پر پٹرول کا کام کیا جس نے گهمن گهیرہ کی شکل اختیار کرلی اور آگ نے پورے مسلک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
میں اکثر کہتا ہوں کہ شیاطین ہر مسلک میں بکثرت پائے جاتے ہیں مگر درد مندانِ مسلک کا کام یہ ہے کہ وہ ان شیاطین کو اپنے اپنے مسلک سے باہر نکالیں اور ان کی مذمت کریں نہ کہ وکالت شروع کردیں۔
آپ دہشتگردی کی مثال لے لیجئے۔ زیادہ تر دہشتگرد تنظیموں کا تعلق غیر متنازعہ طور پر گهمن گهیرہ مسلک سے ہے تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ اس مسلک کا ہر شخص دہشتگرد ہے؟ ہرگز نہیں۔ اس مسلک میں بهی بےشمار اچهے لوگ موجود ہیں۔ تو پهر مسئلہ کیا ہے؟؟؟ مسئلہ یہ ہے کہ مسلک کے اکثر نامور مولوی صاحبان مسلک کی بدنامی کے خوف سے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ کچھ دہشتگردوں کی وکالت بهی کرتے نظر آتے ہیں۔ مولوی صاحبان کے اثرات ان کے پیروکاروں پہ بهی نمایاں نظر آتے ہیں۔ اکثر مذمت کرتے وقت بهی اپنے مولویوں کی طرح اگر مگر وغیرہ سے کام لیتے ہیں تو میرے پیارے پیارے بهائیو مسلک ایسے بدنام ہوتا ہے۔
جہاں تک الیاس گهمن کی بات ہے تو میں نے پہلے بهی عرض کیا تها کہ وہ مسلک والوں کے لیے کل بهی ولیءکامل تها، آج بهی ہے اور آنے والے کل بهی رہے گا۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ ہمارے لیے مسلک ہی کل اسلام ہے اور صرف مسلک سے وابستہ مولوی صاحبان ہی عالم اور ولی ہیں۔ باقی تمام مسالک کے کسی بهی مولوی کو تو ہم عالم تک ماننے کو تیار نہیں۔ ہر مسلک کا یہی حال ہے۔
جب سے فیس بک پر گهمن گهیرے نے ڈیرہ ڈالا ہے، تب سے کچھ لبرل دوست بهی تہہ خانوں سے باہر تشریف لے آئے ہیں اور ان کا مسلک بهی منظر عام پر آگیا ہے جو اچهی علامت ہے۔ ارے بھئی منافقت کا لباس اتار دیجئیے۔ آپ جو بهی ہیں، بہت اچهے ہیں۔ خود کو ایسے چھپانا مردانگی نہیں ہے۔
صاف چهپتے بهی نہیں، سامنے آتے بهی نہیں
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
جہاں تک مدارس کی بات ہے تو ایک وقت تها جب مدارس عالم اسلام کا کل سرمایہ تهے مگر ان میں سے بیشتر ،آج فقط غلام بنانے کی فیکٹریاں اور جنسی تسکین کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ وہ مدارس جہاں سے پڑهنے والوں کے علم کی ایک دنیا آج بهی معترف ہے۔ وہ لوگ آج علم کی الف ب سے بهی واقف نظر نہیں آتے۔ کیا کوئی ایسے مدرسے کا پتہ بتا سکتا ہے جہاں فرقہ واریت کی تعلیم نہ دی جاتی ہو؟ جس پر مسلک کی چهاپ نہ ہو؟
تو میری ان دوستوں سے گزارش ہے جنہیں مسلکی بدنامی کی فکر لاحق ہے کہ مسلک کو چهوڑ کر مسلمان ہوجائیں۔ مسلک کی چهوڑیں اسلام کی فکر کریں۔ اسلام جو غالب ہونے کے لیے آیا تها، ہماری مسلکی بدنامی کی فکر نے اسے مغلوب کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   میرے ماتھے پر بوسہ دو

سوچیے۔۔۔

فارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا
یا اپنا گریباں چاک۔۔۔یا دامنِ یزداں چاک

 

Views All Time
Views All Time
1242
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: