Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

کرپشن سکینڈل: سام سنگ کے سربراہ سے پوچھ گچھ

Print Friendly, PDF & Email

_93534539_1f229462-2282-459a-a400-e3c3987ddb35جنوبی کوریا کی معروف کمپنی سام سانگ کے سربراہ لی جائے یونگ سے کرپشن سکینڈل میں ملوث ہونے کے الزام میں پوچھ گچھ کی گئی ہے۔

سام سنگ کمپنی پر الزام ہے کہ انھوں نے صدر پاک گُن ہے کی دوست اور کرپشن سکینڈل کی مرکزی کردار چوئی سُن سِل کی تنظیموں کو 31 لاکھ ڈالر کے عطیات دیے تھے اور انھوں نے ایک متنازع کاروباری فیصلے کی سیاسی حمایت کے عوض یہ عطیات دیے تھے۔

لی جائے یونگ نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا کہ ’میں اس واقعے کی وجہ سے مثبت تصویر پیش کرنے میں ناکامی پر لوگوں سے معافی مانگتا ہوں۔‘

اس سکینڈل میں ملوث ملک کی صدر پاک گُن ہے کے خلاف مواخذے کی تحریک چلی اور پچھلے سال نو دسمبر کو پارلیمان میں ووٹنگ کے بعد ان کو معطل کر دیا گیا تھا۔

جنوبی کوریا کے قانون کے مطابق آئینی عدالت اب اس معطلی کے حق یا مخالفت میں چھ مہینے کے عرصے میں فیصلہ سنائے گی۔ اس وقت تک ملک کی باگ ڈور وزیرِاعظم کے پاس ہو گی۔

اس سے قبل رواں ہفتے سام سنگ کے دو دیگر اعلیٰ اہلکاروں سے خصوصی پراسیکیوٹرز نے سوالات کیے تھے تاہم یہ پوچھ گچھ بطور گواہ کی گئی تھی نہ کہ مشتبہ افراد کے۔

واضح رہے کہ دسمبر میں پارلیمانی سماعت کے دوران سام سنگ نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے چوئی سُن سل کی دو تنظیموں کو ایک کروڑ 70لاکھ ڈالر کے عطیات دیے ہیں لیکن اس کے عوض کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔

لی جائے یونگ اس وقت سام سانگ کے نائب صدر ہیں لیکن 2014 میں اپنے والد اور کمپنی کے چیئرمین لی کُن ہی کو دل کا دورہ پڑنے کے بعد سے وہ کمپنی کے سربراہ سمجھے جاتے ہیں۔

بشکریہ: بی بی سی اردو

Views All Time
Views All Time
234
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   افغان سفیر نے افغانستان میں قیام امن کیلئے مولانا سمیع الحق سے مدد مانگ لی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: