Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

پنچایت زدہ معاشرہ

by اگست 24, 2016 بلاگ
پنچایت زدہ معاشرہ
Print Friendly, PDF & Email

Sami Khanاکیسویں صدی میں جہاں ون کلک گو گلوبل ” One Click, Go Global” کا نظریہ متعارف ہوا ہے، وہاں ہمارے سماج میں خان، نواب، وڈیرا، چودھری اور ملک ایک چھوٹی سی سلطنت بنا بیٹھے ہیں جو دقیانوسی اور جہالت میں اپنی مثال آپ ہے۔ یہ پنچاییت اور جرگہ گاؤں کی سطح پت ایک قانون ساز اسمبلی کی حیثیت رکھتی ہے، جہاں معاشرے اور سماج کیلے غیر منطقی اقدار بنتے ہیں، جو پھر لمبے عرصے تک چلتے ہیں۔ یہ اقدار صرف اور صرف طاقت کی ہوس، برتری کے شکار اور خود ساختہ تصوراتی فلاحی ریاست کا ایک کھوکھلا ڈھانچہ ہوتا ہے، اور کچھ نہیں۔ مملکت خداد پاکستان کے طول و عرض میں ابھی تک کچھ ایسے معاشرتی اقدار بھی موجود ہیں، جو کسی قیامت کبریٰ سے کم نہیں ہوتے۔ اور یہ سماجی اقدار ان خانوں، نوابوں اور وڈھیروں کی کارسازی ہیں۔ مثلا لڑکیوں کو شادی کرانے کیلیے خاطر خواہ رقم کا ہونا اتنا ہی لازمی ہوتا ہے جتنا نماز کیلیے وضو۔ جہیز کو دلہن سے زیادہ اہمیت دینا، ایک گھر میں سات بہوؤں کا اکھٹے رکھنا اور گھر کی دیواریں بھی چھوٹی چھوٹی۔ لڑکی بانجھ ہو تو لعن طعن، اور اگر لڑکا بانجھ ہو تو امیر خسرو، لڑکا خود بنکاک کا کھلاڑی اور لڑکی چاہیے اُسے "ورجن”، لڑکا راستے میں مُوتے تو کوئی فحاشی نہیں، اور اگر لڑکی کا پلُو تھوڑا سا گر گیا تو آسمان سر پر اٹھا لیا جاتا ہے۔ خود کا ازاربند اگر لٹک رہا ہو تو مردانگی کی نشانی اور اگر عورت کی ایڑھی دیکھی تو فاحشہ، لڑکی تعلیم حاصل کرےگی تو کانٹ کرےگی اوراگر لڑکا تعلیم یافتہ ہو تو شہری بابو۔ اس جیسے کافی سارے اور اقدار جو انسانیت کے احاطے میں بھی نہیں آتے جیسا کہ قران سے شادی، مطلقہ عورت کو حقارت کی نظر سے دیکھنا۔ زیادہ تر ایسی روایات اُس بنجر اور ریگستانی علاقوں کی تہذیب و تمدن کا حصہ ہوتی ہیں جہاں پانی کی کمی اور موسم کی گرمی نے اُس علاقے کے باشندوں کے دندان تو چھوڑیں ذہن بھی پیلے کر رکھے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ غلام ہیں، لیکن پھر بھی خوش ہیں۔ یہ مانتے ہوئے کہ عورت انسان ہے، لیکن پھر بھی شادی کی وقت قیمت لگاتے ہیں۔ یہ محسوس کرتے ہوئے کہ دنیا سے بہت پیچھے ایک عجیب گولے میں رہتے ہیں، لیکن پھر بھی وہی عجیب و غریب سماج کے حصے بنے ہوئے ہیں، یہ سمجھتے ہوئے کہ تعلیم وقت کی ضرورت ہے پھر بھی گاؤں کے چودھری، خان، وڈھیرے اور ملک کی قدموں کا خوشہ بنے ہوتے ہیں۔ سرکس پہ لڑکیوں کو ناچتےہوئے انجوائے کریں گے، لیکن اپنی بیوی کو نوکری کراتے ہوئے ناک کٹتی ہے چک میں۔ اب اگر ایک بندے کی نشوونما ایسے سماج میں ہوتی ہے جہاں یہ ساری سماجی بُرائیاں ایک پنچاییت بناتی ہے تو وہاں زرداری کی کرپشن کا کیا گلہ، نواز شریف کا پانامہ لیکس میں نام آنے کا کیا گلہ، یوسف رضا گیلانی کا ترکی کے وزیر اعظم کی بیوی کی ہڑپ کرنے کی کوشش پر کیا اعتراض، کاظمی صاحب کے حج سکینڈل کا کیا کام، حافظ حمداللہ کا شلوار اُتارنے کی باتوں کا کیا گھٹیا پن، خواجہ آصف کے ملک کی قانون ساز ادارے میں کسی عورت کو ٹریکٹر ٹرالی کہنا کوئی اتنی عجیب بات بھی نہیں ہوگی۔ جب یہ غیرقانونی اسمبلیاں گاؤں کی سطح پر ان وڈیروں، خانوں اور چودھریوں کا پلنگ توڑ مقابلہ نہ ہو تو سماج کی بڑھوتری ایسی ہی ہوگی۔ کیونکہ وہ کہتے ہیں نہ کہ بھگوان کے بھروسے نہ بیٹھو، کیا پتہ بھگوان تمہارے بھروسے بیٹھا ہو۔

Views All Time
Views All Time
1069
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   پیکرِ انسان میں حلول زدہ شیطان
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: