Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

پاکستان میں تکفیری وجہادی اثاثوں کے سٹیک ہولڈر کون ؟ – عامر حسینی

by اکتوبر 30, 2016 کالم
پاکستان میں تکفیری وجہادی اثاثوں کے سٹیک ہولڈر کون ؟ – عامر حسینی
Print Friendly, PDF & Email

aamir-hussaini-new-1اکتوبر کی 27 تاریخ کو پرائم منسٹر آفس سے ایک خصوصی کال چیف آرمی سٹاف کے آفس میں کی گئی اور اس کال پہ چیف آرمی سٹاف سے کہا گیا کہ ان سے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار ، چیف منسٹر پنجاب میاں شہباز شریف اور فنانس منسٹر اسحاق ڈار خصوصی ملاقات کریں گے۔اس ملاقات کا بظاہر مقصد حکومت کی جانب سے صحافی سیرل المیڈا کو قومی سلامتی بارے پارلیمانی پارٹیوں کی کانفرنس میں ہونے والی ان کیمرہ بات چیت کو لیک کرنے کے زمہ داروں کا تعین کرنے کے لئے کی جانے والی انکوائری رپورٹ پیش کرنا بتایا گیا۔اس رپورٹ کے حوالے سے میڈیا کے بعض سیکشنز میں یہ بات سامنے آئی کہ اس خبر کو لیک کرنے کی ذمہ داری وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید اور ایک بیوروکریٹ پہ ڈالی گئی ہے جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔پاکستانی پریس کے نواز شریف کے حامی پریس کے ایک سکیشن نے اسی رپورٹ کے گرد ساری خبرنگاری کو گھمائے رکھا اور انہوں نے اپنی تحقیقاتی صحافت کی صلاحیتوں کا رخ ان واقعات کی جانب نہیں موڑا جو اس ملاقات کے فوری بعد اسلام آباد اور لاہور میں رونما ہونے شروع ہوئے۔ظاہر سی بات ہے کہ نواز شریف کا حامی پریس کا سیکشن ان واقعات کے رونما ہونے کا تعلق اس ملاقات سے جوڑے جانے کے لئے اس لئے تیار نہیں ہے کہ اس سے نواز شریف کا اینٹی اسٹبلشمنٹ اور لبرل بت مسمار ہوتا دکھائی دیتا ہے۔جبکہ ان واقعات کے رونما ہونے کے بعد ملٹری اسٹبلشمنٹ کے بوٹ پالشئے پریس سیکشن نے بھی اس طرف زیادہ توجہ نہ دی اور اس ملاقات سے ان واقعات کے رونما ہونے کو نہ جوڑا۔اس کی وجہ بھی صاف ظاہر ہے کہ وہ نواز شریف کو بھارتی ایجنٹ ، ملکی سلامتی کے لئے خطرہ اور نجانے کیا کچھ قرار دیتے ہیں اور اس کے بدلے میں وہ ملٹری اسٹبلشمنٹ کے ملک کی سلامتی کے لئے رات دن سرگرداں ہونے کی جو راگنی الاپتے ہیں،اس کے فراڈ اور جعلی ہونے کا پول کھل جانے کا اندیشہ تھا
آرمی چیف سے حکومت کے تین بڑوں کی ملاقات کے فوری بعد وزیر اطلاعات پرویز رشید منظر عام سے ہٹ گئے اور آج ان کو ہٹائے جانے کی خبر بھی سامنے آگئی۔جبکہ وزیر دفاع خواجہ اپنے خاندان کے ساتھ دبئی روانہ ہوگئے ہیں۔لیکن تین بڑوں کی ملاقات کے بعد وفاقی دارالحکومت کی پولیس اور ایف سی نے ملکر پی ٹی آئی کے یوتھ کنونشن پہ ہلّہ بول دیا اور اسلام آباد میں کالعدم جماعت اہلسنت والجماعت نے ایک اوپن پبلک ریلی نکالی ،جس میں کافر، کافر شیعہ کے نعروں کی گونج سب نے سنی۔اس سے پہلے دفاع کونسل پاکستان کے پلیٹ فارم سے تکفیری اور جہادی چوہدری نثار سے ملے اور چوہدری نثار نے ان سے ملکی سلامتی کے امور پہ مشاورت بھی کی
تین بڑوں کی آرمی چیف سے ملاقات کے بعد تکفیری دیوبندی اور جہادی سلفی قوتوں کا متحرک ہونا اور عمران خان کی جماعت کے خلاف پولیس کریک ڈاؤن نے یہ تو ظاہر کردیا کہ اس ملاقات میں نواز لیگ اور ملٹری اسٹبلشمنٹ کے درمیان معاملات کسی طرح سے سیٹل ہوگئے اور اطلاعات یہ ہیں کہ وزیراعظم میاں نواز شریف سی پیک کی سیکورٹی معاملات کی فنانشل اور ایڈمنسٹریٹو فکشنل ذمہ داریوں کو فوج کے سپرد کرنے پہ تیار ہوگئے ہیں اور اس ملاقات کے بعد رونما ہونے والے واقعات نے یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ جہادی و تکفیری اثاثوں کے سٹیک ہولڈر سویلین اور ملٹری اسٹبلشمنٹ دونوں ہی ہیں۔اور تکفیریوں کے اسلام آباد میں کھلے جلسے کے اگلے دن ہی کراچی میں خواتین کی ایک مجلس پہ فائرنگ کے نتیجہ میں ایک عورت سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے

پاکستان میں لبرل کمرشل مافیا کے دو بڑے گروپ یا دھڑے ہمارے سامنے اس وقت ہیں۔ایک لبرل دھڑے کی قیادت نجم سیٹھی اینڈ کمپنی کے پاس ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ڈان کی مالک امبر سہگل کے پاس ہے تو غلط نہیں ہوگا۔یہ لبرل کمرشل مافیا پاکستان کے اندر جہادی و تکفیری اثاثوں کی ملکیت صرف ملٹری اسٹبلشمنٹ کے پاس دکھاتا ہے اور یہ نواز شریف اینڈ کمپنی کے پاس جہادی و تکفیریوں کے شئیر ہیں ان کو چھپاتا ہے۔اور میاں نواز شریف کو یہ لبرل و اینٹی اسٹبلشمنٹ بناکر پیش کرنے میں بہت آگے ہے۔دوسرا دھڑا لبرل کمرشل مافیا کا مہان بے ایمان اور خائن دھڑا ہے اور اس دھڑے کے بڑے ناموں میں سے ایک نام جبران ناصر اینڈ کو کا ہے تو دوسرا ” شہریار نقوی ” اینڈکو کا ہے –یہ لوگ اہلسنت والجماعت ، حافظ سعید کی جماعت دعوۃ ، مسعود اظہر کی جیش محمد ،تحریک طالبان افغانستان سمیت نام نہاد جہادی اثاثوں کو مسلم لیگ نواز ، پی پی پی ، تحریک انصاف ، اے این پی کے پاس تو دکھاتے ہیں لیکن ان کا ملٹری اسٹبلشمنٹ سے کیا رشتہ و تعلق بنتا ہے ، یہ اس کا سرے سے انکار کرتے ہیں اور یہ دھڑا اپنے آپ کو کھرا اور سچا محب وطن بناکر پیش کرتا ہے اور ملٹری اسٹبلشمنٹ کی تعریفوں کے پل باندھتا ہوا ، اپنے آپ کو شیعہ نسل کشی کے خلاف ایک موثر مزاحمت کے طور پہ پیش کرتا ہے۔جبکہ یہ دونوں لبرل کمرشل مافیا کے دھڑے ایک فیصد سچ کے ساتھ ننانوے فیصد جھوٹ کی ملاوٹ کئے ہوئے ہیں۔لبرل کمرشل مافیا کا پہلا دھڑا شیعہ کمیونٹی کو محرم کی تقریبات چار دیواری کے اندر تک محدود رکھنے کی بات کرتے ہوئے تکفیری دہشت گردی کے واقعات سے نجات کا یقین بھی دلاتا ہے لیکن اس کے پاس بات کا کوئی جواب نہیں ہے کہ محرم کی چھے تاریخ سے لیکر ابتک شیعہ پہ جو حملے ہوئے وہ چار دیواری کے اندر ہوئے تو اب ایسے کمرشل لبرل مافیا کے پاس کیا جواز بنتا ہے –کچھ بھی نہیں لیکن سوائے لن ترانیوں کے

پاکستان کی سیاسی، عدالتی اور عسکری اسٹبلشمنٹ کے اندر بلوچ سوال اور شیعہ نسل کشی کے حوالے سے یک گونہ اتفاق پایا جاتا ہے کہ ان کو ان دونوں پہ زبردست جبر پہ کوئی اعتراض نہیں ہے اور ان دونوں کی نسل کشی بارے بھی ان کو کوئی فکر نہیں ہے۔پاکستان میں ریاستی اداروں کی ” دہشت گردی کے خلاف جنگ ” کا ہدف تکفیری و جہادیوں کا 99 اعشاریہ 5 فیصد حصہ سرے سے ہے ہی نہیں بلکہ ان کو پالنے پوسنے کا کام بھی بخوبی جاری و ساری ہے –ڈاکٹر شاہد مسعود سمیت ملٹری اسٹبلشمنٹ نواز تجزیہ کار کہتے ہیں کہ فوج لشکر جھنگوی کے خلاف آپریشن کرانا چاہتی ہے اور وہ پنجاب میں پوری قوت سے آپریشن کرنے کے لئے بے چین ہے مگر میاں نواز شریف اینڈ کمپنی ایسا ہونے نہیں دیتی، ایسے تجزیوں کے جھوٹ کا پول اس حقیقت سے کھولا جاسکتا ہے لشکر جھنگوی کا اصل مرکز کاروائی تو کراچی اور بلوچستان میں ہے تو وہاں رینجرز اور ایف سی کو تکفیریوں و جہادیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے میں کیا شئے آڑے آتی ہے؟ اور وہاں پہ رمضان مینگل اور اس کے ساتھیوں کو آزادانہ گھومنے پھرنے کی آزادی کس نے دی ہے؟ تکفیری و جہادی اثاثوں کی حفاظت اور سرپرستی کرنے میں سویلین و ملٹری اسٹبلشمنٹ دونوں کی دونوں حاضر ہیں

 

Views All Time
Views All Time
858
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   نواب اکبر بگٹی سے میر اسد اللہ مینگل تک سب غدار کیوں؟ | انور عباس انور
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: